پروفیسر ڈاکٹر شاہد کمال کی یاد میں


کمال کے انسان تھے، وہ انسان جن میں انسانیت کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ ان کی فیملی تین بھائی اور دو بہنوں میں مشتمل تھی۔ بھائیوں میں سے ایک بینک میں ملازمت کرتے ہیں، اور ایک گنگا رام ہسپتال میں ڈیپارٹمنٹل ہیڈ ہیں۔ شیر محمد چودھری ان کے والد تھے، جی سی یونیورسٹی لاہور میں سٹیٹسٹکس ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ تھے، جن کی انٹروڈکشن ٹو سٹیٹسٹکس کتابیں آج تک یونیورسٹی انڈر گریجویٹ کریکولم میں شامل ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر شاہد کمال نے اپنا ماسٹرز جی سی یونیورسٹی لاہور سے کمپلیٹ کیا تھا۔ پی ایچ ڈی ایگزیٹر یونیورسٹی سے اپلائیڈ بائیو سٹیٹسٹکس میں کرنے کے بعد ، پنجاب یونیورسٹی لاہور جوائن کر لی تھی، جہاں وہ 2018 تک پروفیسر اور ڈین اف سائنسز رہے۔ اس دوران پورے پاکستان کا سب سے بڑا سٹیٹسٹکس کا ڈیپارٹمنٹ پنجاب یونیورسٹی میں بنانے کے علاوہ، آپریشنل ریسرچ، اور بائیو سٹیٹسٹکس میں ماسٹرز پروگرامز بھی سٹارٹ کر واہے۔

پنجاب یونیورسٹی سے 2019 میں ریٹائرمنٹ کے بعد جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے وی سی بنے، تو بہت سے چیلنجز سے نبرد آزما رہے۔ ایک پورا حریف گروپ موجود تھا، کردار کشی سے لے کر ہر الزام عائد کرنے میں۔ پڑ آفرین ہے اس مرد مجاہد پر، جس نے ہر مخالفت کے باوجود حافظ آباد کیمپس اوپن کیا، اور کچھ ڈیپارٹمنٹس کے ہیڈز کا تبادلہ کیا۔ ان کا ایک اہم کارنامہ تھا جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کو کیو ایس ورلڈ رینکنگ میں پنجاب میں نمبر ون پر لانا۔

یہ کامیابی بہت سوں کو نہ بھائی، اور ایک ماہر شماریات ہونے پر ڈیٹا میں ہیر پھیر سے یہ کامیابی حاصل کرنے کا سہرا ٹھہرائی گئی، پر بھلا ہو پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد منیر کا جنہوں نے مخالفین کے سوالوں کے تسلی بخش جوابات دے کر منہ بند کروا دیے۔ یہ الگ بات ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر شاہد کمال کو کسی کے کچھ کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا، وہ اپنی ہی دھن میں مست رہتے تھے، انھیں جو ٹھیک لگتا تھا وہی کرتے تھے۔

پروفیسر ڈاکٹر شاہد کمال نے رہائش لاہور میں ہی رکھی تھی، اور روزانہ فیصل آباد جایا کرتے تھے۔ ڈاکٹر شاہد کو لاہور بہت پسند تھا۔ اور ایسے ہی ایک دن 13 مارچ کو جب لاہور سے فیصل آباد جا رہے تھے تو سنیا والا کے پاس ان کی پراڈو ٹائر برسٹ ہونے کی وجہ سے بے قابو ہو کر آئل ٹینکر سے ٹکرا گئی، اور وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

پسماندگان میں دو بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔
موت سے کس کو رستگاری ہے
آج ان کی، کل ہماری باری ہے

