بت پرستوں کی نئی نسلیں: تیسرا باب
تیسرا باب : باپ اور بیٹے میں خاموش مخاصمت
—————————————————-
نوٹ : بت پرستی ان کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو ان کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ہلاہل تھا، جو ان کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بت کو تراش کر اس کی پراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود ان کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو اسے پاش پاش کر دیتے۔ مگر پرانے بت کے ٹکڑوں کو پاؤں تلے روندنے اور نیا بت تراشنے کے درمیان بس ایک مختصر سا وقفہ ہوتا تھا۔
—————————————————-
ملک جہانداد کی کوششوں سے جلد ہی ایک رشتہ بھی مل گیا۔ تمام انتظامات بھی ملک جہانداد کے آدمیوں نے ہی کیے۔ یوں دلہا میاں اور اس کے کچھ قریبی لوگوں کو گاڑیوں میں بھر کر ملک پور پہنچایا گیا۔ دو دن ان کی خوب خاطر مدارت کی گئی۔ گاؤں والوں کو بھی خوشیوں میں شامل کیا گیا اور تیسرے دن نکاح کے بعد نور بانو کو بارات کے ساتھ رخصت کر دیا گیا۔ (وہ روتی دھوتی اور شاید دل میں فضل داد کو گالیاں دیتی ہوئی چلی گئی) ۔
فضل داد نے کاغان کے سفر اور وہاں کی سیر کے دوران کافی تصویریں بنوائی تھیں تاکہ وہ واپسی پر نور بانو کو دکھا سکے کہ وہ اتنے دن کہاں تھا، کیوں حویلی نہ آ سکا اور نہ ہی اسے خبر دے سکا؟ اس کا خیال تھا کہ نور بانو پہلے کچھ ناراض ضرور ہو گی لیکن آخر کار منت سماجت کرنے پر مان جائے گی۔
جب وہ کاغان سے واپس آ کر خوشی خوشی حویلی پہنچا، تو وہاں نور بانو کی شادی کے وقت جو جھنڈیاں وغیرہ لگا کر سجاوٹ کی گئی تھی، اس کا ایک حصہ ابھی بھی باقی تھا۔ اسے تشویش ہوئی کہ یہ کیا ماجرا ہے! اس نے حویلی میں کام کرنے والی ایک لڑکی سے پوچھا تو الٹا اس لڑکی کو حیرت ہوئی کہ فضل داد کو کیوں نہیں معلوم کہ یہ سب کچھ نور بانو کی شادی پر کیا گیا تھا۔ اب فضل داد نے اس لڑکی کے آگے جھوٹ بولا ”میں تو پہاڑی علاقوں کی سیر کرنے گیا ہوا تھا۔ اس لیے خبر نہیں ملی۔ اور پھر نور بانو کی شادی کون سی ایسی خاص بات تھی کہ مجھے ضرور پتہ ہوتا؟“ ۔
وہ لڑکی تو بے چاری شرمندہ سی ہو کر چلی گئی لیکن وہ آگ جو فضل داد کے سینے میں بھڑک اٹھی تھی اس نے اسے چین سے بیٹھنے بھی نہ دیا اور وہ اسی وقت منشی چراغ دین کے پاس جا پہنچا۔
منشی چراغ دین کو تو پتہ ہی تھا کہ ایسا کچھ ہو گا۔ اس لیے اس نے بھی پہلے سے تیاری کر رکھی تھی۔ وہ فضل داد کو پہلے سے بھی زیادہ
تپاک اور تابعداری والے انداز سے ملا۔
لیکن فضل داد نے سلام دعا کے بعد بغیر کوئی لگی لپٹی رکھے سیدھا سوال کر دیا۔ ”آپ نے اچانک نور بانو کی شادی کا پروگرام بنایا اور اسے رخصت کر دیا۔ کسی کو بتایا تک نہیں؟“ اس کے لہجے میں غصہ کا عنصر بھی نمایاں تھا
منشی چراغ دین پورے اعتماد سے بولا:
”نہیں، اچانک تو کچھ نہیں ہوا ملک صاحب“
اس نے فضل داد کو پہلی بار ”ملک صاحب“ کہا تھا۔ اس سے پہلے وہ اسے صرف ’صاحب‘ کہہ کر ہی بلایا کرتا تھا۔
”شادی تو کافی دیر سے طے تھی۔ ہر چھوٹا بڑا قدم اٹھانے سے پہلے، میں بڑے ملک صاحب سے اجازت لیتا رہا ہوں۔ بلکہ ان کی منت کی تھی اور انہوں نے وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ شادی میں ضرور شریک ہوں گے۔ لیکن ان کو بھی تو ہزاروں کام ہوتے ہیں، کیا کیا یاد رکھتے؟ وہ بھول گئے۔ شادی سے ایک دن پہلے، آدمی بھیج کر انہیں یاد دلانا پڑا۔ لیکن شکر ہے کہ وہ عین وقت پر پہنچ گئے اور ہمارا مان رکھ لیا۔ آپ تو کہیں پہاڑوں کی سیر کرنے گئے ہوئے تھے، نہیں آ سکے۔ لیکن نور بانو نے بار بار آپ کے بارے میں پوچھا۔ رخصتی کے وقت تک آپ کو یاد کرتی رہی۔ آپ اس غریب کی شادی میں شریک ہوتے تو سسرال والوں کے سامنے اس کی عزت اور بڑھ جاتی۔ مجھے بھی آپ کے نہ ہونے کا بہت دکھ تھا“ ۔
