فطرت کا آئینہ

ہر گزرتے لمحہ کے ساتھ تخلیقی صلاحیت اور افکار کا انبار دروازے پر دستک دیتا ہے۔ جو انسان کو آگے بڑھنے، جستجو کرنے اور خدا کی عطا کردہ نعمتوں سے آگاہی کا عظیم ذریعہ بھی ہے۔ اسی بنیاد پر انسان نے وہ مقام و مرتبہ حاصل کیا جو کسی دوسری مخلوق کے کھاتے میں نہ آ سکا۔ اس سعی نی انسان کو زمین کا سینہ چیر کر نئے سے نئے راز جاننے اور ان سے باخبر ہونے کا عندیہ بھی دیا۔ اس کے ذریعہ ہی با ادب اور بے ادب کا فرق عیاں ہوا، تو کہیں اس سستی کے مارے کو ذلیل و خوار بھی ہوتے دیکھا تو کہیں کامیابی کا سہرا خود اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ اس ساری صورت حال کو اپنے ہاتھوں سے خود ہی خوش آمدید کرتا ہے۔
اسی تضاد نے اس دنیا میں اونچ نیچ، ناکامی و کامیابی، ذلت اور عزت کا نام لیا ہے۔ جو پشت پر بیٹھا عقل کی بنیاد پر کیا جاتا ہے ساتھ ہی من مرضی کا اختیار بھی ہے۔ شعور کا پلڑا پکڑا تو ہوا کو بھی قید کر ڈالا، اگر شور کو تھام لیا تو بادشاہ سے گدھا بنا دیا۔ اسی تمیز کے دائرہ میں ہی سب کچھ پڑا ہے جو سمجھ اور ناسمجھ کا لقب لیے دنیا کے کونے کونے میں اپنی کرنیں بکھیرتے ہوئے رنگ و نسل کی تمیز میں رواں دواں ہے۔ کہنا تو خود چاہیے مگر عقل اپنی انا میں ہے کہ میں صرف ثبوت اور دلیل کو مانتی ہوں جو ظاہری آنکھ اور دکھاوے کی صورت میں ہو۔
دوسری جانب تخیل اس بات پر اکتفا نہیں کرتا۔ دونوں کا فرق اور حدیں الگ الگ ہیں جو ایک دوسرے کی حدیں عبور نہیں کرتے۔ درمیان میں بے چارہ انسان کبھی عقل اور کبھی تخیل کا محتاج کھڑا ہے۔ حالانکہ دونوں کا باہم ملاپ ہو جائے تو انسان خود ہی آگے چل نکلتا ہے اور یہ دونوں ہمہ وقت اس کی رہنمائی اور کامیابی کا ذریعے بن جاتے ہیں۔
جب بھی انسان نے سمجھوتا کر کے مستقبل کو پکڑنے کی کوشش کی تو عقل اس کی نظر کو اور تخیل اس کی راہ کو صاف و شفاف کرتے ملا۔ اس طرح وہ مقام اور خالق کائنات دونوں کا ایک وقت میں دیدار اور ملاقات ہو جاتا ہے۔ جو یہ کہتے ہیں کہ ایسا ممکن نہیں تو وہ شخص ان دونوں سے ناواقف حتیٰ کہ اپنے پیدا کرنے والے سے بھی بے خبر اور بہرہ ملتا ہے۔ اس صورت حال کا جائزہ لیں تو ثانوی ذکر کے تاثرات ہمیں اپنے اردگرد ماحول اور خاص کر پاکستان کی ہر گلی اور کوچے میں علانیہ ملتے ہیں۔ جہاں پر صاف اور شفاف انداز میں اس کا وجود بہرے پن کا روپ لیے ظاہری و باطنی ملتا ہے۔ جو رشوت خوری، بدعنوانی، فریب، کا لبادہ پہنے تفریق کا ہتھیار لیے ایک ہی خاندان کا بٹوارہ کرنے میں مگن نظر آتا ہے۔ جو نہ عقل کا دوست اور نہ تخیل کا ساتھی ہمیشہ انا کا پیروکار ہے۔
