گاما، مندریاں والا


میں گاما سے پہلی مرتبہ ہیرا منڈی میں کوٹھے کے باہر ملا تھا۔ اس نے اپنے بائیں ہاتھ کو مٹھی بنا کر اس کی آخری دو انگلیوں میں سگریٹ تھام رکھی تھی۔ وہ زور لگا کر کش کھینچتا اور دھواں آہستہ آہستہ ہونٹوں اور نتھنوں سے چھوڑتا تھا۔ دو بڑی گلیوں میں مجرا گاہیں خوب روشن ہو رہی تھیں۔ اگر پشت پر پھجا سری پائے والا ہوتو دونوں بازو مجرا گاہوں والی گلیوں کے رخ کھلتے تھے، بغل کا رستہ نیچا چیت رام روڈ پاکستان ٹاکیز نامی سال خوردہ سینما کو جاتا تھا۔ اس جانب ترنم اور ٹکسالی سینما بھی تھے۔

گلیوں میں خوب چہل پہل ہو رہی تھی، شادیوں پر بینڈ باجا اور باوردی بینڈ بجانے والے فراہم کرنے اور آلات موسیقی بیچنے والوں کی دکانوں کے شٹر، دروازے بند تھے۔ ایک بڑے سے گودام میں شادیوں پر شش رخے ڈیزائن والے سرخ شامیانے کرائے پر دینے کے لیے رکھے تھے۔ گودام کا گیٹ بند تھا، باہر بورڈ پر گلابی ٹیوب لائٹ جل بجھ رہی تھی۔

ہمیں چلتے، جھجک کر رکتے اور تاک جھانک کرتے دیکھ کر تین چار بندے ہمارے اردگرد چلنے اور اپنی اپنی پیش کش کرنے لگے۔

”باو¿جی نواں نکور مال اے، ملائی تے کھنڈ“ (باؤ جی نیا مال ہے، ملائی اور شکر) ۔

”باو¿جی کھویا ہے کھویا۔ ادھر نیچے کیوں وقت ضائع کرتے ہو۔ جوان ہو۔ وہ ٹبی گلی ہے، چاندی کے ورقے میں کھویا ہے کھویا۔“

میرے ساتھ منور راجپوت تھا، دوست یار اسے کپوت کہتے تھے۔ تیز طرار، چھوٹی چھوٹی گھومتی آنکھوں، پست قامت اور منحنی جثے والا، بہ قول خود تجربہ کار اور بزعم خود مرد رعنا، گڑبڑا گیا۔

”منڈیو ادھر نہ جانا، مصیبتوں کا بسیرا ہے، بیماریوں کا ڈیرا۔“

پکے رنگ اور درمیانے قد والا ایک شخص ہمیں دیکھ کر بولا۔ اس نے بش شرٹ اور پتلون پہن رکھی تھی جو اس ماحول میں عجیب لگتی تھی۔ وہ سگریٹ کے کش لگا رہا تھا۔ اس کے چہرے پر نرمی اور مسکراہٹ تھی۔ اس نے ایک روشن چوبارے کے کھلے پٹ کے برابر دیوار سے ٹیک لگا رکھی تھی۔ دیوار پر کسی سرکس کے اشتہاری پوسٹر کے کٹے پھٹے ٹکڑے چسپاں تھے۔ پہلی ہی نظر میں اس شخص کی ذات میں ٹھیراو¿نظر آتا تھا۔ آنکھیں سرمہ لگی تھیں جن میں ہلکی سرخی تھی۔

”شہد چنگا یاں کھنڈ؟“ (شہد اچھا یا شکر؟ ) ۔
ہمیں متذبذب دیکھ کر اس نے خود جواب دیا۔
”شہد، وہ بھی ایسا جو منہ کے بجائے آنکھوں اور کانوں میں رس گھولتا ہو۔“

اس نے سگریٹ کا بچا ٹوٹا جوتوں تلے مسلا اور بغیر کچھ کہے دیکھے بالا خانے کے داخلی قدمچے پر پیر رکھ دیا۔

ہم سرکس کے سدھائے جان وروں کی طرح اس کے پیچھے پیچھے چل دیے۔ بالا خانہ ٹیوب لائٹوں سے خوب روشن ہو رہا تھا۔ اندر چاندنی بچھی تھی اور گاؤ تکیے دیواروں کے ساتھ رکھے تھے۔ ایک جانب ایک گنجا شخص ہارمونیم کے پیچھے بیٹھا تھا۔ وہ ہمیں دیکھ کر مسکرایا تو اس کے سامنے کے دو دانتوں کے بیچ خلا نمایاں ہو گیا۔

میں نے اس سے پہلے فلموں میں مجرا گاہیں دیکھ رکھی تھیں جو خاصی وسیع ہوتی تھیں، وہاں رقاصائیں خوب بنی سنوری زیورات سے لدی پھندی سولہ سنگھار کیے ہوتی تھیں، قیمتی فانوس لٹک رہا ہوتا تھا اور ایک خوش زبان و خوش مزاج نائیکا بچھ بچھ جاتی تھی۔ میرے تصورات گرم پانی میں رکھے کھانڈ کے کھلونوں کی طرح گھل رہے تھے۔ اب تک ہیرا منڈی کے جن بالا خانوں میں میں جھانکتا آیا تھا وہاں زیادہ تر درمیانے حجم کے روشن کمروں میں موجود لڑکیاں گلی نما سڑک پر چلتے تماش بینوں سے آنکھ مٹکا کر رہی تھیں۔ دو چار بالا خانوں کے پردے کھنچے ہوئے تھے، چقیں گری ہوئی تھیں جن کی درزوں سے روشنی پھوٹتی تھی۔

بہرحال اس بالا خانے میں سوائے اس گنجے ہارمونیم والے کے جس کی کنپٹیوں پر خضاب لگی بالوں کی جھالریں تھیں کوئی اور نہ تھا۔ ہارمونیم، طبلے اور ستار کے علاوہ کوئی ساز نہ تھا۔ ہم جھجکتے ہوئے، ایک طرف سمٹ کر بیٹھ گئے۔ ہارمونیم والا بولا۔

”نویں پروہنے لگدے ہو“ (نئے مہمان لگتے ہو) ۔

مجھے کھسیانی ہنسی ہنستے دیکھ کر وہ میٹھے لہجے میں بولا۔ ”گامے دے پروہنے ہوتے ساڈے وی پروہنے ہو، جی آیا نوں۔“ (گامے کے مہمان ہیں تو ہمارے بھی مہمان ہیں، خوش آمدید) ۔

اس شخص کا نام گاما ہے، مجھے معلوم ہوا۔ میں نے اضطراری طور پر پہلے باہر گلی میں دیکھا، پھر کپوت کو دیکھا۔ وہ خاصی دل چسپی سے یوں ادھرادھر دیکھ رہا تھا جیسے پہلی مرتبہ دیکھ رہا ہو۔ مجھ سے اس کی نظریں ملیں تو وہ ہڑبڑا کر باہر گلی میں دیکھنے لگا۔

ہمیں اندر لانے والا پختہ رنگت کا شخص طبلے کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اس نے اپنے دائیں ہاتھ کی تین انگلیوں میں بلور، فیروزے اور سونے کی انگوٹھیاں پہن رکھی تھیں۔ روشنی میں وہ مندریاں نمایاں ہو گئیں۔

اتنے میں اندر سے چالیس پچاس برس کے پیٹے میں ایک موٹی سی عورت، ایک بھرے چھلکتے سینے والی زرق برق چست قمیص شلوار میں ملبوس گوری جوان لڑکی اور لمبے اور چھوٹے قد کے دو مرد برآمد ہوئے۔ انھوں نے ہمیں دیکھا، بڑی عمر کی عورت مسکرائی، جوان لڑکی نے باری باری ہم دونوں سے ہاتھ ملایا اور لمبا مرد ستار کو تھام کر بیٹھ گیا۔

تینوں سازندوں نے اپنے اپنے سازوں کو ٹھوک بجا کر دیکھا، ان میں سے مطلوبہ آوازیں برآمد کیں، ان کی موسیقی کو ہم آہنگ کیا اور بڑی عمر کی بائی کو دیکھا۔ عورت اور جوان لڑکی نے باہر کی جانب منتظر نظروں سے دیکھا۔ باہر پھولوں کے گجرے اور ہار والے کھڑے تھے۔ اتنے میں تین پٹھان اندر داخل ہوئے، انھیں دیکھ کر بائی کی باچھیں کھل گئیں۔ دو پٹھانوں نے ٹوپیاں پہن رکھی تھیں، تیسرا ننگے سر تھا۔ ننگے سر والے کی عمر دو ساتھیوں سے زیادہ تھی اور اس کی بھاری مونچھیں لٹک رہی تھیں۔ اس نے آگے بڑھ کر دونوں عورتوں سے ہاتھ ملائے۔ بیرونی پردے کھنچ گئے اور چق گرا دی گئی۔ میں یہ سب بہ غور دیکھ رہا تھا۔ ننگے سر والا میرے ساتھ ایک فرد کی خالی جگہ دیکھ کر بیٹھنے لگا، یکایک اسے کوئی خیال آیا، اس نے میری جانب دیکھا، مسکرایا اور بولا۔

”اجازت ہے، خوامخواہ۔“

میں اور سمٹ کر بیٹھ گیا۔ اس کے دونوں ساتھی کپوت کے ساتھ لگ کر بیٹھ گئے۔ سازندوں نے خیر مقدمی موسیقی کے طور پر نورجہاں کے ایک معروف گانے کی دھن بجانا شروع کی۔ اتنے میں ایک دبلی پتلی سی لڑکی پردہ ہٹا کر پائیں کمرے سے اندر داخل ہوئی۔ اس نے بال گوندھ اور چٹیا بنا کر پراندا باندھ رکھا تھا۔ پراندے کی دم سے چند گھنگھرو بندھے ہوئے تھے۔ وہ سازندوں کے ساتھ بیٹھی اور گھنگھرو چھنچھنا اٹھے، بھاری سینے والی گوری لڑکی نے رقص کے ابتدائی قدم اٹھائے اور اس کے ٹخنوں سے اوپر بندھے گھنگھرو بج اٹھے۔ دبلی پتلی لڑکی تان اٹھا چکی تھی اور مجرا گاہ میں ماحول بدل گیا تھا۔ جب اس نے تان اٹھائی تو گامے نے بھی اس کی آواز میں آواز ملائی اور ہوا میں سر سنگیت کی رنگین پھوار برسنے لگی۔ بھرے سینے والی رقاصہ رقص کرتی ہوئی تماش بینوں کے آگے جھکتی تو اس کا بھرا گدرایا سینہ تنگ قمیص میں سے چھلک چھلک جاتا۔ وہ اتنا جھکتی کہ سینے کے درمیان لکیر نظر آنے لگتی، طبلے والا مسکراتا تو اس کے سامنے کے دو دانتوں کے بیچ خلا نمایاں ہوجاتا اور طبلے پر تھاپ تیز ہو جاتی۔ میرے ساتھ بیٹھے ننگے سر والے پٹھان کی مونچھیں پھڑک اٹھتیں اور بے خود سا ہوجاتا۔

