دم نامہ: جو دم ہوتی تو کیا ہوتا؟


انسان کی تخلیق احسن تقویم پر ہے مگر انسان نے دوسروں سے الگ دکھنے کے شوق پال رکھے ہیں۔ تقریبات، ٹیلنٹ اور فیشن شوز میں خواتین و حضرات خاصے مضحکہ خیز روپ دھارے ملتے ہیں۔ کم لباسی سے لے کر اعضائے حیوانات مثلاً سینگ، پر اور دم وغیرہ کی جسد انسانی پر تنصیب سے حظ اٹھا کر سراہا جاتا ہے۔ سوچتا ہوں کہ ہمارے معمولات، ملبوسات، ماکولات اور مشروبات میں شامل ان گنت خرافات کی مثل کسی رول ماڈل کی دم لگی تصویر دیکھ کر کچھ جدت پسند دم کو لباس کا حصہ بنا لیں تو کیا تماشا ہو؟

یوں جدت پسندی، لبرل ازم اور فضول خرچیوں میں جو کسر باقی تھی، پوری ہو۔ فیشن کے ضمن میں ہزاروں اشیائے غیر ضروریہ میں اک مزید آئٹم کا اضافہ ہو اور ممالک ٹیل انڈسٹری کے ذریعے کثیر زر مبادلہ حاصل کریں۔ دموں کے بے شمار برانڈز بازار سے بارعایت دستیاب ہوں اور کسٹمر کافی شاپ کی طرح ٹیل سنٹرز پر معیاری دموں کی خریداری کے لئے قطاروں میں کھڑے نظر آئیں۔ سونے، چاندی اور لیدر کی دمیں قیمتی تصور ہوں گی جبکہ پلاسٹک اور کپڑے کی دم دوسرے درجے کی ہوگی۔ ایسے میں دموں کو لباس پر نصب کرنے کے لئے، ٹیل پارلرز، کھلیں گے جس سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔

ہر ایک اپنے مالی و سماجی سٹیٹس کے شایان شان دم لگوا کر سوشل میڈیا پر شیخی بگھار سکے گا۔ متمول حضرات جرمنی، فرانس اور جاپان سے دمیں منگوائیں گے جبکہ سفید پوش چائنا اور مقامی دموں پر اکتفا کریں گے۔ اتنی مہنگائی میں غرباء محض انکم سکیموں، ہیلتھ کارڈز یا خیرات سے ہی ان دموں سے مستفید ہو پائیں گے۔ فیملی چیفس، وڈیرے، سلیبریٹیز، سول و ملٹری بیوروکریٹس، وزراء، وکلاء اور ججز کی دموں کا پر شکوہ اور دبنگ ہونا لازم ٹھہرے گا جن کی دیکھ بھال کے لئے سرکاری خزانے سے لاکھوں روپے مختص کیے جائیں گے۔

اور انہیں ٹیلز ٹیکس سے بھی استثنا حاصل ہو گا۔ پھر سربراہان حکومت کو توشہ خانوں کے لئے دوست ممالک سے انتہائی قیمتی دموں کے تحائف ملا کریں گے۔ عرب شاہوں کی دمیں تو سونے اور ہیروں سے لدی ہوں گی۔ بادشاہوں کی منقش و مزین دموں کو درباری اٹھا کر چلیں گے۔ قومی مزاج کے مطابق دیکھا دیکھی غریب بھی دم پروری میں پیچھے نہ ہوں گے اور لنڈے بازار سے دمیں گھر میں لائیں گے تاہم دموں کی تزئین و آرائش اور رنگائی کے اخراجات سے دل برداشتہ ہو کر چنداں خود ہی دم کٹوا لیں گے۔

معاشی بدحالی کے پیش نظر حسیناؤں میں دم کی مہنگائی کے چرچے بھی ہوں گے۔ شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں دموں کے تحائف کا تبادلہ رشتوں کی مضبوطی کی ضمانت ہو گا۔ کمزور دموں کو فربہ بنانے کے بیسیوں ٹوٹکے اور دوا خانوں کے پتے بھی دیواروں پر لکھے ملیں گے۔ مستزاد یہ کہ دم، باڈی لینگوئج کو پرکھنے کا اک مستند معیار سمجھا جا سکے گا۔ اظہار محبت کے لئے دم ہلانا اور دم کھڑی کرنا نفرت کی علامت ہو گا۔ دم لٹک جانا مصائب کی نشانی جب کہ دم لٹکا لٹکا کر چلنا محبوب کے غمزوں کا غماز ہو گا اور عشاق ان دموں کو سہلاتے اور نخرے اٹھا کر کہہ اٹھتے۔

دم پھڑکنے کا سبب یاد آیا وہ تیری یاد تھی اب یاد آیا

عالمی مقابلہ حسن میں بھی خوب صورت دموں کے اضافی پوائنٹ ملا کریں گے۔ مزید براں دل جلے دیوار پھلانگنے کے لئے دم کو بطور کمند برت سکیں گے۔ مگر معشوقوں کی دموں کے لئے شعراء کچھ ایسے کہیں گے،

نازکی اس کی دم کی کیا کہئیے پھلجڑی اک، کمال کی سی ہے

گویا دل کی کیفیات کا دم پر سیدھا اثر ہو گا۔ اگر کوئی گھر والوں کے لئے کلنک کا ٹیکہ بنا تو اسے ناک کے ساتھ ساتھ خاندان کی دم کٹوانے کا ذمہ دار بھی سمجھا جائے گا اور دم بریدگی کے موجب لنڈورا کہلائے گا۔ حادثات میں دم کٹ جانے پر ، افسوسیوں، کو تعزیت کی خاطر اک اور رسم دستیاب ہو جائے گی۔ جرائم پیشہ افراد کی پولیس مقابلوں میں دم پر گولی لگنے سے ہلاکت کی سرخیاں چھپیں گی۔ رقیبوں سے پھینٹی کے دوران دم کٹ جانے کا نوحہ ایسے لکھا جاتا،

دم کے کٹنے کا سبب پوچھو نہ سب کے سامنے نام آئے گا تمہارا یہ کہانی پھر سہی
بڑے بڑے سورمے مونچھوں کے ساتھ دم کو بھی تاؤ دیے رکھیں گے۔ عادل لکھنوی دم کا تعارف یوں کراتے ہیں،
جو لمبی دم ہے وہ عالی صفات ہوتی ہے جو مختصر ہے بڑی واہیات ہوتی ہے

موٹیویشنل لوگ خودی کے ہمراہ دم کو بھی بلند رکھنے پر زور دیا کرتے۔ پھر کہیں کسی کی دم پر پاؤں رکھ دیا جاتا تو کہیں کوئی دم دبا کر چمپت ہوتا۔ سیاسی انتقاموں اور دم شکنی کے باعث جلسوں میں یہ مصرع زبان زد عام ہوتا کہ، چلی ہے رسم کہ کوئی نہ دم اٹھا کے چلے، ۔ آخری دم تک لڑنے کے عزم بھی سنے جاتے اور دم کا عالمی دن بھی منایا جاتا۔ پارلیمنٹ میں کسی بل کی منظوری کے لیے دم کھڑی کرنا، ہاں، اور گرا دینا، ناں، کی علامت ہوا کرتا۔ بھارت میں تو اس پر تعجب ہرگز نہ ہوتا کیونکہ وہاں ہنو مان جی کی دم باعث صد افتخار اور مجسموں کے جملہ اعضاء کا کھلے بندوں اور بندیوں درشن باعث ثواب ہے۔ بیالوجی میں بھی ڈی این اے کے میسینجر آر این اے کا ، ٹیل، سے گہرا سمبندھ ہے۔ یقیناً اپنے تابناک ماضی پر نازاں شعرا ء ایسے لکھا کرتے،

کہنے لگا او دیکھ کے چل راہ بے خبر میں بھی کبھو کسو کی دم پر غرور تھی
صد شکر کہ تا حال یہ انقلاب برپا نہ ہوا ہے اور دعا ہے کہ انسانیت اس جدت و اختراع سے محفوظ رہے۔

Facebook Comments HS