فضل داد: دکھ تو مجھے بھی ہے منشی انکل! مگر مجھے تو کسی نے یہ بھی نہیں بتایا تھا کہ اس کی شادی طے ہو چکی ہے۔
منشی چراغ دین: میں سمجھا بڑے ملک صاحب نے آپ کو بتا دیا ہو گا۔ لیکن وہ تو خود ہی بھول گئے۔ بہت بڑی غلطی ہو گئی مجھ سے۔ مجھے آپ کو علیحدہ سے بتانا چاہیے تھا۔ آپ کو ناراض ہونے کا پورا حق ہے۔ آپ مجھ غریب کو معاف کر دیں اس کوتاہی پر ۔ کتنا پاگل ہوں میں! اتنی بڑی خطا نہیں ہونی چاہیے تھی مجھ سے۔ اب جب بھی وہ ہمیں ملنے آئے گی، میں آپ کو پہلے سے بتاؤں گا۔
منشی چراغ دین کے چہرے سے اتنا عجز جھلک رہا تھا اور اس کے لہجے میں اتنی انکساری تھی کہ فضل داد یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ کہیں وہ خوامخواہ میں ہی تو غصہ نہیں کر رہا۔ ہو سکتا ہے منشی سچ ہی کہہ رہا ہو۔ شاید ایسا ہی ہوا ہو گا۔ اور پھر نور بانو نے بھی تو اسے بتایا تھا کہ گھر میں اس کی شادی کی بات ہو رہی ہے۔ اس نے منشی کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔
”چلیں! اب جو ہونا تھا وہ تو ہو گیا۔ خدا نور بانو کو اس کی شادی مبارک کرے اور آپ کو بھی۔ کہاں کی ہے اس کی شادی؟“
منشی چراغ دین نے کسی ایسے قصبے کا نام لیا جو فضل داد کے لیے بالکل نیا تھا۔ پھر اس کے پوچھنے پر کہنے لگا ”کوئی پچاس کلو میٹر ہے
یہاں سے ہمارے پرانے رشتہ دار ہیں۔ اچھا ہے دونوں خاندان دوبارہ سے جڑ گئے۔ بہت بھلے لوگ ہیں۔ بڑے پیار سے رکھیں گے نور بانو کو ۔ بہت خوش رہے گی وہ وہاں ”۔
فضل داد کو تو اندازہ ہی تھا کہ وہ کہیں اور جا کر کتنی خوش رہ سکتی ہے! لیکن پھر بھی کچھ سوچ کر اس نے بات فصلوں وغیرہ کی طرف موڑ دی۔ کچھ دیر وہاں بیٹھا۔ پھر گاؤں کی طرف نکل گیا۔ حویلی میں جانے کو ابھی اس کا جی نہیں چاہ رہا تھا۔
گاؤں کے باہر ہی کچھ کسان اور کھیت مزدور ایک درخت کے نیچے بیٹھے سستا رہے تھے۔ ان میں کچھ منشی چراغ دین کے رشتہ دار بھی تھے۔ فضل داد بھی ان میں جا بیٹھا۔ سب بہت خوش ہوئے۔ فضل داد نے سب کی خیریت دریافت کی۔ پھر کچھ ادھر ادھر کی باتیں کیں اور آخر میں نور بانو کی شادی کا ذکر لے آیا اور کافی دیر تک اسی موضوع پر گفتگو ہوتی رہی۔ جس کا لب لباب یہ تھا کہ۔
سب کچھ اچانک ہوا۔ اگر کبھی کوئی منگنی وغیرہ پہلے ہوئی تھی تو بہت خفیہ انداز میں ہوئی ہو گی۔ کیونکہ کسی قریبی رشتہ دار کو بھی اس کی خبر نہیں تھی۔ جب کہ عام طور پر ایسا نہیں ہوتا۔ نکاح اور بارات کی تاریخ کا بھی صرف دو دن پہلے بتایا گیا۔ وہ کون لوگ تھے کسی کو کچھ پتہ نہیں۔ پورے گاؤں میں کوئی بھی انہیں پہلے سے نہیں جانتا تھا۔ اور پھر کل پندرہ بیس لوگ تھے۔ باقاعدہ بارات بھی اسے نہیں کہہ سکتے۔ باجے واجے والے بھی ساتھ نہیں آئے تھے۔ وہ بھی یہیں گاؤں کے تھے۔ اور ان لوگوں کی باتوں سے بھی لگتا تھا کہ پانچ سات دن پہلے ہی بات شروع ہو کر معاملہ نکاح تک پہنچ گیا۔
فضل داد جیسے جیسے ان کی باتیں سن رہا تھا۔ ویسے ویسے اس کا یہ احساس بڑھتا جا رہا تھا کہ منشی نے اس کے ساتھ جھوٹ بولا ہے۔ سب کچھ کسی ایمرجنسی کی طرح سے انجام پایا ہے۔ لیکن اس نے ان لوگوں کو زیادہ احساس نہیں ہونے دیا۔ اور ان کے بچوں وغیرہ کے بارے میں باتیں کرنے لگا۔ کچھ لوگوں نے اپنے مسائل کا ذکر کیا، تو اس نے ان سے وعدہ کر لیا کہ وہ ملک جہانداد سے بات کر کے ان کے مسائل حل کروانے کی کوشش کرے گا۔
پھر وہ حویلی چلا گیا۔ غصے سے اس کا سر پھٹ رہا تھا۔
