پاکستان کا بلوچستان


پاکستان کا صوبہ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالامال ہو کر بھی زبوں حالی کا شکار ہے، غربت اور دہشتگردی نے صوبے کو اپنے شکنجے میں پھنسا لیا ہے، جس کی وجہ سے بلوچی ناراضی، مایوسی، احساس کمتری اور احساس محرومی کا شکار ہیں، وفاق کے کمزور فیصلوں اور سردارانہ نظام کی اجاڑ داری سے بلوچ قوم بیزار نظر آتی ہے، اسی ناراضی کو پاکستان دشمن قوتوں نے اپنے مفاد میں کیش کرایا اور بلوچستان مختلف علیحدگی پسند تحریکوں کا گڑھ بنا گیا۔

ان ہی تحریکوں میں حق دو تحریک کا عمل بھی نظر آیا جو بظاہر بلوچستان کے مفاد میں نظر آتی ہے، اس تحریک کا کہنا ہے گوادر پورٹ سے بلوچستان کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

سنہ 2015 میں پاکستان اور چین کے درمیان چین پاک اقتصادی راہداری ”سی پیک“ منصوبہ طے پایا۔ اس منصوبے کے تحت گوادر کی بندرگاہ سے سرگرمیوں کا آغاز 13 نومبر 2016 سے کیا گیا اور اس منصوبے کو گیم چینجر کہا جاتا ہے مگر حق دو تحریک کے مطابق گوادر میں آج بھی بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے۔

گوادر کو حق دو تحریک کے مطالبات میں بنیادی نکات صوبہ بلوچستان کی سمندری حدود سے غیرقانونی ماہی گیری کی روک تھام، مسنگ پرسنز کی بازیابی، گوادر سمیت مکران سے منشیات کا خاتمہ، چیک پوسٹس پر تحفظات اور بنیادی مسائل کا فوری حل کے شامل ہیں۔

حق دو تحریک کے بانی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کا تعلق گوادر کے مضافاتی علاقے سُربندن سے ہے اور ان کا خاندان شروع سے ماہی گیروں سے منسلک رہا ہے۔ حق دو تحریک کے بانی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ جماعت اسلامی سے وابستہ رہے ہیں، اب اقتدار کی چاہ میں گوادر کو حق دلانے کے لئے متحرک ہیں۔

صوبہ بلوچستان کو آج تک کسی نے سنجیدگی سے نہیں لیا، البتہ پاک فوج نے ہمیشہ اس پسماندہ صوبے کی ترقی و کامرانی کے لئے کردار ادا کیا ہے

جیسا کہ
تعلیم
تعلیم
پاکستان آرمی نے بلوچ قوم کے مستقبل کو سنوارنے کے لئے اسکولوں اور کالجوں کا قیام کیا۔

اس وقت بلوچستان میں پاکستان آرمی کے فرنٹیئر کور کی زیر نگرانی 113 سکولز چل رہے ہیں اور بلوچستان بھر میں تقریباً 40 ہزار طلباء ان سکولوں میں زیر تعلیم ہیں۔ بلوچستان میں نو کیڈٹ کالج ہیں جو سوئی، پشین، مستونگ، پنجگور، جعفر آباد، کوہلو، تربت، نوشکی اور آواران میں قائم کیے گئے ہیں۔ ان کیڈٹ کالجوں میں تین ہزار سے زائد طلباء زیر تعلیم ہیں، پروفیشنل تعلیم کے لئے سات جدید ترین تعلیمی منصوبوں شروع کیے جس میں کوئٹہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، ملٹری کالج سوئی، سوئی ایجوکیشن سٹی، بلوچستان پبلک سکول سوئی، بلوچستان انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن، گوادر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، اور آرمی انسٹی ٹیوٹ آف معدنیات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چمالنگ بلوچستان ایجوکیشن پروگرام (سی بی ای پی) سے 2500 سے زیادہ طلباء فارغ التحصیل چکے ہیں جبکہ 4500 سے زیادہ طلباء زیر تعلیم ہیں۔

صحت

پاکستان نیوی نے اورماڑہ میں ایک جدید ہسپتال بنا کر مقامی افراد کو بہترین صحت کا مرکز فراہم کیا، جبکہ پاک فوجی چھاؤنیوں کے ہسپتالوں اور طبی مراکز کی سہولیات کو مقامی لوگوں کے لیے ہمہ وقت مہیا کرنے کا انتظام کیا۔

خوشحال بلوچستان پروگرام کے تحت امراض قلب سینٹر کوئٹہ فعال ہو چکا ہے۔ ہسپتال میں جدید ترین طبی سہولیات بشمول جدید ترین آپریشن تھیٹرز، ایکو اور نیوکلیئر کارڈیو سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔

2016 سے اب تک سدرن کمانڈ اور فرنٹیئر کور کی جانب سے لگائے گئے 650 فری میڈیکل کیمپوں میں 60، 000 مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔ 2018 سے ٹیلی میڈیکل سینٹرز بھی کام کر رہے ہیں جو ویڈیو لنک پر دور دراز علاقوں میں طبی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ اب تک تقریباً 25000 مریض اس سہولت سے فائدہ اٹھا چکے ہیں

پاور پلانٹ

پاک فوج کی کاوشوں کی بدولت حب میں 1، 320 میگاواٹ کے کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ کی تکمیل ہوئی جو 14 اگست 2019 سے کام کر رہا ہے۔