اس کے ساتھیوں میں سے ایک اٹھا اور رقاصہ کے سر سے ذرا اوپر نوٹوں کا ایک چھٹا مارا۔ نوٹ ادھرادھر بکھر گئے، رقاصہ نے نوٹوں کی پروا کیے بغیر ناچ جاری رکھا۔ بکھرے نوٹ اس کے پیروں تلے آتے رہے۔ پٹھان نے اپنی لٹکتی مونچھ کا ایک کونا ہونٹوں میں دبا لیا۔ یہاں تک کر نوجوان گائیکا نے تان توڑی اور ناچ تھم گیا۔ بے شک وہ ایک سریلی گلوکارہ تھی۔ تب تو اس کی مہارت کا اندازہ نہ ہوا لیکن آواز کی للک مسحورکن لگی۔ پٹھان نے ہونٹوں سے مونچھ چھوڑی اور پہلے رقاصہ، بعد ازاں بائی کی طرف دیکھ کر نیم وارفتگی سے بولا ”خوامخواہ، خوامخواہ۔“

نائیکا میری اور کپوت کی جانب متوقع نظروں سے دیکھنے لگی۔ میرے منہ سے نکل گیا ”خوامخواہ۔“

یہ سن کر گاما ہمارے پاس آیا۔ اس نے ایک رقم بول کر بتایا کہ ایک گانے کا اتنا معاوضہ ہے۔ کپوت نے ہمارے جمع کردہ پیسوں میں سے مطلوبہ رقم نکال کر گامے کو تھمائی تو رقاصہ نے منہ بنایا۔ ہم نے دو گانے اور سنے، معاوضے کے علاوہ چند نوٹ بھی اس پر نچھاور کیے اور باہر نکل آئے۔

یہ میری زندگی کا پہلا مجرا تھا۔
اس بھرے پرے، رنگ رنگیلے ماحول میں افضل پھجا داخل ہوتا ہے۔

افضل پھجا تعلیم کے ویزے پر اپنے مامے کے گروسری اسٹور پر ہاتھ بٹانے بیزنگ اسٹوک گیا ہوا تھا۔ بیزنگ اسٹوک لندن سے کچھ فاصلے پر ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔ افضل پھجا بتا کر گیا تھا کہ وہ برطانوی کی قومیت حاصل کرنے کی خاطر وہاں جا رہا ہے۔ نیز یہ کہ کاروبار کے لیے بنیادی تعلیم کی ضرورت ہوتی ہے جو اس نے حاصل کرلی ہے۔ اور یہ کہ کاروبار ملازمت سے بہ درجہا بہتر ہے، سو کاروبار میں وہی لوگ کام یاب ہوتے ہیں جو جلد اور چھوٹی عمر میں اس کا تجربہ حاصل کر لیتے ہیں۔ برطانیہ جانے کے بعد اس نے اس کالج سے داخلہ تبدیل کروا لیا تھا جس کی بنیاد پر اسے ویزا ملا تھا۔ اس نے برطانوی امیگریشن والوں اور انتظامیہ کو مطمئن کرنے کے لیے ایک کاغذی کالج میں داخلہ لے لیا تھا۔ یہ سب باتیں اس نے مجھے تب بتائیں جب وہ اپنی ایک برطانوی گوری دوست کے ساتھ واپس پاکستان کی سیاحت پر آیا ہوا تھا۔ بہ ظاہر تو اس کا مقصد گوری کو پاکستان دکھانا تھا۔ میں خوب جانتا تھا کہ وہ سیاحت پر نہیں بلکہ گوری کی نمائش پر آیا ہوا ہے۔ گوری اس سے عمر میں بڑی اور فربہ تھی۔ افضل خوب رو اور متناسب بدن تھا، اس کی گندمی رنگت میں خون کی سرخی جھلکتی تھی۔ گوری کا نام امیلڈا تھا اور وہ ایک سادہ سی قصباتی عورت تھی۔ امیلڈا کے بہ قول اس کے آباو¿ اجداد پولینڈ سے تعلق رکھتے تھے۔ امیلڈا کا تکیہ کلام ”بلائی می“ (Blimey) تھا جو وہ وقتاً فوقتاً، موقع بہ موقع بولتی رہتی تھی۔

افضل نے بتایا کہ یہ حیرت کے اظہار کا لفظ تھا جس کا قریب ترین اردو کلمہ ”اوہ خدایا“ ہو سکتا تھا۔

امیلڈا نے مقامی ثقافت میں خاصی دل چسپی ظاہر کی۔ میں نے باتوں باتوں میں افضل سے اپنے ہیرا منڈی کے تجربے کا ذکر کیا۔ اس نے امیلڈا کو بتایا تو اس نے پرشوق تجسس کا اظہار کیا اور وہاں جانے کی خواہش ظاہر کی۔

جب میں امیلڈا اور افضل کو لے کر ہیرا منڈی پہنچا تو رات کا آغاز تھا۔ ہم گلی کے نکڑ پر رک گئے۔ گلی کے نکڑ برابر پھولوں کی دکان پر تازہ پھولوں کے ہار، گجرے، گل دستے، گل دائرے دھرے تھے اور سرخ سفید گلاب کی پتیوں کے ڈھیر پڑے تھے۔ ان کی بھینی بھینی خوشبو ماحول کو مہک آور بنا رہی تھی، بغل میں حلوائی کی دکان تھی جس نے گل قند، برفی کو چاندی کے ورقوں سے سجا رکھا تھا اور شیشے کے شیلف کے پیچھے مختلف قسم کی شیرینی پر بادام، اخروٹ کی گری اور کاجو کا چھڑکاو¿ کر رکھا تھا۔ دکان کے سامنے نیلے رنگ کی پجارو کھڑی تھی جس میں سے نکل کر سفید کلف لگے کپڑے زیب تن کیے، سنہری راڈو گھڑی باندھے ایک موٹا شخص حلوائی سے بھاؤ تاؤ کر رہا تھا۔

نکڑ پر واقع پنواڑی کی دکان پر بڑے سے ٹیپ ریکارڈر سے گانے بلند ہو رہے تھے۔ ٹیپ ریکارڈر پر نیلے، سرخ نقطے جل بجھ کر بلندی پستی کا ناچ ناچ رہے تھے۔ کتھے والی سنہری گڑوی میں ڈنڈی رکھی تھی۔

امیلڈا کو دیکھ کر لڑکے بالے اور مرد ہمارے گرد اکٹھے ہونے لگے۔ وہ پرشوق نگاہوں سے اسے دیکھنے لگے۔ ایک کالے بھجنگ لڑکے نے اس کی ننگی کہنی کی سفید جلد پر ہاتھ پھیرا تو گھبراہٹ میں اس کے منہ سے ہلکی سی کراہ نکلی اور وہ سمٹ گئی۔ اس لڑکے سمیت کئی لونڈے لپاڑے دانت نکالنے لگے۔ وہاں زیادہ دیر ٹھیرنا مناسب نہ تھا سو میری معیت میں وہ جلدی جلدی چلنے لگی۔ افضل چند قدم پیچھے رہ گیا، اس نے زور سے گھنگھورا مار کر لڑکوں کے گروہ کو پیچھے ہٹنے کا اشارہ کیا۔

میرا گزشتہ تجربہ گامے تک محدود تھا سو اپنے مہمانوں کو اس چوکھٹ تک لے گیا۔ ابھی کوٹھے سج رہے تھے۔ گاما گزشتہ جگہ پر موجود نہ تھا۔ البتہ کمرا خوب روشن ہو رہا تھا، گاو¿تکیے لگ چکے تھے اور گنجا ہارمونیم والا بیٹھا تھا۔ مجھے مجرے کا آغاز کروانے کے آداب یا روایات کا علم نہ تھا سو اس سے گامے کا پوچھا۔ اس نے ہمارے پیچھے چلے آتے ایک لڑکے کو اونچی آواز میں گامے، مندریاں والے کو ساتھ لانے کا کہا۔ اس سے مجھے مزید معلوم ہوا کہ شاید اس بازار میں گاما نام کے ایک سے زیادہ لوگ تھے، سو مذکورہ گامے کو اس کی انگوٹھیوں کی وجہ سے گاما، مندریاں والا کہا جاتا تھا۔ لڑکا یوں چلا گیا جیسے وہ گامے کی آماج گاہ سے مانوس ہو۔

تھوڑی دیر میں گاما آیا تو میں نے تپاک سے اس سے ہاتھ ملایا۔
گلی کے نیم اندھیرے میں اس کی نیم سرخ آنکھیں اور دانت چمک رہے تھے۔ چہرے پر خوش گوار تبسم تھا۔
”گاما جی، میں آپ کے پاس ولایت سے مہمان لایا ہوں۔“ میں نے کہا۔
اس کی نظریں امیلڈا پر جمی ہوئی تھیں۔ اس نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے دریافت کیا۔
”جی آیا نوں، ودھیا گل اے ودھیا۔ آپ کو میرا کس نے بتایا، پہلی وار آئے ہیں؟“
وہ مجھے پہچانا نہ تھا۔ میں نے زیادہ تفصیل میں جانا مناسب نہ سمجھا۔
”پہلے بھی آپ کا مہمان بنا تھا، شوقین ہوں، عادی نہیں۔“
میں بولا تو اس نے مسکرا کر کہا۔

”کوئی پہلی، دوسری دفعہ میں عادی نہیں بنتا، شوقین ہی عادی بنتا ہے، گوڑھی میٹھی عادت ہے، بہت اچھا شوق ہے، کن رس اور فن کا قدردان ہونا نصیب کی باتیں ہیں۔“

ابھی تک اس کی نظریں امیلڈا پر تھیں۔ اسے جیسے کوئی خیال آیا اور وہ اسے اندر آنے کی دعوت دیتے ہوئے کورنش بجا لانے کے انداز میں جھکا تو اس کی بش شرٹ کمر سے اٹھ گئی اور پیٹھ ننگی ہو گئی۔