حویلی میں آ کر اس نے اپنے کمرے کا دروازہ بند کر لیا اور کتنی دیر تک اس سارے واقعہ کے بارے میں سوچتا رہا۔ اچانک اسے وہ سب سوال یاد آنے لگے، جو اس کا رزلٹ آنے سے پہلے، ایک بار ملک پور سے شہر جاتے ہوئے اس کے باپ نے اس سے پوچھے تھے۔ اور پھر اچانک اسے کاغان بھیجنا۔ اسے یقین ہو گیا کہ نور بانو سے اس کی ملاقاتوں پر کافی دیر سے نظر رکھی جا رہی تھی۔ اسے اپنی بے بسی بری طرح تکلیف دے رہی تھی۔ وہ پتہ نہیں کیا کر گزرتا کہ اس کی عقل نے کام کیا، غصہ کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ ہر طرح
کے اختیارات اس کے باپ کے پاس ہیں اور پھر نور بانو کی شادی بھی اب ہو چکی ہے۔ کسی کے ساتھ بھی ناراض ہونا بے فائدہ ہے۔ زیادہ اچھا ہے کہ اس بے اختیاری سے نکلنے کی کچھ ترکیب کی جائے۔ لیکن اسے جلد ہی احساس ہو گیا کہ اس ضمن میں فوری طور پر تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ تب اسے اپنی اس وقت کی برہمی سے نجات کی خواہش ہوئی۔
اس نے اپنی لسٹ نکالی اور ایک لڑکی کو بلا لیا۔
اسے زیادہ انتظار بھی نہیں کرنا پڑا۔ وہ لڑکی پہلے بھی کئی بار اس کے پاس آ چکی تھی۔ وہ ہمیشہ خوش خوش آتی اور خوش خوش ہی جاتی تھی۔ ایک تو پیسے اچھے ملتے تھے، دوسرے فضل داد نے اس کے ساتھ کبھی بد تمیزی نہیں کی تھی۔ اور وہ بھی ایک تعاون کرنے والی لڑکی تھی۔ بد تمیزی تو وہ کسی کے ساتھ بھی نہیں کرتا تھا۔ اسی لیے اس کے پاس آنے والی کسی لڑکی کو بھی اس سے کبھی کوئی شکایت نہیں ہوئی تھی۔ مگر آج تو حالات ہی مختلف تھے۔ آج تو وہ پرانا والا فضل داد تھا ہی نہیں۔
فضل داد نے اپنا غصہ اس لڑکی کے جسم پر نکالنے کی کوشش کی۔ پہلے تو خلاف معمول اسے بڑی بڑی گالیاں دیں۔ پھر اس کے جنسی اعضاء کا نام لے لے کر فحش الفاظ کا بے دریغ استعمال کیا اور پھر جیسے بے قابو ہو کر اس پر ہاتھ بھی اٹھاتا رہا۔
لڑکی نے کچھ دیر تو اس کی بد سلوکی کو برداشت کیا کہ کبھی کبھی اس کا خاوند بھی ایسا کرتا تھا۔ مگر فضل داد پر تو جیسے کوئی وحشت طاری تھی۔ اس نے اس نرم اور آرام دہ بستر کو اس لڑکی کے لیے کانٹوں کی سیج بنا کے رکھ دیا۔ آخر لڑکی رونے لگی۔ تب فضل داد کو خیال آیا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ کہاں کا غصہ کہاں نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تو پھر خود ہی بیٹھ کر رونے لگا۔ اب حیران ہونے کی باری اس لڑکی کی تھی مگر بے چاری چپ چاپ اسے دیکھتی رہی۔ فضل داد کا دماغ کچھ ٹھکانے پر آیا تو اس نے لڑکی سے معافی مانگی اور نارمل سے کچھ زیادہ پیسے دے کر اسے رخصت کر دیا۔
مزید غور کیا تو اسے قائل ہونا پڑا کہ حویلی میں رہنے سے اس کی تکلیف کم ہونے کی بجائے بڑھے گی۔ اس نے فوراً شہر واپس جانے کا ارادہ کر لیا۔ منشی چراغ دین کو اس کے پروگرام کی اطلاع ملی تو وہ دوڑا آیا۔ اور پر تشویش لہجے میں دریافت کیا کہ ایسا کیا ہوا ہے کہ وہ آج ہی اور اس شام کے اندھیرے میں واپس جانا چاہتا ہے؟ اس نے گزارش بھی کی کہ وہ کم از کم رات یہاں ٹھہر جائے۔ فضل داد کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اپنے غصہ پر کیسے قابو رکھے؟ منشی کی اس سازش میں شرکت اس پر واضح ہو چکی تھی مگر ابھی کسی بھی نوعیت کا رد عمل نقصان دہ ہو سکتا تھا۔ سو وہ کسی ضروری کام کے اچانک یاد آنے کا بہانہ کر کے شہر لوٹ گیا۔ منشی چراغ دین نے اس کی بہت منتیں کیں لیکن وہ رکا نہیں۔
شہر میں اسے دوسرے دن ہی باپ سے تنہائی میں ملاقات کا موقع مل گیا۔
اس نے ملک جہانداد کو گزشتہ روز کی ساری رو داد سنائی۔ حالانکہ وہ اچھی طرح جان چکا تھا کہ ساری کارروائی اس کے باپ کی مرضی اور مدد کے تحت انجام پائی ہے۔ پھر بھی اس نے اسے الزام دینے سے پرہیز کیا۔ اس کے باوجود جہانداد نے اسے پوچھ لیا۔
