الیکشن خان، ٹرک اور کچھ سوال!


حاجی صاحب کافی امیر تھے۔ ایک چور کب سے ان کی تاک میں تھا۔ اس نے ایک مہینا مشاہدہ کیا کہ حاجی صاحب کے روزمرہ معمولات میں ایک منٹ بھی ادھر ادھر نہیں ہوتا۔ گھر سے بازار، وہاں ایک دکان پر دوستوں کی گپ شپ، وہاں سے پبلک لائبریری، وہاں سے واپسی پر سبزی لینا اور پھر گھر واپس آنا۔ ان تمام مصروفیات کے لیے تین گھنٹے درکار تھے۔ چور کے لیے اتنا وقت بھی بہت کافی تھا۔ ایک دن جونہی حاجی صاحب گھر سے نکلے، چور اندر داخل ہوا اور اپنے کام میں جت گیا۔

بمشکل بیس منٹ گزرے ہوں گے کہ حاجی صاحب واپس آ گئے۔ چور کے ساتھ دھینگا مشتی شروع ہوئی تو محلے کے لوگ بھی جمع ہو گئے۔ حاجی صاحب غصے سے چیخ رہے تھے :تمھیں چوری کرتے ہوئے شرم نہیں آئی؟ کب سے یہ کام شروع کر رکھا ہے؟ اس سے پہلے کتنی چوریاں کی ہیں؟ تم کب سے میرے گھر پر نظر رکھے ہوئے تھے؟ بتاؤ تمھارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ نہ جانے اس طرح کے اور کتنے سوالات تھے جو شور میں دب گئے۔ جب سب ٹھنڈے ہو گئے تو چور نے کہا: میں سب سوالوں کے جواب دوں گا لیکن حاجی صاحب پہلے آپ یہ بتائیں کہ آج آپ وقت سے پہلے گھر کیسے تشریف لے آئے؟

حاجی صاحب! چور میں نہیں بلکہ نیت آپ کی نیت خراب ہے۔ اس بات کا فیصلہ ہونے سے پہلے کہ میں یہاں کیوں آیا تھا، اس بات کا فیصلہ ہونا چاہیے کہ آپ وقت سے پہلے کیوں آئے؟ چور کا یہ کہنا تھا کہ سب لوگ اس کے بیانیے پر غور کرنے لگے کہ عرصہ دراز سے اپنے معمولات کے پابند حاجی صاحب آخر آج وقت سے پہلے گھر کیونکر آ گئے؟

ہمارے ہاں بھی حاجی صاحب اور چور والا والی کیفیت ہی لاگو ہے۔ یہاں بھی پانی ہی نکالا جاتا ہے بلکہ پچھلے پچھتر سال، چھ ماہ اور چوبیس دنوں سے لگاتار پانی ہی نکالا جا رہا ہے۔ جب بھی کنویں میں کتا گرتا ہے تو نمبردار صاحب پن ہارے کو بلا کر ڈانٹے ہیں کہ ابھی تک پانی نہیں نکالا؟ کاش کبھی نمبردار یہ پوچھ لیتے کہ کتا مارا کس نے، مار کر کنویں میں پھینکا کس نے اور پھر وہ کتا مارنے اور کنویں میں پھینکنے پر پابندی لگا دیتے تو مسئلہ ہی حل ہو جاتا۔

صدقے جائیے نمبردار اور ملکی قانون کے کہ سانپ کو گزرنے اور ڈنک مارنے کی اجازت ہے لیکن لکیر نہ پیٹنے کی سزا ہے۔ پوری دنیا اسباب پر پالیسیاں بناتی ہے تاکہ مسئلے کو مستقلاً حل کیا جائے لیکن ہمارے ہاں مسبب اور ری ایکشن کو روکنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس کے لیے میٹنگز اور فنڈ بھی جاری ہوتے ہیں لیکن کوئی اس بات پر غور نہیں کیا جاتا کہ ری ایکشن تو ایکشن کی پیداوار ہے۔ کیسے ممکن ہے کہ ایکشن تو ہو لیکن ری ایکشن نہ ہو؟

یہی معاملہ نوے دن میں الیکشن کرانے کی بابت ہوا۔ الیکشن تو نوے دن میں کرانا ہوں گے ورنہ آئین کی خلاف ورزی ہو گی اور اب تو عدالت نے فیصلہ بھی دے دیا ہے، درست لیکن الیکشن کیوں ضروری؟ اس لیے کہ اسمبلیاں ٹوٹ چکیں اور دو صوبوں میں عوام کی نمائندہ حکومت نہیں، یعنی اسمبلیاں تحلیل ہونے سے پہلے کی حکومت عوام کی نمائندہ حکومت نہیں تھی؟ مان لیا کہ نئی اسمبلیاں ضروری لیکن پرانی اسمبلیاں کیوں توڑی گئیں؟ خان صاحب کی مرضی، اچھا لیکن نوے دن کی بولیاں بولنے والوں کو پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ نے بلاوجہ اسمبلیاں توڑ کر ملک میں بحران کیوں پیدا کیا؟

وہ ان کا آئینی حق تھا، سوال آئینی حق کا نہیں بلکہ سوال اس حق کے استعمال کا ہی مثلاً صدر افواج پاکستان کا سپریم کمانڈر ہے لیکن کیا وہ اس حق کو با ایں معنی استعمال کر سکتا ہے کہ فوج کو ہی تحلیل کر دے؟ الیکشن کے لیے پیسا کہاں سے آئے گا؟ وہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ یعنی بگڑے ہوئے لاڈلے صاحبزادے کو گھر کے برتن توڑنے کا قانونی تحفظ دے کر والدین کو نئے برتن لانے کا پابند بنانا درست ہے؟ الیکشن کے بعد کیا ہو گا؟

جی خان کی حکومت بنے گی؟ پہلے کس کی حکومت تھی؟ خان کی! تو جب بھی پہلے بھی اسی کی حکومت تھی اور بعد میں بھی اسی کی ہونی تو مقصد تو ملکی خزانے کو تھوک لگانا ہوا ناں؟ آپ ڈالر اور گندم تک باہر بھیج دیں، چار سال گزر جائیں اور ملک میں نئی اینٹ تک نہ لگے لیکن جب جانا ٹھہر جائے تو آپ پنجاب اور کے پی کے کی ہر گلی کے لیے صرف اس لیے بجٹ جاری کر دیں تاکہ آنے والے حکومت کے لیے خزانے میں ایک پائی نہ رہے، انھیں تنخواہیں تک دینے کے لالے پڑ جائیں اور آپ شہباز شریف اور اسحاق ڈار کو نا اہل باور کرا سکیں اور اس کے لیے چاہے ملک ہی پھٹے لگ جائے؟ ایسی ہوتی ہے قیادت اور ایسا ہوتا ہے ویژن۔ آج کل ٹرک کا دور دورہ ہے تو میں نے بھی ٹرک کی شان میں نیا کلام لکھا ہے ملاحظہ فرمائیں۔

میرے آگے ٹرک میرے پیچھے ٹرک
چلتے پھرتے ٹرک رکتے جھکتے ٹرک
سج سنور کے جو نکلے تھے گھر سے ٹرک
گر پڑے کوڑے کچرے پہ اندھے ٹرک
بات مطلب کی ہو تو یہ خرگوش ہیں
ورنہ فطرت میں ہیں بس یہ کچھوے ٹرک
دائروں کا سفر رک نہ پائے کہ ہیں
میرے گٹے ٹرک میرے گوڈے ٹرک
فخر کھوتوں کو اب خود پہ ہونے لگا
کام وہ کر گئے الٹے سیدھے ٹرک
استقامت کو اپنا سلنسر کہیں
نکلیں سڑکوں پہ جب بھی یہ کبڑے ٹرک
اب تو ڈیزل کے بدلے یہ مانگیں لہو
ہو گئے اتنے بھوکے یہ بگڑے ٹرک
آنے والا ٹرک جب اڑاتا ہے دھول
بھول جاتا ہوں میں اگلے پچھلے ٹرک
اب کسی بم سے کوثر میں ڈرتا نہیں
میری آنکھوں نے دیکھے ہیں پھٹتے ٹرک