نواز شریف کو قتل کرنے کی کتنی بار کوشش کی گئی؟


سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف پر قاتلانہ حملے بھی ہوئے اور انہیں قتل کرنے کے لیے خفیہ اور علانیہ سازشیں بھی ہوئیں لیکن آپ ان کی ہمت، حوصلے، دور اندیشی اور سیاسی بصیرت کو داد دیں کہ جو بات ساری دنیا کے علم میں ہے اس کا ذکر کبھی ان کی زبان پر ویسے نہ آیا ہے جیسے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی زبان پر ہے۔ وہ سوتے جاگتے اپنے قتل کی بھیانک سازش کا چرچا کرتے رہتے ہیں اور روز ان کے ملزمان بدل جاتے ہیں جنرل باجوہ سے ہوتی ان کی سازش زرداری، شہباز شریف، رانا ثناءاللہ، نواز شریف محسن نقوی اور اب آئی جی پنجاب اور کے پی کے اور فوج کے چند افسران تک آن پہنچی ہے اور یوٹرن کی اس عادت نے ان کی بات کا وزن زیرو کر دیا ہے اور سنجیدہ لوگوں نے ان کی ہانکی بڑوں کو اب سیریس لینا ہی چھوڑ دیا ہے کیونکہ صاف نظر آ رہا ہے کہ وہ ایک بات پر کھڑے ہونے کی بجائے صرف سازشی تھیوریوں کے سہارے ملک میں انتشار پیدا کر رہے ہیں اور حساس اداروں کی ساکھ کو خراب کر کے ان کے خلاف نوجوان نسل کے ذہنوں میں نفرت بھر رہے ہیں۔

خیر ہم آتے ہیں میاں نواز شریف کی طرف کہ جن پر پہلا حملہ سابق آمر جنرل مشرف نے کیا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ ان کا قصہ پاک کر دیا جائے لیکن اس وقت سعودی عرب، برطانیہ اور کچھ دوست ملکوں نے نواز شریف کو جنرل مشرف کے انتقام کی نذر ہونے سے بچا لیا اور تیزی سے اقدامات کرتے ہوئے انہیں سعودی عرب منتقل ہونے پر بھی راضی کیا جس کے لیے وہ بالکل بھی تیار نہ ہو رہے تھے لیکن پھر فیملی کے کچھ افراد اور بیرون ملک مقیم خیرخواہوں نے نازک صورت حال کا احساس کرتے ہوئے انہیں اس کے لیے راضی کرنے میں فعال ترین کردار ادا کیا تھا۔

ایک بار اٹک قلعے میں قید کے دوران نواز شریف کی بیرک میں سانپ چھوڑ دیے گئے تھے تاکہ وہ انہیں نقصان پہنچائیں لیکن اللہ نے اس وقت بھی ان کی حفاظت فرمائی اور وہ بال بال بچ گئے تھے اور پھر ایسا کرنے والوں کو سختی سے روکنے والی طاقتیں بھی متحرک ہو گئی تھیں کہ جاننے والے جانتے تھے کہ اس طرح کے قومی لیڈر کو یوں مارنے سے کیا کچھ خراب ہو سکتا ہے۔

تیسری بار میاں محمد نواز شریف کو اس وقت جان سے مارنے کی خطرناک پلاننگ کی گئی تھی جب معزول ججز کی بحالی کے لیے میاں نواز شریف ایک لانگ مارچ کی قیادت کے لیے نکلنے والے تھے اور ایک ملک اور ملک کے خیرخواہوں کو خبر ملی کہ لیاری کا مشہور گینگسٹر عبدالرحمن ڈکیت اپنے 20 کے قریب ساتھیوں کے ساتھ لاہور آیا ہوا تاکہ میاں محمد نواز شریف کو پار کر سکے۔ جیسے ہی یہ خبر کچھ اہم جگہوں پر پہنچی تو تیزی سے کچھ لوگ سرگرم ہوئے اور عبدالرحمن ڈکیت کو فی الفور لاہور چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا۔

اس ضمن میں برطانیہ کے ایک اعلی ترین اہلکار نے اس وقت پاکستان کے اس اہم ترین عہدے پر فائز شخص کو براہ راست رابطہ کر کے رحمن ڈکیت کو لاہور سے جانے کا حکم دینے کی سختی سے ہدایت کی تھی کیونکہ ان کا اور دیگر پاکستان کے خیرخواہوں کا خیال تھا کہ پاکستان بے نظیر بھٹو کی موت کے بعد کسی اور بڑے سانحے کو برداشت کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس برطانوی عہدے دار کی ہدایت کے بعد اس پاکستانی عہدے دار نے رحمن ڈکیت کو فی الفور اس لیے بھی کراچی جانے کو کہہ دیا تھا کیونکہ اس کا رحمن ڈکیت پر اثر ایک زمانہ جانتا تھا اور دوسری صورت میں رحمن ڈکیت اور اس کے لاہور میں مقیم ساتھیوں کے خلاف سخت کارروائی کا بھی بتا دیا گیا تھا جس کے بعد کسی بھی دوسرے آپشن کو نہ دیکھ کر رحمن ڈکیت کو لاہور چھوڑنے کا پیغام پہنچا دیا گیا تھا اور کچھ ہی عرصے بعد رحمن ڈکیت ایک پولیس مقابلے میں مار دیا گیا۔ اسے مارنے والے پولیس افسر چودھری اسلم کی بھی ایک دھماکے میں موت واقع ہو گئی تھی۔

میاں نواز شریف کو چوتھی بار راولپنڈی میں قتل کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور ان پر فائرنگ مبینہ طور پر ایک سیاستدان کے گھر سے ہوئی تھی جو قومی اسمبلی میں ایک خاص اور بڑے عہدے پر بھی رہ چکے تھے اور ان کا ایک بیٹا بھی ان دنوں سیاست میں بڑا سرگرم ہے۔ میاں نواز شریف اس حملے میں بھی بال بال بچے تھے۔ بے نظیر بھٹو کو جونہی میاں نواز شریف پر فائرنگ کی اطلاع ملی تو انہوں نے نہایت پریشان ہو کر گاڑی میں بیٹھی اپنی پولیٹیکل سیکرٹری ناہید خان سے نواز شریف سے رابطہ کرانے کو کہا تھا۔ بے نظیر بھٹو نے بعد میں کچھ صحافیوں اور دوستوں کو بتایا تھا کہ ” اس روز مجھے اور نواز شریف دونوں کو راستے سے ہٹانے کا پروگرام تھا“ ۔

پانچویں بار میاں محمد نواز شریف کو مارنے کی گھناؤنی اور گھٹیا سازش کا انکشاف خود میاں محمد نواز شریف نے کیا کہ انہیں عمران خان کے دور میں جیل میں زہر دینے کی کوشش کی گئی تھی۔ یہ کوشش کس نے کی تھی؟ اور کس کے ایماء پر ہوئی تھی؟ اس کا بینیفیشری کون ہونا تھا؟ اس بارے میاں محمد نواز شریف فی الحال خاموش ہیں لیکن لگتا ہے کہ اب وہ زیادہ دیر خاموش نہیں رہیں گے کیونکہ اب بقول ان کے پانی سر سے کافی اونچا ہو چکا ہے اور ”اصلی تے وڈے“ سازشیوں کے مکروہ چہرے قوم کے سامنے لانا ضروری ہو گیا ہے۔

 

Facebook Comments HS