توشہ خانہ، علماء کا فتویٰ اور اخلاقی انحطاط
اخلاقی انحطاط کی ایک سونامی ہے جس نے دہائیوں سے ملک کو لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ بس موقع ملنے کی دیر ہوتی ہے پھر جس کا داؤ لگتا ہے وہ حسب توفیق کچھ نہ کچھ سمیٹ لیتا ہے۔ دیدہ دلیری کی انتہا ہے کہ کوئی ندامت بھی نہیں ہوتی۔
نواب مصطفی خان شیفتہ کی ایک مکمل غزل کے ایک مصرعے کو اتنی پذیرائی ملی کہ اب بطور محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے۔
ہم طالب شہرت ہیں، ہمیں ننگ سے کیا کام۔ بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا
یہ مصرعہ ہماری سیاسی، سماجی اور معاشرتی حالت زار کی مکمل عکاسی کرتا ہے۔ انفرادی اور اجتماعی طور پر قدآور شخصیات خواہ ان کا تعلق زندگی کے کسی بھی عام و خاص شعبہ سے ہو، ان کے کردار پر کوئی نہ کوئی دھبہ ضرور موجود ہے۔ توشہ خانہ کے تحائف نے ایسے غسل خانہ کی منظر کشی کردی ہے جس کے اندرونی مناظر پوری دنیا نے دیکھ لئے ہیں۔ ایسی ہوس کے نظارے کہیں نہیں دیکھے گئے کہ معمولی معمولی اشیاء بھی چھوڑی نہیں گئیں۔ مال و دولت سے بھرا کنواں بھی ایک دن ایسی لوٹ مار سے خالی ہو جاتا ہے، یہ کسی نے نہیں سوچا۔
توشہ خانہ کے تحائف پبلک کیا ہوئے کہ لوگوں پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ بہتی گنگا سے کن کن پارساؤں نے ہاتھ دھوئے اور بعض نے تو ”ات ہی مچا“ ہوئی تھی اور کسی کو کانوں کان خبر نہ تھی۔ توشہ خان کی فہرست بتاتی ہے کہ ہر ایک نے کارروائی کے دوران اپنے اپنے سماجی اور سیاسی سٹیٹس کو مد نظر رکھا ہے۔ بڑے بڑے تحائف جو کوڑیوں کے مول پر قبضے میں لئے گئے ان میں مرسیڈیز بینز، ڈی ایم ڈبلیو ایسی قیمتی ترین گاڑیوں کے علاوہ بڑی تعداد میں انتہائی قیمتی گھڑیاں اور ہار شامل ہیں۔
سرکاری عہدیداروں کے علاوہ خاندان کے افراد جن کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں تھی، انہوں نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس بارے قانون بالکل خاموش ہے۔ کہتے ہیں کہ بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی۔ اس کے مصداق کچھ ناقابل یقین سفارتی چوریاں بھی سامنے آئی ہیں۔ ان میں بیڈ شیٹس، قالین، پرفیوم، کمبل، چاکلیٹ، ڈیکوریشن کی اشیاء وغیرہ شامل ہیں۔ انتہائی قیمتی تحائف سستے داموں اور کہیں بالکل مفت مال سمجھ کر قبضہ میں کیے گئے۔
ان حرکتوں سے دنیا میں پاکستان کی ساکھ داغدار ہوئی ہے۔ نون لیگ کے اقبال احسن نے تحائف کی بقیہ رقم کا چیک توشہ خانہ بھیج دیا۔ بلاول بھٹو زرداری کے بارے سننے کو ملا کہ تحائف واپس توشہ خانہ بھیج دیے ہیں۔ یہ غلطیوں کا کھلا اعتراف ہے۔ سب سے انوکھا ردعمل شاہد خان عباسی سابق نگران وزیر اعظم نے جیو پر پروگرام میں بہت دلیری سے دیا اور کہا کہ ایسے تحائف وزیر اعظم کو ذاتی طور پر ملتے ہیں، اسی کی ملکیت ہوتے ہیں۔ حکومت کا اس سے کیا تعلق؟ انہوں نے مزید کہا کہ میرے تحائف ہیں رکھوں یا بیچوں۔ ان کی مراد شاید یہ تھی کہ ”میرے تحائف، میری مرضی“ ۔
فہرست پبلک ہوتے ہی میڈیا اور نیوز چینلز پر اتنا شور مچا کہ علماء کی بھی آنکھ کھل گئی اور انہوں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے راتوں رات فتویٰ داغ دیا۔ یہ فتوی ٰ لاہور کے ایک مشہور و معروف دینی مدرسہ کی طرف سے جاری کیا گیا جو ذرائع ابلاغ کی زینت بنا۔ خبر کے مطابق دارالعلوم جامعہ نعیمیہ کے مفتیان کرام نے توشہ خانہ کے قانون کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے فتویٰ جاری کیا کہ کم قیمت پر اشیاء خریدنا جائز نہیں۔ کیونکہ یہ تحائف ملک و قوم کی ملکیت ہوتے ہیں کسی کی ذاتی ملکیت نہیں۔
فتویٰ جاری کرنے والوں میں ناظم اعلیٰ جامعہ و ممبر اسلامی نظریاتی کونسل اور دیگر مفتیان کرام شامل ہیں۔ فتویٰ میں مزید کہا گیا کہ حکومتی عہدے پر فائز شخص کو ملنے والے تحفے اپنی ملکیت میں رکھنے پر رسول االلہ ﷺ نے تنبیہ فرمائی، لہذا چھوٹے، بڑے تحائف قومی خزانہ میں جمع ہوں گے ۔ اگر اس فتویٰ کو سنجیدگی سے لیا جائے تو بات کہیں سے کہیں پہنچ سکتی ہے لیکن چونکہ اس میں سابق صدور، وزرائے اعظم پاکستان، سیاسی جماعتوں کے قائدین بھی شامل ہیں۔
انہوں نے ہی تو قوانین بنانے اور ان کی منظوری دینی ہوتی ہے لہذا کون ان کا بال بھی بیکا کر سکتا ہے۔ لہذا یہ فتویٰ بس ایک خبر بن کے ہی رہ گیا۔ اسلامی تاریخ میں ایسے واقعات موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ کبھی کہیں ایسی حرکت ہوئی تو قاضی یا خلیفہ وقت نے بروقت اور سخت ایکشن لیا۔ آج یہاں ایک با اثر مسلمان سیاہ کرے یا سفید، اس کی کوئی پکڑ نہیں ہے۔ یہاں سزائیں، قوانین، جیلیں سب غریبوں اور کمزوروں کے لئے ہیں۔
قوانین کے نفاذ میں بھی تعصب اور امتیاز روا رکھنا ہماری پرانی قومی پالیسی ہے۔ پاکستان کی بڑی تمام سیاسی جماعتوں میں ”علماء ونگ“ موجود ہیں۔ اس موقع پر ان کو اپنے ان قائدین و اکابرین کا دفاع کرتے ہوئے کوئی جوابی فتویٰ جاری کرنا چاہیے تاکہ تمام ہڑپ شدہ تحائف حلال و جائز ہو سکیں۔ سا ہا سال سے ان جماعتوں کا نمک کھا رہے ہیں۔ اب نمک حلالی کرنا ان کا سیاسی فریضہ ہے۔ دہائیوں سے عدل اور انصاف میں ڈنڈی پر ڈنڈی ماری جا رہی ہے اور کسی کو ندامت اور پشیمانی بھی محسوس نہیں ہوتی۔


