زکٰوۃ اور عطیات کے مستحق قابل اعتبار ادارے
پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جن کے شہری عطیات اور چندہ دینے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ ہم اپنے ارد گرد نگاہ ڈالیں تو بے شمار لوگ اپنی اپنی استطاعت کے مطابق امدادی سرگرمیوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ اگرچہ کار خیر کا یہ سلسلہ سارا سال جاری رہتا، لیکن رمضان المبارک میں عطیات، صدقات، زکوٰۃ اور چندے کی ترسیل اور تقسیم میں بہت زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ ہر مسلمان چاہتا ہے کہ اللہ کی راہ میں زیادہ سے زیادہ مال خرچ کرے اور ثواب سمیٹے۔
یقیناً ہمارے غریب رشتہ دار سب سے زیادہ اس بات کے مستحق ہیں کہ ہم ان پر اپنا مال خرچ کریں۔ اپنے خاندان، ملازمین اور دیگر کی امداد کے بعد ہم سب چاہتے ہیں کہ عطیات اور زکوٰۃ کسی قابل بھروسا فرد یا ادارے کے حوالے کریں، جو اسے نہایت ایمانداری کے ساتھ مستحق افراد تک پہنچائے۔ اللہ کے فضل سے پاکستان میں ایسے نیک اور ایماندار افراد کی کمی نہیں ہے جو بہت اچھے ادارے نہایت عمدگی سے چلا رہے ہیں۔ یہ ادارے ہماری زکوٰۃ، عطیات، صدقات اور امداد کے مستحق ہیں۔
ڈاکٹر امجد ثاقب اور ان کا قائم کردہ ادارہ ”اخوت“ کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ برسوں پہلے ڈاکٹر امجد ثاقب نے ”اخوت“ کا سفر بغیر سود کے چھوٹے قرضوں کی فراہمی سے شروع کیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے دس ہزار روپے اپنی جیب سے دے کر قرض حسنہ کے اس سلسلے کا آغاز کیا تھا۔ اللہ پاک کے فضل سے یہ سلسلہ بڑھتے بڑھتے ایک سو پچیس ارب روپے سے بڑھ گیا ہے۔ برسوں سے ڈاکٹر صاحب کی خواہش تھی کہ وہ غریب لیکن ذہین طالب علموں کے لئے جدید سہولیات سے مزین ایک یونیورسٹی قائم کریں۔
چند سال سے ”اخوت یونیورسٹی“ کامیابی سے قائم ہے۔ پنجاب سمیت بلوچستان، سندھ، گلگت بلتستان، اور خیبر پختونخوا کے غریب لیکن ذہین بچے یہاں زیر تعلیم ہیں۔ یونیورسٹی میں انہیں مفت تعلیم کے ساتھ ساتھ رہائش، لباس اور خوراک فراہم کی جاتی ہے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب نہایت فخر سے بتاتے ہیں کہ انہوں نے کروڑوں روپے کی لاگت سے بننے والی، پچاس ایکڑ پر محیط اس جامعہ کے لئے کسی حکومت سے ایک دھیلا تک وصول نہیں کیا۔ تمام رقم پاکستان کے اہل اخوت نے مہیا کی۔
گزشتہ برس ڈاکٹر صاحب کی دعوت پر مجھے اس یونیورسٹی کا دورہ کرنے کا موقع ملا۔ ڈاکٹر امجد ثاقب نے ایک دیوار کی طرف اشارہ کر کے بتایا تھا کہ عطیات فراہم کرنے والوں کے نام اظہار تشکر کے طور پر اس دیوار پر لکھوائیں گے۔ مجھے یقین ہے کہ اب تک اس دیوار پر کئی خوش نصیبوں کے نام ”دیوار اخوت“ پر کندہ ہو چکے ہوں گے۔ رمضان المبارک کے اس ماہ مقدس میں ڈاکٹر امجد ثاقب، اخوت فاونڈیشن اور اخوت یونیورسٹی کو ضرور یاد رکھیں۔
یہ جملے لکھ رہی ہوں تو مجھے مرحوم اعجاز حسن قریشی یاد آ رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب پاکستانی صحافت کا بہت بڑا نام تھے۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم نے خود تعلیمی وظائف کی مدد سے تعلیم حاصل کی تھی۔ لہذا وہ تعلیمی وظیفے کی اہمیت سے بخوبی واقف تھے۔ 2002 میں انہوں نے اپنی جیب سے دس ہزار روپے عطیہ کر کے ”کاروان علم فاونڈیشن“ نامی ایک ننھا سا پودا لگایا تھا۔ برسوں کی محنت اور توجہ کے بعد وہ پودا ایک تناور درخت بن گیا ہے۔ یہ فنڈ اب تک کم وبیش ساڑھے سات ہزار نوجوانوں کی علمی اور تعلیمی سرپرستی کر چکا ہے۔
صحافی اور کالم نگار برادرم خالد ارشاد صوفی اس ادارے کے نگران ہیں۔ وہ بتا رہے تھے کہ یہ ادارہ اب تک 23 کروڑ روپے سے زائد رقم غریب طالب علموں کی تعلیم پر خرچ کر چکا ہے غربت اور بے بسی کی دلدل میں دھنسے، ہزاروں بچے مٹی میں رل جاتے، اگر کاروان علم فاونڈیشن کا سہارا اور ساتھ انہیں مہیا نہ ہوتا۔ کیسی کیسی تحیر آمیز داستانیں ہیں، جو ”کاروان علم فاونڈیشن“ کی بدولت وجود میں آئیں۔ کیسے بلوچستان کے دور افتادہ گاؤں میں بسنے والا پولیو زدہ غریب بچہ کاروان علم کی بدولت میڈیکل ڈاکٹر بن گیا۔
