پچاس سال پیپلز پارٹی کے پرچم تلے۔ ابرار رضوی


آہ! سید ابرار رضوی بھی نہ رہا تم نے شہناز تاتاری کی رخصتی کے بعد دیر نہ کی اور رخت سفر بندھ لیا شہناز تاتاری کا کفن میلا بھی نہ ہوا تھا۔ تم نے بھی سفید چادر اوڑھ لی اسے کہتے ہیں۔ لازوال محبت۔ تم شہناز تاتاری کے بغیر چند دن بھی زندہ نہ رہ سکے جوانی سے ہماری دوستی تھی۔ نظریات مختلف بلکہ زمین آسمان کا فرق لیکن ہمارے درمیان باہمی عزت و توقیر اور برداشت بدرجہ اتم پائی جاتی تھی۔ ابرار رضوی پیپلز پارٹی کا بانی و نظریاتی کارکن تھا۔

ترقی پسند سوچ کو اپنے مذہبی اعتقادات پر حاوی نہیں ہونے دیا ذوالفقار علی بھٹو کا دیرینہ ساتھی تھا۔ اس کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کرتا تھا۔ لوگوں سے لڑنے مرنے پر اتر آتا تھا لیکن جن سیاسی مخالفین سے دوستی ہوتی ان کی پارٹی بارے کڑوی باتیں بھی برداشت کر لیتے جب تک میں نوائے وقت میں تھا تو پیپلز پارٹی کے بیٹ رپورٹر کی بجائے کبھی وہ خود اور کبھی کاشف رضوی کے ہاتھوں ”مختصر لیکن با معنی“ بیان لے کر میرے پاس آ جاتا اس کا خیال تھا کہ نواز رضا چیف رپورٹر ہے۔ وہ اس خبر کی اشاعت کو یقینی بنا دے گا میں بھی اس ”حقیقی جیالے“ کے بیان کی اشاعت کو یقینی بناتا میرے لئے ہر سیاسی جماعت کا جینوئن کارکن قابل احترام ہوتا ہے۔ ویسے بھی ابرار رضوی اور میں بے تکلف دوست بھی تھے۔ اس کے گھر بارہا شہناز تاتاری کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا کھایا شہناز تاتاری وزارت مذہبی امور و اوور سیز پاکستانی کے زیر اہتمام شائع ہونے والی مطبوعات میں میری کولیگ رہی ہیں۔ ہمارے درمیان بڑا مذاق ہوتا تھا۔ اس لحاظ سے اس فیملی کے ساتھ بے تکلف تعلقات تھے۔

شاید کاشف رضوی بھی اپنے والدین کے رجحان کی وجہ سے میرے (دائیں بازو کی ٹریڈ یونین) قریب تھا۔ وہ جیالا تو ہے۔ ہی لیکن صحافتی دنیا میں وہ میرے بہت قریب ہے۔ میں بھی اس سے اپنے بچوں کی طرح محبت کرتا ہوں سید ابرار رضوی کی اپنی پہچان تھی۔ نصف صدی سے زائد ایک ہی پارٹی کا پرچم تھامے رکھنا معمولی بات نہیں ساری زندگی ”زندہ ہے بھٹو زندہ ہے۔“ کا نعرے لگانے والا عظیم کارکن ہزاروں من مٹی تلے اپنی اہلیہ کے پہلو میں ابدی نیند سو گیا ہے۔

درویش صفت ابرار رضوی کوئی سرمایہ دار تھا اور نہ ہی اس نے پیپلز پارٹی کے نام کو بیچا بس پیپلز پارٹی کا پرچم اس کی کل متاع حیات تھی جسے وہ پوری زندگی دیوانوں کی طرح اٹھائے پھرتا رہا پارٹی نے اس بانی رکن کو سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا رکن بنانے کے سوا کچھ نہیں دیا وہ سینئر صحافی کاشف رضوی (جسے عربی زبان پر عبور حاصل ہے۔ ) اور معروف اداکارہ و شاعرہ یاسرہ رضوی کو روتا چھوڑ کر شہر خموشاں چلا گیا جہاں شہناز تاتاری پہلے سے ہی اس کی منتظر تھی۔ اس نے ابرار رضوی کا پرتپاک استقبال کیا

