لندن آرکسٹرا اور ہمارے ہاں کا انتشار!


عشروں پہلے رات گئے، دوسری جنگِ عظیم کی یاد میں گولڈن جوبلی تقریبات کے حوالے سے لندن سمفنی آرکسٹرا کی پرفارمنس پی ٹی وی پر نشر ہوئی۔ (اس زمانے میں پی ٹی وی کو سرکاری ٹی وی نہیں پی ٹی وی ہی کہا جاتا تھا) ۔ نصف شب کا عالم تھا، رات کی خاموشی اور تنہائی۔ جنگِ عظیم کی دلخراش تباہ کاریوں کو دکھاتی خاموش ویڈیوز، جامد تصویریں اور بیسیوں سازوں اور اسی قدر سازندوں پر مشتمل دھنیں بکھیرتا آرکسٹرا۔ نہ کوئی کمنٹری، نہ ہی ’سب ٹائٹلز‘ ۔

خاموش ویڈیوز کو مگر زبان مل گئی۔ جامد تصویریں جیسے یکا یک سسکیاں بھرنے لگی ہوں۔ کچرے کے ڈھیروں پر بیٹھے ڈرے سہمے بچے رونے لگے ہوں۔ بد حال مسافر اپنے اپنے بوجھ کو لے کر رینگنے لگے ہوں۔ زخموں سے جیسے خون پھر سے رسنے لگا ہو۔ رُکے ہوئے آنسو بہہ نکلے ہوں۔ بیوہ عورتیں بین کرنے لگی ہوں۔ جہاز پھڑپھڑانے، ٹینک آگ اگلنے اور توپیں گرجنے لگیں ہوں۔ گردنوں میں بندوقیں لٹکائے، کچھ تھکن تو کچھ زخموں سے چُور اپنے اپنے گھروں سے میلوں دور بھٹکتے سپاہیوں کو جیسے زبان مل گئی ہو۔ اپنی اپنی داستان جو سنانے لگے۔

یوسفی صاحب نے کہیں لکھا تھا ناچتے ناچتے وہ طلسمی لمحہ آتا ہے کہ جب مور کے پاؤں تھم جاتے ہیں، سارا جنگل اس کے ارد گرد گھومنے لگتا ہے۔ اس شب یہ سب آرکسٹرا کا کمال تھا۔ ایک کے بعد ایک ’سُر ملاپ‘ جو بجا رہا تھا۔ آرکسٹرا کیا ہے، بیسیوں مرد و زن کا ایک لشکر ہے۔ چھوٹے بڑے سازوں کو سامنے رکھے، سازندے اپنی انگلیوں کے پوروں اور پھولے گالوں میں بھری پھونکوں کے ساتھ اپنی دھن میں مست۔

یہ کیسے ممکن ہے کہ درجنوں مرد وزن بیٹھے اپنے اپنے حصے کا کام کر رہے ہوں، اور ان میں سے کسی ایک کو بھی یہ احساس تک نہ ہو کہ کوئی اس کا کام دیکھ بھی رہا ہے یا کہ نہیں۔ گرد و پیش سے بے نیاز بیسیوں سازندے کہ جن کے ساز کی انفرادی آواز آرکسٹرا کی مجموعی تخلیق میں کہیں جذب ہو گئی ہو۔ ڈوب گئی ہو۔ فنا ہو گئی ہو۔ جیسے ہزاروں لاکھوں بیج زمین میں فنا ہوتے ہیں، تو ہی اناج بالیوں پر مہکتا ہے۔ جیسے سینکڑوں ہزاروں ننھی جانیں رس چوس چوس کر لاتی ہیں تو ہی ایک قطرہ شہد کا وجود پاتا ہے۔

