توشہ خانہ کے تحائف اور غریب عوام کے طعنے


حکومت نے فروری کے مہینے میں توشہ خانہ کے تحائف کا ریکارڈ پبلک کرنے کا اعلان کیا اور اس طرح توشہ خانہ کا 21 سالہ ریکارڈ یعنی 2002 سے 2023 تک کا ریکارڈ پبلک کیا۔ ریکارڈ پبلک ہونے پر ہر پارٹی کے اکثر ورکرز ( جو ورکرز کم، فین فالوورز زیادہ ہیں ) مخالف پارٹیوں کو توشہ خانہ سے تحائف لینے پر چور چور کی چیخیں مار رہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ کوئی اپنے لیڈر یا پارٹی کا ریکارڈ دیکھ کر سنجیدگی سے نہیں سوچتا کہ کس طرح ہمارے حکمران توشہ خانہ کے تحائف اصل قیمت سے نسبتاً مفت لے جاتے رہے بلکہ ایک مذاق بنا کر سوشل میڈیا پر تشہیر کر رہے۔

پہلی بات تو یہ سمجھیں کہ توشہ خانہ سے تحائف یا دیگر چیزیں ایک قانون کے تحت لیے جاتی ہے جس میں کم قیمت والے چیزیں یا کھانے پینے کی چیزیں مفت میں بھی لی جاتی ہیں۔

دوسری بات: بیرونی ممالک کے سرکاری دوروں پر سیاستدانوں کے علاوہ جج اور جرنیل و دیگر سرکاری افسران بھی جاتے ہیں تو سیاسی لوگوں کے علاوہ جن جن لوگوں کو تحائف ملے ان کے تفصیلات بھی پبلک کی جائیں تاکہ پتہ تو چلے باجوہ کو ملنے والا سونے کا ہار کہاں ہے؟

ایک دوسرے کو طعنے دینے کی بجائے باشعور اور ذمہ دار شہری بن کر اپنے پارٹی لیڈران سے یہ مطالبہ کریں کہ یہ مخصوص قانون ایسا ہو کہ پہلے تو تحائف توشہ خانہ میں جمع ہوں اور یادگار کی طور پر موجود ہوں لیکن اگر کوئی کسی چیز کو اپنے ساتھ رکھنا بھی چاہے تو قانون ایسا بالکل نا ہو کہ کوئی کروڑوں کا تحفہ لاکھوں میں لیے جا سکے اور توشہ خانہ سے چیزیں لینے پر صرف ایلیٹ کلاس کا حق نا ہو بلکہ تمام شہریوں کا ایک جیسا حق ہو۔

قانون ایسا ہو کہ اب تک جس نے بھی توشہ خانہ سے یا سرکاری دورے میں ملنے والے تحائف کو غیر قانون طور پر اپنے پاس رکھے ہیں ان سے ایک ایک تحفے کو واپس لیا جائے اور توشہ خانہ میں جمع کیا جائے۔

توشہ خانہ سے چیزیں لینا شاید عام بات لگے۔ ہمارے ہاں تو 21 گریڈ کے افسر نے بیرونی ملک سے آئے وفد سے پرس چرانے میں شرم محسوس نہیں کی۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کرپشن اور لوٹ مار اوپر سے نیچے تک ہے۔ اس کے لئے ”تیرا چور مردہ باد میرا چور زندہ باد“ جیسے فضول بحث سے نکلنا ہو گا ورنہ اس ملک میں ہمیشہ غریب و لاچار رہ کر دوسروں کے لئے زندہ باد مردہ باد کے نعروں کے ساتھ رخصت ہوں گے اور یہ سلسلہ ہم سے ہمارے آنے والے نسل تک منتقل ہو گا۔

Facebook Comments HS