’‘ نور بانو کی شادی سے تمہارا کیا لینا دینا ہے؟ اور تم کیوں اس تشویش میں مبتلا ہو؟ کیا تم اسے پسند کرتے تھے؟ ”
فضل داد:اچھی تو خیر لگتی تھی مجھے وہ۔
جہانداد:نوجوانی، جوانی میں سب لڑکیاں ہی اچھی لگنے لگتی ہیں۔ رنگ روپ نکھر آتا ہے ان کا ۔ دوسروں کے لیے ان میں کشش بہت بڑھ جاتی ہے۔ مگر ہر جوان اور خوبصورت لڑکی کو یوں بستر تک لانے کی خواہش کو عقلمندی نہیں کہا جا سکتا۔
فضل داد:میں نے یہ بات ہی کب کی ہے؟
جہانداد: تمہیں کرنی بھی نہیں چاہیے تھی۔ کیونکہ اگر نور بانو عام سی لڑکی ہوتی تو شاید پیسے وغیرہ کے لالچ میں آ بھی جاتی۔ مگر وہ تو منشی چراغ دین کی بیٹی تھی اور تم جانتے ہو کہ منشی چراغ دین کی ہماری زمینداری میں کیا حیثیت ہے! اسے بستر تک لانے کا تو صرف ایک ہی طریقہ ہوتا کہ تم اس سے نکاح کر لیتے۔ عام طور پر نکاح جیسے مذہبی فریضے کا یہ استعمال ظالموں اور جابروں کا ہتھیار ہے۔ اور ظلم و جبر کا کوئی بھی طریقہ میں نے آج تک کی زندگی میں کبھی استعمال نہیں کیا۔
وہ ایک لمحے کے لیے رکا، پھر بولا ”ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ نور بانو جیسی لڑکی کو تم صرف نکاح کے ذریعے بستر تک لا سکتے تھے۔ مگر اسے خاندان میں تو شامل نہیں کر سکتے تھے۔ اس لئے کچھ دنوں بعد جب تمہارا جی بھر جاتا تو تم اسے طلاق دے دیتے۔ گو، اس سے میرے اور چراغ دین کے تعلقات ضرور خراب ہوتے۔ گاؤں میں اس کے رشتہ دار ہماری کاشت کاری کے راستے میں روڑے اٹکاتے۔ لیکن تمہارے لیے میں شاید یہ بھی کر گزرتا۔ پھر ہم کچھ دے دلا کر ان سب کا منہ بند کرتے اور نور بانو کی شادی کہیں اور کروا دیتے۔ ایسا ہی کرتے کیا تم؟“ ۔
فضل داد:شاید ایسا ہی کرتا۔ شاید ایسا نہ کرتا۔ مجھے نہیں پتہ آپ کیا پوچھ رہے ہیں اور میں جواب میں کیا بکواس کیے جا رہا ہوں۔ شاید اس وقت میرا دماغ ہی کام نہیں کر رہا۔
جہانداد: تو پھر چھوڑو اس قصے کو اور دوسرے کاموں کی طرف دھیان دو ۔ ضرورت ہے تو کوئی اور لڑکی ڈھونڈ لو۔ ملک پور میں نہیں تو یہاں شہر میں ہی۔ ویسے ملک پور میں بھی کوئی کمی تو نہیں ہے۔ لیکن یاد رکھو اگر اس علاقے میں ہمیں اس قدر طاقت اور حقوق
حاصل ہیں تو کچھ ذمہ داریاں بھی ہیں ہماری، ان لوگوں کے حوالے سے جن سے ہم کسی صورت پہلو تہی نہیں کر سکتے۔ تم سمجھ رہے ہو نا!
فضل داد:جی جی، میں سمجھ رہا ہوں۔ آپ کوئی فکر نہ کریں۔
اور وہاں سے چلا آیا۔ لیکن وہ سوچ رہا تھا کہ نور بانو تو اب ہاتھ سے نکل گئی۔ پھر اس جیسی شاید کوئی اور ہو بھی نہیں سکتی۔ اس لیے کسی لڑکی کے ڈھونڈنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ البتہ آئندہ اس سے کسی اور نور بانو کو ایسے نہ چھینا جا سکے اور نہ ہی اسے پھر سے ایسی بے بسی کا سامنا کرنا پڑے، اس کا تو کوئی مستقل بندوبست ضرور ہونا چاہیے۔ اپنے اس مقصد کے حصول کے لئے اس کے پاس ابھی کوئی واضح پروگرام نہ ہونے کے باوجود اس خواہش نے اس کے دل میں گھر ضرور کر لیا تھا۔
اسی سوچ بچار میں غلطاں رہنے کی وجہ سے اس نے ملک پور جانا بہت کم کر دیا تھا۔
وہ جب بھی وہاں جاتا، اسے حویلی کے اپنے حصے میں، اپنے کمروں میں ہر طرف نور بانو ہی نور بانو نظر آتی۔ وہ نور بانو کے بھوت سے پیچھا چھڑانے کے لیے کسی لڑکی کو بلا لیتا، مگر اس سے اس کی طبیعت کی تندی مزید دیوانگی کا شکار ہو جاتی۔ وہ دوسری لڑکیوں کے ساتھ ہوتے ہوئے، ہمیشہ اس تصور کے دباؤ میں رہتا کہ اگر اس کی جگہ نور بانو ہوتی تو وہ کیا عملی طریقہ اختیار کرتی۔ اس کی مرحمت و عنایت کا کیا انداز ہوتا!