اسلام آباد چھوڑ کر جب ہم لاہور کی پنجاب یونیورسٹی صرف دیکھنے گے، تو پروفیسر ڈاکٹر شاہد کمال سے پہلی بار ملنے پڑ ہی ایسا لگا جیسے صدیوں سے جانتے ہیں۔ پازیٹو وابز فیل ہوئی۔ سب نے منع کیا، بہت کچھ کہا، لیکن ہم نے اپنے دل کی سنی، اور یوں اس انسان کی سپرویژن میں آ گئے، جس نے ہمیں زندگی کے بہترین سبق سکھا ہے۔ ایک طرف تو ہم اصول پرستی، سچائی، دیانت داری کے قائل اور ٹائم کے پابند تھے تو دوسری طرف بدلہ لینے اور دل دکھانے کی عادات بد میں مبتلا۔ مانو کے سیکھا ہی نہیں تھا، دوسروں کا دل رکھ لینا، جانتے ہوئے بھی چپ ہو جانا۔

پروفیسر ڈاکٹر شاہد کمال، ہم سے بالکل الگ عادات کے مالک تھے، ایک طرف ڈین، ڈائریکٹر اور پرنسپل تھے، ٹائم کی کمی کا شکار ہمیشہ رہتے تھے، جس کی وجہ سے میٹنگ کبھی شیڈول کے مطابق نہیں ہو پاتی تھی، دوسری طرف دل رکھنا، حوصلہ بڑھانا، اور آؤٹ اف دی وے جا کر مدد کرنا ان کی عادتیں تھیں۔ عاجزی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔

کچھ ہی دنوں میں ہمیں معلوم ہو گیا، وہ مشرق اور ہم مغرب ہیں۔ نتیجہ سخت اختلافات کی شکل میں نکلا، لیکن موصوف ایک میچور اور مہذب انسان تھے، اس لیے مکالمہ کا اہتمام کیا، اور ہم نے دل کھول کر سب کو برا بھلا کہا، انہوں نے دل رکھ کر سب سنا اور مان لیا۔ اس دن کے بعد سے آج کے دن، چار سال تک ہماری سر سے نا صرف اچھی ایموشنل بونڈنگ رہی، بلکہ سر کی چند بہترین صفات کچھ کچھ ہم میں بھی آ گئیں، جیسے کے انسان دوستی، اور مہربانی۔ سر نے ان چار سالوں میں مجھے نیگیٹو نہیں ہونے دیا، اپنی لائف کی ہر اچھی اور بری بات سب سے پہلے سر کو بتاتی تھی۔ کبھی جو کچھ برا ہو جاتا، سر اس میں بی اچھے پہلو ڈھونڈنے کا کہتے تھے، اگر کوئی برا کر دیتا، اس کو معاف کرنے اور اس سے اچھا کرنے کا کہتے تھے۔

آپ سوچ سکتے ہیں، ایک ایسا انسان کتنا عظیم ہو گا، جسے معلوم ہو اس کے پیروں تلے سے زمین کھنچنے والے وہ ہیں، جنھیں اس نے خاک سے اٹھا کر تخت تک پہنچا دیا، وہ جو کچھ نہ تھے فائدہ لیتے گئے اور جڑیں کاٹتے گے، پھر بھی اس عظیم انسان نے کبھی ان کا نقصان نہ کیا۔ ہمیشہ دل رکھ لیا، آگے بڑھ کر تھام لیا، سوری نہ کرنے کے باوجود معاف کر دیا، اور یہی سب سبق اپنی سب سے آخری سٹوڈنٹ یعنی مجھے بھی سکھا دیے۔

پروفیسر ڈاکٹر شاہد کمال نے اپنی باتوں سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے میری وہ مینٹور شپ کی ہے، جس کے لیے تا عمر میں ان کی مقروض رہوں گی۔

آج پورا سٹیٹسٹکس ڈیپارٹمنٹ سوگ میں ڈوبا ہوا تھا، ہوائیں بتا رہی تھیں آج ہم یتیم ہو گے۔ میں یہ نہیں کہتی کہ سٹیٹسٹکس کا کوئی قابل پروفیسر موجود نہیں، ان سے کہیں بڑھ کر پروفیسرز ہیں، لیکن کیا کوئی اعلیٰ ظرفی میں ان کی کمی پورا کر پائے گا، مجھے لگتا ہے نہیں۔ لو آج ایک عہد تمام ہوا۔

 

Facebook Comments HS