وینکوؤر کے شہزادہ سیف الملوک اور پری بدر جمال

وائٹ راک، وینکوؤر۔ سمندر کے کنارے ریت پہ گرے درخت کے تنے پر بیٹھے سامنے چار سو چھیاسی ٹن وزنی سفید چٹان کو گھورتے میری شہزادہ سیف الملوک اور پری بدر جمال سے یہ تیسری ملاقات تھی۔
پورے ساٹھ سال قبل وادیٔ کاغان میں ناران سے پیدل جھیل سیف الملوک پہنچتے اس وقت کی واحد کشتی میں سیر کرتے کشتی بان نے سامنے دور چٹان کی طرف اشارہ کرتے ہمیں شہزادہ سیف الملوک کی داستان سنائی تھی۔ دور دیس کا شہزادہ خوابوں میں دیکھی صورت ڈھونڈتا چاند کی چودھویں رات اس چوٹی کے دامن میں آ پہنچا۔ پریوں کی شہزادی بدر جمال جھیل کے پانی میں سہیلیوں کے ہمراہ نہا رہی تھی۔ چندا کی چاندنی میں پروان چڑھتا عشق رقیب رو سیاہ دیو کو آگ بگولا کر گیا۔ دونوں کے قتل کا ارادہ کیا۔ بابا جی نے غار میں چھپا لیا اور ان کے مؤکل جنوں نے ظالم دیو کو ہلاک کیا۔ شہزادہ اور پری دور دیس کو روانہ ہو گئے، اور اب بھی چودھویں کے چاند کی روشنی اس چوٹی پر پریاں اترنے اور ان کے جھیل میں نہانے کا نظارہ کرتے شہزادہ شہزادی کی محبت کی داستان یاد دلانے کے فسانے مشہور ہیں۔ یہ میری شہزادہ سیف الملوک اور پری بدر جمال سے پہلی ملاقات تھی۔ اور واپسی پہ مختصر راستہ اختیار کرتے چٹانوں سے چھلانگیں لگاتے گلیشیئر پہ پہنچے تو وقت کا مقبول ترین گانا ”آ بھی جا دلدارا، آبھی جا دلدارا“ اپنی پشتون دھن کے ساتھ چاروں طرف پہاڑوں سے ٹکراتا پیار کی اس امر کہانی کی گونج لوٹا رہا تھا۔ میاں محمد بخش کی سیف الملوک کے بند اپنے مخصوص لہجے میں جب بھی سنائی دیتے میں تصور اپنے آپ کو چودھویں کے چاند کی چاندنی میں جھیل کے دوسرے کنارے پہاڑ کی چوٹی پہ کھڑے شہزادہ اور پری کے عشق کی کہانی میں کھو جاتا۔
ٹھیک انچاس سال بعد گرما کے انہی دنوں میں کینیڈا کے صوبہ البرٹا میں جیسپر کے سیاحت کے لئے محفوظ علاقے میں جھیل میلائن کے دونوں طرف اور سامنے بھرپور سبزہ کی بہار دکھلاتے پہاڑوں کے دامن میں دخانی کشتی نیلے پانیوں کو چیرتی جا رہی تھی اور گائیڈ ماحول کی تصویر کشی کر رہا تھا۔ اچانک اس کا لہجہ بدلا۔ موٹر لانچ آہستہ ہونا شروع ہوئی۔ اور گائڈ ایک چھوٹے سے انتہائی نظارہ پیدا کرتے ٹاپو کی طرف اشارہ کرتے وہاں چند منٹ رکنے کی خبر دیتے اس سے جڑی داستان سنا رہا تھا۔ یہ ”روحوں کا جزیرہ“ ( سپرٹ آئی لینڈ ) کہلاتا ہے سینکڑوں سال قبل دور دیس کا شہزادہ شکار کرتے راہ بھٹک ادھر کو آ نکلا۔ چودھویں کے چاند کی بھرپور چاندنی میں پرستان کی شہزادی سہیلیوں کے ساتھ جھیل کے پانی میں نہا رہی تھی۔ شہزادہ فریفتہ ہو گیا شہزادی دل دے بیٹھی۔ سیف الملوک جھیل کی کہانی۔ سو فیصد وہی۔ زمانہ بھی ”سینکڑوں سال قبل“ کا۔ اوہ خدا۔ محبت سدا اور ہر جگہ ایسی ہی ہوتی ہے۔ یہ بارہ تیرہ ہزار کلومیٹر فاصلے پر محبت کی وہی داستان۔ جب گائڈ نے پری کے عاشق دیو کا حسد کی آگ میں جلتے دونوں کو قتل کر دینے کا ذکر کیا تو مجھے اس بزرگ کے نہ ہونے پہ افسوس ہوا جو ان کو غار میں چھپا لیتا۔ کشتی ٹاپو کے کنارے لگتے گائڈ کی انگلی اس جگہ کی نشان دہی کر رہی تھی جہاں اب بھی چودھویں کے چاند کی کرنیں شہزادہ اور پری شہزادی کی روحیں پیار کرتی دیکھتی ہیں۔ اور شہزادی کی سہیلیاں جھیل میں نہاتی ان کے پیار کے گیت سناتی ہیں۔ اس چھوٹی سی چٹان کی طرف دیکھتے، تصور میں، بارہ تیرہ ہزار کلو میٹر دور بھی شہزادہ سیف الملوک اور پریوں کی شہزادی بدر جمال سے میری دوسری ملاقات ہو چکی تھی۔