ایسے ہی بیسیوں سازندے چھوٹے بڑے سازوں کے ساتھ سر اور راگنیاں چھیڑتے ہیں تو ہی ’سُر ملاپ‘ جنم لیتا ہے۔ سامنے رکھے کاغذ پر جو کچھ لکھا ہے، مجال ہے کوئی اپنی باری پر ایک لمحہ کی تاخیر کرے۔ یا پھر اوروں سے بازی لینے کو جھپٹے۔ درجنوں ساز مگر آرکسٹرا ایک۔ اسی قدر سازندے مگر سمفنی ایک۔ بیسیوں میں سے کوئی ایک تو چُپکا بیٹھا رہ سکتا ہے۔ اپنی باری پر کوئی اونگھ بھی تو سکتا ہے۔ کام بگاڑنے کو کوئی کچھ بھی تو کر سکتا ہے۔

ساز پر کوئی بے وقت ہاتھ مگر نہیں پڑتا ہے۔ چہروں پر متانت۔ بھاری ذمہ داری کا احساس۔ اپنی اپنی جگہ پر ہر انفرادی ساز کی حیثیت بے وقعت، مگر سمفنی کی صورت جو سب ڈھلتے ہیں تو جل ترنگ بج اٹھتے ہیں۔ چراغ جل جاتے ہیں۔ بادل برسنے لگتے ہیں۔ خاموش فلمیں بولنے لگتی ہیں۔ ساکت تصویریں کو زبان مل جاتی ہے۔ لندن پر بمباری، تباہی، موت اور نئے سرے سے کھڑے ہونے کے عزم کی داستان سُر ملاپ میں ڈھل جاتی ہے۔ سُر بولتے ہیں۔ سمفنی بجتی ہے۔

نوجوان سپاہی سوچتا ہے۔ شب گئے تک سوچتا ہے۔ ہمارے ہاں بیسیوں سازوں اور سازندوں پر مشتمل آرکسٹرا کیوں نہیں ہیں؟ تصویروں کو ، خاموش فلموں کو ، مجسموں کو ، ہمارے فنکار سُر ملاپ کی زبان کیوں نہیں دیتے؟ آرکسٹرا کے بیسیوں سازندوں کی کوئی انفرادی پہچان نہیں۔ مگر وہ کیا ہے جو انہیں دنیا و مافیہا سے لا تعلق اپنے اپنے حصے کے کام میں جٹے رہنے کی تحریک بخشتا ہے۔ کوئی نہیں پکارتا، دیکھو دیکھو میں کیا بجا رہا ہوں۔ کیا خوب بجا رہا ہوں۔

پھر ایک چھوٹی سی کتاب ملی۔ ڈاکٹر داؤد رہبر کی ’نسخہ ہائے وفا‘ ۔ ڈاکٹر صاحب ماڈل ٹاؤن لاہور کے اولین باسیوں میں سے تھے۔ وہیں پلے بڑھے۔ گورنمنٹ کالج سے پڑھے۔ انگلستان سے پڑھے۔ ترکی میں پڑھایا۔ امریکہ کی یونیورسٹیوں میں پڑھایا۔ کئی کتابیں لکھیں۔ جس کتاب سے ازکارِ رفتہ سپاہی کا واسطہ پڑا کہیں ساٹھ کی دہائی میں لکھی تھی۔ چھوٹی سی کتاب ہے۔ کتاب کیا ہے، ایک گلدستہ ہے۔ سُر ملاپ ہے۔ سمفنی ہے۔ ماڈل ٹاؤن کی یادیں ہیں۔

تقسیم کے لاہور کا احوال ہے۔ سر سنگیت کی بات ہے۔ باغبانی ہے۔ انگلستان کے دیہات کی زندگی ہے۔ موٹر کار ہے، کشمیری ہمسائے ہیں، مولانا صلاح الدین سے ملاقاتیں ہیں، امریکہ میں بابائے اردو کے قیام کی یادیں ہیں۔ سنگیت اور فنِ موسیقی سے متعلق ابواب ہماری الجھن سلجھاتے ہیں۔ ہمارے ہاں آرکسٹرا کیوں نہیں ہوتے؟ یہ سمجھاتے ہیں۔ افراد کی طرح قوموں کے بھی مزاج ہوتے ہیں۔ یہاں ہر کوئی اپنا اکہرا راگ الاپتا ہے۔ ہر گویّا خود غرض اور خود ستائی کا مارا۔