کبھی کبھی وہ سو کر اٹھتا تو اس واہمے کے زیر اثر ہوتا کہ نور بانو کی شادی وغیرہ سب ایک خوفناک خواب تھا۔ اور اب چونکہ وہ جاگ چکا ہے تو اس وحشت انگیز خواب سے بھی نجات مل چکی ہے۔ لیکن پھر حقیقت ننگی ہو کر اس کے سامنے آ کھڑی ہوتی، جس سے آنکھیں ملانے کی طاقت سے وہ ابھی تک محروم تھا۔ ایسے میں باپ کے اختیارات اور اپنی بے بسی کا احساس اسے اور کچوکے لگانے لگتا۔
وہ تیار ہو کر فوراً شہر کی طرف بھاگ اٹھتا۔
کبھی کبھی جب منشی چراغ دین اس کے جاتے وقت وہاں موجود ہوتا تو اسے ایسی نظروں سے دیکھتا، جن سے یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا تھا کہ اسے فضل داد پر ترس آ رہا ہے یا اپنی ذات پر ۔ مگر یہ سب کچھ منشی چراغ دین کو ایک انجانے خوف میں بھی مبتلا کر رہا تھا۔
فضل داد اپنے خیالات کے بیابانوں میں راستے ڈھونڈتا ہوا، شہر کی جسم فروش لڑکیوں کی طرف جا نکلا۔ جن میں اکثر پڑھی لکھی بھی تھیں اور ملک پور والی لڑکیوں کی نسبت جنسی مشاغل سے زیادہ آگاہ اور باخبر بھی۔ لیکن ایک تو وہ حرص اور لالچ سے بہت بھری ہوئی تھیں، دوسرے ان کے ناز نخرے بھی آسمانوں سے باتیں کرتے تھے۔ پھر وہ کبھی کسی رشتہ دار کی بیماری یا آپریشن کا بہانہ بنا کر اور کبھی کسی اور مجبوری یا ایمرجنسی کو عنوان کر کے پیسے مانگتی رہتیں۔ فضل داد ایسے معاملات میں ایک سیدھا سادہ شخص تھا۔ اس لئے یہ سب اس کی
طبیعت پر بہت گراں گزرتا تھا۔
سو، وہ پھر سے دوستوں کی طرف پلٹ آتا۔ ان کے ساتھ مختلف نوعیت کی محفلوں میں شامل ہوتا، مگر وہاں بھی اسے الگ تھلگ ہو کر بیٹھنا پڑتا۔ کیونکہ وہ سبھی سگریٹ، شراب میں مصروف ہو جاتے۔ یہاں تک کہ وہ لڑکیاں جو یونیورسٹی میں مذہب کا جھنڈا اٹھائے پھرتیں، وہاں بڑی سہولت سے بیٹھی چرس والے سگریٹ کے سوٹے کھینچ رہی ہوتیں۔ یونیورسٹی کی کئی لڑکیاں جو طبقۂ اشرافیہ سے تعلق رکھتی تھیں، کبھی کبھی اسے شہر کی جسم فروش لڑکیوں کے اتنا قریب قریب محسوس ہوتیں کہ اس کے لیے دونوں میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا۔ سگریٹ کے دھویں سے اسے الرجی تھی اور شراب کی بو کا بھی وہ عادی نہیں تھا۔
وہ پھر ملک پور فرار ہو جاتا۔
ایک بار وہ ایسے ہی ملک پور پہنچا تو ایک خدمت گار لڑکی نے اسے بتایا کہ احمد دین اسے ملنا چاہتا ہے۔ فضل داد نے اسے دوسرے کمرے میں بٹھانے کے لیے کہا۔
جب فضل داد وہاں پہنچا تو اس نے دیکھا کہ احمد دین اٹھارہ انیس سال کا ایک قد آور نوجوان ہے۔ جو فضل داد کے کمرے میں داخل ہوتے ہی اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔
سلام دعا ہوتے ہی لڑکا بولا ”ملک صاحب! یہ بڈھا بالکل پاگل ہو گیا ہے۔ اسے آپ کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اچھا ہوتا اگر وہ کوئی اور راستہ تلاش کرتا“ ۔
فضل داد نے خود ایک کرسی پر نشست سنبھالی اور اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
”اب پہلے یہ بتاؤ کہ تم ہو کون اور کس بڈھے کی بات کر رہے ہو؟“
لڑکا حیران ہوا اور بیٹھتے ہوئے بولا ”آپ نے مجھے نہیں پہچانا؟“ ۔
فضل داد: نہیں۔
لڑکا: میں احمد دین ہوں۔ منشی چراغ دین کا چھوٹا بیٹا۔
فضل داد: ارے! تم اتنے بڑے ہو گئے؟
احمد دین:آپ تو پہلے بھی بڑے تھے صاحب، اب بہت بڑے ہو گئے ہیں۔
فضل داد: لیکن تم نے تو چار پانچ سال میں اتنا قد کاٹھ نکال لیا۔ میں نے جب پچھلی بار تمہیں دیکھا تھا تو تم شاید ہائی سکول میں
پڑھتے تھے۔
احمد دین: جی بالکل! لیکن پھر ہائی سکول کے بعد میں کالج چلا گیا تھا۔
فضل داد: اچھا؟ منشی انکل نے کبھی بتایا نہیں اس بارے میں۔ اور کیا کرتے رہے کالج میں؟
احمد دین:بس جی، دنیا داری سیکھنے میں ہی تین سال لگ گئے۔
فضل داد: تین سال کیوں؟
