انصافی دوست کا زہر اور دورہ وطن

عمران خان کی سیاست سے ہمارا بڑا اختلاف اس وقت شروع ہوا جب وہ فوج کی گود میں بیٹھے دن رات آرمی حکومتوں اور ڈکٹیٹرز کے ادوار کی تعریفوں کے پل باندھنے لگے، بہت حیرانی ہوئی، کیوں کہ آرمی حکومت اور جرنیلوں کی سیاست میں مداخلت پر کبھی عمران خان کا موقف پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز سے کافی موافقت رکھتا تھا۔
پاکستان جیسی ریاست میں کسی بھی لیڈر کی اہلیت اور سیاسی بلوغت کا جائزہ لینے کے لئے دوسرے ممالک کی طرح سیاسی، معاشی اور خارجہ امور پر متعلقہ لیڈر کی گرفت کے علاوہ جمہوری رویوں اور آمرانہ ادوار کو لے کر اس کے موقف کو بھی اہمیت حاصل ہوتی ہے ( ایک باشعور شہری کے لئے)، عمران خان اس محاذ پر تقریباً فیل ہوتے نظر آئے جب تقریباً ایک دہائی (اپنی حکومت یا کرسی چھن جانے تک) انہوں نے آرمی اور جرنیلوں کی تعریفوں اور سیاسی معاملات میں ان کی مداخلت کے دفاع میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔
نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے تمام اسپورٹرز آنکھیں بند کر کے لبیک کہتے رہے، اس تمام عرصے میں اپنے سیاسی مخالفین پر فوج کی سیاسی مداخلت کے دفاع میں غراتے، نوچتے اور کاٹتے نظر آئے، ان کا موقف تھا کہ اگر آرمی نہ ہوتی تو سیاستدان اس ملک کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے کھا جاتے،
فوج واحد ادارہ ہے جس میں کرپشن نہیں، نیک و پاک فوج کی سیاست دانوں پر نظر ہونی چاہیے، فوج کو پورا حق ہے کہ سیاستدانوں کے فون تک ٹیپ کر سکے، فوج کا سپاہ سالار قوم کا باپ ہوتا ہے، ساری ترقی فوجی حکمرانوں نے کروائی وغیرہ وغیرہ۔
پردیس سے پاکستان جانا ہوا تو ایسے ہی ایک عمران خان کے اسپورٹر دوست کے بارے میں خبر ملی کہ ان کے چچا کی وفات ہو گئی ہے، میں نے ایک دوسرے دوست سے رابطہ کیا اور اس کے گھر افسوس کے لیے پہنچا، پڑھا لکھا، انتہائی شریف اور نیک میرا یہ دوست ایک قیمتی انسان ہے، لیکن عمران خان کے سوشل میڈیا واریئرز کی بدولت وہ کسی زومبی (زندہ لاش) کی صورت اختیار کر چکا تھا۔
اس نے کوئی لحاظ نہیں کیا کہ پردیس سے دوست آیا ہے، چچا کا افسوس کرنا چاہ رہا ہے، کوئی گھر کی بات کریں، اس نے آرمی کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا، حالانکہ صرف چند ماہ پہلے تک گزشتہ کئی سالوں سے اس کا موقف بالکل مختلف تھا ) پھر وہ آدھا گھنٹہ معاشی آنکڑے گنواتا رہا، گزشتہ دور میں ایکسپورٹ اتنے پرسنٹ بڑھی، معاشی حجم اتنا ہو گیا تھا، فارن ریمیٹنسز، ملک نیچے جا کر اٹھنے ہی والا تھا کہ باجوہ بیچ میں کود پڑا (عاصم باجوہ نہیں بلکہ قمر باجوہ) اتنے ہزار کلومیٹر سڑکیں بنائیں، سی پیک، غرض کہ جو کچھ ٹک ٹاک، فیس بک اور پارٹی کے پیجز پر لکھا گیا وہ مجھے سناتا رہا، جیسے سب سننے والے بلوچستان سے آئے ہوں۔
اب اس حال میں جب کہ میں جیٹ لیگ کی کیفیت میں تھا وہاں سے اٹھنا مشکل ہو گیا، میں اجازت کے لئے کوئی ایسا لمحہ ڈھونڈ رہا تھا کہ جب ہم دوستوں کی طرح صرف اپنی بات کر رہے ہوں، کہ کب آئے؟ آنا کیسے ہوا؟ سفر کیسا گزرا وغیرہ وغیرہ تو میں اجازت چاہوں گا، لیکن اس کی نالج کہیں تھمنے یا رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی، ہر دلیل کے ساتھ اس کا جوش مزید بڑھتا جاتا اور ہونٹوں کے دونوں کناروں پر ہلکی سی تھوک نما جھاگ آتی اور غائب ہوتی رہی، اس کی گفتگو میں ایک تسلسل تھا یعنی دو یا تین آنکڑے اور جرنیلوں کو گالیاں پھر دو یا تین آنکڑے اور آرمی کی سیاسی مداخلت کو گالیاں۔
بڑی مشکل سے اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے بات کو ختم کیا کہ بھائی تم ٹھیک کہہ رہے ہو، ہم تمہارے ساتھ ہیں، یہ باتیں جو تم بتا رہے ہو یہ تو ہمیں آج ہی معلوم ہوئی ہیں، تم تو کمال سیاسی شعور کے مالک ہو، یہ نا اہل قوم تمہاری بلوغت کے شایان شان ہی نہیں وغیرہ۔
اپنے مختصر دورے کے قیمتی وقت میں اس ملاقات کے زہر کی بدولت دو دن پریشان رہ کر ضائع کیے، اس عہد کے ساتھ کہ کم از کم اس دورے میں اب کسی انصافی دوست سے ملاقات نہیں کرنی (یعنی ایک وزٹ میں صرف ایک انصافی) اپنے وزٹ کا دوبارہ آغاز کیا۔

