مُلا جاگیردار بندھن اور زمینی اصلاحات


نوآبادیاتی دور سے قبل برصغیر کے کچھ خطوں میں زمین یا تو اجتماعی طور پر ملکیت میں تھی یا پھر ریاست، مقامی حکمرانوں اور سرداروں کی ملکیت تھی۔ گاؤں کی معیشت تھی جہاں پیداوار کے ذرائع پر دیہاتوں کا کنٹرول تھا اور انفرادی خاندانوں کو مخصوص اجازت کے ساتھ فصلوں کی کاشت اور کٹائی کے لیے زمینی حقوق دیے جاتے تھے۔ قبیلوں کے افراد کو زمین کاشت کرنے اور استعمال کرنے کا حق دیا گیا تھا لیکن اسے فروخت کرنے کا اختیار نہیں تھا۔

نوآبادیاتی حکومت کے دوران، برطانوی حکومت نے مقامی حکمرانوں اور طاقتور اشرافیہ کو ان زمینوں کی منتقلی اور فروخت کے حقوق کے ساتھ زمین کا بڑا حصہ دیا۔ انہیں کمپنی کو ٹیکس جمع کرنے کا ذمہ دار بنایا گیا تھا۔ اسی طرح، نوآبادیاتی حکومت نے زمینداروں کے ذاتی مفادات کے حق میں متعدد قوانین وضع کیے اور ان پر عمل درآمد کیا۔ ان قوانین نے کسانوں کے لیے زمین کا حصول بہت مشکل بنا دیا اور اس طرح دونوں طبقوں کے درمیان دولت کا بہت بڑا تفاوت پیدا ہوا۔ مزید برآں، 19000 ء کے لینڈ ایلینیشن ایکٹ نے بھی غیر کاشتکاروں کو زمین کی منتقلی پر پابندی عائد کردی تو اس طرح صنعتی یا تجارتی مقاصد کے لیے زمین کی دستیابی کو محدود کر دیا۔ اور ان صنعتکاروں کو کمی جیسے معیوب خطاب کے ساتھ ساتھ ترقی کے دریچے سے دور رکھا گیا۔

آزادی کے بعد سماجی توازن پیدا کرنے اور زرعی پیداوار کو بڑھانے کے لیے پالیسی سازوں نے پاکستان میں زمین کی ملکیت کے تناسب کو محدود کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کی۔ سب سے پہلے اس طرح کی اصلاحات کی ایک کوشش مسلم لیگ کے پہلے اجلاس میں کی گئی جس میں جناح نے زمینی اصلاحات کو آئینی شکل دینے کے لیے ایک کمیٹی بنائی۔ جناح کی موت کے بعد اس کوشش کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ دریں اثنا ہندوستان نے زمینداری نظام کو ختم کرنے کے معاملے میں کافی کامیابی حاصل کی۔ اس طرح کی اصلاحات کے بعد 2.3 ملین ایکڑ کو فاضل قرار دیا گیا اور 1.3 ملین ایکڑ کو پورے ہندوستان میں دوبارہ تقسیم کر دیا گیا۔

بالآخر ایوب خان نے زمین کی ملکیت کی حد بندی کے حوالے سے اصلاحی قوانین متعارف کروائے تھے۔ نہری اور بارانی زمینوں کے لحاظ سے 500 اور 1000 ایکڑ کی حد مقرر کی گئی۔ ان اصلاحات کے متناسب اطلاق کے ساتھ بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ ان کی تعداد خاندانوں کے بجائے افراد کے لیے مقرر کی گئی تھی۔ یہ دراصل زمینداروں کے مفادات کی تکمیل کرتا تھا جنہوں نے اپنی زمینوں کی ملکیت اپنے حقیقی رشتے داروں، حقیقی خاندان کے افراد اور نوکروں میں تقسیم کی۔

اس سے زمینداروں کو 36000 پروڈکشن انڈیکس یونٹس تک اپنی حد برقرار رکھنے کی بھی اجازت ملی۔ ایک پی آئی یو نوآبادیاتی دور میں ایک پیرامیٹر کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا تاکہ فی ایکڑ پیداوار کی مجموعی قدر کی پیمائش کی جا سکے۔ اس پیرامیٹر کے ساتھ مسئلہ فی ایکڑ پیداوار کی کم مجموعی قیمت تھی اس کے نتیجے میں ایوب دور کی اصلاحات میں پنجاب اور پاکستان میں بالترتیب 11810 ایکڑ اور 7028 ایکڑ فی اعلان کنندہ کا اوسط رقبہ پوائنٹس تک پہنچ گیا۔

اس عمل کے ذریعے، حکومت صرف 1.6 ملین ایکٹر تک کا رقبہ اکٹھا کر سکی۔ اور اس میں بھی متعدد رقبہ غیر کاشت شدہ تھا اور حکومت کو اس غیر کاشت شدہ زمین کے لیے 89.2 ملین روپے کی رقم ادا کرنی پڑی۔ اس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے یکم مارچ 1972 کو اپنی زمینی اصلاحات کا اعلان کیا۔ یہ اصلاحات مارشل لاء ریگولیشن ایکٹ 115 کے تحت ریگولیٹ کی گئیں۔ اصلاحات کے مطابق 150 اور 300 ایکڑ نہری اور بارانی زمین کی حد مقرر کی گئی اور بعد ازاں یہ حد 100 اور 300 ایکڑ نہری اور بارانی اراضی مقرر کی گئی۔ ان زمینی اصلاحات کے نتیجے میں حکومت صرف 0.6 ملین ایکڑ رقبہ جمع کر سکی۔ اس کے علاوہ، پنجاب کے معاملے میں، حکومت کی طرف سے جمع کردہ رقبہ کا 65 فیصد غیر کاشت شدہ تھا۔

