زلزلہ کا خطرہ اور ممکن احتیاطی و حفاظتی طریقے


شمالی پنجاب، کشمیر اور صوبہ خیبر پختون خواہ اور ملحقہ علاقوں میں آج رات ( 8۔ 6 ) چھ اشاریہ آٹھ کی شدت کا زلزلہ آیا۔ جس کا مرکز افغانستان کے ساتھ ملنے والی سرحد کے نزدیک کوہ ہندو کش میں تھا، اس زلزلے کے مرکز کی گہرائی سطح زمین سے 180 کلو میٹر نیچے تھی۔ کسی زلزلہ کے مرکز کی گہرائی جتنی کم ہو گی اتنا ہی وہ املاک اور عمارات کے لیے تباہ کن اور نقصان و انہدام کا باعث ہو گا۔ ماضی میں سنہ 2005 کا جو شدید اور تباہ کن زلزلہ، آزاد کشمیر اور خیبر پختون خواہ اور ان کے ملحقہ علاقوں میں آیا تھا، جس میں ان علاقوں میں لگ بھگ نوے ہزار افراد جاں بحق ہوئے اور عوام کی بہت بڑی تعداد شدید زخمی اور معذور بھی ہو گئی تھی۔

وہ زلزلہ نہ صرف 8۔ 7 ( سات اشاریہ آٹھ ) شدت کا تھا، بلکہ اس کے مرکز کی گہرائی وادی نیلم کے علاقہ نوسیری کے نزدیک صرف 10 سے 12 کلو میٹر سطح زمین کے نیچے تھی۔ جس نے اس علاقے میں خاکہ، بجری اور ریتلی مٹی ”پر مشتمل، ہزارہ فارمیشن کہلانے والے علاقوں کو بری طرح تہ و بالا کر کے رکھ دیا، مظفرآباد چونکہ دو مختلف قسم کی زمینی فارمیشنز کا مقام اتصال ہے۔ اور یہاں ہزارہ فارمیشن اور مری فارمیشن کا ملاپ ہوتا ہے۔

لہذا یہ علاقہ دو ایکٹو ٹیکٹانک پلیٹس کا مقام اتصال بھی ہے۔ مشاہدے میں آیا کہ اس زلزلے کی سب سے زیادہ شدت ہزارہ فارمیشن کہلانے والے علاقوں نوسیری سے مظفرآباد کی طرف اور یہیں یعنی نوسیری کے عقبی طرف واقع صوبہ خیبر پختون خواہ کے شہر بالا کوٹ اور اس کے ملحق علاقوں کی طرف مرتکز رہی، بالا کوٹ اور اس کے ملحق متاثرہ علاقے بھی زمینی ساخت کے لحاظ سے ہزارہ فارمیشن پر ہی مشتمل ہیں۔ مشاہدے میں یہ آیا کہ اس زلزلے کی لہریں، ہزارہ فارمیشن کی زمینی ساخت میں خوفناک تباہی پھیلاتے ہوئے جوں جوں نرم مٹی اور پتھروں پر مشتمل مری فارمیشن کی زمینی ساخت تک پہنچ کر اس فارمیشن میں سے گزرتی چلی گئیں۔

ویسے ویسے اس زلزلہ کی شدت اور اس سے ہونے والا نقصان کم سے کم ہوتی چلا گیا۔ یعنی مختصراً قارئین کی معلومات کے لیے کہ زلزلہ کا مرکز جتنا گہرا ہو گا اس کی اچھی خاصی شدت کے باوجود اس سے انہدام اور نقصان کا خطرہ کم ہو گا، اور زلزلے کا مرکز جتنا کم گہرا ہو گا، تو نسبتاً کم شدت کے زلزلے سے بھی املاک اور جانوں کے شدید نقصان کا اندیشہ ہو گا۔ بدقسمتی سے ہمالیہ فٹ ہل کہلانے والے علاقہ جات سے گزرنے والی ایک طویل ایکٹو فالٹ لائن، جو مظفرآباد سے ہی دریائے نیلم کے مغربی کنارے کے علاقوں سے شروع ہو کر مانسہرہ ایبٹ آباد، تربیلا سے اسلام آباد راولپنڈی سے گزر کر میرپور آزاد کشمیر سے ہوتی ہوئی بھارتی مقبوضہ جموں سے گزر کر شوالک رینج یعنی بھارتی طرف کے ہمالین فٹ ہلز تک جاتی ہے۔

اسی ایکٹو فالٹ لائن کی وجہ سے یہ علاقے زلزلہ کے زون فور ( 4 ) یعنی انتہائی خطرے کے امکان والے علاقوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اب ان امور اور احتیاطوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ جو ان علاقوں کے رہائشی عوام کو اس خطرے سے بچنے کے لیے اختیار کرنے یا ان پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ پہلے تو ان ہنگامی اقدامات کا ذکر کر لیتے ہیں، جو زلزلہ آ جانے کی صورت میں فوری طور پر عمل میں لائے جانے چاہئیں۔ یاد رکھیں انسانی اموات براہ راست زلزلہ سے نہیں ہوا کرتیں بلکہ زلزلہ کی وجہ سے عمارات، مختلف تعمیراتی ڈھانچوں یعنی سٹرکچرز کے انہدام، پتھر گرنے، یا لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے عمل میں آتی ہیں۔

