سیاسی ریاست


پہلے کہانیاں پھر الزام لگتے ہیں اور بعد میں اصل کردار سامنے آتے ہیں، وہ بھی اپنے ”فیصلوں“ کے ساتھ۔ اور فیصلے بھی وہ جو بولتے ہیں پھر چاہے وہ فیصلہ کسی کو حکومت میں لانے کا ہو یا کسی کو سیاست سے نکال باہر کرنے کا، معاملہ کسی کی نا اہلیت کا ہو یا کسی کو تحفظ فراہم کرنے کا۔

عوام میں جانے اور خود کو عوام میں زندہ رکھنے کے لیے یہ کہانیاں، ان کے کردار اور فیصلے صدیوں سے چلے آ رہے ہیں او ر یہ نہ رکنے والا سلسلہ آگے بھی جاری رہے گا۔ کیونکہ لوگ ریٹائر ہوتے ہیں ادارہ نہیں، سہولت کم ہو سکتی ہے، ختم نہیں۔ سہولت کار کم ہوسکتے ہیں، ختم نہیں۔ وجود بدل سکتا ہے کردار نہیں۔

بعض کردار وہ ہوتے ہیں جو صاف چھپتے بھی نہیں اور سامنے آتے بھی نہیں۔ ہزار چہرے، ہر چہرے پر نقاب اور نقاب کے پیچھے اصل کردار کس کا۔ یہ موضوع تو ہمیشہ ہی زیر بحث رہا ہے کہ جو جیسا نظر آتا ہے ویسا نہیں ہے اور ہر ادارہ اور شخص وہ کام کر رہا ہے جو اس کے کرنے کا نہیں ہے۔ لیکن جب ادارے اپنی حدود سے باہر نکل کر سیاسی کردار ادا کریں تو انگلیاں اٹھتی ہیں۔ اداروں کے سیاسی کردار کی تنقید میں کبھی اسٹیبلشمنٹ رہی ہے تو کبھی عدلیہ، اب حکومت سے باہر رہ کر اصل حکومت کرنے کے الزام کا سامنا کرنے والی اسٹیبلشمنٹ کی گردن سے یہ تلوار ہٹی تو عدلیہ کی جانب بندوق تن گئی جو ہمیشہ ہی اپنے فیصلوں کی وجہ سے متنازع رہی ہے۔ پھر جس کے حق میں فیصلے آئے وہ مٹھائیاں کھائے اور جس کے خلاف آئے وہ مہم چلائے۔

سیاسی حصول اصولوں کو پس پشت ڈال کر کسی کو بھی کٹہرے میں لا کر کھڑا کر دیتے ہیں۔ اور اب کی بار کٹہرے میں عدلیہ کھڑی ہے جس پر آئے روز جانبداری کا الزام لگتا ہے، کبھی الزام لگتا ہے کہ عدلیہ میں سہولت کار بیٹھے ہیں تو کبھی بحران کا ذمہ دار انہیں ہی قرار دیا جاتا ہے۔ کبھی آڈیو لیکس سامنے آتی ہیں تو کبھی سوشل میڈیا پر ٹرینڈز بنائے جاتے ہیں تاکہ ان کو پریشر میں لایا جا سکے۔ ایسا لگتا ہے ”ٹرائل“ ملزمان کا نہیں بلکہ اداروں کا ہو رہا ہے۔ کیونکہ فیصلہ حق میں آیا تو سب ٹھیک ہے لیکن خلاف آنے کا امکان بھی ہو تو کبھی زمین تنگ کرنے کی باتیں تو کبھی رشوت کی آفرز۔ پھر کسی کو مجبور کر دیا جاتا ہے اور کسی کی مجبوریاں آڑے آ جاتی ہیں۔

بات طاقتور شخصیات کی آئے تو نہ قانون حرکت میں آتا ہے اور نہ ہی عدلیہ ایکشن لیتی ہے۔ اور دوسری طرف قانون کی مثالیں دینے والے ہی قانون توڑتے نظر آتے ہیں کیونکہ ان کی نظر میں قانون کی پابندی صرف غریب یا مخالفین پر فرض ہے وہ تو اس سے بری الذمہ ہیں۔

ایسے میں سوال تو اٹھیں گے کہ قانون اور قانون نافذ کرنے والے طاقتور شخص کے تابع کیوں ہیں؟ غریب پیشی پر نہ آئے تو اٹھا کر لایا جاتا ہے جبکہ امیر نہ آئے تو ججز انتظار کرتے نظر آتے ہیں اور ان کے حق میں فیصلہ سنا کر رخصت کرتے ہیں۔ پھر یہی تاثر جاتا ہے کہ طاقت ہے تو انصاف کی کیا اوقات ہے؟ سیاست اور ریاست تو بس ایک شخص کے ہاتھوں یرغمال ہے۔

کہا تو یہی جاتا ہے اداروں کو غیر سیاسی ہونا چاہیے، عدلیہ کو فیس نہیں کیس دیکھنا چاہیے لیکن یہ صرف باتوں کی حد تک کیوں؟ عملی طور پر ہمیں کچھ نظر کیوں نہیں آتا؟ کہتے ہیں قانون سے کوئی بالاتر نہیں لیکن جب عمل کی بات آتی ہے تو اس میں صاف تضاد کیوں نظر آتا ہے؟ تحریری قوانین تو موجود ہیں لیکن ہر طرف لا قانونیت ہے۔ ریڈ لائن صرف طاقتوروں کے لیے ہے، قانون کے لیے نہیں؟ بظاہر سب ”غیر جانبدار“ لیکن فیصلوں سے ”جانبداری“ کی جھلک کیوں نظر آتی ہے؟

ہمیں ایک طرف بیرونی محاذ کا سامنا ہے تو دوسری طرف اندرونی کا۔ غیر تو تھے ہی لیکن اب اپنوں کی سازشوں کا سامنا بھی ہے۔ ایسے میں ہر طرف سے جانبداری کے تاثر کو زائل کرنے اور لوگوں کا اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ کہانیوں کے ساتھ کردار بھی بدلنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ریاست ”عوامی“ مفاد کے لیے ہوتی ہے ”سیاسی“ یا ”ذاتی“ مفاد کے لیے نہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments