کامیابی کے راز کیا ہیں؟

کسی بھی انسان کی کامیابی اور ناکامی میں کوئی باہری فیکٹر کام نہیں کرتا۔ انسان کی کامیابی اور ناکامی خود اس کی ذات پر منحصر ہوتی ہے۔ اگر کوئی کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس کے پاس کامیابی کی منزل تک پہنچنے کے سارے وسائل مہیا تھے۔ اسی طرح اس کے بر عکس، اگر کوئی زندگی میں ناکام ہو جاتا ہے تو اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا غلط ہے کہ اس کے پاس ذرائع کی کمی تھی یا حالات سازگار نہیں تھے۔ بعض لوگ وسائل کے ہوتے ہوئے بھی ناکامی و نامرادی کی عمیق کھائی میں جا گرتے ہیں اور کچھ لوگ وسائل کے نہ ہوتے ہوئے بھی کامیابی و کامرانی کی افق پر کمند ڈالتے ہیں۔
بہت دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ اے۔ پی۔ جے عبدالکلام کی مثال سامنے رکھ سکتے ہیں۔ ان کے والدین کے پاس نہ تو مال و دولت کا انبار تھا اور نہ ہی سیاسی اثر و رسوخ۔ عبدالکلام ایک معمولی گھر میں پیدا ہونے کے باوجود کامیابی کی اس چوٹی تک پہنچے کہ نوجوان نسل کے لیے کامیابی کا نمونہ بن گئے۔ کئی ایسے لوگ اس دنیا میں پیدا ہوئے جن کے پاس مال و اسباب کی ریل پیل اور وسائل کی فراوانی تھی لیکن گمنامی کے جنگل میں ایسے گم ہو گئے کہ جنہیں نہ ہم جانتے ہیں اور نہ آپ۔
بات در اصل یہ ہے کہ جو کامیاب ہونا چاہتے ہیں وہ وسائل کی عدم موجودگی میں وسائل پیدا کرلیتے ہیں اور ناسازگار حالات کو اپنے فیور میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ شکایت نہیں کرتے بلکہ کوشش کرتے ہیں۔ شکایتی لہجہ ذہنی طور پر اپنی ناکامی قبول کرچکے لوگ اختیار کرتے ہیں۔ کامیابی کا جذبہ اگر دل میں ہوتا ہے تو ہم کامیابی کے وسائل تلاش کرتے ہیں۔ کامیابی کو محض قسمت خیال کرنے والے وسائل کے نہ ہونے کا زندگی بھر رونا روتے رہتے ہیں۔
ایک کامیاب ہونے والے انسان کی زندگی اور ایک ناکام ہونے والے انسان کی زندگی میں کوئی فرق نہیں سوائے اس کے کہ ایک پریشانیوں کے درمیان گھرے رہنے کے باوجود اپنی کامیابی کے تئیں پر امید رہتا ہے اور اسے حاصل کرنے کی اپنی کوشش جاری رکھتا ہے اور دوسرا کامیابی کو لے کر اتنی غیر یقینی کی صورت حال میں سانس لیتا ہے کہ اگر ناخوشگوار واقعے کا ایک ہلکا سا جھونکا اس کو چھو کر گزر جائے تو اسے ایسا لگتا ہے جیسے اس کے کامیاب ہونے کے سارے راستے مسدود ہو گئے۔
میرا یہ ماننا ہے کہ کامیاب ہونے کی اولین شرط امید پرست ہونا ہے۔ امید پرست انسان ہمیشہ مستقبل پر اپنی نظر رکھتا ہے۔ ماضی میں کیا کھویا اور کیا پایا اس کا حساب کتاب اس کے پاس ہوتا ہے اور اپنے حال کا بھی ایماندارانہ تجزیہ کرتا ہے۔ اگر وہ ماضی میں کسی چیز سے محروم رہ گیا ہوتا ہے اور اسے حال میں بھی حاصل کرنے کے امکانات نظر نہیں آتے تو وہ اسے مستقبل میں حاصل کرنے کی تیاری شروع کر دیتا ہے۔ امید پرست انسان یہ جانتا ہے کہ کامیابی ایک دن میں حاصل نہیں ہوتی، اسے یہ یقین ہوتا ہے کہ محنت کرنے والوں کو ایک نہ ایک دن کامیابی ضرور ملتی ہے۔