احمد دین: وہ جی، ایف اے کا امتحان جو دو بار دینا پڑا۔
فضل داد: دو بار کیوں؟ ایک بار فیل ہو گئے تھے کیا؟
احمد دین: فیل تو خیر انہوں نے مجھے دونوں بار ہی کر دیا۔ حالانکہ پرچے میں نے ٹھیک دیے تھے۔
فضل داد:خیر! کوئی بات نہیں، پھر ٹرائی کر لینا۔ اور یہ تم کس بڈھے کا ذکر کر رہے تھے، میرے سلسلے میں؟ جو تمہارے کہنے کے مطابق پاگل ہو گیا ہے؟
احمد دین:ابا میرا منشی چراغ دین، جی۔
فضل داد: تمہیں شرم آنی چاہیے! تم منشی انکل کے لیے ایسی زبان استعمال کر رہے ہو۔
احمد دین:اگر وہ ایسی حرکت نہ کرتے، تو میں بھی ایسی زبان استعمال نہ کرتا۔
فضل داد: کیوں؟ کیا کیا ہے انہوں نے؟
احمد دین:آپ تو ایسے پوچھ رہے ہیں، جیسے آپ کو کچھ پتہ ہی نہیں۔
فضل داد: مجھے کچھ پتہ نہیں، تم کیا کہنا چاہ رہے ہو۔
احمد دین:یہی آپ کی اور نور بانو کی بات۔
فضل داد: میری اور نور بانو کی کیا بات ہو سکتی ہے؟ تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے؟
احمد دین: چلیں آپ ابھی نہیں ماننا چاہتے تو نہ مانیں۔ ویسے میں سب جانتا ہوں، کیسے میری ماں نے آپ کو اور نور بانو کو دیکھ لیا۔ اس نے ابا کو بتایا۔ ابا نے بڑے ملک صاحب کو بتایا۔ بڑے ملک صاحب نے آپ کو کاغان بھیجا اور دونوں نے مل کر آپ کے واپس آنے سے پہلے پہلے نوربانو کا نکاح کر کے اسے رخصت کر دیا۔
فضل داد:تمہیں ضرور کوئی بہت بڑی غلط فہمی ہوئی ہے احمد دین۔ اور اب اگر کوئی کام کی بات ہے تو بتاؤ، ورنہ اتنا فالتو وقت نہیں ہے میرے پاس۔
احمد دین: کام کی بات تو یہی ہے صاحب، کہ میں اب واپس آ گیا ہوں اور یہیں رہوں گا۔ اب آپ کے ساتھ کوئی بھی ایسی زیادتی نہیں کر سکے گا۔ آپ ہر مشکل وقت میں مجھے اپنے حکم کا منتظر پائیں گے۔
فضل داد: (اٹھ کر کھڑے ہوتے ہوئے ) میں نے تمہاری بات سن لی۔ اب تم جا سکتے ہو۔
احمد دین: (اٹھتے ہوئے ) آپ اپنی طاقت کو پہچانیے صاحب! اور جب بھی ضرورت ہو مجھے آواز دیجیے۔ میں فوراً حاضر ہو جاؤں گا، کسی ادنیٰ غلام کی طرح۔ ویسے یہ بات ابا، اماں اور بڑے ملک صاحب کے بعد صرف مجھے معلوم ہے۔ چلتا ہوں۔
(اور باہر نکل گیا)
فضل داد اس کی باتوں پر غور کرتے ہوئے پھر وہیں بیٹھ گیا۔ اب کسی بھی قسم کے شک کی گنجائش باقی نہیں تھی۔ اس کا یقین پکا ہو چکا تھا۔ پھر وہ احمد دین کے بارے میں غور و خوض کرنے لگا۔ ”لڑکا بے باک اور نڈر لگتا ہے، اس لیے خطر ناک بھی ہو سکتا ہے اور کار آمد بھی، سوچنا پڑے گا کہ اس کا کیا کرنا ہے“ اس نے اپنے دماغ کو خبردار کیا۔
کچھ دیر فکر کے گھوڑے دوڑاتا رہا لیکن کچھ نہ سوجھا تو نہا دھو کر ایک لڑکی کو بلا لیا۔
۔
ادھر شہر میں جمیلہ جان کی شادی کی تیاریاں بھی زوروں پر تھیں، جہاں فضل داد کی مدد بھی درکار تھی اور اس ضمن میں اسے گاہے بگاہے ملک نیاز احمد سے بھی ملنا پڑتا تھا۔ شہر والی جسم فروش لڑکیوں سے تو وہ اب اوب گیا تھا، لیکن اپنے پرانے دوستوں کو کبھی کبھار ملتا رہتا تھا۔ موقع با موقع ان کے ساتھ، ان کی یونیورسٹی بھی چلا جاتا۔ وہاں کی کچھ الٹرا ماڈرن لڑکیاں اب بھی اس سے چھیڑ چھاڑ کرتی رہتی تھیں۔ حالانکہ مجموعی طور پر وہ اس سے مایوس ہو چکی تھیں کہ ایک تو وہ سگریٹ، شراب وغیرہ وغیرہ سے پرہیزی تھا، دوسرے اس نے کسی لڑکی کو پسندیدگی کا فریب دینے کی کوشش بھی نہیں کی تھی، یہ سب ان کے ماڈرن ازم، سوسائٹی نارمز اور رسم و رواج کی کھلی خلاف ورزی تھی اور ناپسندیدہ بھی۔ انہیں اب فضل داد میں امیر لڑکوں والی کوئی خوبی نظر نہیں آتی تھی۔
جنسی آسودگی کے لیے فضل داد کو اب پھر سے ملک پور ہی مناسب مقام محسوس ہوتا تھا۔ وہ وہاں آقا جیسی پذیرائی وصول کرتا تھا اور وہ لڑکیاں جیسے اس کی رعایا تھیں۔ اس کی لسٹ میں اب کئی نئے نام شامل ہو چکے تھے، جن میں ایک ثمینہ بی بی بھی تھی۔ جس کی اضافی
