افسانہ: احتجاج


ایک چڑیا مسلسل گول دائرے میں گھوم رہی تھی، آسمان کیا دیکھتا ہے کہ وہ دائرے میں اڑتی ہوئی اچانک دھڑام سے نیچے آ گری، جیسے کسی فرشتے نے شرارتاً اس کے پر باندھ دیے ہوں۔ وہ اپنی آبائی، زرخیز لیکن خشک زمین کو گھورے جا رہی تھی، جہاں کچھ دنوں سے ہزاروں آم کے درخت زمین بوس تھے، اس چڑیا کو اپنے قریب ایک کچا آم دکھا، بمشکل ناتواں چڑیاں اس سبز آم تک پہنچ پائی۔ وہ اس آم کو بہت دیر تک دیکھتی رہی۔ آگ برساتا سورج بھی اس چڑیا کو اسی طرح دیکھ رہا تھا۔

اس چڑیا کے چہرے پر جوانی کی تابناکی تو تھی لیکن اس کی دم سے پنکھ یکسر غائب تھے، جیسے کسی بزرگ کے تمام بال ضعیفی کے سبب بکھر جائیں۔ اس چڑیا نے آم کو بہت دیر دیکھا۔ پھر کھانا چاہا، یعقوب کا دل بھی تو فقط دیکھنے سے نہ بھرا تھا، اسے یوسف کو آخر گلے ہی لگانا پڑا۔ مگر اس لاغر چڑیا کی چونچ اس کچے آم کے چھلکے پر کوئی تبدیلی نہ لا سکی، ایسا نہیں کہ چونچ میں سختی نہ تھی، مگر کئی دن کی فاقہ کشی کے سبب اس چڑیا کی گردن میں سکت باقی نہ رہی تھی، معلوم ہوتا تھا کہ چڑیا کئی دن سے بھوک ہڑتال پر تھی۔ یہ چڑیا چڑیاؤں کی بھگت سنگھ ہی نہ ہو۔

اس کے بعد چڑیا نے آم پر ضرب لگانے کی دوسری کوشش نہ کی۔ یہ اس کی شکست تھی یا کسی دوسرے پہلو میں فتح کی نئی اصطلاح کی پہلی مثال؟ چڑیا بھوکی پیاسی آموں کے کٹے باغات کو زمین پر بیٹھی دیکھتی رہی، یہ کیفیت کتنی کربناک تھی، آپ اندازہ لگائیں کہ ایک بے بس کسان پگڈنڈی پر کھڑا اپنی پکی فصل کو آگ لگتے دیکھ رہا ہو۔

کچھ ہی دیر میں اس سبز آم پر ذرے برابر ایک گہرا سبز رنگ ابھرا، اسے امید کی پہلی کرن ثابت ہونا تھا لیکن تب تک تو چڑیا مر چکی تھی۔

رم جھم، رم جھم۔ بارش برسنے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے یک دم تھم گئی، مگر زمین اس قدر جھلس رہی تھی کہ بارش تھمتے ہی یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ آیا یہاں بارش ہوئی بھی ہے یا نہیں۔ شاید یہ چند لمحوں کی بارش، آسمان کی جانب سے ایک تعزیتی علامت اور دوسری چڑیاؤں کے لئے دعوت نامہ تھا۔

شہید چڑیا کے گرد کئی سو چڑیاؤں کا ماتم برپا ہو گیا، چڑیاؤں کا گروہ چائیں چائیں کرنے لگا جیسے کوئی ان کی یہ نادار آہ و بکا سن لے گا، بیچارے یہ وہمی، احمق پرندے۔

وقت شام کے پہلے پہر کی جانب رواں تھا، اور چڑیاؤں پر شب اماوس طاری تھی۔

صبح ہوئی تو گدھوں کی چار جوڑیاں کچھ اس فاصلے سے ان پرندوں کے گرد حلقہ بنائے بیٹھی تھیں جیسے پہرہ دے رہی ہوں، گزشتہ رات تو نخچیر ثابت ہوئی، تاریکی کے عالم میں تمام چڑیائیں مر چکی تھیں اور گدھ کی آنکھیں اشک بار تھیں۔ اگر گدھ لاشوں پر روئیں گے تو جگنو بجھ جائیں، شیر گھاس کھانے لگیں، فاختائیں گونگی ہو جائیں۔ کیا المیہ ہے کہ گدھ حقیقتاً رو رہے تھے۔

مگر تجسس گدھ کے رونے پر نہیں، سوال تو یہ ہے کہ ایک ہی وقت میں یہ تمام پرندے کیسے مر سکتے ہیں، کیا ان پرندوں نے باقاعدہ پلاننگ سے خودکشی کی؟ ارے بدھو! پرندوں کو کیا پتہ خودکشی کیا ہوتی ہے۔

ایک دبلی پتلی گائے سبزے کی تلاش میں ادھر آ نکلی تھی، جب اس نے گدھوں کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو پریشان سی ہو گئی، ”یہ تو وہی گدھ ہیں جنہوں نے چند ماہ پہلے میری فاقوں سے مری ماں کی ہڈیاں تک چبا لیں اور یہ یہاں رو رہے ہیں، ہائے یہ شعبدہ باز گدھ۔“

اسی اثناء میں گائے کیا دیکھتی ہے کہ ایک کتیا مرنے کی حالت میں اپنے بچے کو جبڑے میں دبائے مغرب کی جانب چلی جا رہی ہے، گائے نے غرانا شروع کیا گویا اس کتیا سے مخاطب ہو ”اے لاچار کتیا! ندی کی جانب جا کر خود کو نہ تھکا، ندی کو سوخے ہفتہ ہو چلا۔“ نگوڑی کتیا کو کب گائے بولی سمجھ آوے۔ مگر گائے کتیا کی خاموش زبان سمجھ چکی تھی، اور وہیں گر پڑی، گائے کے دماغ کی شریان پھٹی یا اسے دل دورہ پڑا، یہ کبھی پتہ نہ چل سکا کیونکہ جانوروں کے پوسٹ مارٹم کب ہوتے ہیں۔

تبھی آسمان میں قریباً دس اور گدھ نمودار ہوئے جن میں سے دو سر جھکائے گائے کے گرد جا بیٹھے، ایک گدھ نے چڑیاؤں کی لاشوں کے گرد بیٹھے اپنے ساتھی گدھ سے کچھ کہا، معلوم نہیں کہ انہوں نے کیا گفتگو کی ہوگی لیکن جوڑیوں کی شکل میں چھ گدھ وہاں سے شمال کی جانب رواں ہوئے، کہا جاتا ہے کہ اسی دن صبح کے سمے شاہ عبد الطیف بھٹائی کے دربار کے صحن میں کئی سو کبوتر مرے ہوئے پائے گئے جن کی لاشوں کی حفاظت کچھ چھے گدھوں نے کی۔

اسی دن کے بارے ایک موسیقی شناس نے کہا کہ گدھ تان سین کے راگ سے واقف ہوں یا نہ ہوں لیکن انہوں نے ایک ہی سمے اپنی چونچ آسمان کی جانب کیے بالکل وہی راگ الاپا جس راگ سے تان سین پانی میں آگ لگایا کرتا تھا، لیکن کسی بھی جگہ اس دن آم کے درخت کاٹنے والوں کے گھر آگ لگنے کی کوئی خبر موصول نہ ہوئی۔

Facebook Comments HS