ابرار رضوی کا متوسط طبقے سے تعلق تھا۔ سفید پوش سیاسی کارکن تھا۔ درویشی میں زندگی گزار دی میری آخری بات اس سے شہناز تاتاری کی وفات پر ہوئی میں اس کے لان میں بیٹھ کر شہناز تاتاری کی یادوں کو تازہ کا وعدہ لے کر واپس آ گیا معلوم نہیں اسے شہناز تاتاری سے ملنے کی کیوں اتنی جلدی تھی۔ وہ اس کی وفات پر جی بھر رویا بھی نہ تھا۔ شہناز تاتاری نے اسے اپنے پاس بلا لیا جب میں شہناز تاتاری بارے اپنے جذبات کو قلمبند کر رہا تھا تو ابرار رضوی نے بتایا تھا کہ ”وہ پیپلز پارٹی کا بانی رکن ہے اور اس کے پاس پارٹی کا رکن بننے کی 4 آنے کی رسید آج بھی محفوظ ہے۔” لیکن منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے۔

پوری زندگی جیل یاترا میں گزار دی کبھی میانوالی جیل، کبھی کراچی سنٹرل جیل کا عقوبت خانہ، کبھی اڈیالہ جیل ایک خود دار سیاسی کارکن کی یہی متاع حیات ہوتی ہے۔ دو سال قبل پیپلز پارٹی کے بانی رکن جاوید حکیم قریشی لندن سے 25 سالہ جلاوطنی کے بعد کچھ دنوں کے لئے پاکستان آئے تو ابرار رضوی نے اپنی رہائش گاہ پر ایوب خان حکومت کے خلاف تحریک میں حصہ لینے والے دوستوں جن کا تعلق راولپنڈی و اسلام آباد سے تھا۔ اکٹھا کیا

اس دعوت میں سردار سلیم، نواز کھوکھر مرحوم، سید ظفر علی شاہ، راجہ شاہد ظفر، رشید میر مرحوم، عبدالرشید شیخ اور میں نے شرکت کی ابرار رضوی متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والا وسیع القلب سیاسی کارکن تھا جس کی جیب تو خالی تھی لیکن دل بڑے بڑے امراء سے بڑا تھا۔ اسے مہمان نوازی میں جو مزہ آتا تھا۔ وہ کسی کے ہاں دعوت کھانے میں نہیں آتا تھا۔ ”پائے“ کی دعوت ان کی مہمان نوازی کا طرہ امتیاز تھا۔ ان کی کتاب ”50 سال ایک پرچم تلے“ زیر طبع ہے جو ان کی زندگی میں شائع تو نہ ہوئی اب اسے ان کا ہونہار صاحبزادہ کاشف رضوی شائع کرنے کی ذمہ داری کو پورا کرے گا۔ ابرار رضوی کا کل سرمایہ حیات سیاسی جدوجہد ہے جو انہوں نے سوانح حیات میں قلمبند کر دی جو یقیناً آنے والی نسلوں جو سیاست کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنانا چاہتی ہیں۔ کے لئے مشعل راہ ہو گی۔

پروفیسر طاہر نعیم ملک ترقی پسند سوچ رکھنے والے دانشور ہیں۔ ان کی کی بھی ابرار رضوی سے یاد اللہ تھی۔ انہوں نے ابرار رضوی کی وفات اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”کہ ابرار رضوی اتنی جلد وہاں پہنچ جائیں گے۔ جہاں سے کوئی نفس کبھی واپس نہیں آیا بس پیچھے یادیں رہ جاتی ہیں۔ مرحوم کے خاندان سے نصف صدی کے مراسم ہیں۔ ابھی چند ہفتے قبل ہمارے دوست کاشف رضوی کی والدہ اور ابرار رضوی کی اہلیہ معروف صحافی و سوشل ورکر شہناز تاتاری کا اچانک انتقال ہوا تو ہالینڈ سے آئے دوست امجد بٹ اور وسیم تارڑ کے ہمراہ تعزیت کے لئے جانا ہوا۔