جب ہم تینوں اور گاما مجرا گاہ میں داخل ہوئے تو ہارمونیم والا گنجا اٹھ کھڑا ہوا۔ باہر راہ گیر، تماش بین اور اشیا فروش ٹھیر کر اندر جھانکنے لگے۔ بولنے کی آوازیں سن کر پائیں کمرے سے نائیکا نے اندر قدم دھرا، امیلڈا کو دیکھ کر ٹھٹھک گئی، باہر جمع ہوتے لوگوں اور ان کی پرشوق نگاہوں کو دیکھا اور گلی میں کھلتا پردہ کھینچ دیا۔ گلی کا شور تھم گیا۔ اس نے تذبذب سے ہمیں دیکھا۔ گاما بولا۔

”ہمارے کوٹھے پر پہلی دفعہ کوئی پردیسی پروہنے آئے ہیں۔“

ہارمونیم والے نے ایسی سرگوشی میں گامے سے بات کی جو مجھے صاف سنائی دے گئی، شاید افضل نے بھی سنی لیکن نظر انداز کردی۔

”شوہدی غریب لگدی اے، نہ سونے دے زیور، کڑے، نہ مندریاں تے گلا وی ننگا اے۔“ (بے چاری غریب لگتی ہے، نہ تو سونے کا زیور، کڑے پہنے ہیں، نہ انگوٹھیاں اور گلا بھی ننگا ہے)۔

امیلڈا نے گلے میں موتیوں کی مالا پہن رکھی تھی۔ غالباً ہارمونیم والا صرف سونے کے زیورات کو خاطر میں لاتا تھا۔ چند لمحوں میں مجرا شروع ہوا۔ گزشتہ مرتبہ کی طرح دبلی پتلی لڑکی نے تان لگائی، البتہ اس مرتبہ ڈیوٹ نہ تھا سو دوگانے میں گامے نے اس کا ساتھ نہ دیا اور چپکا بیٹھا رہا۔ بھاری سینے اور گدرائے بدن والی رقاصہ امیلڈا کے سامنے ناچتی آتی تو اس کا جذبہ بڑھ جاتا تھا۔ گزشتہ کی بہ نسبت وہ کم جھکتی تھی، اپنا آپ کم دکھاتی تھی۔

گاما اس ماحول کو ستائشی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ افضل رقص سے زیادہ امیلڈا کے تاثرات کو دیکھتا تھا اور امیلڈا رقاصہ، گائیکا، سازندوں اور گامے کو تجسس بھری نظروں سے دیکھتی تھی۔ وہ سب امیلڈا کو پرشوق نگاہوں سے دیکھتے تھے۔ میں نے حسب روایت رقاصہ کے سر پر نوٹ وارے تو امیلڈا کے چہرے پر نیم ناگواری ابھر آئی۔

جب پہلا گانا اور رقص ختم ہوئے تو امیلڈا نے تالیاں بجائیں۔ اب کے نائیکا امیلڈا کے ساتھ آ کر بیٹھ گئی۔ دوسرا دوگانا تھا جس میں گامے نے گائیکا کا ساتھ دیا۔

تیسرے گانے کے دوران ہارمونیم والے گنجے پر کھانسی کا دورہ پڑا تو گانا کچھ دیر کے لیے رک گیا۔ ہارمونیم والا کھانستا ہوا پائیں کمرے کی جانب چلا گیا اور گامے نے آگے بڑھ کر اس کا ہارمونیم سنبھال لیا۔ گانا دوبارہ شروع ہو گیا۔ گویا گاما ہر فن مولا تھا۔

تیسرا گانا ختم ہوا تو امیلڈا نے اپنے حصے کا معاوضہ ادا کرنے پر اصرار کیا جو میں نے اور افضل نے ٹال دیا۔ اس کی خواہش تھی کہ کوٹھے والوں سے بات چیت کی جائے۔ بائی اس کے ساتھ دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی اور دیگر سامنے بیٹھ گئے۔

بائی پنجابی میں لڑکیوں سے بولی ”دیکھو اس کی جلد پر کتنے کیل مہاسے اور داغ ہیں، ہماری لڑکیاں ان گوریوں سے کتنی زیادہ سوہنی ہوتی ہیں۔“

”تے اخلاق اینہاں دے چنگے ہوندے نیں“ (اور اخلاق انھوں کے اچھے ہوتے ہیں ) گامے نے بات اچکتے ہوئے کہا۔ بہرحال امیلڈا نے افضل کے ذریعے ان سے بات چیت کی۔ لڑکیاں، سازندے اور بائی بات بات پر مسکراتے، ہنستے تھے۔ امیلڈا نے افسوس کا اظہار کیا کہ لڑکیوں کو پیسوں کے لیے ناچنا پڑتا ہے۔ رقاصہ نے ہنستے ہنستے امیلڈا سے ہم دردی کا اظہار کیا کہ اسے امیلڈا اور اس جیسی گوریوں پر رحم آتا ہے جنھیں غیر مردوں کے ساتھ کلبوں میں نہ صرف ناچنا پڑتا ہے بلکہ ان کے ساتھ سونا بھی پڑتا ہے اور انھیں اس خدمت کا کوئی معاوضہ بھی نہیں ملتا۔

افضل لڑکی کی بات سن کر چپ ہو گیا۔ امیلڈا نے اصرار کیا کہ وہ اسے بتائے کہ رقاصہ نے کیا کہا ہے۔ وہ افضل کے بدلتے تاثرات دیکھ کر سمجھ گئی تھی کہ کوئی غیر معمولی بات ہوئی ہے۔ جب افضل نے جھجکتے ہوئے امیلڈا کو بات بتائی تو اس نے قہقہہ لگایا اور اتنا ہنسی کہ اس کی آنکھوں میں پانی بھر آیا۔ اسے ہنستا دیکھ کر سب ہنسنے لگے، سب سے اونچی آواز گامے کی تھی۔ سب خاموش ہو گئے تو بھی گاما آنکھیں بند کیے ہنستا رہا۔ ہنستے ہنستے اس نے آنکھیں کھولیں اور دیکھا کہ سب خاموشی سے اسے دیکھ رہے ہیں تووہ آنکھوں کے کونوں کو جیبی رومال سے خشک کرتے کرتے چپ ہو گیا۔

جب ہم کوٹھے کی چوکھٹ سے اترے تو گاما ہمارے ساتھ ہو لیا تاکہ لونڈے بالے ہمارے پیچھے نہ ہو لیں۔ ہمیں رخصت کرتے ہوئے وہ عجز سے جھک جھک گیا۔ امیلڈا نے اسے کچھ رقم دینے کی کوشش کی تو اس نے انکار کر دیا۔

اس کے بعد بھی میری گامے سے اتفاقاً ملاقات ہوئی۔ ایک مرتبہ میں ایک رشتہ دار عورت کو لے کر رنگ محل گیا۔ اسے اپنی بیٹی کے جہیز کے لیے کپڑے خریدنے تھے۔ خاصا وقت نکل گیا۔ رنگ محل بازار میں اسے جان پہچان کی ایک عورت مل گئی جو اسے اپنے گھر خاطر مدارات کے لیے زبردستی لے گئی۔ میں نے ان سے علیحدہ ہو کر چھوٹے رستے سے اپنے گھر کا رخ کر لیا۔ رستے میں گاما مل گیا۔ وہ دوپٹے رنگوانے آیا ہوا تھا۔ رنگ ساز کو دوپٹے دے کروہ چلا تو میں اس کے ساتھ ہو لیا۔ شام غیر محسوس طور پر جاڑے کے بادل بھرے دن کے سلیٹ پر سیاہی مل رہی تھی۔ میں نے رستے سے یخنی پی، اسے پلائی اور ابلے گرم انڈے لیے۔ انھیں چھیل کر خود کھاتا، اسے دیتا چلتا چلا گیا۔ بازار حسن کے چوک سے میں قلعے کی جانب چلنے لگا تو وہ ساتھ ہو لیا۔ وہ گنگنانے اور اپنی ٹانگ پر تھاپ دینے لگا۔ قلعے کے چھوٹے دروازے پر میں نے اس سے الوداعی ہاتھ ملایا اور قلعے اور شاہی مسجد کے بیچ کے رستے پر نکل گیا۔

گامے سے میری ایک ملاقات کئی ماہ بعد سردیوں ہی کی ایک دوپہر کھانے پر ہو گئی۔ سن رکھا تھا کہ کوٹھے والے خود بہت اچھے پکوان، کریلے گوشت، سری پائے، بھنا گوشت وغیرہ پکاتے ہیں۔ تاہم وہ چوک پر پائے کی دکان پر بیٹھا شوربا بھرے بھاپ اڑاتے پیالے میں نان ڈبو کر کھا رہا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی پہچان گیا۔

جمعے کو چھٹی ہوتی تھی، سو میں جمعے کی نماز پڑھنے بادشاہی مسجد گیا تھا۔ واپسی پر جی مچلا کہ دیسی بکرے کے گرما گرم لذیذ پائے کالا نمک چھڑک کر تنور سے نکلے تازہ خستہ نانوں کے ساتھ کھاؤں۔

مجھے دیکھ کر اس کی آنکھوں میں شناسائی کی رمق دوڑ گئی۔ خاصا وقت گزر جانے کے باوجود وہ مجھے پہچان گیا۔ حسب معمول اس نے بش شرٹ پتلون پہن رکھی تھی۔ میں بے تکلفی سے اس کے سامنے دھری کرسی پر بیٹھ گیا۔ اس نے چھوکرے کو آواز دی اور مجھ سے پوچھا۔

”بالیا ایتھے آ۔ باؤ جی کیہہ لوو گے؟“ (بالیا ادھر آ۔ باؤ جی کیا لیں گے ) ۔
وہ میزبانی کرنا چاہ رہا تھا۔ میں نے تردد کیا تووہ شفقت سے بولا۔
” ویرا میرے گھر آئے ہو۔“

تجربات نے مجھے زندگی میں بہت کچھ سکھایا، ان میں سے وہ تجربہ بھی تھا۔ اگر بندہ کسی کے زیر احسان آ جائے تو بعض اوقات احسان کرنے والا زیادہ کشادہ دل ہوجاتا ہے۔ زیر بار بوجھ تلے زیادہ بول نہیں پاتا جب کہ بالادست گفت گو میں زیادہ رواں ہوجاتا ہے۔ جیسے شاعر کسی کو کھانا کھلا دے تو اسے اپنی شاعری سنانا اپنا حق سمجھنے لگتا ہے۔ جھجک جاتی رہتی ہے۔

