اندھیروں کے مسافر


ایک مشہور لطیفہ یاد آ گیا اور پھر ہنسنے ہنستے دل اداس ہو گیا۔ ہنسی اور اداسی کا بھی کیا عجیب سنگم ہے۔ ایسے ہی جیسے اندھیرے اور روشنی کا ہے کہ ہمیں لگتا ہے کہ شاید یہ جلتا ہوا بلب روشنی کا ہے مگر دیکھا جائے تو یہ بلب روشن اس لیے نظر آ رہا ہے کیونکہ اس کے چاروں طرف اندھیرا ہے گھپ اندھیرا۔ یعنی یہ اندھیرا ہی دراصل اس کے روشن ہونے کا ضامن ہے۔ سوچیں کہ اگر اندھیرا نہ ہو تو یہ بلب روشن ہو کر بھی روشن نہیں لگے گا۔ ہم اس بلب کو اندھیرے سے بغاوت سمجھ کر اسی کی کرنوں میں منزل تلاش کرنے لگتے ہیں۔ اور یہیں سے شروع ہوتا ہے ہم ہنستی ہوئی اداس نسلوں کا اندھیرے کا سفر۔ ہمارے پاس جتنے بھی روشنی کے ذرائع ہیں سب کے سب اندھیروں کے معبد اور تاریکی کے پجاری ہیں یعنی تاریکی ختم ہوئی تو اجالا بھی ختم۔

خیر لطیفہ کچھ یوں ہے کہ ایک اداس شخص کا والٹ گم ہو گیا کہیں اور وہ اسے ڈھونڈنے کی کوشش کرنے لگا۔ ڈھونڈتے ڈھونڈتے کافی وقت بیت گیا لیکن والٹ نہیں ملا۔ کسی اور اداس شخص نے اس سے پوچھا کہ میاں کس الجھن میں ہو کیا کارگزاری ہوئی تو کہنے لگا کہ یار والٹ گم ہے اور ڈھونڈنے پہ بھی ملنے کو نہیں! موصوف گوش گزار ہوئے جناب والٹ گما کدھر تھا، سائل بولا وہ گلی کی نکڑ دیکھ رہے ہو نا جہاں گھپ اندھیرا ہے وہیں گما تھا۔

جواب سن کر مخاطب تلملا اٹھا کہ موصوف والٹ تو آپ کا گم ہوا ہے اس اندھیری نکڑ پہ لیکن ڈھونڈ یہاں سٹریٹ لائٹ کے بلب کے نیچے رہے ہیں۔ موصوف فرمانے لگے جناب! آپ خود ہی بتلائیں بھلا اس گھپ اندھیرے میں والٹ ملے گا؟ نہیں ملے گا اسی لیے ادھر روشنی میں ڈھونڈ رہا ہوں۔ جواب سن کر ہنسی تو آئے گی لیکن ساتھ اداسی بھی لائے گی۔

ہم اداس نسلوں کا بھی یہی مسئلہ ہے۔ ہم سے پچھلی نسل کے پاس والٹ تھا جو کہ اس سے پچھلی نسل نے کمایا تھا۔ وہ والٹ گم ہو گیا اور گم ہوا بھی روشنی میں وہ روشنی جو دراصل اندھیرا ہونے کی وجہ سے روشنی لگ رہی تھی۔ یعنی والٹ دراصل اندھیرے میں ہی گما تھا لیکن ہم روشنی کے چکر میں بھٹک گئے۔ اندھیروں میں ہوئی روشنی بڑی شعبدہ باز ہوتی ہے اور اس کی اصل سمت اس کے ماخوذ سے پتہ چلتی ہے۔ ایک اور دقت اس روشنی کی یہ ہے کہ اس کا کچھ پتہ نہیں چلتا ابھی ادھر ہے پھر ہو نہ ہو کچھ کہا نہیں جا سکتا ہے۔

ہم روشنی میں والٹ ڈھونڈ رہے ہیں حالانکہ گما اندھیرے میں تھا۔ کبھی کہیں کسی جگہ روشنی ہو جاتی ہے تو ہم معصوم مگر بے وقوف اداس لوگ وہیں جا کر والٹ ڈھونڈنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہمیں نصاب میں جو تاریخ پڑھائی گئی وہ بھی اندھیرے میں روشن بلب جیسی، جو دانش ور ملے وہ بھی ایسے، جو جج، اساتذہ، پیشوا، مذہب دان، سیاست دان، جرنیل یعنی ہر روشن شے کا ماخوذ شعبدہ بازی کے سوا کچھ نہیں تھا اور ہم نے بھی نہ راستہ ہی بدلا اور نہ منزل ہی پائی۔

لٹتے رہے، بھٹکتے رہے، سسکتے رہے اور بلکتے رہے مگر اداس چہروں، لتھڑے ہوئے بے آبرو جسموں، شکست خوردہ جذبوں کے ساتھ گرد سے اٹی ہوئی خاموش راہوں کو منزل دیتے رہے۔ ہماری مثال زہر آلود فیکٹری کے گدلے نالے کے کنارے آگے اس پودے کی ہے کہ جو اپنی پیدائش سے لے کر زندگی جینے کی جدوجہد میں لگ جاتا ہے اور ایسا کہ ہر دن جدل ہر لمحہ طبل پہلے تو آگے گا ہی نہیں اور آگ بھی جائے تو پورا جوان ہونے سے پہلے اس پانی میں موجود زہر کینسر اگلنے لگا گا جس کے توسط سے یہ بد بخت پودا جوان ہوا تھا۔

ہم پیدائش کے ساتھ ہی سچ، جھوٹ، صحیح غلط جیسے کینسر لے کر زندگی سے نبرد آزما کروا دیے جاتے ہیں اور پھر کوستے رہتے ہیں کہ صاحب دیکھیے ہمارے ہاتھوں کی آڑی ترچھی لکیروں میں کوئی دقت ہے شاید! ارے جب تختی لکھنے کی عمر میں صحیح غلط کا پاٹ پڑھائے جائیں گے اور صحیح غلط جانچنے کی عمر میں جیب سے جانچے جائیں گے تو پھر وہی ہو گا جو فیکٹری کے زہر آلود پانی میں آگے پودا کا ہوتا ہے۔

جہاں دیکھیے رائیٹ لیفٹ کی الجھن، بھوک کے مارے جسم، پیاسے ہونٹ، موٹی موٹی لوہے کی زنجیروں میں لپٹے ہوئے لاشے، چلے جا رہے ہیں، قافلوں کے قافلے، نظریات کے پلندے، ہر سو سراب ہی سراب، دھواں ہی دھواں، دجل و فریب زدہ اداس نسلیں! یہ سب کے سب اندھیروں کے مسافر ہیں اور جتنا آگے جاتے ہیں اتنا ہی منزل سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اور کتنی نسلیں اندھیروں میں سفر کرتے کرتے زمیں برد ہوں گی۔ یعنی جو رکیں تو دگرگوں جو چلیں تو لاحاصل!

Facebook Comments HS