میں انہیں خود نوشت لکھنے پر اکساتا رہتا آخری ملاقات میں کاشف رضوی نے یہ خوشخبری سنائی کہ ان کی خودنوشت اب تیار ہے۔ جلد مسودہ پروف ریڈنگ کے لئے تیار ہو گا۔ ابرار رضوی جنرل ایوب مخالف تحریک میں ذوالفقار علی بھٹو کے سحر میں ایسے مبتلا ہوئے کہ پھر اس پارٹی کے ہی ہو کر رہ گئے پیپلز پارٹی کے بنیادی رکن تھے جنرل یحیی کے دور میں ان کے خلاف غداری بغاوت کے مقدمے بنے میرے چچا ملک عبد القادر صابر تلہ گنگ میں پیپلز پارٹی کے عہدیدار تھے۔ ابرار رضوی سے دوستی بھی تھی۔ اسلام آباد پولیس انہیں ڈھونڈنے کی خاطر جگہ جگہ چھاپے مار رہی تھی تو انہیں والد محترم ملک فتح محمد نے گاؤں میں روپوش ہونے کا مشورہ دیا۔ جہاں یہ ہمارے گاؤں ٹہی تلہ گنگ میں چند ہفتے قیام کیا

ان جیسا نظریاتی کارکن میسر ہو تو پھر سٹڈی سرکل نہ چلے ہمارے گاؤں کے کارکنوں کے سیاسی طبقاتی شعور میں ابرار رضوی جیسے کارکنوں کا اہم کردار تھا۔ ابرار رضوی مسلسل کئی برس پیپلز پارٹی اسلام آباد کے صدر رہے۔ ان کے دروازے کارکنوں اور عام لوگوں کے لئے ہر وقت کھلے رہتے پارٹی کارکن انہیں موٹر سائیکل پر بٹھا کر اپنے ساتھ مختلف سیاسی سرگرمیوں میں لے جاتے۔ پروفیسر طاہر نعیم ملک کا کہنا ہے کہ قائد اعظم یونیورسٹی کے طلبہ جب رجعت پسند طلبہ تنظیموں سے نبرد آزما ہوتے تو ابرار رضوی نہ صرف ان طلبہ کی کورٹ کچہری سے ضمانت کرواتے بلکہ کئی طلبہ کو مشکل وقت میں گھر میں بھی پناہ دیتے تھے۔

جب بابر اعوان پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے اور 2002 میں انہوں نے پارٹی ٹکٹ بھی حاصل کر لیا تو اس کے باوجود ابرار رضوی نے ان کی انتخابی مہم سے خود کو فاصلے پر رکھا حتیٰ کہ بابر اعوان کو محترمہ بینظیر بھٹو سے ان کی حمایت کے لئے دوبئی سے فون کروا کر رضامند کروانا پڑا جس روز محترمہ بے نظیر بھٹو راولپنڈی میں شہید کردی گئیں اس روز راولپنڈی جنرل ہسپتال میں میں نے انہیں نیر بخاری اور رشید میر کے ہمراہ رنج اور غم کی کیفیت میں ماتم کرتے دیکھا۔

بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد سیاست کے اطوار بدلے گئے۔ ابرار رضوی گوشہ نشینی اختیار کر کے گھر کی حدود تک محدود ہو گئے۔ ابرار رضوی جیسے لوگوں کی ساری عمر آمریتوں سے لڑتے گزری جنرل ایوب جنرل یحیی جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف ہے۔ دور میں ان کی جمہوری جدوجہد کی پاداش میں مقدمے گرفتاریاں حوالات اور جیل یاترا مقدر ٹھہرا۔ پیپلز پارٹی بھی بدقسمت جماعت ہے جس کی اپنے کارکنوں، راہنماؤں پارٹی عہدیداروں کی لازوال سیاسی جدوجہد کتابی شکل میں رقم کرنے کی جانب توجہ ہی نہیں دی سیاست غیر نظریاتی ہو گئی ہے۔ اب جوڑ توڑ کے ذریعے اقتدار حاصل کرنا ہے جس میں عوامی جمہوری جدوجہد کی سرے سے گنجائش ہی نہیں میں نے ابرار رضوی صاحب کو اتنا سخت ترین آمریتوں میں مایوس نہیں دیکھا جتنا پچھلے دس سالوں کے سیاسی کلچر سے مایوس دیکھا اب بھلا ابرار رضوی مرتے نہ تو کیا کرتے۔

Facebook Comments HS