خوبی یہ تھی کہ وہ آ کر پہلے فضل داد کے پورے جسم کی مالش کرتی اور اس کے تھک جانے کے بعد بھی اس کی ٹانگیں اور سر دبا کر اس کی تھکن اتارتی تھی۔ مساج کرتے وقت وہ جیسے ایک کسرتی بدن والے ہنرمند کا روپ دھار لیتی۔ اور بستر میں ایک نازک اندام، عشوہ و غمزہ سے بھرپور طلسماتی حسینہ بن جاتی۔ وہ خود ایک ان تھک لڑکی تھی اور مرد کے لیے ایک نہایت پر کشش جسم رکھنے کے باوجود نہایت تعاون کرنے والی بھی۔ نور بانو کے بھوت نے بھی اب فضل داد کو تنگ کرنا کم کر دیا تھا۔ اس کے باوجود ملک پور میں اب اس کا قیام دو یا تین دن سے زیادہ نہیں ہوتا تھا اور اپنی پڑھائی کو بھی وہ آخر کار پھر سے اہمیت دینے لگا تھا۔
ایسے ہی ایک بار وہ ملک پور میں موجود تھا کہ اسے احمد دین سے ہونے والی ملاقات یاد آئی۔ اس نے احمد دین کو بلا بھیجا۔ جو اس کا پیغام ملتے ہی حاضر ہو گیا۔
فضل داد نے اس سے پوچھا ”تمہیں یاد ہے، تم نے گزشتہ ملاقات میں مجھے کچھ آفر کی تھی؟“ ۔
احمد دین: مجھے سب یاد ہے صاحب۔ میں ہر وقت حاضر ہوں اور ہر خدمت کے لیے جو بھی میرے بس میں ہو۔ اسی لیے میں نے شہر والی سب دوستیاں چھوڑ دی ہیں۔
فضل داد: تم بہت بڑا دعویٰ کر رہے ہو۔ سوچ لو۔
احمد دین:میں نے تو بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے صاحب۔ لیکن لگتا ہے آپ کو ہی ابھی اپنی طاقت کا ادراک نہیں ہے۔ آپ مجھے کوئی حکم تو دے کر دیکھیں۔
فضل داد: اچھا چلو دیکھ لیتے ہیں۔ تو بتاؤ اگر میں تمہیں کہوں کہ ابھی جاؤ اور نور بانو جہاں کہیں بھی ہو، اسے لا کر یہاں میرے سامنے پیش کرو، ایسے کہ گاؤں میں کسی کو خبر بھی نہ ہو، تو تم کیا کرو گے؟
احمد دین نے بغیر ایک لمحہ بھی سوچے جواب دیا ”لا کر حاضر کر دوں گا صاحب۔ آپ کے حکم کے آگے کوئی بہن بھائی، کوئی ماں باپ یا کوئی بھی اور رشتہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ آپ حکم دے کر تو دیکھئے“ ۔
فضل داد:میں نے صرف تمہاری حد جاننے کے لیے یہ سوال کیا تھا۔ ورنہ تو میں کسی صورت بھی نہیں چاہوں گا کہ نور بانو کو کسی طرح کی کوئی آنچ بھی آئے۔
احمد دین: میں بھی جانتا ہوں صاحب، میں یہاں آنے والی سب لڑکیوں کو بھی جانتا ہوں اور ان کے ساتھ آپ کے برتاؤ کا بھی کچھ اندازہ ہے مجھے۔ زیادتی تو آپ کسی کے ساتھ بھی نہیں کرتے۔
فضل داد:اچھا؟ تو پھر سنو! تمہارے لیے میرا سب سے پہلا حکم یہ ہے کہ ان لڑکیوں میں سے کسی کو محسوس بھی نہیں ہونا چاہیے کہ تم ان کے بارے میں کچھ جانتے ہو۔ ان کا پردہ رکھنا میری ذمہ داری ہے اور اب تمہاری بھی۔
احمد دین:آپ بالکل فکر مت کریں، ایسا ہی ہو گا۔
فضل داد:آج کے بعد تمہارا کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا، کہیں آنا جانا، رہنا اور تمہارے کپڑے وغیرہ، سب میری ذمہ داری ہے۔ تم منشی انکل سے کچھ نہیں مانگو گے۔
احمد دین: جی نہیں مانگوں گا۔
فضل داد:میں یہاں ہوں یا شہر میں، لیکن تم میری اجازت کے بغیر کہیں نہیں جاؤ گے۔
احمد دین:نہیں جاؤں گا۔
فضل داد:اب تم جا سکتے ہو۔
احمد دین:آپ کا بہت بہت شکریہ صاحب۔ آپ نے اس غلام کی آرزو کو اہمیت دی۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ایک دن آپ اپنے اس فیصلے سے خوش ہوں گے۔
(اور وہ چلا گیا)
فضل داد نے منشی چراغ دین کو بلا کر وہ سب ہدایات دے دیں، جن کے بارے میں اس نے احمد دین سے وعدہ کیا تھا۔ منشی چراغ دین نے کچھ سوال کرنے کی کوشش کی تو اسے روک دیا گیا۔ اس کے بعد موقع با موقع فضل داد اور احمد دین کی ملاقات ہوتی رہی، لیکن فضل داد نے اسے کوئی کام کرنے کو نہ دیا۔
ملک جہانداد کو بھی آخر دونوں کے نئے تعلق کی خبر مل گئی۔ اسے اس معاملے پر کچھ تشویش بھی ہوئی۔ کچھ سوچ بچار بھی کی، لیکن اسے دو نوجوان لوگوں کا کھیل سمجھ کر کوئی اہمیت نہ دی۔ اور زندگی پھر سے پرانے معمول پر چلنے لگی۔