جہاں پر انا ہو وہاں نہ عقل کا بسیرا اور نہ تخیل کی آمد ہوتی ہے صرف اور صرف تباہی و بربادی کی ٹھیکیداری ملتی ہے۔ یہ حالت ہو تو سمجھ جاؤ کم عقل اور جاہلوں کی بھرمار ہے، زوال کا امکان اور لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔ تب فطرت بھی اپنا جلوہ رونما کرتی ہے ان جیسوں کے لیے عبرت ناک مناظر کا بندوبست ہوتا ہے جب یہ ٹھگ بازی کے مارے اپنی وقعت کو بھول کر دربدر کی ٹھوکریں کھاتے ہیں۔ قنوطیت کے سلطان، کشکول دان، بے جان، جھوٹے نعروں کی شان، زن، زر اور زمین کے لالچ میں گھیرے ہوئے جوان نسل در نسل باپ کی روایت اور دادا کا قانون بنا کر فخر محسوس کریں۔
اپنی ڈرامے بازی کو زوال کا نشانہ بناتے چارسو ملتے ہیں تب فطرت کا آئینہ ان کو اوقات یاد دلانے کی کوشش کرتا ہے۔ پھر یہی لوگ مقدر کو الزام دے کر اپنے آپ کو بری قرار دیتے ہیں۔ جیسے ان شہزادوں نے کچھ کیا ہی نہ ہو۔ بھائی فطرت اپنے اصول کی پابند ملتی ہے تو طوفان نوح کی صورت میں اپنا جلوہ دکھاتی ہے تو کبھی صدوم و عمورہ پر آگ اور گندھک کی برسات بھی کرتے ہوئے مقدر کے راجاؤں کو زمین بوس ہوتے دکھاتی ہے۔ سیلفی لے کر کسی کی مدد کرنے والوں کو عبرت کا نشان بناتی ہے اگر بنی اسرائیل پر آفتوں کا انبار آ سکتا ہے تو آپ کس باغ کی مولی ہیں۔
آج بھی وہی خدا اور فطرت کا آئینہ براجمان ہے۔ چند دن قبل رات کے نو بج رہے تھے 21 مارچ، 2023 ء کا دن، جب سبھی لوگ ایک طرف پانی دودھ میں ملا کر بے نور بنانے میں مگن تھے، کتاب مقدس پر ہاتھ رکھ کر ضمیر فروشی کا برانڈ ثابت کر رہے تھے۔ دوسری جانب آٹے میں لکڑی کا بورا، سبزیوں میں زہر، پھلوں میں میٹھے انجکشن اور شہد کو جعلی بنا کر فطرت کو چیلنج کر رہے تھے۔ تب اس ملاوٹ کے سرعام میدان میں قدرت نے ایک چھوٹی سی کروٹ بدلی۔ سارے ایک ہی لمحہ گھروں سے باہر نکل کر ایک ہی نعرہ بلند کرنے میں لگ گئے کہ تو ہی بڑا اور رحم کرنے والا ہے۔ یہ تھا زلزلہ 7.7 کا جھٹکا جس کو فطرت کا آئینہ کہہ سکتے ہیں۔
قدرت نے ذرا سا جلوہ گر ہو کر دکھایا کہ تم جتنا مرضی فرعونیت کا لبادہ اوڑھ لو اختیار اور قدرت میرے پاس ہی ہے۔
مصروف تھے سبھی زندگی کی الجھنوں میں
ذرا سی زمین کیا ہلی سب کو خدا یاد آ گیا
دریا ایک، راستہ ایک، زمین ایک، لمحہ ایک مگر بنی اسرائیل جناب موسیٰ کی قیادت میں بچ کر بحفاظت گزر گئی لیکن اسی راستے فرعون اور اس کے کارندے غرق کر دیے گئے۔ تاقیامت نشان عبرت دکھایا کہ جب تم نے فطرت کے آئینہ میں سوراخ کرنے کی کوشش کی تو وہ غصہ میں آ کر تمھاری نسل کو بھی سبق دیتا ہے چاہے کرونا وائرس کا متعدد دفعہ روپ بدل کر آنا ہو یا افلاس میں رہنا یا پڑھے لکھے جاہلوں کی منڈیر میں رکھنا ہو۔ دیکھتے ہوئے بھی نہ دیکھ پائیں اور سنتے ہوئے بھی نہ سن پائیں۔ یہ وہ علامتیں ہیں جو کسی بھی قوم کے ناسمجھ، جاہل، نا اہل اور سزا یافتہ ہونے کی ہیں اس کا اعتراض کسی کو نہ ہو کیونکہ یہ فطرت کا آئینہ اور اس کا فیصلہ ہے۔