سردیوں کی اس خنک دوپہر گامے نے میرا بل ادا کیا۔ میرے اصرار پر اس نے کہا کہ کابلی قہوہ میں اسے پلا دوں۔ قریب میں ایک پہلوان کے چائے خانے کے باہر ہم بنچوں پر بیٹھ گئے۔ چائے خانے کے باہر سامنے کڑاہے میں دودھ ابل رہا تھا، اندر لمبوترے کمرے میں برتن چھنک رہے تھے، سبز کیتلیوں اور بغیر ہتھیوں کے چھوٹی گول پیالیوں کو ٹرے میں ایک ہاتھ سے توازن سے اٹھائے معاون لڑکے دوڑ بھاگ رہے تھے۔

گامے نے میرے بارے میں رسمی سوالات کیے اور میں نے قہوے کی سطح پر تیرتی لیموں کی باریک قاش اور الائچی کو دیکھتے ہوئے چند بے ضرر سی باتیں پوچھیں اور اس نے بے تکلفی سے ان کے جواب دیے۔

گامے کی آنکھوں کی سرخی قدرتی تھی، وہ باقاعدہ کوئی نشہ نہ کرتا تھا سوائے کبھی کبھار کسی کی چھوڑی بچی ہوئی ”ولایتی“ پینے کے۔ وہ ہر فن پر کچھ نہ کچھ دست رس رکھتا تھا۔ وہ گا لیتا تھا، طبلہ اور ہارمونیم بھی بجا لیتا تھا، بہ قول اس کے طبلہ سب سازوں کا باپ تھا، اسی سے تال میل کی سمجھ آتی تھی، بازار حسن میں پیدا ہوا تھا اور شاہی محلے ہی میں مرنے کی خواہش رکھتا تھا۔

”پتلون بش شرٹ اور فن کاروں کی یہ گلی، کچھ سمجھ نہیں آتا۔“
میں نے ناپتے تولتے، چنتے ہوئے الفاظ بولے تو وہ چہرے پر شفیق مسکراہٹ کھلاتے ہوئے گویا ہوا۔

”ویرا سدھی گل کرو۔ تم حیران ہو کہ یہ کنجروں کا محلہ اور انگریزوں کے کپڑے لتے۔ آپس میں رلتے ملتے نہیں۔“

اس نے مٹھی کی آخری انگلیوں میں اڑسے سگریٹ کے ٹوٹے کا زور لگا کر کش لیا، کھانسا اور کہنے لگا۔

”ویر میریا، جس کوٹھے پر تو آیا تھا، پہلے وہ میری اپنی بائی کے پاس ہوتا تھا۔ اس نے ایک ٹھیکے دار سے شادی کرلی تھی۔ میں چھوٹا سا تھا۔ بائی کی ماں نے اس کے ساتھ مجھے بھی ٹھیکے دار کے پاس ٹور دیا تھا۔ ٹھیکے دار جب کبھی افسروں کی کوٹھیوں پر موسمی پھل فروٹ کی پیٹیاں کریٹ لے کر جاتا تو ڈرائیور کے علاوہ مجھے ساتھ لے جاتا تھا۔ جیسے کسی نکے چھوٹے کو مدد کے لیے لے جاتے ہیں۔“

میں اس کی بات توجہ سے سن رہا تھا۔ سگریٹ کا ٹوٹا ختم ہو کر اس کی انگلیوں کو جلا رہا تھا۔ اس نے سسکی بھر کر ٹوٹے کو سڑک کنارے بہتی بدرو میں اچھالا۔ میں نے تبصرہ کیا۔

”ہیرا منڈی سے ٹھیکے دار کے گھر بار کا خاصا فرق ہو گا۔“

سردیوں کی اس دوپہر میں جرسیاں، کوٹ پہنے، چادریں لپیٹے کوچوان اپنے تانگوں میں جتے گھوڑوں کو ہنکارتے، چابک مارتے، ان کی ہمت بندھاتے، سواریوں کو لیے جاتے تھے اور ان کے گزرنے سے فضا میں دھول مہین سا گدلاپن پیدا کرتی تھی۔

”بہاول پور کا ٹھیکے دار تھا۔ اچھا آدمی تھا۔ آم اور کھجور کی طرح میٹھا۔ حق سچ بات تو یہ ہے کہ ادھر کے تنگ ماحول سے مجھے وہاں کا کھلا صاف ماحول اچھا لگا تھا۔ وہاں کا تازہ میٹھا پانی مجھے راس آ گیا تھا، میری صحت بھی اچھی ہو گئی تھی۔ اچھا تازہ کھانے پینے سے صحت تو اچھی ہوجاتی ہے، کالا رنگ صاف نہیں ہوتا۔ جو مرضی کر لو۔“

اس کا اشارہ اپنی پختہ رنگت کی جانب تھا۔ ایک مسکین سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر اجالا کر رہی تھی۔

”ٹھیکے دار رئیس آدمی تھا، صاب لوگوں میں اٹھتا بیٹھتا تھا۔ ڈرائیور کو وردی پہناتا تھا اور مجھے بھی حکم تھا کہ پینٹ قمیص پہنوں۔ اس سے اس کی عزت بنتی تھی۔ شروع میں عادت نہ تھی تو غصے میں آ جاتا تھا۔ میٹھے آدمی پر کبھی کبھار غصہ اچھا لگتا ہے، جیسے زردے تے سلونا، ویریا۔“

میں نے مزید کریدنا مناسب نہ سمجھا اور ادھر ادھر کی باتیں کر کے اٹھ آیا۔
چند ہفتے گزر گئے۔

میرے گھر چند رشتے دار ٹھیرے ہوئے تھے۔ وہ ایک شادی میں شرکت کے لیے لاہور آئے ہوئے تھے۔ ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی بھی ساتھ تھے۔ انھیں گھومنے پھرنے، لاہور دیکھنے کا بہت شوق تھا۔

”بھائی جان عجائب گھر، انار کلی، بادشاہی مسجد، چڑیا گھر اور یادگار پاکستان تو ہم نے پہلے ہی دیکھ لیا تھا۔ آپ فلم دکھا دیں۔“

ان کی بیٹی نے چٹخارے بھرتے ہوئے فرمائش کی۔

”ثریا یادگار تو مرے لوگوں کی ہوتی ہے، ان کی یاد دلانے کے لیے، اسے تو مینار پاکستان کہتے ہیں۔“ میں نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔

”تو ہم کون سے زندہ ہیں۔ ہم امتحان میں اردو کے پرچے میں فیل ہو گئے تھے۔ کیا پتا تھا یہاں پروفیسر بھائی جان ٹکر جائیں گے اور ہماری اردو ٹھیک کرتے رہیں گے۔ بس ہم پینڈوؤں کے لیے اتنی ہی اردو بہت ہے۔“

مجھے خدشہ تھا کہ سینما اور فلم کے ذکر پر اس کا باپ خفا نہ ہو، سو بات کا رخ موڑا۔
”پنجاب پبلک لائبریری لے چلتا ہوں۔ خاصی تاریخی عمارت ہے۔ لارنس گارڈن چلے جاتے ہیں۔ خوب سیر کریں گے۔“
ثریا اٹھلا کر شوخی سے بولی۔

”ہم تو سینما ہی دیکھیں گے۔ ابا جی سے اجازت لے لی ہے۔ وہ کہتے ہیں ماجد اور واجد کو ضرور ساتھ لے لیں۔ ہم نے کہا کہ بھائی جان کے ساتھ چلے جاتے ہیں۔ ابا جی کہنے لگے سگے بھائیوں کے علاوہ کوئی بھائی شائی، بھائی جان نہیں ہوتا۔“

جاتی سردیوں کی شام جب میں ماجد، واجد اور ثریا کو لے کر لکشمی چوک پہنچا تو وہاں خوب رونق تھی۔ لوگوں اور مہکتے پکوانوں کی رنگا رنگی تھی۔ ایک جانب طباق پر سٹیم روسٹ تیار کرنے والی مشین کی شیشے کی کھڑکی سے گرل پر مرغ روسٹ گھومتے نظر آتے تھے اور نمی سے شیشے دھند آلود ہوتے تھے۔ کوٹ، مفلر، موٹے سویٹر اتر چکے تھے۔ ہلکی جرسیوں اور چادروں نے ان کی جگہ لے لی تھی۔ ایبٹ روڈ پر مرغ چنے، کوفتہ چنے، انڈا چنے، قیمہ چانپ، ٹکاٹک، کڑاہیوں وغیرہ کے ہوٹلوں سے ذرا آگے کشمیری گلابی میٹھی نمکین چائے کی دکان پر ہنوز سردیوں کی سوغات چائے مل رہی تھی جہاں اسے چند گاہک شڑک رہے تھے۔ سڑک پار پنواڑی کے کھوکھے کے سامنے ایک شخص دھاگے سے لٹکتی ماچس کی بڑی سو تیلیوں والی ڈبی سے تیلی نکال رہا تھا۔

آگے چوراہا تھا جسے منٹگمری روڈ کاٹتی ہوئی ایک جانب میکلوڈ روڈ اور دوسری جانب کوپر روڈ سے جا ملتی تھی۔ اس علاقے سے میری خاصی یادیں وابستہ تھیں، سو اس کا چپا چپا یوں میرے حافظے پر نقش تھا جیسے دل پسند فلمی ہیروئن کے چہرے کے نقوش۔

ہم چوراہے کے برابر واقع گلستان سینما کے گیٹ سے احاطے میں داخل ہوئے تو وہاں فلم بینوں کی بھیڑ دیکھ کر ثریا نے جلدی سے گلے میں پڑے دوپٹے کو سر پر اوڑھ لیا اور فلم کے بورڈ کو اشتیاق سے دیکھنے لگی۔ سینما کی عمارت میں داخلے کا جنگلا بند تھا جس کے سامنے تماشائیوں کی بھیڑ منتظر تھی کہ وہ کھلے اور وہ ہلا بول دیں۔ ٹکٹ والی مردوں اور فیملی کی کھڑکیوں پر لڑکوں اور مردوں کی طویل قطاریں تھیں، انھیں سیدھا کرتے چھڑی بردار منتظم تماشائیوں پر نظریں رکھے ہوئے تھے۔

میں ماجد، واجد اور ثریا کو ایک جانب کھڑا کر کے قطار میں لگنے ہی کو تھا کہ کسی نے مجھے آواز دی۔ میں نے آواز کی جانب دیکھا تو سامنے گاما کھڑا تھا۔ اس کے قریب دو عورتیں نیم اندھیرے میں اپنے سروں کو اور چہروں کے نصف زیریں حصوں کو چادروں میں لپیٹے کھڑی تھیں۔ ماجد اور اس کے بہن بھائی ادھر سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے۔ میں گھبرا گیا کہ کہیں وہ ان کی اصلیت نہ جان لیں۔ پھر تسلی ہوئی کہ ان کا ہیرا منڈی سے کیا تعلق جو گامے کی اصل تک پہنچ جائیں۔

