انسانوں اور زبانوں کی جرمنی کی طرف ہجرت
سال رواں میں ناچیز کو جرمنی پہنچے ہوئے دس سال ہو رہے ہیں۔ اس دوران ہونے والے مشاہدات کی فہرست بہت طویل ہے۔ اس میں جرمن کی زبان سر فہرست رہی۔ اس کی اہمیت اور ضرورت دن گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی گئی تھی۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ جرمنی میں جانا ایک نئی دنیا میں جانے کے مترادف ہے۔ اگر آپ نے انگریزی میں پی ایچ ڈی بھی کر رکھی ہے تو جرمنی میں پہنچ کر آپ ایک سینٹ کی خریداری کے قابل نہیں ہوں گے ۔ ٹیکسی بس کے ذریعے سفر نہیں کرسکیں گے۔
ہو سکتا ہے آپ دوران سفر کہیں آگے نکل جائیں یا غلط سٹاپ پر اتر جائیں اور پھر غصہ میں خود کو کوستے پھریں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جرمن لوگ اپنی زبان کے علاوہ دوسری زبان میں بات کرنا بالکل پسند نہیں کرتے، اور نہ ہی ان کو آتی ہے لہذا گونگوں کی طرح اشاروں سے ہی کام چلانا پڑتا ہے۔ اسی لئے آپ کو اپنی قیام گاہ سے باہر نکلتے ہی زبان کا مسئلہ ہر قدم پر ملے گا۔ جرمنی کی سرزمین پر جب پہنچا تھا تو انگریزی زبان کی کچھ سوجھ بوجھ کی وجہ سے زیادہ فکرمند نہیں تھا لیکن چند دنوں کے بعد ہی احساس ہو گیا کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے بلکہ بہت گڑبڑ ہے، سب اندازے غلط نکلے اور منہ میں زبان رکھنے کے باوجود گونگوں کی طرح اشاروں سے کام چلانا پڑا تھا۔
قدم قدم پر محتاجی کا سامنا تھا۔ جرمن لوگ اپنی زبان سے اس جنون کی حد تک عقیدت رکھتے ہوں گے ، اس کا بالکل اندازہ نہیں تھا۔ ایک بار ٹرین میں سفر کے دوران چیکر سے بات کرنی پڑ گئی، اس نے صرف انگریزی میں یہی ایک جملہ بادل ناخواستہ بولا کہ یہاں رہنا ہے تو جرمن زبان سیکھو۔ جرمن معاشرہ ایک مکمل سیکولر معاشرہ ہے جہاں انسانی احترام اور اقدار کے وہ عملی نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں جیسا ایک مسلمان نے اسلامی تعلیمات میں پڑھ رکھا ہے اور سن رکھا ہے۔
قانونی طریقوں سے جرمن پہنچنے والے تارکین وطن اور دیگر غیر ملکیوں کو جلد سے جلد جرمن معاشرے کا فعال حصہ بنانے کے لئے ریاست کروڑوں یورو کی کثیر رقم خرچ کرتی ہے۔ گزشتہ چند سالوں سے شعبہ تعلیم میں تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ سکول کی سطح پر انگریزی زبان پڑھانے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ نئی جرمن نسل کو اب انگریزی بھی پڑھائی جا رہی ہے۔ جرمن کی 16 ریاستوں کی طرف سے تارکین وطن اور غیرملکیوں کو جرمن زبان سکھانے کی بہترین سہولیات میسر کی ہوئی ہیں۔
کسی یونیورسٹی یا کالج میں ڈگری کی پڑھائی سے پہلے جرمن زبان کورس پاس کرنا لازم ہوتا ہے۔ اسی طرح فلاحی ادارے بھی موجود ہیں جو زبان سکھاتے ہیں۔ آن لائن، کلاسز کے علاوہ خصوصی تعلیمی اداروں کے ذریعے زبان سیکھ سکتے ہیں۔ پہلے جرمن زبان کورس لازم ہے جو A 1 سے شروع ہوتا ہے پھر A 2 ابتدائی بول چال کی لیول کے کورس ہیں اور جاب اور تعلیمی ادارے میں داخلے کا کم از کم معیار B 1 ہے۔ اس کے بعد B 2 اور اگر مزید بہتر جرمن سیکھنا چاہتے ہیں تو آپ C 1، C 2 کر سکتے ہیں۔
اگر ان میں سے کوئی ایک جرمن زبان کورس کے بعد کسی بھی من پسند شعبہ میں تین سالہAusbildung کرلیتے ہیں تو پھر آپ کا جرمنی معاشرہ میں مستقبل روشن ہو سکتا ہے۔ جرمن زبان سیکھنے کے بعد آپ کو نہ صرف جرمنی بلکہ یورپ کے متعدد اہم ممالک میں بھی بہت فائدہ ہو گا جہاں جرمن زبان بولی جاتی ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کسی نئے ملک میں مستقل قیام یا ملازمت کے لئے وہاں کی سیاست، ثقافت اور معاشرتی زندگی کو سمجھنے کے لئے بہترین ذریعہ زبان ہوتی ہے اس پر دسترس حاصل کرنے کے بعد آپ معاشرہ کے اندر بہت تیزی سے مدغم ہو کر اس کا حصہ بن سکتے ہیں، لہذا جرمنی کے اندر کامیابی کی واحد کنجی جرمن زبان پر عبور ہے۔