پانی کی فراہمی

افواج پاکستان نے اپنی ذمے داری سمجھتے ہوئے چولستان کے صحرا میں متعدد غیر فعال ٹیوب ویلوں کو دوبارہ استعمال کے قابل بنا دیا ہے جس سے مقامی آبادی کو سہولت ملی ہے۔

گوادر میں ڈی سیلینیشن پلانٹ کا سنگ بنیاد رکھا۔ یہ منصوبہ مقامی آبادی کے لئے پینے کے صاف پانی کی دیرینہ طلب کو پورا کرے گا اور انہیں یومیہ 4.4 ملین گیلن پانی فراہم کرے گا جس کی پیداوار کو بڑھا کر 8.8 ملین گیلن یومیہ تک لے جایا جا سکے گا۔

مقامی افراد کی آباد کاری

قبائلی تنازعات اور بدامنی کے باعث بے گھر ہونے والوں کو فرنٹیئر کور بلوچستان (نارتھ) اور ضلعی انتظامیہ نے ضلع کوہلو کی تحصیل کاہان میں دوبارہ آباد کیا، ان خاندانوں کی تعداد تقریباً دو ہزار ہے

انفراسٹرکچر، تعلیم اور صحت کے شعبے میں تعاون کے علاوہ فوج نے تمرِ پنجگور نامی کھجور کی فارمنگ کے منصوبے میں بھی اپنا حصہ ڈالا ہے۔

ریکوڈک منصوبہ

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی قیادت میں فوج کی انتھک کوششوں سے پاکستان، ریکوڈک کیس میں 11 بلین ڈالر کے جرمانے سے بچ گیا، بعد ازاں اس منصوبے کی تشکیل نو کی گئی جس کا مقصد بلوچستان میں اس جگہ سے سونے اور تانبے کے بڑے ذخائر کی کھدائی کرنا تھا۔

ریکوڈک معاہدہ گزشتہ تین سالوں کے دوران کئی مرتبہ بات چیت کے بعد طے پایا ہے۔ ریکوڈک ممکنہ طور پر دنیا کی سب سے بڑی سونے اور تانبے کی کان ہوگی۔ یہ منصوبہ پاکستان کو قرضوں سے نجات دلانے اور ترقی و خوشحالی کے نئے دور کا آغاز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ریکوڈک، وفاقی، صوبائی حکومتوں اور بلوچستان کے عوام کے لیے گیم چینجر ثابت ہو گا۔ اس سے نہ صرف پاکستان کا سرمایہ کارانہ دوست تاثر بحال ہو گا بلکہ اس سے بڑے اقتصادی فوائد بھی حاصل ہوں گے، مقامی معدنیات کی تلاش کی صلاحیت میں اضافہ ہو گا اور اس کے نتیجے میں بلوچستان کے لوگوں کے لیے اہم سماجی و اقتصادی فروغ حاصل ہو گا۔

ریکوڈک منصوبہ تقریباً آٹھ ہزار ہنر مند اور غیر ہنر مندوں کے لیے براہ راست ملازمتوں کے مواقع پیدا کرے گا جبکہ 12000 بالواسطہ ملازمتیں پیدا ہوں گی۔

ریکوڈک منصوبے میں معدنیات کی تلاش کے نتیجے میں سی پیک کے راستے اور بندرگاہوں کو بھی فعال کرنے میں مدد ملے گی: درآمد / برآمد اور مواد کی نقل و حمل جیسی سرگرمیاں بھی بڑھیں گی۔

اس منصوبے میں نئے انفراسٹرکچر کی ترقی بشمول تجارتی راستوں، بہتر مواصلات اور تجارتی راہداریوں میں منصوبوں کے فوائد شامل ہیں۔

سی پیک کی سیکیورٹی

چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) جیسے منصوبوں سے پاکستان کے چین کے ساتھ تعلقات گزشتہ برسوں میں گہرے ہوئے ہیں۔ ان مضبوط تعلقات کے لیے اہم کردار پاک فوج نے آرمی چیف جنرل باجوہ کی قیادت میں ادا کیا ہے جس کے تحت پاک فوج کی جانب سے سی پیک اور چینی حکام کو فراہم کردہ سیکیورٹی کو یقینی بنایا گیا۔

گیا۔

فوج نے غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں اور دشمنوں کی جانب سے سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔ جس کے نتیجے میں چین کے وزیر برائے قومی دفاع جنرل وی فینگے نے علاقائی امن اور سی پیک منصوبوں کے لیے محفوظ ماحول کی فراہمی کے لیے پاک فوج کی مخلصانہ کوششوں کو سراہا۔

چمالنگ کوئلے کی کانوں کو سیکیورٹی فراہم کرنا، سی پیک کے راستوں کے تحفظ کے لیے خصوصی سیکیورٹی ڈویژن کا قیام، سی پیک کے لیے سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو تیار کرنا اور انتہائی ضروری ڈیموں کی ترقی اور تعمیر میں حکومت کی مدد کرنا پاک فوج کے نمایاں اقدامات ہیں۔

اس کے علاوہ شمالی پاکستان میں اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن کی کاوشیں بھی قابل ستائش ہیں کیونکہ اس سے سی پیک کے منصوبوں کو مدد ملی ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments