ہمارے موجودہ فقیہان حرم
پاکستان اپنے تحریری آئین کے مطابق ایک اسلامی جمہوریہ مملکت ہے۔ اور یہ بات 1949 میں طے کی گئی تھی کہ :
”پاکستان کے جمہور کو“ جو اختیار و اقتدار ”اس (اللہ تعالیٰ) کی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہو گا“ وہ ایک مقدس امانت ”ہے اس غرض کے لئے“ چونکہ پاکستان کے جمہور کی منشاء ہے کہ ایک ایسا نظام قائم کیا جائے جس میں مملکت اپنے اختیارات و اقتدار کو جمہور کے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعہ استعمال کرے گی ”۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کا تازہ آئینی فیصلہ آنے پر غریب کی نظر مندرجہ بالا ”جمہور کی منشا“ کی طرف لوٹ گئی اور اب تک اس آرزو (جمہور کی منشاء) کا جس طرح خون کیا گیا اس کی تاریخ کا ایک ایک لمحہ آنکھوں کے آگے پھرنے لگا۔ بقول عبید اللہ علیم صاحب کے :
کوئی تقسیم نئی کر کے چلا جاتا ہے
جو بھی آتا ہے مرے گھر کی نگہبانی کو
پچھلے چند سالوں سے سیاستدانوں نے جو گلی ڈنڈا شروع کیا ہے اس کے نتیجہ میں معاشرہ دو مخالف نہیں ایک ہی ملک میں متحارب گروہوں میں تقسیم ہو گیا ہے اور بصیرت کا یہ عالم ہے کی مخالف کی ہر بات غلط اور جھوٹ دکھائی دیتی ہے اور ضمیر اس قدر مطمئن ہیں کہ جانتے ہوئے بھی کسی حقیقت کو تسلیم نہ کرنے کو سیاست سمجھا جانے لگا ہے۔ تجزیہ نگار بے شک عوام الناس کو قصور وار ٹھہرائیں اور کوسیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ قوم کے لئے لئے لیڈر کی حیثیت جسم میں دماغ کی طرح ہوتی ہے جس کے بغیر جسم کی کوئی قدر نہیں ہوتی۔
پچھلے آئینی بحران میں مذہبی ٹچ والے سیاست کار نے بطور سپیکر نہایت معزز منصب سے بے وفائی کرتے ہوئے آئین کے مطابق پیش کیے گئے ایک ریزولیوشن کو یک قلم رد کر دیا اور نتیجاً گیند کو عدالت عظمیٰ کی کورٹ میں پہنچا دیا۔ اسمبلیاں جن کا کام قانون سازی ہے وہی استعفوں کے ذریعے خود کشی کر کے نئے انتخابات کی بھی خواہش مند ہیں ساتھ ہی ممبران اپنے استعفوں کو کالعدم بھی کروانا چاہتے ہیں۔ مانا کہ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے لیکن سیاستدانوں کو اتنی سمجھ بوجھ کا مظاہرہ تو کرنا چاہیے کہ وہ بالغ انسان کہلا سکیں۔
یہ جانتے ہوئے بھی کہ فوج کا کردار ملک کو چلانے کے لئے بہر حال ناگزیر ہے اور فوج کو اس کی حدود میں رکھنے کے لئے سیاستدانوں کا اس پر کامل اتفاق ضروری ہے۔ بظاہر یہ بات فوج سے کنفرنٹیشن دکھائی دیتی ہے لیکن درحقیقت اگر سیاستدان باکردار ہوں اور حلقوں میں لوگوں کی چاپلوسی کے بجائے اپنے فرض (قانون سازی) کا دھیان رکھیں تو اپنا بھرم قائم رکھ سکتے ہیں اور فوجی بھی اسی ملک کے شہری ہیں۔
مغلوں کے اصول کے مطابق جب ان کا سردار شکست کھا جاتا تو وہ اپنے سردار کے مال کو ہی مال غنیمت قرار دے کر اسی کو لوٹنا شروع ہو جاتے، انگریزی حکومت کے زمانہ میں بھی بعض کارندے انگریزوں سے عداوت کے بموجب سرکاری خزانہ سے لوٹ مار کو جائز سمجھتے تھے۔ اس ذہنیت سے اب اول نمبر پر سیاست کاروں اور اداروں کو چھٹکارا حاصل کر نا ہو گا۔
سادہ سے معاشرتی اصول کے مطابق کسی بھی شخصیت کو پرکھنے کا عام معیار اس کی باتوں اور عہد و پیمان پر عمل درآمد کا نتیجہ ہے۔ اس پر کوئی بھی پورا نہیں اتر رہا پھر بھی گزارہ انہی کے ساتھ کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام الناس کی نگاہیں سب سے آخر ملک کی عدلیہ کی طرف اٹھتی ہیں۔ جب وہاں سے بھی مایوسی ہو تو ایک شہری کے لئے یہ بڑی ہی دکھ کی بات ہوتی ہے۔
یہاں ایک ”اگر“ کا ذکر ضروری ہے۔ جب ایوب خاں نے نوشتہ دیوار پڑھ لیا کہ ان کی ہردلعزیزی اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے تو اپنے ہی بنائے ہوئے دستور کے برعکس (اس وقت دفعہ چھ نہیں تھی) بجائے چیف جسٹس آف پاکستان کو درخواست کرنے کے انہوں نے اقتدار ایک جنرل کے سپرد کر دیا، ”اگر“ وہ ایسا نہ کرتے تو ہر شخص اندازہ کر سکتا ہے کہ آج حالات کافی مختلف اور بہتر ہوتے۔ اس کے ساتھ ہی عدلیہ کا زوال سرعت پذیر ہونے لگا اور آج یہ حالت ہے کہ ججوں کے ریمارکس جو اخبارات میں آتے ہیں اور ان کی برہمی کے تذکرے پڑھنے کو ملتے ہیں تو حد درجہ حیرت ہوتی ہے۔ سو سال پہلے جج صاحبان اخبار اس لئے نہیں پڑھتے تھے کہ کسی خبر کے مطالعہ کے نتیجہ میں ان کے فیصلے پر اثر نہ پڑ جائے۔ دوسری جانب روایت میں ہے کہ ”جو شخص لوگوں کا قاضی بنایا گیا وہ تو بغیر چھری کے ذبح کر دیا گیا“ ۔ یہ بہت بڑا رتبہ ہے اور اس کے ساتھ ذمہ داری بھاری ہے۔
ان دگر گوں حالات میں بھی عدلیہ پر ہی امید باندھی جا سکتی ہے۔ نامور وکیل نعیم بخاری اس عدالت عظمیٰ کو ”میری عدلیہ“ پکارتے تھے۔ آج کل کیا رائے ہے معلوم نہیں۔ تاہم ہر پاکستانی کی یہ ان کہی دلی آرزو ہے کہ ”میری عدلیہ“ واقعی عدلیہ کا کردار ادا کرے اور اسے ان فقیہان حرم کی بابت نہ کہنا پڑے کہ:
اب فقیہان حرم دست صنم چومیں گے
سرو قد مٹی کے بونوں کے قدم چومیں گے


