چیٹ جی پی ٹی مصنوعی ذہانت میں ایک انقلابی قدم ثابت ہوگا
چیٹ جی پی ٹی سادہ، بہترین مصنوعی ذہانت والا چیٹ باٹ ہے، جسے گزشتہ سال 30 نومبر کو ٹیسٹنگ کی خاطر عام لوگوں کے لیے جاری کیا گیا۔ اسے اوپن ال نے بنایا ہے۔ اوپن اے آئی سان فرانسسکو میں واقع ایک آرٹی فیشل انٹیلی جنس کمپنی ہے۔ اوپن اے آئی کو 2015 میں اس مقصد سے شروع کیا گیا تھا کہ آرٹی فیشل انٹیلی جنس سے عام لوگ اور دنیا فائدہ حاصل کر سکے۔
ایلن مسک، سام آلٹمین اور دیگر انویسٹرز نے 2015 میں اس ریسرچ پراجیکٹ کو ایک ملین یو ایس ڈالرز کی رقم سے شروع کیا۔ اس کے علاوہ 2019 میں مائکروسافٹ نے اوپن اے آئی میں ایک بلین یو ایس ڈالرز کی سرمایہ کاری کی، اس کے حوالے سے مزید کہا جاتا ہے کہ اس سرمایہ کاری سے مائکروسافٹ کو گوگل کی ”ڈیپ مائنڈ“ اے آئی کمپنی سے مقابلہ کرنے میں مدد ملی ہے۔ کمپنی اس سے پہلے جی پی ٹی 3 اور ڈال ای 2 جیسے اے آئی ٹولز بھی بنا چکی ہے، جس میں آپ ٹیکسٹ کے ذریعے تصاویر بنا سکتے ہیں۔
جی پی ٹی ایک ”جنریٹو پری ٹرینڈ ٹرانسفارمر“ ماڈل ہے۔ لانچ کے پانچ دن کے اندر اندر اسے استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد ایک ملین سے بڑھ گئی تھی۔ چیٹ جی پی ٹی آتے ساتھ ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹویٹر پر چھا گیا جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے اس چیٹ باٹ کے ساتھ کی گئی، اور ہر طرح کے دلچسب سوالات کیے گئے۔
یہ انسانوں کی طرح ہمارا موڈ بہتر کرنے کے لیے ہمیں لطیفے بھی سنا سکتا ہے، یہ پروگرامرز کو کوڈنگ میں غلطیاں ڈھونڈنے اور انہیں فکس اور ڈی بگ کرنے میں مدد دیتا ہے۔ چیٹ جی پی ٹی تجزیاتی سوالات کے بہت اچھے جواب دیتا ہے۔ ماہرین تعلیم کہنا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی اور اس جیسے دیگر اے آئی ٹولز ہوم ورک اور آن لائن امتحانات کا خاتمہ کر دیں گے۔
بہت سے چیٹ باٹس گفتگو یا پوچھے گئے سوالات کی ہسٹری یاد نہیں رکھتے لیکن چیٹ جی پی ٹی صارف کے پہلے پوچھے گئے سوالات یاد رکھتا ہے اور اس بنیاد پہ زیادہ بہتر انداز میں رائے اور پوچھے گئے سوال کا بہتر انداز میں جواب دیتا ہے۔
اگر آپ اس کی مدد سے کسی کتاب پر تبصرہ لکھ رہے ہیں تو چیٹ جی پی ٹی آپ کے لیے قابل فہم دلائل تو لکھ لے گا مگر وہ درست ہوں گے یا غلط اس بات کا انحصار ماڈل کو ٹرینڈ کیے گئے ڈیٹا پر ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ خود سے سوچ نہیں سکتا۔ یہ ایک شماریاتی ماڈل ہے جسے انٹرنیٹ سے لیے گئے ٹیکسٹ کی اربوں مثالوں پر ٹرینڈ کیا گیا ہے۔ اس ماڈل کو ٹرینڈ کرنے کے لیے انٹرنیٹ سے جو ڈیٹا بیس لیا گیا وہ 570 جی بی ڈیٹا پر مشتمل تھا اور یہ ڈیٹا کتابوں، وکی پیڈیا، ریسرچ آرٹیکلز، ویب ٹیکسٹ، اور ویب سائٹس پر مشتمل تھا، جسے جی پی ٹی کو گھول کر پلایا گیا۔
یہ ایک متوازن انسانی رائے رکھتا ہے۔ چیٹ جی پی ٹی کوڈ میں موجود غلطی کی نشان دہی اور اس کو درست کرتا ہے، اگر آپ ایک ٹویٹر صارف ہیں تو آپ تھریڈز کے بارے میں ضرور جانتے ہوں گے، یہ چیٹ باٹ آپ کے لیے کسی بھی موضوع پر ایک تھریڈ بنا سکتا ہے۔ اس کی مدد سے چند لائنز کے وضاحتی پرومٹ کی مدد سے کسی ناول کا پلاٹ لکھا جا سکتا ہے۔
اگر آپ اداس ہیں یا اپنی تنہائی سے لڑ رہے ہیں تو یہ کسی شفیق مہربان دوست کی طرح آپ کی ڈھارس بندھائے گا، آپ کو سمجھائے گا کہ آپ کو کیا کرنا چاہیے۔ آپ چیٹ جی پی ٹی کو اپنے موبائل پہ ٹرانسلیشن کے لیے استعمال کر سکتے ہیں، آپ اس کو اپنی فٹنس روٹین کے بارے میں بتائیں یہ آپ کے لیے فٹنس پلان حتٰی کہ ڈائٹ پلان بھی بنا سکتا ہے۔
اگر آپ کوئی بھی چین ڈیزائن کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے آپ کو آئیڈیاز کی تلاش ہے تو چیٹ جی پی ٹی آپ کی بھر پور مدد کر سکتا ہے۔ اگر آپ ملازمت کے حصول کے لیے کہیں انٹرویو دینے جا رہے ہیں تو چیٹ جی پی ٹی انٹرویو کے دوران آپ کی فیلڈ سے متعلق پوچھے جانے والے ممکنہ سوالات آپ کو باور کرا سکتا ہے۔
جلد یا بدیر ہمیں آرٹی فیشل انٹیلی جنس کو اپنانا ہو گا، ورنہ ہم پیچھے رہ جائیں گے۔ ہر وہ شخص جس کے ہاتھ میں موبائل ہے وہ نہ جانتے ہوئے بھی اے آئی کا استعمال کر رہا ہے۔ گوگل میپ سے کون فائدہ نہیں اٹھاتا، کہیں بھی جانا ہو، گوگل میپ ہماری راہ نمائی کرتا ہے۔
دوسری طرف بہت سے معلم اپنے شاگردوں کو مضامین کو غلطیوں سے پاک کرنے کے لیے یہ چیٹ باٹ استعمال کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس کا کس طرح مثبت اور اخلاقی استعمال کر سکتے ہیں، برائن کرسچن جو ایک کمپیوٹر سائنس داں ہیں، کہتے ہیں ”ہم ایک وسیع تر سماجی تبدیلی کے آغاز پر ہیں۔ ہمیں اس کا موثر استعمال کرنا ہو گا۔
چیٹ جی پی ٹی ہمارے موبائل فونز میں استعمال ہونے والے پری ڈکٹیو سسٹم کی ایک ایڈوانس شکل ہے جو ایک جملہ مکمل کرنے کے لیے مختلف الفاظ تجویز کرتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ آپ کے مطلوبہ نتائج آپ کے سامنے لانے کے لیے پوری کوشش کرتا ہے لیکن چوں کہ یہ ایک لینگویج ماڈل ہے اس لیے یہ غلط جواب بھی دیتا ہے۔ اوپن اے آئی کا کہنا تھا کہ اس چیٹ فارمیٹ میں مصنوعی ذہانت کو ’سوالات پوچھنے، اپنی غلطی تسلیم کرنے، غلط سوچ کو چیلنج کرنے اور غیر مناسب سوالات کو مسترد کرنے کی بھی آزادی ہوتی ہے۔ میشیبل نامی ٹیکنالوجی نیوز ویب سائٹ سے منسلک صحافی مائیک پرل نے چیٹ جی پی ٹی استعمال کیا اور ان کا کہنا ہے کہ اس ماڈل سے متنازع باتیں اگلوانا مشکل ہے۔
مائیک پیرل نے لکھا کہ‘ اس کا دقیانوسی باتوں سے گریز کرنے کا نظام بہت موثر ہے۔ تاہم اوپن اے آئی نے خبردار کیا ہے کہ ’چیٹ جی پی ٹی کبھی کبھار بظاہر درست محسوس ہونے والے لیکن غلط اور متنازع جوابات لکھ دیتا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر ہم اس ماڈل کو مزید محتاط ہونے کی ٹریننگ دیں تو پھر یہ ان سوالوں کے جواب دینے سے بھی گریز کرتا ہے جن کے درست جوابات اسے معلوم ہوتے ہیں۔