لہذا جوں ہی زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوں، اپنے حواس قائم رکھتے ہوئے خود اور اپنے لواحقین کو لے کر فوری طور پر گھر سے باہر نکل کر کسی ایسی کھلی جگہ چلے جائیں جہاں اوپر سے یا اطراف سے کسی کرنے والی عمارت، دیوار یا کسی دیگر سٹرکچر مثلاً واٹر ٹینک وغیرہ کی زد میں آ جانے کا خدشہ نہ رہے۔ ہنگامی حالات میں اگر آپ اپنے مکان کی بالائی منزل پر ہیں اور فوری طور پر نیچے اتر کر باہر کھلی جگہ پہنچنا ممکن نہ ہو تو فوری طور پر اپنے گھر کی چھت پر پہنچنے کی کوشش کریں، بشرطیکہ آس پاس مزید ایسی اونچی عمارات نہ ہوں جن کے آپ کے اوپر گر پڑنے کا اندیشہ ہو۔

اگر آپ کھلی چھت تک پہنچ جاتے ہیں تو خدانخواستہ عمارت کے انہدام کی صورت میں بھی ملبے کے نیچے دب جانے کا امکان کم ہو گا۔ اگر آپ گاڑی میں ہیں تو فوری طور پر گاڑی کو کسی کھلی جگہ نزدیکی بلند عمارات یا سٹرکچرز کی زد سے باہر سائڈ پر روک کر ایمرجنسی لائٹس آن کر دیں، کسی بھی صورت میں زلزلہ جاری رہنے کی صورت میں سفر جاری نہ رکھیں کیونکہ کسی بھاگتے خوفزدہ فرد کے گاڑی کے نیچے آ جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اب ہمیں ذرا چیدہ چیدہ ان تعمیراتی احتیاطوں کا ذکر کر لینا چاہیے جن کا اگر ہم مکان بناتے وقت خیال رکھیں تو زلزلہ کی صورت میں جانی نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔

سنہ 2005 کے زلزلے کے دوران یہ مشاہدے میں آیا کہ جو عمارت روایتی طور پر پتھر یا اینٹوں کے سٹرکچر کی شکل میں تعمیر شدہ تھیں یعنی چھت کا وزن اینٹوں یا پتھروں کی بنی ہوئی دیواروں کے ذریعے فاونڈیشن یعنی بنیاد تک پہنچتا ہے اسے برک میسنری سٹرکچر یا پتھر سے ایسی ہی تعمیر ہے تو اسے سٹون میسنری سٹرکچر کہا جاتا ہے۔ تعمیرات کا یہ طریقہ نسبتاً ذرا سستا اور تعمیر میں آسان ہوتا ہے۔ لیکن مظفرآباد کے سنہ 2005 کے تباہ کن زلزلہ میں مشاہدے میں آیا کہ ایسے طرز تعمیر پر مبنی عمارات جو عمودی دباؤ یعنی ورٹیکل پریشر کا مقابلہ تو بخوبی کر لیتی ہیں، لیکن کسی زلزلہ کی صورت میں زلزلہ کی لہریں کسی بھی تعمیر شدہ سٹرکچر پر افقی یعنی“ لیٹرل پریشر ”ڈالتی ہیں، جس کا مقابلہ کرنے میں برک یا سٹون سٹرکچرز مکمل طور پر ناکام نظر آئے اور منہدم ہو کر قیمتی جانوں اور املاک کے نقصان کا باعث بنے۔

لہذا کوشش کیجئیے کہ آگر آپ ان زون فور یا زون تھری تک کے علاقوں میں کوئی تعمیر کرنا چاہ رہے ہیں تو اسے“ کنکریٹ فریم سٹرکچر ”کے اصول اور طریقے کے مطابق تمام معیاری تصریحات کو مدنظر رکھتے ہوئے تعمیر کیجئیے۔ مظفرآباد کے زلزلہ کے دوران ہی مشاہدے میں آیا کہ درمیانے درجے تک کی وہ عمارات جو کنکریٹ فریم سٹرکچر کے تعمیراتی طریقے پر تعمیر کی گئی تھیں، اس قدر شدید ترین زلزلہ میں گو ان عمارات کو کچھ نقصان ضرور پہنچا، کچھ میں کریکس پڑ گئے، اور کچھ کے کالم ( کنکریٹ کے عمودی پلرز) گو کہ درمیان سے بکلنگ یعنی ذرا مڑ کر ٹیڑھے ہو جانے کا شکار ہوئے لیکن ایسی عمارات اور سٹرکچرز جو کنکریٹ فریم سٹرکچر پر تعمیر کئیے گئے تھے ان میں جانی نقصان نہ ہونے کے برابر ہوا اور زلزلہ میں ان کے مکینوں کو باہر نکل کر اپنی جانیں بچانے کا موقع ضرور مل گیا۔