کیسے لوگوں کے گھروں میں برتن مانجتی، جھاڑو پوچا کرنے والی بے سہارا بیوہ کی بیٹی آرمی میں میجر کے عہدے تک جا پہنچی۔ کیسے پیٹ بھر روٹی تک سے محروم کوئی یتیم مسکین بچہ سی۔ ایس۔ ایس کر کے فارن سروس افسر بھرتی ہو گیا۔ سینکڑوں، ہزاروں افراد اور خاندان ہیں، جن کے نصیب کاروان علم فاونڈیشن نے بدل ڈالے۔ سینکڑوں بے سہارا بچے ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر بن گئے۔ بیوروکریسی اور افواج پاکستان میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو گئے۔
یقیناً خوش بخت تھے یہ سب جنہیں کاروان علم فاونڈیشن کا سہارا میسر آیا۔ ان سے بڑھ کر خوش قسمت ہیں اندرون اور بیرون ملک بسنے والے وہ تمام اہل خیر، جن کے تعاون اور امداد سے ان بے سہارا نوجوانوں کو تعلیم کا زیور نصیب ہوا۔ اللہ پاک ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم علم کے اس قافلے کا حصہ بن سکیں۔ اپنی زکٰوۃ اور عطیات کی رقوم اس کارخیر پر خرچ کر سکیں۔ کاروان علم فاؤنڈیشن کو زکٰوۃ و عطیات ملک کے کسی بھی حصے سے میزان بنک کے اکاؤنٹ ٹائٹل : کاروان علم فاونڈیشن۔ اکاؤنٹ نمبر 0240۔ 0100882859 میں جمع کروائے جا سکتے ہیں۔ مزید تفصیلات کے لیے موبائل نمبر 0300۔ 1103030 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
”غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ“ بھی ایک نہایت عمدہ اور قابل بھروسا نام ہے۔ برادرم سید عامر جعفری اس ادارے کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ یہ ٹرسٹ دیہی علاقوں میں بسنے والے بے وسیلہ بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے پچھلے 27 برس سے کوشاں ہے۔ ملک کے مختلف صوبوں کے پسماندہ ترین علاقوں میں ٹرسٹ کے 800 اسکول تقریباً ایک لاکھ، دس ہزار بچوں کو تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ کم وبیش 47 ہزار غریب بچوں کی مکمل تعلیمی کفالت کی ذمہ داری غزالی ٹرسٹ نے اٹھا رکھی ہے۔
غزالی ٹرسٹ اسپیشل بچوں اور غیر مسلم/ اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کو بھی تعلیم مہیا کرنے کے لئے متحرک رہتا ہے۔ اللہ پاک غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کے کام میں برکت عطا فرمائے۔ قارئین اگر ”غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ“ کے اس کار خیر میں حصہ دار بننا چاہتے ہیں تو عطیات، صدقات اور زکٰوۃ کی ادائیگی کے لئے ہیلپ لائن 111۔ 438۔ 438 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ میزان بنک، اکبر چوک، لاہور میں بنک ٹائٹل : غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ۔ اکاؤنٹ نمبر: 0206 0100676603 : آئی بی اے این : PK 49 MEZN 0002060100676603 پر بھی عطیات بھیجے جا سکتے ہیں۔ ٹرسٹ کی ویب سائٹ پر ایک بچے سے لے کر ایک مکمل اسکول تک کی کفالت کے حوالے سے مختلف پروگرام موجود ہیں۔ ویب سائٹ www.get.org.pk
یہ وہ ادارے پر جن پر ہم سب آنکھیں بند کر کے بھروسا کر سکتے ہیں۔ میں نے فقط چند نامور اداروں کا تذکرہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے ادارے اور تنظیمیں غریب بہن بھائیوں کی امداد میں مصروف ہیں۔ اللہ پاک ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم اخوت فاونڈیشن، غزالی ٹرسٹ، کاروان علم فاونڈیشن اور دیگر کے اچھے اور نیک کاموں میں حصہ دار بنیں۔ ان کی مالی امداد کریں۔ یقین جانیے اگر ہمارے صدقات اور عطیات کی وجہ سے کوئی ایک بچہ بھی تعلیم حاصل کر کے، روزگار کے حصول سے، یا کسی طرح کی امداد کے باعث اپنے پیروں پر کھڑا ہو جائے تو یہ ہمارے لئے صدقہ جاریہ ہو گا۔