آرکسٹرا میں کھڑا ہو تو بھی اپنا ہی سُر لگائے گا۔ اپنی باری کا انتظار جس کے لئے بہت مشکل ہے۔ سمفنی درجنوں، بیسیوں تخلیق کاروں کا ملاپ ہے۔ ہمارا گویاّ مگر تنہا سُر لگانا چاہتا ہے۔ سُر ملاپ کی تخلیق میں جسے فنا گوارا نہیں۔ صدیوں سے تنہا ہی سُر لگا رہا ہے۔ صدیوں سے وہی گھسے پٹے سُر لگا رہا ہے۔ نا کوئی نیا ساز ایجاد کیا نہ کوئی نئے راگ راگنی۔ آرکسٹرا کا ہر رکن جھک جھک کر تالیوں کی گونج میں داد وصول کرتا ہے۔

اپنے لئے نہیں پورے آرکسٹرا کے لئے داد وصول کرتا ہے۔ ہمارا گویّا صرف اپنے لئے تحسین چاہتا ہے۔ پرانے حکیموں کی طرح خاندانی نسخہ کسی کے ساتھ نہیں بانٹتا۔ خاندان سے باہر خدا داد صلاحیتیوں کے حامل فن کاروں کو جو ’عطائی‘ کہہ کر پکارتا ہے۔ خود ’میراثی‘ کہلاتا۔ لوگ داد دیتے ہیں مگر ساتھ نہیں بٹھاتے۔ سکھانے میں بخل سے کام لیتا ہے۔ شاگردوں سے جوتیاں سیدھی کرواتا ہے۔ حقّہ بھرواتا ہے۔ ناک سے لکیریں نکلواتا ہے۔ اپنے بچوں کے علاوہ خال ہی کسی غیر میراثی کو سند عطا کرتا ہے۔ فن کی میراث خاندان میں ہی رکھنا چاہتا ہے۔ اولاد کس قدر بھی نا اہل ہو، بے حس ہو، بے سُری ہو، وراثت کی حقدار مگر وہی ہے۔ باقی سب ’عطائی‘ ہیں۔

اب جا کر کہیں سمجھ میں آیا، ہمارے ہاں سر سنگیت تو ہے، سُر ملاپ کیوں نہیں ہے۔ اب پتا چلا، ہمارے ہاں گویے تو ہیں، تخلیق کار کیوں نہیں۔ گیت تو ہیں، سمفنیاں کیوں نہیں۔ یہاں ہر کوئی اپنا راگ الاپتا ہے۔ جب ہر کوئی اپنا اپنا راگ الاپتا ہے تو سمفنی نہیں شور پیدا ہوتا ہے۔ سُر ملاپ نہیں انتشار پیدا ہوتا ہے۔ انتشار بڑھے تو معاشرے تباہ ہو جاتے ہیں۔ منتشر معاشرے سُر ملاپ نہیں کر سکتے۔ سُر ملاپ تو دور کی بات کوئی نیا ساز بھی ایجاد نہیں کر سکتے۔

نئے راگ راگنیاں کو بھی دریافت نہیں کر سکتے۔ فن سے انہیں دلچسپی اس طرح ہوتی ہے جس طرح کمہار کو برتن بنانے سے ہوتی ہے۔ اسے روزی کا وسیلہ سمجھتے ہیں۔ متروک سازوں پر خاندانی گویّے اور ان کی نا اہل، بے سُری مگر گھمنڈی اولادیں وہی بوسیدہ بے ربط گیت نسل در نسل گاتے چلے جاتے ہیں۔ افراد کی طرح قوموں کے بھی مزاج ہوتے ہیں۔ کاش ہمارے ہاں بھی آرکسٹرا ہوں۔ کاش ہم بھی سُر ملاپ سے جینا سیکھ لیں۔

Facebook Comments HS

One thought on “لندن آرکسٹرا اور ہمارے ہاں کا انتشار!

  • 19/03/2023 at 1:54 شام
    Permalink

    👍شکر ھے کوئ ڈھنگ کی بات کی ھے ورن ھر کالم عسکری تعصب اور سپاہاھانہ کوتاہ بینی سے عبارت ھوتا ھے

Comments are closed.