کتابی سلسلہ ”ادبیت“


کتابیں پڑھنے کے شوق نے کئی نئے دوستوں اور لکھاریوں سے متعارف کروا دیا ہے۔ جن کی کتاب پڑھ کر کالم لکھنے کا موقع مل جاتا ہے جو قارئین کے لئے بھی اس کتاب اور ادیب کو جاننے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں برطانیہ میں مقیم جناب سرفراز تبسم نے ”ادبیت“ ارسال کیا جو چند دنوں تاخیر سے لیکن مل گیا۔ سر فراز تبسم خود ایک بہترین شاعر اور ادیب ہیں جو اپنے کتابی سلسلے ”ادبیت“ کے ذریعے ادب کی خدمت کر رہے ہیں۔ اس وقت میرے ہاتھ میں نامور شاعر نذیر قیصر کی زیر نگرانی جدید ادب کا عالمی کتاب سلسلے ”ادبیت“ کی پہلی جلد ہے جو جنوری 2023 میں شائع ہوئی۔ سرفراز تبسم اس کے مدیر اعلیٰ اور شہزاد انجم معاون مدیر (اعزازی) کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

377 صفحات پر مشتمل کتابی سلسلے کا خوبصورت سرورق یوکرین سے تعلق رکھنے والے معروف آرٹسٹ زور سہ نے ڈیزائین کیا ہے جسے آوازیں فاؤنڈیشن پاکستان نے شائع کیا ہے۔

نذیر قیصر صاحب نے اپنے ابتدائیہ ”پہلا حرف“ میں لکھا ہے کہ ”ادبیت“ سرفراز تبسم کا ایک پرانا خواب ہے جس کی ابتداء 1996 میں ہوتی ہے۔ وہی خواب آج انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے نئی دنیا کے لئے نیا ادب کے لئے ادبیت کے پہلے شمارے میں اس عہد کے بڑے نام شامل ہیں جن میں ظفر اقبال، ستیہ پال آنند، مشرف عالم ذوقی، خالد فتح محمد، ڈاکٹر نا صر عباس نیر، علی محمد فرشی، رفیق سندیلوی، سلمیٰ اعوان، غلام حسین ساجد، پروفیسر حسن عسکری، نسیم سحر، رجیش یڈی، قمر رضا شہزاد، شہزاد نیر کے علاوہ کئی معتبر نام اس کی فہرست میں شامل ہیں ادبیت کا پہلا شمارہ سرفراز تبسم نے مہینوں میں ترتیب دیا ہے۔ یہ پہلی ادبی دستاویز ہے اگر کچھ کمی رہ گئی ہے تو وہ وقت کی ہے جو آئندہ پوری ہو سکے گی مگر ادبیت کے پہلے شمارے میں بھی آپ کو ایک نیا پن محسوس ہو گا۔ ”

میرے خیال میں اس کتابی سلسلے کے پہلے شمارے کی پرنٹنگ، کمپوزنگ، کاغذ کی کوالٹی اور رائٹنگ کا فونٹ بہت اچھا ہے۔

پہلے حصے میں 12 افسانے /کہانیاں ہیں۔ جن میں مجھے ہریش میسی کے ”کاغذی دھوپ“ ، آسناتھ کنول کے ”خواب“ ، وسیم جبران کے ”تھوڑی سی زندگی“ نے بہت متاثر کیا۔ ہریش میسی کا خیال، تصور اور الفاظ نے دل خوش کر دیا۔ کوئے کی کہانی کو بہت خوبصورت انداز میں بیان کیا جو اپنے قبیلے سے مختلف سوچتا ہے اور اپنی مخالفت کے باوجود اپنی بلند پرواز کو جاری رکھتے ہوئے ہے۔ اس کی سوچ اس کے ان الفاظ سے عیاں ہوتی ہے۔ ”تم جو چاہو کرو۔

مگر ایک بات کان کھول کر سن لو۔ دنیا میں بہت کم ہی ایسے لوگ ہیں جو یہ جانتے ہیں کہ انہیں کیا چاہیے۔ اور وہ حاصل کر لیتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو جانتے ہیں تو ہیں مگر حاصل نہیں کر سکتے اور ایک بہت بڑی اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جن میں تم سب شامل ہو، جو نہ تو یہ جانتے ہیں کہ انہیں کیا چاہیے۔ اور نہ ہی کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔“ ( 57 )

دوسرے حصے میں 8 مضامین / نقد و نظر ہیں۔ تیسرے حصے میں 90 غزلیں ہیں۔ نوجوان شاعر فخر لالہ کو پہلی دفعہ پڑھا، اچھا لگا۔

وہ ماہ جبیں لاکھ حسیں لاکھ جواں ہو
اس شہر میں ثانی تو ہمارا بھی نہیں ہے۔

سرفراز تبسم کو بھی پہلی دفعہ پڑھا۔ چوتھے حصے میں 2 ناولٹ/ تراجم ہیں۔ جن میں جو شوآلہرو کے ”زرد گلابی“ نے کافی متاثر کیا۔ میرے خیال میں جو شوآلہرو کا طرز اور خیال کافی منفرد اور جدید ہے۔ انہیں زیادہ لکھنا چاہیے۔

پانچواں حصے میں 59 نظم /نثری نظم ہیں۔ جن میں نیل احمد، شہزاد انجم کے کلام کو پہلی مرتبہ پڑھنے کا موقع ملا۔

چھٹے حصے میں سیموئل فضل کی 6 مختصر نظمیں ہیں۔ آخری حصے میں نامور ادیب آفتاب جاوید کا شہرت یافتہ ”گیان“ ہے۔ جس کا نام ہی اس کی پہچان ہے۔ ادبیت ایک بہترین سلسلہ ہے جسے اچھے انداز میں شروع کیا گیا ہے جس کے لئے پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔ مجھے امید ہے ادبیت کے آنے والے شماروں میں نئے لکھنے والوں کو جگہ دی جائے گی۔

Facebook Comments HS