گاما مسکراتا ہوا بڑھا اور اپنائیت سے پوچھا۔
”ویرا کلے آئے ہو؟“

میں نے اپنے مہمانوں کی جانب اشارہ کیا۔ اس نے انھیں مسکرا کر دیکھا اور ثریا کی جانب آنکھ کا اشارہ کر کے آہستہ سے مجھ سے سوال کیا۔

”یہ لیڈیز آپ کے ساتھ ہیں؟“
میں نے اثبات میں سر ہلایا تو اس نے منہ دوسری طرف کر لیا اور دھیمے لہجے میں بتایا۔
”میرے ساتھ بھی فیملی ہے۔“
”گامے، اچھا تو یہ تیری فیملی ہے؟“
میں نے استفہامیہ لہجے میں کہا تو اس نے جواب دیا۔
”اپنی بچیاں ہیں جن سے تو ملتا رہتا ہے۔“
میں نے گڑبڑا کر کہا۔
”میں ملتا نہیں ہوں، صرف دیکھتا ہوں، ہولے بول۔“

”میں تیرے لیے ٹکٹیں لے آؤں، تو باؤ آدمی ہے، کہاں لوگوں میں کھجل ہو گا۔“ اس نے پیش کش کی۔ میں نے اسے پیسے پکڑا دیے تو وہ لائن میں لگنے کے بجائے ٹکٹ گھر کے دروازے پر کھڑے آدمی سے بات چیت کرنے لگا۔ وہ آدمی ٹکٹ والے کمرے کے بغلی دروازے سے اندر داخل ہو گیا۔ ماجد میرے قریب آیا اور گامے کے بارے میں پوچھا۔ میں نے بات ٹال دی۔ ٹکٹ گھر کے بغلی دروازے سے مذکورہ شخص برآمد ہوا اور گامے کے ہاتھ میں ٹکٹیں تھمائیں تو قطار بند تماشائی احتجاج کرنے اور گامے سے الجھنے لگے۔ اس نے ان کے سامنے دونوں ہاتھ جوڑے اور ہماری طرف بڑھا۔ اتنے میں اس کے ساتھ آئی عورتوں میں سے ایک نے اپنے چہرے پر سے چادر سرکائی اور مجھے مسکرا کر دیکھا۔ اس عورت کی شباہت کوٹھے کی رقاصہ سے ملتی تھی۔ وہ ہلکے میک اپ میں تھی اور کھلا لباس پہنا ہوا تھا۔ شاید وہی تھی۔ میں جھینپ گیا اور گھبراہٹ میں اس سے نظریں چرانے لگا۔ گامے نے اپنی آنکھ کے کونے سے اسے دیکھ لیا اور وہیں رک کر اس کے کان میں کچھ کہا۔ عورت نے جلدی سے اپنے چہرے کا زیریں حصہ ڈھانپ لیا۔ گامے نے ٹکٹیں مجھے تھمانے کے بعد دونوں ہاتھ جوڑے تو اس کی سونے کی انگوٹھی نمایاں ہو گئی۔ اس نے واجد کو بے جا وضاحت کی۔

”جھلی ہے، باو¿ کو ہمارا ایک رشتہ دار سمجھی تھی۔“

ٹکٹیں میرے ہاتھ میں دیکھ کر ثریا او ر ماجد میرے قریب آ گئے میں نے تشکر سے گامے کو دیکھا۔ وہ اپنی فیملی کے ساتھ سینما کی عمارت کا رخ کرچکا تھا۔

بعد ازاں مجھے اس کی ایک جھلک سینما ہال ہی کے فیملی سیکشن میں وقفے کے دوران نظر آئی۔ جاتی سردیوں میں سینما میں اے سی اور دیواری پنکھے بند تھے۔ بند ہال میں سگریٹ کے دھوئیں اور تماشائیوں کی سانسوں اور بدنوں سے گھٹن ہو رہی تھی۔ وقفے میں دروازے کھول دیے گئے تو تازہ ہوا سے خوش گوار احساس ہوا۔ گاما ٹھنڈی بوتلوں کے کریٹ والے سے دوچار آرسی کولا لے رہا تھا۔ ہم پیچھے بیٹھے تھے۔ اس نے ایک مرتبہ بھی گردن موڑ کر پیچھے کی جانب نہ دیکھا۔ جب شو ٹوٹا تو وہ اور اس کے ساتھ آنے والی عورتیں نظر نہ آئیں۔

آئندہ میرا چند مرتبہ ہیرا منڈی جانا ہوا۔ ایک مرتبہ اداس تھا تو راوی روڈ پر واقع اپنے گھر سے پیدل بازار حسن کی رونقیں دیکھنے چلا گیا۔ نو گزے پیر کے مرقد، چھوٹے سے میدان جس میں طوائفوں کے لڑکے بال ورزش، کسرت کرتے تھے، سے ہوتا ہوا گامے کے بالا خانے کا رخ کیا۔ گامے کے چوبارے پر پردے کھنچے ہوئے تھے۔ ادھرادھر تاک جھانک کر چلا آیا۔

دو چار بار دوسرے کوٹھوں پر گانا سننے گیا۔ اب مجھے گامے کے سہارے کی ضرورت نہ تھی۔ البتہ مجھے اس میں اپنائیت محسوس ہوتی تھی۔ اب جو میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ اس سے پہلی ملاقات ہی میں ایک شناسائی، اک آشنائی کا احساس پیدا ہوا تھا جیسے اسے میں پرانا جانتا ہوں۔ اس احساس میں اس کے انسیت بھرے اطوار، لجاجت سے لب ریز لہجے اور پرخلوص انداز کا خاصا حصہ تھا۔ معلوم نہیں اسے مجھ سے کیا لگاو¿ تھا کہ کبھی میں اسے سرراہے مل جاتا تو وہ مجھے ان کلمات سے مخاطب کرتا ”میرا بھولا باو¿، میرا ڈھولا ویر۔“ اسے اس بات سے غرض نہ تھی کہ میں اس کے کوٹھے پرجاتا ہوں یا تاجی اور شاہانہ کے۔ ان ہی ملاقاتوں میں سے ایک ملاقات میں اس نے ہماری سینما میں ہونے والی ملاقات کا حوالہ دے کر بتایا کہ اسے فلموں میں کام کرنے کا بہت شوق تھا۔ اس نے رائل پارک کے کئی چکر لگائے اور چند فلم سازوں، فن کاروں، ڈسٹری بیوٹروں کو کوٹھوں سے مفت خدمات بھی فراہم کروائیں۔ جب میں نے خدمات کی تفصیل پوچھی تو وہ عاجزی سے جھک جھک گیا اور بولا۔

”میں کنجر آں، دلا نہیں۔“

بہرحال اس نے بتایا کہ اس کے لیے کسی بھی مرد سے زیادہ مہربان شاہی محلے سے فلموں میں جانے والی لڑکیاں تھیں۔ پیر جما لینے کے بعد وہ ہیرا منڈی کے اپنے بھائی بندوں کو فلموں میں چھوٹے موٹے رول دلوانے میں کام یاب ہوجاتی تھیں۔ اسے بھی چند فلموں میں ایکسٹرا رول ملے تھے، نوکر کا رول، فائٹ میں ہیرو کے ساتھی کا کردار، بازار سے گزرتے راہ گیر کا کردار، کامیڈین کے ہم راہی کا رول، مالشیے کا کردار اور سیٹھ کے لان میں باڑھ تراشتے مالی کا رول۔

”میں نے کبھی ولن کے دوست، ساتھی کا رول نہیں لیا، آفر ہوئی تو بھی نہیں لیا۔ بس دل ہی ولنی کرنے کو نہیں مانا، وہ بھی بے چاری، نمانی کڑیوں سے زیادتی ظلم کرنے والے کا۔“ اس نے آنکھیں جھکاتے ہوئے کہا۔

گرمیوں کی ایک شام گامے والا کوٹھا بند پڑا تھا۔ میں نے اپنے ساتھ چلتے، دعوت دیتے دلال سے اس کے بند ہونے کی وجہ پوچھی۔

”بائی، کڑیاں اور سارا گروپ نارووال ویاہ پر گیا ہے۔“ اس نے وضاحت کی اور بات جاری رکھی۔

”سرکار نے اب تک صرف رخشا ہی دیکھا ہے، پروگرام کرنا ہے تو پجارو دکھائیں گے اور اس میں بٹھا بھی دیں گے۔ کرایہ رخشے کا، مزے پجارو گے۔“

میں نے اسے نظر انداز کیا اور آگے چل پڑا تو وہ بولا۔
”سرکار آپ جوان ہیں، آپ کے پاس کلاشنکوف ہے، ہماری لڑکیاں تو چڑی بندوق کو کلاشنکوف کر دیتی ہیں۔“

میں نے اسے غور سے دیکھا۔ وہ ایک دیہاڑی دار مزدور دکھتا تھا جو رٹے رٹائے جملے بول رہا تھا۔ اس کا چہرہ بے تاثر تھا۔ میں آگے بڑھ گیا۔

گھوم کر دوسرے رستے سے واپس آیا تو ٹبی گلی کے نکڑ پر اندھیرے میں چند پولیس والے کھڑے تھے جو غالباً چکلے سے نکلنے والے دو گھبرائے ہوئے لڑکوں کو گھیرے، ان سے معاملات طے کر رہے تھے۔ شنید تھا کہ وہاں تھانا بکتا تھا اور شہر میں سب سے زیادہ بولی اسی کی لگتی تھی۔ میں دوبارہ آنے کے ارادے سے واپس ہو لیا۔

ایک روز کے وقفے سے میں ہیرا منڈی گیا تو وہاں کا ماحول بدلا ہوا تھا۔ بازار بند تھا۔ اکا دکا قمقمے ٹمٹما رہے تھے۔ معلوم ہوا کہ نارووال سے واپسی پر ایک مجرا پارٹی کو پولیس نے روک لیا تھا۔ آدمیوں کو حوالات میں بند کر دیا تھا اور لڑکیوں پر زور زبردستی کی تھی۔

”ڈکے بندوں میں ایک آپ کا دوست گاما، مندریاں والا بھی تھا۔ اس کی تشریف پر بہت چھتر مارے تھے پولس نے، نیلی کردی تھی۔ ککڑی جیسے پٹھا لٹکایا تھا۔“ گامے کے واقف کار ایک لڑکے نے بتایا۔