قنوطیت پسند ماضی کے ایک ناخوشگوار واقعہ سے چمٹ جاتا ہے اور زندگی بھر اس کے اثر سے باہر نہیں نکل پاتا۔ وہ مستقبل کے مواقع کو ماضی کی ناخوشگوار یادوں کی نذر کر دیتا ہے۔ قنوطی انسان بار بار کوشش کرنے کے جذبے سے محروم ہوتا ہے۔ وہ یہ سوچتا ہے کہ کامیابی اگر آج نہیں ملی تو وہ کل بھی نہیں ملے گی۔ اس لیے وہ ماضی کی ناکامیوں کے ساتھ جی کر آگے آنے والے سارے سنہرے مواقع کھو دیتا ہے۔ امید پرست شخص ہر چیز میں مثبت پہلو تلاش کرتا ہے اور قنوطی انسان ہر شے میں منفی پہلو دیکھتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان کیا فرق ہے اس کو ایک انگریزی شاعر فریڈرک لینگ برج نے بڑے خوبصورت الفاظ میں اس طرح بیان کیا ہے :
Two men look out through same bars
One sees the mud, and one the stars
یعنی دو انسان رات کے وقت ایک ہی جنگلہ سے باہر کی طرف دیکھتے ہیں۔ ایک کیچڑ دیکھتا ہے اور ایک ستارہ۔ یہاں پہلی قسم قنوطی شخص کی ہے اور دوسری قسم امید پرست انسان کی ہے۔ باہر کی طرف دیکھنے کا وسیلہ ایک ہی ہے لیکن دونوں اپنی اپنی سوچ اور فکر کے اعتبار سے دو جدا جدا اور مختلف چیزیں دیکھ رہے ہیں۔ ہم ایک جیسے واقعہ سے دو الگ الگ نتیجے اخذ کرتے ہیں۔ ہر نتیجہ ہماری سوچ اور فکر کے مطابق ہوتا ہے۔ امید پرست انسان ہر واقعہ میں روشن پہلو تلاش کرتا ہے۔ اس کے برعکس ایک قنوطی انسان ہر واقعہ میں تاریک پہلو ہی دیکھتا ہے۔ ایک امید پرست اور ایک قنوطی انسان کیسے ایک ہی واقعہ سے اپنے اپنے طور پر نتیجہ اخذ کرتا ہے اس کو فارسی کے ایک شعر سے سمجھتے ہیں :
تفاوت است میان شنیدن من و تو
تو غلق باب و منم فتح باب می شنوم
یعنی میرے اور تمہارے درمیان جو فرق ہے وہ سماعت کا ہے۔ دروازے پر آواز ہوتی ہے تو تم یہ سمجھتے ہو کہ دروازہ بند ہو گیا اور مجھے لگتا ہے کہ وہ آواز اس کے کھلنے کی ہے۔ یہاں پر غور کریں کہ قنوطی اور امید پرست انسان کے درمیان کتنا عظیم فرق نمایاں ہو گیا۔ ایک ہی واقعہ رونما ہو رہا ہے لیکن اس کے معنی و مطلب الگ الگ اخذ کیے جا رہے ہیں۔ حقیقی زندگی میں بھی امید پرست اور قنوطی انسان کے درمیان یہی فرق ہے۔ کوئی واقعہ اور حادثہ اپنے آپ میں اتنی صلاحیت نہیں رکھتا کہ وہ ایک انسان کی ترقی کے سفر کو روک دے۔
امید پرست انسان کے سامنے اگر ظاہری طور پر بھی کوئی منفی واقعہ پیش آتا ہے تو وہ اس سے دل برداشتہ ہو کر اپنا سفر منقطع نہیں کرتا بلکہ ایک نئے حوصلے کے ساتھ اور نئے طریقے سے اپنا سفر شروع کر تا ہے۔ امید پرستی ایک رحمت ہے، یہ انسان کو صبر کرنا سکھاتی ہے۔ یہ انسان کے حوصلے کو زندگی کے کسی بھی مرحلہ میں مرنے نہیں دیتی۔ کامیاب ہونے والے ناکام رہ جانے والوں سے مختلف اس لیے ہوتے ہیں کہ ان کے سوچنے کا انداز الگ ہوتا ہے۔
