ڈیجیٹل مردم شماری اور بڑھتی بے چینی


کیا وہ لوگ بھی مردم شماری میں حصہ لے رہے ہیں، جنہیں معلوم نہیں کہ ان کو کس لیے گنا جا رہا ہے؟ میں نے ایک دیہاتی سے پوچھا، کیا آپ جانتے ہیں کہ مردم شماری ہو رہی ہے، آپ سب گھر کے افراد اپنے نام ضرور لکھوائیں۔ پوچھنے لگا پیسے کب ملیں گے؟ میں تو حیران ہو گیا کیونکہ اس کا میرے پاس جواب نہیں تھا۔ ملک میں بہت سے درویش ایسے بھی ہیں جنہیں دنیا میں کیا ہو رہا ہے سے کوئی دلچسپی نہیں، کیا یہ ان کا قصور ہے؟ پاکستان کے تعلیم یافتہ لوگوں کی فیصد سے اندازہ لگائیں تو ایسے کروڑوں لوگ ملیں گے۔ وہ مردم شماری میں حصہ لیں گے وہ بھی ڈیجیٹل؟ منفرد کیسے نہ ہو گا، سرکاری فیصلہ جو ہے۔ بزرگ بچارے تو آخری وقت میں، بچوں و جوانوں کی شخصیت خطرے میں لگتی ہے۔

مارچ 2023 جاری ہے، آدم شماری 2017 میں بھی ہوئی تھی۔ پاکستان میں لوگوں کو گننے کی سات سالہ پالیسی بنائی گئی ہے تو پانچ سال میں گنتی کی کیا ضرورت ہے؟ حکومت بہتر انداز میں بتا سکتی ہے۔

عام لوگ مردم شماری کے حوالے سے تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، جہاں حکومت کو سندھ میں غیر ملکیوں کی آمد کا براہ راست اندازہ نہیں ہے، وہاں ایسی مردم شماری یا گنتی کے ادارے سے بھلائی کی امید کیسے رکھی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت گزشتہ کئی دہائیوں سے غیر ملکیوں کی آمد کو مناسب طریقے سے جاری رکھنے کے لیے کوئی سمجھدار حکمت عملی مرتب کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ایسی پالیسی جس سے سندھ میں قدیم زمانے سے رہنے والے لوگوں کو یقین دلایا جا سکے کہ آئندہ ہزاروں سال تک انہیں اپنی ہی سرزمین پر اقلیت میں تبدیل نہیں ہونا پڑے گا۔

باہر والوں کی غیر علانیہ آباد کاری نے پہلے ہی لوگوں کو الجھا رکھا ہے۔ ہم نے ابھی 2022 کے سیلاب کی تباہی سے نکلنا ہے، جسے حکومت خود ملک کی معیشت کو تباہ کرنے کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔ بھوٹا اور اس کے دوستوں نے آرٹیکل (ایڈریسنگ دی ہیومن کاسٹ اینڈ کانسیکوئینسس آف دی پاکستان فلڈ ڈزاسٹر) میں بتایا کہ 2022 کے سیلاب نے 76,00,000 افراد کو متاثر کیا، جن میں سے 1500 افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے 552 بچے تھے۔ تقریباً 16 لاکھ بچے اور 6 لاکھ 50 ہزار حاملہ خواتین متاثر ہوئیں جو بچے کو جنم دینے والی تھیں۔ گنتی کرنے والی ٹیمیں اس وقت حکومت کو مزید تعداد بتائیں گی جب وہ آفت کی نوعیت کو قریب سے دیکھیں گی۔

پھٹے ہوئے خیموں اور عارضی پناہ گاہوں کا نظارہ انہیں بے چین کر دے گا۔ لاکھوں لوگ ایسے ہیں جو اب بھی اس جگہ کو تلاش کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں جسے وہ گھر کہہ سکیں۔ جب وہ کمزور جسموں اور بیمار لوگوں سے ملیں گے جن کے چہرے غم و اندوہ سے بھرے ہوں گے۔

مردم شماری ٹیمیں ایسے بہت سے خاندانوں کو تلاش کریں گی جنہوں نے سیلاب میں اپنے گھر، جائیداد اور ذرائع آمدن کھو دیے ہیں۔ وہ لوگ جو عارضی پناہ گاہوں میں منتقل ہونے پر مجبور تھے، جہاں انہیں پینے کے صاف پانی تک رسائی اور صفائی کے مناسب انتظامات کے بارے میں فکر مند ہونا پڑا۔ جن کے معصوم بچے بخار اور پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ جب ان سے ان کی آمدنی اور رہن سہن کے بارے میں سوالات کیے جائیں گے تو ان کے لیے جذبات پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا، وہ اپنے مالی نقصان، غیر یقینی مستقبل، نا امید اور مایوس آنکھوں کے ساتھ کیا جواب دیں گے۔ وہ سندھ کے عوام کے دکھ اور تکلیف کو نہیں دیکھ سکیں گے، ان کے دل دکھوں سے چھید جائیں گے۔ وہ سمجھیں گے کہ مردم شماری صرف اعداد و شمار جمع کرنے کے بارے میں نہیں ہے بلکہ ان کی حقیقی خدمت میں شامل لوگوں کی ضروریات اور چیلنجوں کو سمجھنے کے بارے میں بھی ہے۔

عام لوگ اور دیہاتی حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ مردم شماری سے قبل لوگوں کے لیے پناہ گاہ کا انتظام کیا جائے۔ بے گھر لوگوں کو نئے اور محفوظ گھر دیے جائیں۔ عوام کے جانی و مالی نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔ جن علاقوں میں ابھی تک پانی کھڑا ہے وہاں اس پانی کو جلد از جلد نکالا جائے۔ مستقبل میں آنے والے سیلاب میں نقصانات کو روکنے اور لوگوں کو بچانے کے لیے نیا منصوبہ بنایا جائے۔ مہنگائی کو روکا جائے اور صارفین کی اشیاء سستی کی جائیں۔ کینجھر اور ہمل جیسی جھیلوں کو نیا آبپاشی کا نظام بنا کر تباہی سے نکالا جائے۔

Facebook Comments HS