گیارہ برس اور بیت گئے۔ چند ہفتہ قبل جیسپر سے بارہ چودہ سو کلو میٹر دور، برٹش کولمبیا کے بڑے شہر وینکوؤر کے ذیلی شہر وائٹ راک کی حسین، بارش کے بعد کی گیلی سخت سرد شام میں سمندر کے کنارے ٹہل رہے تھے۔ ساحل سمندر سے خاصا اندر تک جاتے، سیر کے لئے بنائے گئے، لکڑی کے بنے لمبے پل پر جو وائٹ راک پیئر (پی ار) کہلاتا ہے، رنگ برنگے سفید بڑے چھوٹے پرندے ہمارے آس پاس آ بیٹھتے یا غول بنا پل کے ساتھ پتھروں سے بنی دیوار پر بیٹھے اپنے راگ الاپ رہے تھے۔ رنگ برنگے گہرے ہلکے بادلوں میں سے جھانکتا چھپتا سورج عجیب رنگ بکھیر رہا تھا اور واپس ہوتے سمندر کے ساحل کے بالکل ساتھ چلتی ریل کی پٹری پر تین چار انجن لئے آہستہ رفتار سے کوئی ڈیڑھ کلو میٹر لمبی مال گاڑی ( تین سو پچاس تک ڈبے تو میں نے گنے ) سورج کی کرنوں سے اپنا رومان لڑاتی گزر گئی۔ ریلوے کراسنگ پہ پہنچے تو بیٹی نے ایک طرف اشارہ کرتے کہا ”ابو وہ ادھر دیکھیں وہ سفید چٹان پانی کے ساتھ، اسی کے نام سے یہ علاقہ وائٹ راک کہلاتا ہے۔ ڈوبتے سورج کی کرنوں سے سونا اگلتے لگتی لہروں سے اوپر اٹھتی میری نظریں دور برف پوش پہاڑوں کے نظارے میں ڈوب گئیں۔ یہاں سے پھسلتے نظر محض سو ڈیڑھ سو میٹر دور ایک تنہا نظر آتی چٹان پر پڑی اور قدم اس طرف اٹھ گئے۔ بالکل سمندر کی لہروں کو چھوتے ریت پہ گرے درخت کے تنے پر بیٹھے میری بیٹی بتا رہی تھی کہ اس کی سائنسی توجیہ تو یہ ہے کہ پانچ سات ہزار سال قبل برفانی گلیشیئرز کے دور میں گلیشیئر لینڈ سلائیڈ میں پھسلتا یہ ٹکڑا یہاں آ رک گیا تھا۔ گرینائٹ مادہ والی یہ چٹان چار سو چھیاسی ٹن وزنی ہے۔ اور سمندری پرندوں کے ایک خاص مچھلی کھانے کے بعد اس چٹان پر ان کی بیٹ ( فضلہ ) نے چٹان پر مستقل سفید چادر چڑھا دی ہے۔ مگر اس کے ساتھ ایک دل چسپ دیو مالائی کہانی بھی جڑی ہے جس کا مجھے علم نہیں۔ میرا اشتیاق اچانک جوبن پہ آ چکا تھا۔ بچپن میں عمرو عیؔار کی زنبیل کی بے شمار کہانیاں پڑھیں تھیں۔ اس زنبیل میں وہ ہر چیز پھینک دیتا اور ضرورت پڑے نکال لیتا۔ اب میرے ہاتھ میں وہی زنبیل سمارٹ فون کی شکل میں موجود تھی اور میں نے اس سفید چٹان کی داستان پڑھنا شروع کر دی۔
سینکڑوں سال قبل موجودہ وینکوؤر کے ساحل سمندر پر موجودہ چھوٹے سے قصبہ سڈنی کے نزدیک زیر زمین سمندری غار میں خلیج جارجیا کے سمندر کے دیوتا کی رہائش تھی۔ اور ساحل پر آباد اصلی نسل کے قبیلہ کوویچن انڈینز کا قبیلہ آباد تھا جو سمندر کے دیوتا کی پوجا کرتا تھا۔ سمندر کے دیوتا کا جوان رعنا مضبوط جسم اور خوب صورت بہادر بیٹا اس کے ساتھ رہتا تھا اور قبیلہ کے سردار کی اکلوتی پریوں سی حسین بیٹی باپ کے ساتھ تھی۔ بھر پور چاندنی کی ایک رات وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ سمندر میں نہا رہی تھی کہ سمندر کے نیچے سے دیوتا زاد اوپر ابھر آیا۔ نہاتی شہزادی اور دیوتا کا دل کش بیٹا آمنے سامنے تھے۔ ایک دوسرے پہ نظر پڑتے نگاہیں ملتے ہی ایک دوسرے میں کھو چکے تھے، ایک دوسرے کے ہو چکے تھے۔ دیوتا شہزادہ ایک فانی شہزادی کو اپنا بنانے کا فیصلہ کر چکا تھا۔