ایک شام جب فضل داد، ثمینہ بی بی کی سکون بخش مالش سے لطف اندوز ہو رہا تھا تو وہ بولی ”ایک بات پوچھنا چاہتی ہوں صاحب! اگر آپ اجازت دیں تو “ ۔
فضل داد:پوچھو پوچھو! تمہیں اجازت ہے (اس کا انداز مزاحیہ تھا) ۔
ثمینہ بی بی:کیا آپ میری خدمت سے خوش نہیں ہیں؟
فضل داد:کیوں؟ اس سوال کی کیوں ضرورت پڑی تمہیں؟ میں تمہاری خدمت سے خوش ہوں۔ تم دوسری لڑکیوں کی نسبت بہتر خدمت گزار ہو۔
ثمینہ: تو پھر آپ مجھے اپنی خدمت کا موقع اتنا کم کم کیوں دیتے ہیں؟
فضل داد:تم کیا چاہتی ہو کہ میں باقی سب کی چھٹی کرا دوں اور صرف تمہیں ہی بلایا کروں؟
ثمینہ: نہیں صاحب! میرا یہ مطلب بالکل نہیں ہے۔ میری تو صرف یہ ضرورت ہے کہ جب جب بھی ممکن ہو آپ مجھے یہاں حاضر ہونے کا حکم دیں۔ اگر میری خدمت میں کوئی کمی ہے تو وہ بھی بتائیں، میں اور اچھا کام کرنے کی کوشش کروں گی۔ بلکہ آپ مجھے جو بھی اور جیسے بھی کرنے کو کہیں گے، میں سب کروں گی۔
فضل داد:تمہارے کام میں تو پہلے بھی کوئی کمی نہیں ہے لڑکی۔ مگر یہ اتنی ضرورت کیا آن پڑی ہے تمہیں؟
ثمینہ:میں نے آپ کو پہلے بھی بتایا تھا کہ میں اپنے خاوند کو صرف انہی پیسوں کی خبر دیتی ہوں جو مجھے حویلی میں کام کرنے پر ملتے ہیں۔ اس کمرے میں آنے کا مجھے جو کچھ بھی ملتا ہے وہ میں اپنی ماں کو دے دیتی ہوں۔
فضل داد:میرے کمرے میں آنے سے جو کچھ ملتا ہے، وہ تو میرے خیال میں سبھی لڑکیاں اپنے خاوندوں سے چھپاتی ہیں۔ کیونکہ میری معلومات کے مطابق وہ اس کمرے کے بارے میں، گھر میں کسی کو بھی کچھ نہیں بتاتیں مگر وہ تو یہ پیسے اپنے لیے بچا کر رکھ لیتی ہیں اور صرف میلے پر جا کر خرچ کرتی ہیں۔ تو تم کیوں اپنی ماں کو دے دیتی ہو؟
ثمینہ: میرا خاوند تو حویلی والی تنخواہ بھی ساری خود رکھ لیتا ہے۔ اور میرے ماں باپ بہت مجبور ہیں۔ دونوں کھیت مزدور ہیں اور اب عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے، مزدوری بھی زیادہ نہیں کر پاتے۔ بھائی کوئی ہے نہیں۔ دو بہنیں ہیں میری وہ بھی اب جوان اور شادی کے لائق ہیں۔ مگر میرے ماں باپ کے پاس ان کے جہیز کا کوئی بندوبست نہیں۔ اس لیے وہ آنے والے رشتوں پر بھی ابھی ٹال مٹول کر رہے ہیں۔
فضل داد:تو تم یہاں والے پیسے اپنی ماں کو دے دیتی ہو، تاکہ وہ تمہاری بہنوں کے جہیز کا بندو بست کرے؟
ثمینہ:جی صاحب جی۔
فضل داد: تو تمہاری ماں پوچھتی نہیں کہ یہ روپے کہاں سے ملتے ہیں تمہیں؟
ثمینہ:ماں کو سب پتہ ہے صاحب، میں نے اسے پہلے دن سے ہی اصل بات بتا دی تھی۔
فضل داد: تو اس نے تمہیں کہا نہیں کہ یہ تو گناہ ہے؟
ثمینہ:مجبوری گناہ اور ثواب نہیں دیکھ سکتی صاحب! مجبوری تو خود اتنا بڑا دوزخ ہے، اسے کسی اور دوزخ کا کیا خوف؟ مجبوروں کے لیے تو ہر جگہ دوزخ ہی دوزخ ہے۔ اس دنیا میں بھی اور اس دنیا میں بھی۔ جنت توان کے لیے کہیں بھی نہیں۔
فضل داد:اور یہ جو تم یہاں آتی ہو میرے پاس؟ آرام سے رہتی ہو، خوب کھاتی پیتی ہو؟
ثمینہ: یہ تو آپ کی مہربانی سے ایک چھوٹا سا وقفہ ہوتا ہے، دوزخ سے باہر نکل کر بیٹھنے کا ۔ جنت تو اسے بھی نہیں کہہ سکتے۔
فضل داد:اچھا اچھا! اب چھوڑو یہ مالش اور آ جاؤ اگلے کام پر ۔ میں آئندہ سے تمہاری خدمت کا زیادہ فائدہ اٹھایا کروں گا۔ اور اپنے ماں باپ کا پتہ بھی بتا دینا۔ میں ان کی بھی مدد کرنے کی کوشش کروں گا۔
ثمینہ: لیکن وہ تو آپ کے علاقے میں نہیں رہتے صاحب! ادھر دوسری طرف رہتے ہیں وہ۔
فضل داد:تم فکر نہ کرو۔ میں چلا جاؤں گا ادھر بھی۔
ثمینہ بی بی اس کے جواب سے خوش ہو گئی
کیونکہ اس کے پاس جو منصوبے تھے، یہ ان کی طرف پہلا قدم تھا۔
۔ ۔
{جاری ہے }