زمینی اصلاحات کے خلاف اجتماعی احتجاج کے حوالے سے سیاسی محاذوں پر علمائے کرام کے ساتھ زمینداروں کا اتحاد بھی ایک اہم پہلو ہے۔ اپنے متحد مفادات کو فروغ دینے کے لیے یہ دونوں گروہ ایک مضبوط سیاسی قوت کے طور پر کام کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ شامل ہوئے۔ سن 1950 ء کی دہائی میں حکومت نے ابتدائی زمینی اصلاحات کا اعلان کیا۔ اس دور میں پہلا مذہبی سیاسی اتحاد انجمن تحفظ حقوق زمیندارہ تحۃ الشریعہ کی صورت میں سامنے آیا۔

اس پلیٹ فارم کے ذریعے انہوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں ان اصلاحات کے خلاف مقدمہ چلایا لیکن اسے مسترد کر دیا گیا۔ اس اتحاد نے زمینی اصلاحات کی مخالفت کے لیے ملک گیر مہم شروع کی۔ اس تحریک کی قیادت پیر امین الحسنات نے کی جسے پیر صاحب مانکی شریف بھی کہا جاتا ہے۔ وہ ایک مذہبی رہنما تھے اور پیر صاحب کے احتجاج کے ساتھ مولانا مودودی نے ایک کتاب لکھی جس کا عنوان تھا ”مسٰلہ ملکیت زمین“ ۔ یہ 1954 میں ڈھاکہ سے شائع ہوئی تھی۔ اس کتاب میں انہوں نے زمینی اصلاحات کے خلاف ایک الگ بیانیہ تشکیل دیا اور اس کے اصولوں کو سوشلزم کے اصولوں سے جوڑ کر اسے اسلامی رنگ دینے کی کوشش کی۔

سیاسی محاذ پر نوابزادہ نصراللہ خان ان سرکردہ سیاسی شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے اصلاحات کے خلاف بھرپور مزاحمت کی۔ اس نے ریلیاں نکالیں اور زمیندار برادری کو اپنے حقوق کے لیے لڑنے کے لیے متحرک کیا۔ انہوں نے ایک مشہور ’زمیندار کنونشن‘ کا انعقاد کیا جس میں پورے پاکستان سے ہزاروں زمینداروں نے شرکت کی۔ اگرچہ یہ تحریک آخرکار حکومت سے اپنے مطالبات ماننے میں ناکام رہی لیکن ملک کے دیہی علاقوں میں اپنا اثر و رسوخ ظاہر کرنے میں کامیاب رہی۔

اصلاح مخالف جذبات کے حوالے سے مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کے طاقتور اتحاد نے 1980 کی دہائی میں اپنے حقیقی رنگ دکھائے۔ قزلباش وقف کی جانب سے 1989 ء میں سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بینچ میں ان اصلاحات کے خلاف اپیل دائر کی گئی تھی جس پر جسٹس نسیم حسن شاہ، جسٹس شفیع الرحمان اور جسٹس افضل ظلہ، مفتی تقی عثمانی اور پیر کرم شاہ پر مشتمل بینچ نے نو سال کے بعد فیصلہ سنایا۔ زمینی اصلاحات کو ”غیر اسلامی“ قرار دیا۔ مفتی تقی کے مطابق شرعی قانون نے جائز ملکیت کی کوئی حد نہیں رکھی ہے۔ یہ کسی بھی فرد کو جائز ذرائع سے حاصل کی گئی زمینوں اور جائیدادوں کی غیر معینہ تعداد کے مالک ہونے کی اجازت دیتا ہے۔

یہ فیصلہ دو اہم ترین سوالات کو جنم دیتا ہے کہ برطانوی حکومت کی طرف سے حاصل کردہ زمینوں کو جائز طریقوں سے حاصل کرنے کا جواز کیسے فراہم کیا جاسکتا ہے؟ اور کس بنیاد پر کچھ افراد کو زمین کے بڑے حصے دیے گئے؟ شریعت میں ریاست کی طرف سے افراد کو زمین فراہم کرنے کا طریقہ کار واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ دوسری طرف، نوآبادیاتی دور میں، برطانوی حکومت نے مقامی حکمرانوں اور شہزادوں کو بے مثال اور بڑی تعداد میں زمینیں دیں۔

اس تقسیم کے ذریعے برطانوی بادشاہ نے اپنے مفادات کو پورا کیا اور بدلے میں فوجی خدمات اور وفاداری کا مطالبہ کیا۔ اس فیصلے کے ذریعے زمینی اشرافیہ نے اپنی غیر کاشت شدہ زمینیں ( 2 ملین ایکڑ سے زائد) محنت کش کسانوں سے حکومت کو لاکھوں روپے واپس کیے بغیر دوبارہ حاصل کیں جس کی بدولت خاندانی سیاست، رئیل اسٹیٹ کے ذریعے دولت جمع کرنے اور طاقتور سیاسی کھلاڑیوں کے طور پر اپنی پوزیشن کو تقویت دینے میں گراں قدر مدد کی۔

Facebook Comments HS