خواتین کا عالمی دن کیا ہے؟


عالمی دن برائے خواتین کے حوالے سے تحقیق کرنے پر پتہ چلا خواتین ورکرز کی جدوجہد بہت پرانے زمانے سے آ رہی ہے۔ اور یہ عالمی دن ان کو مفت میں نہیں ملا بلکہ اس کے پیچھے صدی تک کی مزاحمت اور لازوال جدوجہد ہے۔

امریکی محکمہ شماریات پر شائع معلومات کے مطابق 8 مارچ 1857 کو نیویارک شہر میں جب خواتین ٹیکسٹائل ورکرز نے غیر منصفانہ کام لینے اور خواتین کے غیر مساوی حقوق کے خلاف احتجاجی مارچ کیا۔ یہ کام کرنے والی خواتین کی پہلی منظم ہڑتالوں میں سے ایک تھی، جس کے دوران انہوں نے کام کے دن کم کرنے اور معقول اجرت یا معاوضے کا مطالبہ کیا۔

پھر 8 مارچ 1908 کو سوئی کی فیکٹری کے خواتین کارکنوں نے بچوں سے مزدوری کروانے، مزدوروں کی حق تلفی کے خلاف اور خواتین کے حق رائے دہی کا مطالبہ کرنے کے لئے نیو یارک شہر کے لوئر ایسٹ سائیڈ میں مارچ کیا۔ اس کے ایک سال بعد امریکہ نے 8 مارچ کو نیشنل وومن ڈے یعنی ”خواتین کا قومی دن“ اعلان ہوا۔

1910 میں جرمنی کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی خاتون رہنما ”کلارا زیٹکن“ کی طرف سے 1910 میں کوپن ہیگن میں ایک کانفرنس میں خواتین کا بین الاقوامی دن منانے کا خیال پیش کیا جس کے بعد آج تک 8 مارچ ”خواتین کا عالمی دن“ کے طور پر منایا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ نے 1975 میں 8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن کے طور پر منانے کی منظوری دی اور اسی سال کو خواتین کا بین الاقوامی سال بھی قرار دیا۔

1910 سے 1975 تک یہ دن خود بخود خواتین کی عالمی دن کا خطاب ایسے مفت میں نہیں ملا بلکہ یہ دن مختلف وقتوں میں دنیا کی مختلف خطوں سے محنت کش خواتین کی طویل جدوجہد کے بعد یہ دن نصیب ہوا۔ جیسے 1914 میں جرمن خواتین ورکرز کا مارچ، 1917 میں روس کے خواتین کا ”امن اور روٹی“ کا مارچ کی شکل میں جدوجہد شامل ہیں۔

اسی دن کو بہت سارے ممالک جیسے نیپال، کرغستان، برکینا فاسو اور کمبوڈیا میں عام تعطیل ہوتی ہے جبکہ چائنہ میں خواتین کے لئے آدھا دن کی چھٹی ہوتی ہے۔

یہ نہیں کہ ایک دن کو عورت کا عالمی دن کا نام دے کر ہم نے دنیا فتح کی۔ ایک رپورٹ کے مطابق میکسیکو میں روزانہ 10 خواتین کا قتل ہوتا ہے۔ افغانستان میں عورتوں کی تعلیم پر آج کے زمانے میں پابندی ہے۔ پاکستان میں بھی خواتین کو بے شمار مسائل درپیش ہیں۔ یہ سب کافی نہیں ابھی اور بھی بہت سے اوراق پلٹنے ہیں جس میں خواتین پر ہونے والے طرح طرح کے مظالم کا ذکر ہو۔

یہی دن خواتین کا ہے جس میں ہم ان پر ہونے والے مظالم کے خلاف ان کے آواز بن کر ان کا ساتھ دینے کا عہد کرتے ہیں۔

Facebook Comments HS