ہماری خوراک سے جڑی منطق

لیکن ایک عجیب بات جو سمجھ سے بالاتر ہے وہ یہ کہ اگر شیرنی کا دودھ پینے سے دلیری آ سکتی ہے تو بھیڑ کا دودھ پینے سے طبیعت میں بزدلی کیوں نہیں سما جاتی، گائے کا دودھ پینے سے شرافت کیوں نہیں آتی، اونٹنی کا دودھ پینے سے سرکشی شخصیت پہ کیوں غالب نہیں ہوتی۔ شیرنی کے دودھ ایسا معاملہ سور (خنزیر) کے گوشت کے ساتھ بھی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سور کا گوشت کھانے سے انسان بے حیا ہو جاتا ہے اس میں جنسی قوت بڑھ جانے کے ساتھ ساتھ شہوت پرستی سما جاتی ہے۔
بھئی اگر ایسا ہی ہے تو کبوتر یا فاختہ کا گوشت کھانے سے انسان امن پسند کیوں نہیں ہو جاتا۔ انسانی منطق بھی عجیب ہے، کہا جاتا ہے کہ معدے کی مضبوطی کے لیے اوجڑی کھانی چاہیے، دماغ کی تندرستی کے لیے مغز نوش فرمانا چاہیے، گھٹنوں اور ٹخنوں کی کارکردگی بڑھانی ہو تو چھوٹے بڑے پائے کمال کرتے ہیں، بینائی تیز کرنے کے لیے بعض حکیم مچھلی کی سری آنکھوں سمیت کھانے کا مشورہ دیتے ہیں اور جناب عالی گردے کپوروں کا ٹکاٹک نوش فرمانے کے پیچھے جو منطق ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔
کچھ جانوروں یا پرندوں کو کھانے کے پیچھے جو منطق ہے وہ عجیب سے بھی عجیب تر ہے کہ کچھ جانور یا پرندے اپنی جسمانی ساخت یا خصوصیات کی بنا پر نہیں بلکہ اپنی فطری حرکات کی بنا پر کھائے جاتے ہیں مثلاً گجرانوالہ کے چڑے انسانی معدے کا ایندھن صرف اس وجہ سے بنتے ہیں کہ جناب چڑے کا جنسی رویہ اپنی چڑیوں سے ایسا ہے جس کا حضرت انسان صرف تصور ہی کر سکتا ہے۔ انسان چڑے کھا کر کچھ چڑے جیسا کرنا چاہتا ہے مگر آج تک کسی چڑے پسند نے کوئی ایسا دعویٰ نہیں کیا جس کی وجہ سے چڑوں کو بھی فخر ہو کہ اتنے بڑے پرندوں کو چھوڑ کر حضرت انسان ان کے پیچھے کیوں پڑا ہے۔ خیر غریب بندہ جنسی طاقت میں اضافے کا سوچ کر چڑے کھا لیتا ہے مگر عرب شہزادے تلور کا گوشت نوش فرمانے پاکستان آتے ہیں، تلور بیچارے کو تو معلوم بھی نہیں ہو گا کہ اس کے گوشت بارے یہ مشہور ہے کہ یہ جنسی طاقت میں بے پناہ اضافے کا سبب بنتا ہے۔
خیر یہ تو بات ہو گئی مختلف پرندوں اور جانوروں کو کھائے جانے سے منسلک منطق کی۔ مگر ایک توجہ طلب مسئلہ لاہور میں دھوکے سے کھلایا جانے والا گدھے کا گوشت ہے۔ یہ بات سوشل میڈیا کی وجہ سے بہت مشہور ہو چکی ہے کہ لاہور جائیں تو احتیاط کریں کہ کہیں آپ کو دھوکے سے مٹن کڑاہی کا کہہ کر گدھے کا گوشت نہ کھلا دیا جائے۔ بالفرضاگر اس منطق پہ یقین کر لیا جائے کہ انسان جو جانور کھاتا ہے یا اس جانور کا کوئی مخصوص عضو کھاتا ہے تو انسانی جسم پر یا نفسیات پر ویسے ہی یا اس سے ملے جلے اثرات مرتب ہوتے ہیں ، تو خود سوچیں لاہور کی سڑکوں پر یا گلیوں میں کیسے مناظر دیکھنے کو ملتے۔ شاید مناظر کچھ ایسے ہوتے کہ انسان سارا دن محنت کرتے نظر آتے، صبح صبح موبائل کے الارم کی جگہ ان کا اپنا الارم بجتا، بازار میں کھڑے کھڑے دولتی مارنے کے مناظر عام ہوتے۔
ویسے چائنیز کے پاکستان میں جگہ جگہ پڑاؤ کی وجہ سے کتا کھانے کی خبریں بھی گردش میں ہیں اور خدا نا کرے کہ ہمارے معاشرے میں سیاسی اور مذہبی رہنما کتے کی خاصیت کی بنا پر اپنے پیروکاروں اور ووٹروں کو کتے کا گوشت دھوکے سے کھلانا شروع کر دیں کیونکہ کتے کے بارے ایک بات جو پوری دنیا میں مشہور ہے وہ یہ ہے کہ کتا بہت وفادار جانور ہے۔