میں نے اسے کہا کہ وہ مجھے گامے کے پاس لے جائے۔ وہ اکیلا وہاں سے چلا گیا اور اندھیرے میں گم ہو گیا۔ تھوڑی دیر میں واپس آیا اور مجھے اپنے پیچھے چلنے کا اشارہ کیا۔ میں گامے والی مجرا گاہ تک گیا۔ اس کے برابر دروازہ کھلا تھا۔ اس دروازے سے ننگی اینٹ کی سیڑھیاں اوپر کو جاتی تھیں۔ ان سیڑھیوں کی بغل سے ایک راستہ راہ داری کا تھا جو کسی کمرے کو جاتی تھی۔ لڑکا سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ وہاں نیم اندھیرا تھا سو سنبھل سنبھل کر پیر دھرنے پڑتے تھے۔

سیڑھیوں کی پہلی پرواز کے بعد منزل تھی جہاں ایک کوٹھڑی کا ادھ کھلا دروازہ نیم اندھیرے میں روشنی کی دھار ایک زاویے سے منزل پر ڈال رہا تھا۔ منزل پر جمے ہوئے پیشاب کی متلی آور بو تھی اور حشرات الارض کے رینگنے کا شائبہ ہوتا تھا۔ میں لڑکے کے پیچھے پیچھے سیڑھیوں کے ساتھ چلتے سہارے کے لیے سیمنٹ کے بنے کو پکڑے اوپر کی ایک اور منزل پر جا نکلا۔ ادھر نسبتاً کشادگی کا احساس ہوتا تھا۔ چھت کی موری سے تازہ ہوا اور چاندنی کی چھٹک آ رہی تھی۔ اس منزل پر ایک جانب بڑا سا پلنگ رکھا تھا، زمین پر دری بچھی تھی جس پر آڑھی ترچھی تلائیاں دھری تھیں۔ دو تین عورتیں آہستہ آہستہ باتیں کر رہی تھیں۔ ہم چکر دار سیڑھی سے چھت کی موری کے رستے چھت پر آئے تو منظر ایک دم کھل گیا۔ چاروں طرف چھتیں ہی چھتیں تھیں، اونچی نیچی چھتیں، پڑچھتیں، کبوتروں کی کابکیں اور چھتریاں۔ چھت کے چاروں اطراف کمر تک آتی حفاظتی دیوار تھی۔ اس دیوار میں اینٹوں بیچ سوراخ تھے، یوں وہ رخنوں والی دیوار تھی جس سے ہوا کی آمدورفت جاری تھی۔ چھت پر ایک کونے میں بان کی چارپائی پر دو مرد بیٹھے تھے اور ایک دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔ کھڑا آدمی میری جانب بڑھا۔ وہ گاما تھا۔ اس نے پتلون بش شرٹ پہن رکھی تھی اور ہاتھ میں اسٹیل کا گلاس تھام رکھا تھا۔ وہ مجھے پہچان کر بولا تو اس کی زبان میں ہلکی لکنت تھی۔

مجھے سامنے دیکھ اس نے لمبی سانس بھری، اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کیا اور میرے ساتھ آنے والے لڑکے کو اپنے ابرو کی جنبش سے، چلے جانے کا اشارہ کیا۔ ہوا کی ایک موج اٹھی اور چھت پر سے سرسراتی گزرنے لگی۔ ایک خوش گوار احساس جاگا، اس مکان کی چھت دیگر مکانوں کی چھتوں سے کچھ اونچی تھی سو حفاظتی دیوار سے لگ کر نیچے صحنوں، چھتوں، برآمدوں، دالانوں میں ٹمٹماتی بتیاں نظر آتی تھیں۔ ایک مسجد کا گنبد سبز روشنی میں نہایا ہوا تھا اور اس کے میناروں پر نیلی پیلی سبز جلتی لمبوتری مرچوں والی بتیوں کی لڑیاں سجی ہوئی تھیں۔ اس مسجد سے کوئی اعلان ہو رہا تھا جو سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ ہوا میں تازگی تھی اور نظر دور تک جاتی تھی۔ ایسے میں جی بے وجہ خوش ہوجاتا تھا، مگر گاما خوش نہیں تھا۔

اس نے ایک چھوٹے سے حمام سے لگی نلکی سے اسٹیل کا ایک گلاس بھرا اور مجھے پکڑا دیا۔ ایک لڑکے نے حمام کا ٹوپ اتارا اور اس میں برف کے ٹکڑے ڈال دیے جو تیرتے نظر آنے لگے۔ اس نے ٹوپ بند کر دیا اور چلا گیا۔

بان کی چارپائی پر بیٹھا شخص لمبا لیٹ گیا اور آسمان پر دمکتے تارے دیکھنے لگا۔

گامے نے دھاتی کھوکھلے پائپوں کے ڈھانچے پر منڈھی پلاسٹک کی پیلی پٹیوں والی کرسی کھنچی اور پرے کونے میں گھسیٹ کر لے جانے لگا۔ اس نے ایک ہاتھ میں گلاس تھام رکھا تھا۔ میں نے بھی ایک کرسی ایک ہاتھ سے اٹھائی اور اس کے پیچھے چل دیا۔ ہم دونوں پر کسی نے توجہ نہ دی۔

گامے نے بے ربط جملوں میں کہا۔

”باؤ کم بہت خراب ہو گیا سی۔ بچیاں سانجھی ہوتی ہیں۔ ہماری بچیاں فن کار ہیں، کرسی والی نہیں، کرسی والی کو بھی بغیر اجازت چھیڑنا بگڑم کام ہے۔ ساڈی بچی پر دو دو مرد سوار ہو گئے۔ اتنے رنگ آسمان نہیں دیکھتا جتنے میری بیٹھک نے دیکھ لیے۔ اتنے لتر مارے کہ سرخ ہوئی، فیر نیلونیل نیلی ہوئی، اخیر وچ کالی ہو گئی۔ میرے نصیب ونگر کالی۔“

چند ثانیے توقف کر کے بات مکمل کی۔
”میرے منہ ونگر کالی میری زبان ونگر کالی۔ پہلے وی میری نشست کالی تھی، اب زیادہ کالی ہو گئی۔“
اپنا دکھ بیان کرتے ہوئے بھی اس نے انگلیوں سے کرسی کے اطراف پر ہلکی ہلکی ڈھولک سی بجانی جاری رکھی۔
”گامے ہویا کیہ؟“ (گامے ہوا کیا؟ ) میں نے ہم دردی سے پوچھا۔

اس نے سر اٹھا کر میری آنکھوں میں دیکھا۔ وہ کم ہی آنکھوں میں دیکھا کرتا تھا، زیادہ تر نظریں جھکا کر رکھتا تھا۔ اس کی آنکھیں نشے کی وجہ سے، دکھ کی وجہ سے یا حالات کی وجہ سے معمول سے زیادہ سرخ ہو رہی تھیں۔

اس نے الجھے ہوئے لہجے بتایا کہ یکے بعد دیگرے دو واقعات ہو گئے تھے جن کی وجہ سے ہیرا منڈی بند تھی۔

پہلا واقعہ یہ ہوا تھا کہ گاما طوائفوں اور کنجروں کے ساتھ نارووال میں ایک شادی میں شرکت کے لیے گیا تھا۔ شادی گیہوں، مونجی کے آڑھتی کے بیٹے کی تھی۔ مجرے سے پہلے مردانے حصے میں شراب کھول دی گئی۔ جب مردانے حصے میں مجرا شروع ہوا تو زنانے کے شامیانے کا بھی ایک حصہ کھول دیا گیا۔ وہاں بیٹھی عورتیں پرشوق نظروں سے گوٹے والی چادریں، دوپٹے سر پر اوڑھے، منہ میں دابے مجرا دیکھنے لگیں۔ مردانے میں بڑے بوڑھے اپنی مونچھوں کو تاؤ دینے اور دیسی شراب، ٹھہرے وغیرہ سے کھٹی ڈکاریں مارنے لگے۔ دیگیں آگ پر رکھ دی گئیں اور قورمے میں ہاتھ سے پسے مصالحہ جات کی اشتہا آمیز مہک ہوا پر تیرتی ادھر کو آنے لگی۔

اس نے پرسوز لہجے میں ہوک بھری۔

”مرد کرسیوں، منجیوں پر بیٹھے تھے اور منڈے کھنڈے دریاں تے۔ ہماری بچیوں نے ماحول گرما دیا۔ بجلی تو ایسا ناچ ناچتی ہے کہ نظر نہیں ٹھیرتی۔ ادھر اکھ بجلی دے گورے مکھڑے تے ہوندی تے ادھر وہ سپ سپیرے بالوں کو گرا کر اٹھاتی اور گھماتی کہ رہوے مولا دا ناں۔ زمین اس کے پیروں کے نیچے یوں بن جاتی جیسے توا، پیر ٹکتے ہی نہیں تھے۔ نازلی بھی چنگا ناچی۔ ڈھول بجا بجا کر میرے تو ہتھوں بازوؤں میں درد ہونے لگا۔“

گاما شادی کا منظر بیان کرنے میں کھویا ہوا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ وہ کرسی کی ہتھی پر طبلے کی طرح انگلیاں بجا رہا تھا اور بتا رہا تھا کہ عشا کے فوری بعد کھانا کھل گیا تھا جو وہاں کے قصبائی ماحول کے حوالے سے بھی دیر سے تھا۔

”لڑکے بالوں کے سوا سب نے رج کے کھانا کھایا، ہم کنجروں کی بھی خوب خاطر کی گئی۔ کڑیوں نے کھانا نہیں کھایا کہ بھرے پیٹ سے ناچا نہیں جاتا۔ کھانے کے بعد بزرگ اور بڑے اپنی اپنی راہ کو ٹر گئے، محلے، علاقے والے گھروں کو چلے گئے، دوسرے پنڈوں والوں نے وہیں حویلی میں بستر ڈال لیے۔ زنانیوں کا بھی پردہ کر دیا گیا، ان کے تنبو بند ہو گئے۔ بس جوان رہ گئے، لاڑا (دولہا) ٹھیر گیا۔ شربالا (شہ بالا) بچہ تھا، اسے بھی ٹور دیا۔“

اتنی داستان بیان کرنے کے بعد اس کی بجتی انگلیوں میں تیزی آ گئی اور آواز میں درد بڑھ گیا۔ قصہ مختصر، رات کو خوب محفل جمی۔ طوائفوں کے ساتھ نوجوان بھی ناچنے لگے، ان پر نوٹ نچھاور کرنے لگے۔ دولہے کے گالوں پر نوٹ رکھے جاتے، لڑکی ناچتی آتی، دولھے کی گود میں تھرکتی ہوئی بیٹھتی اور نوٹ اچک کر ناچتی چلی جاتی۔ دولھے کے سر پر نوٹ وارے جاتے اور رقص کے مرکز میں اچھال دیے جاتے۔ لونڈے لپاڑے قناتوں کے پیچھے شراب پینے کو جاتے۔ جب بانہوں میں بانہیں ڈالے لوٹتے تو جھوم رہے ہوتے، مستانے نعرے بلند کر رہے ہوتے اور لڑکیوں کو کبھی سینے سے لگا لیتے تو کبھی گود میں بٹھا لیتے۔ لڑکیاں گیلی مچھلیوں کی طرح ان کے ہاتھوں، بازوؤں اور گود سے پھسل کر نکل جاتیں۔ آخر میں دھمال ہوئی۔ اس دوران دولھے کے ایک دوست نے بجلی کی کلائی تھام لی اور تقاضا کیا کہ وہ دولھے کے ساتھ اندر چلے۔

”ساڈا یار کورا اے، اوہدا ولیمہ اج رات ای کرنا اے۔“ (ہمارا دوست ناتجربہ کار ہے، اس کا ولیمہ آج رات ہی کو کرنا ہے ) ۔

گامے نے نقل اتاری۔
بجلی نے ابتدائی طور پر مزاحمت کی تو کئی لڑکے اس پر یہ کہتے ہوئے پل پڑے اور گھسیٹنے لگے۔
”توں آئی وڈی حاجن، نیک پری۔“ (تم آئی بڑی نیک پاک) ۔

دھما چوکڑی مچ گئی، شوروغل اور چیخ پکار۔ وہ نازلی کو بھی کھینچنے لگے۔ ”لڑکیوں کے کپڑے چر گئے۔ ان کا سارا زور اس بات پر تھا کہ سب نے چاٹی میں اپنی اپنی مدھانی چلانی ہے۔“

جب گاما یہ سب روداد سنا رہا تھا تو مجھے بہت دکھ ہوا۔

”ہماری بچیاں ناچی ہیں، کرسی والی نہیں۔ ان گم راہوں نے زورا زوری کی اور ہم نے بھی گھسیٹا گھسیٹی کی تو سب گھسنڈ مکی ہو گئے۔ بجلی کو منڈوں کندھوں پر اٹھا لیا تو ہم نے بائی کے کہنے پر ہاتھ اٹھا دیے اور ان سے کہا کہ ہم چلے جاتے ہیں۔ بجلی کو عزت سے لے کر جائیں، صبح چھوڑ جائیں، نازلی کو ہمارے حوالے کر دیں۔ ہم اپنے ساتھ لے کر جائیں گے۔ ان میں بحثا بحثی ہو گئی۔ بجلی نے سب کے سامنے دولھے کے ہونٹ چومے اور کہا کہ اسے دولھا سوہنا لگا ہے، وہ اس کے ساتھ ٹیم لگائے گی۔ ہم نے اپنا سامان سوزوکی ڈبے اور ڈالے میں رکھا اور روڈ پر آ گئے۔“

میں بہت توجہ سے گامے کی روداد سن رہا تھا۔ اس نے بتایا کہ دیہات، قصبات، دور دراز کے شہروں میں وہ حفظ ماتقدم میزبانوں کی سواری پر نہیں جاتے تھے بلکہ اپنا انتظام کرتے تھے۔ مجرے کی پیشگی ادائی کے علاوہ پانی پیٹرول کا اضافی معاوضہ لے لیتے تھے۔

جب یہ ان کی نظروں سے اوجھل ہو گئے اور دور موڑ مڑ گئے تو بائی، نازلی، گاما اور سازندے وغیرہ ڈالے میں بیٹھ گئے۔

”سوزوکی ڈبے کا ڈرائیور اس کی بتیاں بند کر کے اسے کبھی بغیر انجن چلائے ریڑھتا، کہیں ہلکا سا انجن چلا کر اور کبھی نیوٹرل گیئر پر اپنے زور پر چلاتا حویلی کے پیچھے چلا گیا۔ اس نے وہاں جا کر انھے انھیرے ویلے مرغے کی بانگ دی۔ پیچھے غسل خانے میں بجلی اپنے آپ کو دھونے آئی تھی۔ بجلی نے غسل خانے کا نل فل چلایا۔ شاید دکھائی آشنائی کی رات کے لیے طہارت خانے کی ٹینکی میں پانی لبالب بھرا تھا۔ نل شور سے چلنے لگا۔ اسی شور کے زور پر بجلی نے اس کے برابر کی چھوٹی دیوار پھاندی اور سوزوکی کیری ڈبے میں بیٹھ کر بھاگ آئی۔ بعد میں اس نے بتایا کہ دولھا اوپر ہی فارغ ہو گیا تھا۔“

”واپس آتے سویر ہو گئی ہوگی۔“ میں نے تبصرہ کیا تو گامے کو کچھ یاد آ گیا۔

”ویرا، سویر کینج دی۔ اگلی شام کو واپسی ہوئی۔ ان حلال کے تخموں سے پولس ملی ہوئی تھی۔ انھوں نے تھانے اطلاع کردی۔ آگے تھانے نے ناکا لگایا ہوا تھا۔ ہم سب کو ڈک لیا۔“

یہاں تک بات کر کے گامے نے کرسی کی ہتھیوں پر انگلیوں سے بجاتے خیالی طبلے کو آخری چوٹ لگائی، جب وہ بولا تو اس کی آواز میں لرزش تھی۔

”سو مفتے مرن تو ان پولس والوں کا کلا جی پیدا ہوتا ہے۔ انھوں نے ویاہ والوں کو کہہ دیا کہ ہم نس گئے ہیں، ان کے قابو میں نہیں آئے۔ وہ ہمیں ڈنڈا ڈولی کرتے اندر لے گئے۔ ہک بک ویرانہ تھا۔ ہم کدھر جاتے۔ سوروں، گیڈروں، لومڑوں کے شور میں ہماری آواز گلے سے منہ تک نہ آتی تھی۔ رات بھر واری واری بجلی اور نازلی کی ڈھولکی بجاتے رہے، بائی کو بھی اندر لے گئے۔ سودے بجو کو بھی سدھا پدھرا کیا۔“

اب تک وہ میرے سامنے اسٹیل کے دو گلاس حمام کی ٹونٹی سے لبالب بھر کر چسکی چسکی کر کے ختم کرچکا تھا۔ دیوار کے بنے پر پلاسٹک کی چنگیر رکھی تھی جس پر اخبار میں نمک اور چنے تھے۔ وہ دوچار چنے پھانک لیتا تھا اور نمک انگلی پر لگا کر چاٹ لیتا تھا۔

میرے سامنے شہر کا منظر زیادہ کھل گیا تھا، روشن ہو گیا تھا۔ پہلے جو عمارتیں اور جگ مگ کرتی روشنیاں دور نظر آتی تھیں اب نزدیک آ گئی تھیں۔ گو گامے کی روداد حزیں آمیز تھی مگر بہتی ہوا اور گنجان شہر کی چہل پہل اور رونق میلا طبیعت میں زندگی آمیز فرحت پیدا کرتے تھے۔

تیسرا گلاس اس نے حمام کے سامنے ایک ہی ڈیک میں ختم کر لیا، غیر متوازن چال چلتا ہوا مجھ تک چلا آیا اور دھم سے کرسی پر گر گیا۔

”باؤ، جب ہماری واپسی ہوئے۔ ٹٹے بھجے آئے تو خبرے کیا ہوا؟“
کھڑے کھڑے تھک کر میں اس کے سامنے کرسی پر بیٹھ گیا تھا۔

”ادھر ہمارے محلے کی ایک بچی اپنے دوپٹے سے پنکھے سے جھول گئی تھی۔ کیا سوہنی کڑی تھی، نیلی اکھیاں تھیں اس کی، نام بھی نیلم تھا۔ کبوتری کی طرح معصوم۔ کارخانے والے کے پتر سے عشق ہوا تھا۔ اس نے آس دلائی تھی کہ ویاہ کرے گا۔ اس کے ساتھ بھاگ گئی تھی۔ اساں اپنی بچیوں کو بڑا سمجھاتے ہیں کہ شریفوں کے حیلے بہانے میں نہ آئیں۔ یہ قلفی چوس کر ڈنڈی پھینک دیتے ہیں۔ اگر ساتھ رکھ بھی لیں تو ساری حیاتی گشتی، رنڈی کے طعنے مہنے دیتے رہتے ہیں۔ جیسے میری بائی کو بہاول پور والا ٹھیکے دار دیتا تھا۔“

یہ بات کر کے اس نے اپنی زبان دانتوں میں یوں داب لی جیسے کوئی غلط بات منہ سے نکل گئی ہو۔ خاصی دیر سی سی کرتا رہا۔ میں نے اس کے کندھے پر نرم ہاتھ رکھ دیا۔

”نیلم کو استعمال کر کے اس نے اپنے یاروں کے حوالے کر دیا۔ نکاح بھی نہ کیا۔ وہ نمانی واپس آ گئی۔ کئی دیہاڑوں سے چپ چپ تھی۔ پھر لمک گئی پھانسی پر۔“

اس کی ذات کی بند مٹھی کھلتی چلی جا رہی تھی۔

”گامے اگر تو بائی کی بات مجھ سے بانٹ لے تو تیرا بوجھ ہلکا ہو جائے گا۔“ میں نے اسے تسلی دی تو اس نے یک بہ یک بات کی گانٹھ کھولی، اگر اس کے ٹوٹے پھوٹے بے ترتیب جملوں کو ترتیب دیا جائے تو بات یوں بنتی تھی۔