نئی زبان دوسری قوم کی تہذیب، ثقافت، تاریخ و ادب، سیاست کو سمجھنے کے بند دریچے کھولتی ہے۔ اجنبی اور نئے معاشرے میں نئی زبان سیکھ کر جب ہم دوسروں سے ہمکلام ہوتے ہیں تو پھر ہم صرف نیا کچھ سیکھتے ہی نہیں ہیں بلکہ وہاں کے شہریوں کو بھی اپنا کلچر، اپنی تہذیب و ثقافت ان تک پہنچاتے ہیں گویا ایک زبان محض انسانوں سے رابطہ کا ہی کام نہیں کرتی بلکہ یہ دو تہذیبوں کو بھی ملاتی ہے۔ نئی زبان کے حوالے سے ایک مثال مشہور ہے کہ ”ایک نئی زبان سیکھو اور ایک نئی روح حاصل کرو“ ۔
جرمن قوم اپنی زبان میں گفتگو کرنا بہت پسند کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہر طرف جرمن زبان کا راج نظر آتا ہے، مارکیٹوں، بازاروں، بڑی بڑی اہم شاہراؤں، ریلوے اسٹیشنوں، ائر پورٹوں اور دیگر تفریحی مقامات سمیت ہر طرف سائن بورڈوں پر جرمن زبان ہی نظر آئے گی۔ شاذ و نادر ہی کہیں انگریزی زبان میں کچھ لکھا نظر آ جائے۔ ابتدائی دنوں میں مجھے انگریزی اخبارات کی شدید ضرورت محسوس ہوئی تو میں بڑے بڑے بک سٹالوں پر گیا کہ کہیں سے انگریزی زبان میں کوئی میگزین یا اخبار مل جائے لیکن ناکامی ہوئی، ہر قسم کی کتاب، میگزین اور اخبار سبھی جرمن زبان میں تھے اور ان کی بہتات تھی ہر موضوع پر لکھی کتابیں، میگزین موجود تھے لیکن صرف جرمن زبان میں۔
ان حالات میں جرمن زبان سیکھنے کی ضرورت کا احساس اور بڑھ جاتا ہے۔ مارکیٹوں اور تفریحی مقامات پر گھومنے پھرنے کے دوران زبان کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے، ٹیکسی، بس یا ٹرین میں سفر کے دوران بھی یہی مشکل درپیش ہوتی ہے کہ منزل مقصود تک کیسے پہنچا جائے؟ لہذا جرمنی میں جانے یا پہنچنے کے فوراً بعد سب سے پہلے جرمن زبان سیکھنا اور عبور حاصل کرنا ناگزیر ہے۔ یورپ کے دیگر ممالک میں پہنچنے کے باوجود تارکین کیوں جرمنی میں جانا اور رہنا پسند کرتے ہیں؟
اس کی بنیادی وجہ اس کا فلاحی ریاست ہونا ہے۔ تعلیم کے دوران یا بے روزگاری کی صورت میں حکومت وقت اس کی تمام بنیادی ضروریات پوری کرتی ہے۔ ایسا کسی اور یورپین ملک میں نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جرمنی پہنچنا آج ایشیائی ممالک کے لوگوں کا ہی خواب نہیں بلکہ دیگر یورپین ممالک اور دیگر مغربی ممالک کے لوگ بھی یورپ کے اندر جرمنی کو ترجیح دیتے ہیں۔ جرمن یورپ کی پہلی طاقتور معیشت ہے۔ اس کا پاسپورٹ دنیا کا طاقتور سفری دستاویز ہے۔
جرمنی میں ہر طرح کی مکمل سیکورٹی دستیاب ہے۔ مکمل مذہبی و سیاسی سماجی آزادی میسر ہے، نفرت انگیز تقاریر ممنوع ہیں۔ تعلیم ریاست کی انتہائی ترجیحات میں شامل ہے۔ گزشتہ سال یوکرائن کے لاکھوں مہاجرین کو پناہ دینے کے بعد ہزاروں بچوں کو پہلی ترجیح کے طور پر سکولوں میں داخل کیا گیا یوں پہلی بار گزشتہ چھ سالوں میں سکولوں میں طلباء کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ یہاں بھی ابتداء جرمن زبان سکھانے سے ہوئی ہے۔ 2015 میں لاکھوں شامی مہاجرین آج روانی سے جرمن زبان بول سکتے ہیں۔
شامی بچے سکولوں میں پڑھتے ہیں، لڑکے لڑکیاں کالجز یونیورسٹی میں پڑھنے کے ساتھ ساتھ کام بھی کرتے ہیں۔ ان سب نے یہ کامیابی جرمن زبان سیکھنے کے بعد حاصل کی ہے۔ حکومت کا لگایا سرمایہ اب ٹیکس اور خدمات کی شکل میں حکومت کو واپس مل رہا ہے۔ یورپ کے اندر آج انسانی ہجرت ہی نہیں بلکہ زبانوں کی ہجرت بھی انسانوں کے ساتھ شروع ہے۔ تہذیبوں اور مذاہب کی ہجرت بھی ہو رہی ہے اس طرح یورپ کے اندر نئے معاشروں کی تشکیل ہو رہی ہے اور یہاں بسنے والوں کا آپس میں مقابلہ مذہب و عقیدہ کی بنیاد پر نہیں بلکہ اہلیت و قابلیت کی بنیاد پر ہے۔