وہ اپنی محبوبہ کو ساتھ لئے اپنے باپ سمندر کے دیوتا کے حضور حاضر ہو گیا۔ دیوتا کیسے برداشت کر سکتا تھا کہ دیوتا کا بیٹا ایک فانی مخلوق کی لڑکی اس کی بہو بنائے۔ شدید غضبناک ہوتے شہزادی کو اس کے قبیلے میں چھوڑ آنے کا حکم دیا۔ دونوں لوٹے اور شہزادی کے باپ قبیلہ کے سردار سے ملنے گئے۔ شہزادی کا خیال تھا کہ اس کا باپ دیوتا کے بیٹے کو داماد بنانا خوشی سے منظور کر لے گا۔ اس طرح وہ مستقبل کا سردار بھی بن سکے گا۔ مگر شہزادی کے باپ نے بھی صاف انکار کر دیا وہ اپنی بیٹی غیر مرئی مخلوق کے حوالے نہ کر سکتا تھا۔
شہزادہ کسی صورت جدائی برداشت نہ کر سکتا تھا۔ وہ سمندر کے کنارے صدیوں سے پڑی بڑی سی چٹان کے پاس آیا۔ اسے اٹھا زور سے فضا میں پھینکا اور کہا جس جگہ یہ چٹان سمندر کنارے گرے گی ہم وہاں اپنی نئی زندگی شروع کریں گے۔ محبت کی زندگی۔ یہ کہتے محبوبہ کو بغل میں لے سمندر میں غوطہ لگا اسی رفتار سے تیرنے لگا جس رفتار سے چٹان فضا میں رواں تھی۔ جونہی چٹان ساٹھ میل دور آ موجودہ جگہ گری، یہ جوڑا بھی سمندر سے نمودار ہو گیا۔
چند سطور باقی تھیں۔ میری نظر اٹھی۔ سامنے اس بھاری سفید چٹان کے پیچھے سے ایک انتہائی خوبصورت جوڑا نمودار ہو گزرتا نظر آیا۔ بھڑکیلے سرخ لباس پہنے لڑکی کمر میں باہیں ڈالے کندھے پہ سر رکھے اپنے محبوب کے ساتھ جا رہی تھی۔ شہزادی اور شہزادہ کے تصور میں ڈوبے مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے سمندر کے دیوتا کا بیٹا قبیلے کے سردار کی شہزادی کی بیٹی کو لئے ابھی سمندر سے نکلا ہے۔ شہزادہ سیف الملوک اور پرستان کی شہزادی بدر جمال سے میں تیسری بار مل چکا تھا۔
اگلی سطور بتا رہی تھیں کہ دونوں نے ذرا آگے اس جگہ گھر بسانے کا فیصلہ کیا جہاں سمندر پہلی راتوں کے چاند کی صورت لئے نظر آتا ہے۔ اور صدیوں بعد ان کی اولاد سیمی آہمو ( آدھا چاند ) کے نام کا قبیلہ بن چکی تھی۔ اور اب بھی ان کی اولادیں وہاں بستی ہیں۔ میری نظریں دائیں طرف گھومیں نصف دائرہ کی طرح گھومتے ساحل پہ درختوں کے جھنڈ میں چھپتے روشنیاں نکالتے آباد گھر وینکوؤر کے شہزادہ ( یہاں دیوتا ) سیف الملوک اور پرستان کی شہزادی ( یہاں شہزادی ) بدر جمال کی یاد دلاتے اس قبیلہ کو کسی حد تک زندہ رکھے ہیں۔
واپس آتے نشت پہ سر ٹکائے سامنے دوسری تیری رات کا چاند تھا۔ دنیا گھومتے بیسیوں سمندر کنارے اور جھیل کنارے اور دور پہاڑ کی چوٹیاں نظر میں گھومتی سنا رہی تھیں کہ طبقاتی تفریق میں پستے یہ شہزادے اور شہزادیاں اور خوفناک جبڑے کھولے ظالم سماج کے دیو ازل سے حیات کو گھیرے ہیں۔ کبھی دیو کھا جاتا ہے کہیں درویش بچا جاتا ہے اور کہیں ہوا میں لہراتے پتھر کے ساتھ آتے نئی دنیا بس جاتی ہے۔ محبت کی کہانی ایسی ہی ہوتی تھی، ایسی ہی ہوتی ہے۔
نوٹ : سفید چٹان کی کہانی سیمی آہمو قبیلہ کے موجودہ سردار کی تحریر سے اخذ کی گئی ہے۔