”اپنی اصلی پرانی بائی کی میں عزت کرتا تھا اور اس سے پریم بھی گوڑھا کرتا تھا۔ جب اس نے ٹھیکے دار سے پریم کی شادی کی تو میرا خیال تھا کہ ہمارے وارے نیارے ہو گئے۔ ٹھیکے دار نے بائی کے نام رقیہ بھی لکھ دیا تھا۔ بس وہ چاہتا تھا کہ بائی کو بچہ نہ ہو۔ اپنی اصلی تے وڈی بیوی سے اس کے لڑکے تھے۔ بائی تماش بینی کے ماحول سے تنگ تھی اور ایک باڑے میں زندگی گزارنا چاہتی تھی۔ وہ اپنا گھر، اپنے بچے چاہتی تھی۔ ایک دن پتا چلا کہ وہ پیٹ سے ہو گئی ہے۔ ٹھیکے دار اسے دائی کے پاس لے گیا تاکہ اس کا پیٹ ہلکا کردے۔ دائی نے سلائیاں، سوئیاں مار کر میری بائی کو اندر سے زخمی کر دیا۔ اسے تیز تاپ ہو گیا۔ وہ یوں اڑ گئی جیسے صدقے کے پرندے آزاد ہونے پر اڑ جاتے ہیں۔ صدقے کے پکھیرو تو بعد میں مالک کے پاس واپس آ جاتے ہیں، بائی واپس نہ آئی۔ بس میں اپنے لوگوں میں واپس آ گیا۔ مجھے تو گانے بجانے کے سوا کوئی اور پیشہ آتا بھی نہیں۔“

پوری بات بتا کر اس نے اپنے گھٹنوں میں سر دے دیا اور دونوں ہاتھ میرے آگے جوڑ دیے۔ اس کے ہاتھ کی مندریاں غائب تھیں۔ اس نے اتار دی تھیں یا اتروا لی گئی تھیں، معلوم نہیں۔

دن گزرتے رہے۔ کبھی من ہوتا اور میں ہیرا منڈی کے قریب سے گزر کر دروازوں کے بیچ پرانے شہر کا اندرون محلوں کا رخ کرتا تو تھوڑی دیر کے لیے اس کے چوبارے تک آتا۔ جب کبھی پردہ گرا اور چک کھنچی ہوتی اور اندر سے ہارمونیم، طبلے، ڈھولکی کی آواز آتی تو میں سمجھ جاتا کہ گاما اندر مصروف ہے۔ کبھی اندر سے اس کے الاپ کی آواز بھی آجاتی۔ ایک آدھ مرتبہ اسے میں نے لڑکیوں اور تماش بینوں کے ساتھ سرمستی میں ناچتے بھی دیکھا۔ اسے رقص نہ آتا تھا، دوسروں کو خوش کرنے کے لیے دو چار قدم مار لیتا تھا، گھمن گھیری کھا لیتا تھا اور تالی بجا لیتا تھا۔ اس کی پرانی لڑکیوں کی جگہ نئی لڑکیاں لے لیتی تھیں۔ نئے خون کی فراہمی جاری رہتی تھی۔ ناچنے والیوں میں زیادہ تر خاندانی ہوتی تھیں۔ پیشہ کرنے والیاں زیادہ تر گھر سے بھاگی، مجبور، اغوا شدہ، بے سہارا یا طلاق یافتہ، معاشرے کے پیندے سے تعلق رکھنے والیاں ہوتی تھیں۔ ہم نے دوبارہ اس رات کا ذکر نہیں کیا۔

میرا خاندان راوی روڈ سے نئی آبادی میں منتقل ہو گیا۔ ادھر جانا کم ہوتے ہوتے قریباً ختم ہی ہو کر رہ گیا۔ کبھی میں بھولا بھٹکا ادھر جا نکلا تو دیکھا کہ آہستہ آہستہ مجرا گاہیں، کوٹھے، بالا خانے بند ہوتے جا رہے تھے۔ وہاں کے مکین نئی آبادیوں کی جانب ہجرت کر رہے تھے۔ اخباروں میں صحافی لکھتے تھے کہ اس کی وجہ مونچھوں والی حکومت کی سختی تھی۔ میں جو ادھر کا نقیب تھا، خوب سمجھتا تھا کہ اس کی وجہ معاشی تھی کہ جب وسیع پیمانے پر نقل مکانی ہوئی تو آزاد جمہوری دور تھا۔ کوٹھے والے پچاس سو روپے اکٹھے کرنے کے بجائے محفلوں، ذاتی مجروں سے کہیں زیادہ کما لیتے تھے۔ چند روپوں کی ویلیں اور فی گانے کا معاوضہ ان کے لیے بھیک کی طرح تھا۔ بچے کچھے کوٹھوں پر ٹیپ ریکارڈر، ڈیک رکھ دیے گئے تھے۔ بالاخانے والوں میں دبئی اور عرب ممالک جانے کا رجحان زور پکڑ رہا تھا۔ ادھر روپیا ملتا تھا، ادھر ریال۔ سازندے گھٹتے جا رہے تھے، ناچنے والیاں زیادہ تر اچھل کود کر رہی تھیں۔ استاد سمراٹ رہا تھا اور نہ ہی مودا کنجر۔

ہیرا منڈی کے لوگ نئی آبادیوں میں بھی جذب ہو جاتے تھے۔ پرانے محلوں کے لوگ ایک دوسرے کو نسلوں سے جانتے تھے۔ تازہ بستیوں والے مختلف علاقوں اور پیشوں سے تعلق رکھتے تھے۔ پہلے ایک گلی ایک پیشے میں مہارت رکھنے والوں کی وجہ سے جانی جاتی تھی، اب سب رل مل گیا تھا۔

میں افضل پھجے کے پاس بیزنگ اسٹوک چلا گیا۔ اسے برطانیہ کا پاسپورٹ مل چکا تھا۔ امیلڈا اس کی زندگی سے نکل چکی تھی۔ بڑھتی عمر میں افضل کسی وطنی شریف، باکرہ، کم سن لڑکی سے بیاہ کا آرزو مند تھا۔ اس کے لیے پاکستان میں خواہش مند لڑکیوں اور ان کے والدین کی قطار لگی ہوئی تھی۔

بہرحال بیزنگ اسٹوک تو میرے لیے چشمے کا ایسا ابھرا ہوا پتھر تھا جس پر پیر رکھ کر ایک جست میں جھرنے کو پارکر لیا جاتا ہے۔

کئی برس گزر گئے۔ میں باقاعدگی سے وطن آتا رہا۔ کبھی ہیرا منڈی جانا نہ ہوا، سوائے ایک مرتبہ کے۔

گوجراں والا سے تکے چانپیں کھا کر ہم گاڑی پر واپس لاہور آرہے تھے۔ بچپن کے دو دوست میرے ساتھ تھے۔ انھیں میں نے راوی روڈ ان کے گھروں پر اتارا اور بادشاہی مسجد کے برابر سے گزرا تو مجھے اپنی جوانی، ہیرا منڈی کی رونقوں اور گامے کا خیال آ گیا۔ میں نے گاڑی فورٹ روڈ کو موڑ لی۔ گاڑی کھڑی کر کے میں چلنا شروع ہوا تو دنیا ہی بدل چکی تھی۔ وہ عیدمیلادالنبی کی شام تھی۔ سو اس نسبت سے سجاوٹ کی گئی تھی۔ حویلیوں مکانوں میں ہوٹل کھل گئے تھے اور ان کی چھتوں پر لوگ کھانا کھا رہے تھے، چمچماتی گاڑیاں کھڑی تھیں، بادشاہی مسجد کے مینارے روشنیوں میں نہائے ہوئے تھے، کولتار والی سڑک کی جگہ راہ گزر پر پتھر جڑے تھے اور ویٹر گاہکوں کو دعوت طعام دے رہے تھے۔ چند ماڈرن لڑکے لڑکیاں ہیرا منڈی کو جاتے رستے کی جانب اشارے کر کے انگریزی میں کہہ رہے تھے ”ڈائمنڈ مارکیٹ“ ، ”کلچرل ہب“ ، ”ڈانسنگ گرلز۔“ وہاں وہی ہیرا منڈی تھی جس کا نام ہیرا سنگھ کے نام پر رکھا گیا تھا اور اس میں بسنے والی لڑکیوں کو کبھی بھی ڈائمنڈ یا ہیرے کے نام سے نہیں جانا گیا تھا۔ وہاں وہی ہیرا منڈی تھی جہاں گاما رہتا تھا۔ جب میں ان گلیوں میں گیا تو مجھے لگا کہ میں غلط جگہ آ گیا ہوں۔ چوبارے کوٹھے ختم ہوچکے تھے۔ وہاں جوتوں، کھسوں کی دکانیں تھیں جو رات کو بند تھیں۔ چائے خانے اور منیاری کی دکانیں کھلی تھیں۔ وہ ایک عام سا بازار تھا جیسا کسی بھی شہر کا بازار ہو سکتا ہے۔

اتنے میں فضا میں انار چھوٹے اور رنگ رنگ کی شرلیاں آسمان پر بکھر گئیں۔ بچوں نے پٹاخے پھوڑنے شروع کر دیے۔

گلی میں سامنے سے عید میلاد النبی کا جلوس چلا آ رہا تھا۔ اس کی وجہ سے معمول کی آمدورفت بند تھی۔ لوگ باگ اپنے مکانوں کی چھتوں سے جلوس کو دیکھنے لگے۔ گلی میں جھنڈیاں اور قمقموں کی لڑیاں خوب رونق دکھا رہی تھیں۔ مذہبی گیتوں اور نعتوں کی آوازیں قریب آنے لگیں۔ لوگ جلوس پر پھول اور سکے مکانوں کی بالکونیوں سے اور سڑک پر کھڑے ہو کر نچھاور کرنے لگے۔ جلوس والوں نے پگڑیاں، ٹوپیاں، عمامے پہن رکھے تھے۔ جلوس کی صف اول والوں نے ایک سبز چادر تھام رکھی تھی جس میں لوگ عقیدت سے روپے ڈال رہے تھے۔ مذہبی گیت و مناجات کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔ چادر تھامنے والی پہلی صف کے عین وسط میں سیاہ رنگت، سفید بالوں اور سفید داڑھی والا شخص جھوم جھوم کر ترنم میں آواز بلند کرتا تھا اور اس کے ہم نوا اپنی آوازیں اس کی آواز میں شامل کر دیتے تھے۔ میں سڑک کنارے کھڑا تھا۔ اس شخص نے آس پاس اچٹتی نگاہ ڈالی۔ میرے چہرے پر اس کی نظریں ٹھیر گئیں۔ یک دم اس کے سنجیدہ چہرے پر مسکراہٹ آ گئی اور اس نے چادر چھوڑ کر میرے سامنے دونوں ہاتھ جوڑے اور چادر دوبارہ تھام لی اور مناجات پڑھتا، جھومتا ہوا سامنے سے گزر گیا۔ اس شخص نے ایک ہاتھ میں انگوٹھیاں پہن رکھی تھیں، عقیق یمنی، زمرد اور چاندی کی انگوٹھیاں۔

بس یہ میری گامے سے آخری ملاقات تھی۔

Facebook Comments HS