لہذا تعمیر چھوٹی ہو یا بڑی کوشش کیجئیے کہ کنکریٹ فریم سٹرکچر کے طریقے کے تحت باقاعدہ اچھے سٹرکچرل انجینئیر سے ڈیزائن کروا کر تعمیر کریں۔ تعمیر کے عمل کے دوران کسی کوالیفائڈ تجربہ کار انجینئیر یا ٹیکنالوجسٹ سے معائنہ اور تعمیراتی کام کی نگرانی کروائیے۔ اور اپنی قیمتی تعمیرات کا تحفظ کبھی ایک میسن یا مستری کے رحم و کرم پرنہ چھوڑیں۔ عمارت کی فاونڈیشن پر بہت توجہ دیجئیے اور نہ صرف اسے ممکن حد تک گہرا رکھیں، بلکہ کالمز یعنی عمودی کنکریٹ پلرز، جن کے ذریعے عمارت کی چھت کا بوجھ دیواروں کے بجائے بنیاد یعنی فاونڈیشن تک پہنچ کر اسے پھیلا کر زمین کی قوت برداشت یعنی بئیرنگ کپیسٹی کے ساتھ منطبق کیا جاتا ہے، کے بہتر معیار کے حصول کے لیے خصوصی احتیاط اور کوالٹی کنٹرول سے کام لیجئیے۔

ایک عام سی احتیاط کہ تعمیرات کے لیے ری بار، یعنی سٹیل ہمیشہ اچھی کوالٹی کا اور کسی اچھی قابل اعتماد کمپنی کا استعمال کریں۔ اسی طرح سیمنٹ اور فائن ایگریگیٹ یعنی ریت اور کورس ایگریگیٹ یعنی بجری اچھی کوالٹی کی باقاعدہ ڈیزائن کے مطابق درست مقدار اور درست طریقے سے تمام ضروری احتیاطیں مدنظر رکھتے ہوئے استعمال کریں۔ چھت کی سلیب ہمیشہ کالمز یعنی پلرز کے ساتھ مضبوطی سے جڑی ہوئی ہونی چاہیے۔ ایک معمولی لیکن اہم بات کہ عام پورٹ لینڈ سمینٹ کا ابتدائی سیٹنگ ٹائم تقریباً تیس منٹ تک شروع ہو جاتا ہے لہذا تعمیرات کے دوران کوشش کریں کہ جتنا مسالہ یعنی مورٹر تیار کیا جائے وہ آدھے گھنٹے کے اندر اندر استعمال کر لیا جائے۔

مزید ضرورت ہو تو تازہ مقدار ناپ کر پانی کی مناسب شرح استعمال کرتے ہوئے بنا لیا جائے۔ یہ یاد رکھیں کہ کنکریٹ میں پانی کی مقدار پر ہمیشہ سختی سے کنٹرول رکھیں تاکہ پانی کی زیادتی کی وجہ سے سیگریگیشن (یعنی سیمنٹ کا پانی میں حل ہو کر ریت اور بجری سے الگ ہو جانا ) کا باعث نہ بنے۔ اس کے علاوہ کالمز اور بیمز میں رنگز کا فاصلہ ہمیشہ ڈیزائن کے مطابق کم سے کم رکھیں تاکہ سٹیل کی لمبی بارز کے مڑ جانے یعنی بکلنگ سے بچاؤ ہو سکے۔

سریے یعنی ری بارز میں جہاں اوور لیپ دینا پڑ جائے اس کو سختی سے ڈیزائن کے مطابق درست طریقے سے مطلوبہ لمبائی میں رکھنا چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ کسی بیم یعنی افقی گارڈر نما بیم اور عمودی کالم میں سٹیل کا اوورلیپ یعنی چڑھاؤ اس کی لمبائی کے تیسرے حصے پر اوپر یا نیچے کی طرف حسب ضرورت رکھنا چاہیے۔ ایک انسانی جان بہت قیمتی ہوتی ہے۔ لہذا اپنی طرف سے دستیاب و موجود علم، عقل و شعور اور درست تکنیکی طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے ایسی تعمیرات کی جائیں، جو واقعی میں انسانی جانوں کی حفاظت کر سکیں۔ ہم سب اپنی رہائش کا یا گھر کا علاقہ یا شہر تبدیل نہیں کر سکتے، لیکن اگر ہم کچھ تعمیراتی احتیاطی تدابیر کا خیال رکھیں تو قیمتی انسانی جانوں کے اتلاف سے بچا جا سکتا ہے۔

 

Facebook Comments HS