ان کے کام کرنے کا انداز جدا ہوتا ہے۔ وہ اپنی حکمت عملی وقت اور حالات کے مطابق تیار کرتے ہیں۔ نا امیدی ایک زحمت ہے۔ نا امید انسان ایک ہی راستے پر اپنی زندگی کی گاڑی کو دوڑاتا رہتا ہے۔ راہ میں کوئی بھی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو وہیں بیٹھ کر راہ کی رکاوٹ کا رونا رونے لگتا ہے۔ وقت گزرتا جاتا ہے۔ کیونکہ اسے گزرتے رہنا ہے۔ زندگی کی شام ہوجاتی ہے اور ناکامی اس کی مقدر بن جاتی ہے۔ شیو کھیرا نے اپنی کتاب ”You can Win“ میں کامیاب ہونے والے انسان کی خصوصیت کے بارے میں بڑی اچھی بات لکھی ہے :
Winners do not do different things, they do things differently
یعنی کامیاب ہونے والے انسان کوئی مختلف کام نہیں کرتے بلکہ وہ کاموں کو مختلف طریقے سے انجام دیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ وقت اور حالات کے مطابق اپنی حکمت عملی تیار کرتے ہیں۔ انہیں جب لگتا ہے کہ کامیابی کی منزل کی طرف جانے والا ایک راستہ بند ہو گیا ہے تو وہ دوسرا راستہ تلاش کرتے ہیں۔ وہ ایک دروازہ کے بند ہو جانے پر دوسرے دروازہ کے کھلنے کی امید رکھتے ہیں۔ وہ پریشانی کو عارضی تصور کرتے ہیں۔ امید پرست شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے جس طرح ہر تاریکی کے بعد اجالا ہے۔
امید پرست انسان کا کامیاب ہونا اس لیے یقینی ہے کیونکہ وہ اپنی کوشش جاری رکھتا ہے۔ قنوطیت پسند انسان کی کامیابی اس لیے غیر یقینی ہے کیونکہ وہ کوشش کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ کامیابی کوئی حادثہ نہیں ہے کہ کوشش کیے بنا کسی کو مل جائے۔ اس کے لیے محنت اور لگاتار محنت ضروری ہے اور مسلسل محنت کی امید کسی امید پرست انسان سے ہی کی جا سکتی ہے نہ کہ قنوطیت پسند انسان سے۔ امید پرست انسان فیل ہو جانے کے واقعہ کو ایک حادثہ خیال کر کے آگے کی طرف چل پڑتا ہے۔ قنوطی شخص ناکام ہو جانے کے واقعہ کو حادثہ نہیں سمجھتا بلکہ اس کو آخری انجام تصور کر کے امکانات کے سارے دیے بجھا دیتا ہے۔ وہ یہ نہیں سمجھتا کہ ہر کامیاب شخص کی کہانی در اصل ناکامی سے عبارت ہوتی ہے۔ انگریزی میں کہا جاتا ہے :
Every success story is also a story of great failure
ہمارا دماغ اتنا طاقتور ہے کہ وہ جہنم کو جنت اور جنت کو جہنم بنا دے۔ یعنی ہمارا دماغ ناساز گار حالات کو سازگار حالات میں بدل سکتا ہے۔ کسی بھی عمل کا خاکہ ہمارے ذہن میں ہی تیار ہوتا ہے۔ بدن کے سارے اعضا کو ہمارا ذہن ہی کنٹرول کرتا ہے۔ ہمیں پر امید بھی ہمارا ذہن بناتا ہے اور قنوطی بھی ہمارا ذہن ہی بناتا ہے۔ اپنی کامیابی اور ناکامی کے لیے باہری فیکٹر کو مورد الزام نہ ٹھہرائیں۔ کیونکہ ہم کامیاب بھی اپنے عمل سے ہوتے ہیں اور ناکام بھی اپنے عمل سے۔

