جمہوری روایات اور پاکستان کی حالت زار


دنیا میں اس وقت زیادہ تر جمہوری نظام رائج ہے، اگرچہ اس کی صورتیں مختلف ہیں، مگر اس کی بنیاد یکساں ہے۔ ہر ملک نے اپنے اعتبار سے اس کا ڈھانچہ تیار کر رکھا ہے۔ اقوام متحدہ جمہوریت کی تعریف یوں کرتی ہے کہ جمہوریت خود کوئی منزل نہیں، کہ جسے پا لینے کے بعد مقصد پورا ہو جائے بلکہ جمہوریت ایک مسلسل سفر کا نام ہے، جو افراد، اقوام اور ریاستوں کو معاشی اور سماجی ترقی کی راہ پر لے چلتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بنیادی انسانی حقوق اور ان کی آزادی کا احترام کرتا ہے۔ اس کی ضرورت بھی اسی لیے محسوس کی گئی کہ کسی فتنے، فساد، نقصان یا حق سلبی کے بغیر انتقال اقتدار ممکن ہو سکے۔

پاکستان میں ہر سیاسی جماعت خود کو جمہوریت کی علمبردار کہتی ہے، اس کے لیے دی گئی اپنی قربانیوں کو فخر سے پیش کرتی ہے، بلکہ اسے ریاست پاکستان کی بقا کے لیے ضروری قرار دیا جاتا ہے۔ مگر کیا اس ملک میں کبھی جمہوریت نظر آئی ہے؟ کیا کبھی سیاسی پارٹیوں میں جمہوریت نظر آئی ہے؟ کیا کہیں شرافت کی سیاست ہوتی نظر آتی ہے؟ یا یہاں کسی سیاسی جماعت میں ملک کی بقا کے لیے فکر مندی نظر آتی ہے؟ بلکہ یہاں تو حصول اقتدار کے لیے ریاست اور ریاستی اداروں کا مذاق بنا دیا جاتا ہے۔ انسانیت کا تمسخر اڑایا جاتا ہے، تذلیل کی جاتی ہے، انتقام لیا جاتا ہے۔ حالاں کہ یہ تو جمہوری اصولوں کے ہی خلاف ہے۔

جمہوریت تو اجتماعیت کا نام ہے کہ جسے قوم منتخب کرے، وہ دوسروں کو ساتھ ملا کر قوم کی فلاح اور ترقی کا کام کرے۔ مگر یہاں تو جمہوریت کو ایک دوسرے کا راستہ روکنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، سازشیں اور پراپیگنڈا کرنے کے طور استعمال کیا جاتا ہے۔ اپوزیشن کو دباؤ میں لا کر یا جیلوں میں ڈال کر چپ کروانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اقتدار میں ہوتے ہوئے خود کو ہر قانون سے بالاتر سمجھا جاتا ہے۔ اور جب کہیں پھنس جائیں تو بیرونی آقاؤں کو شکایتیں لگائی جاتی ہیں، ان سے مدد مانگی جاتی ہے، یہی کل ملا کے ہماری جمہوریت ہے۔

جمہوری سیاست اختلافات کے باوجود بقائے باہمی کے آداب کا نام ہے۔ ہر پارٹی یا ہر امیدوار اپنی کارکردگی، اپنا شفاف ماضی اور صاف دامن کو دلیل بنا کر مستقبل کے پختہ عزائم کے ساتھ ووٹ مانگتیں ہیں، نہ کہ فقط دوسرے کے عیب گنوا کر یا اس کی تذلیل و تحقیر اور جھوٹے پراپیگنڈے کے ذریعے ووٹ حاصل کیے جائیں۔ پاکستان میں الیکشن کے دنوں میں جو کچھ جمہوریت نظر آتی تھی، اب تو وہ بھی مذاق بن کر رہ گئی ہے۔ حکومت اسی کی بنتی جس کے تعلقات اسٹیبلشمنٹ سے استوار ہو جائیں، اسٹیبلشمنٹ خود سچے یا جھوٹے کیس بنا کر، ثبوت فراہم کر کے مخالف کو زیر کرنے کا ماحول بناتی ہے، اپنی مرضی کا فیصلہ کروانے کے لیے دباؤ ڈالتی ہے، سیاست دان صرف ایک دوسرے کے خلاف جلسے کرنے اور کارکن نعرہ بازی کے کام آتے ہیں۔

باری باری مختلف لوگ آتے ہیں، اپنے حساب کا کھاتے، کھلاتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ اگلی دفعہ کوئی نئی پارٹی اسی طریقے پر آتی ہے، اور یہی کام کرتی ہے۔ مگر اس سارے کھیل میں اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ مکمل فائدے میں اور پبلک مکمل نقصان میں رہتی ہے۔ سیاست دان کبھی آر تو کبھی پار۔

پاکستان کو اس وقت انتہائی تشویشناک صورت حال کا سامنا ہے۔ ایک طرف خالی خزانہ تو دوسری طرف آئی ایم ایف کی کڑی شرائط، ایک طرف غیر یقینی سیاسی صورت حال تو دوسری طرف مہنگائی کا طوفان، ایک طرف عدالتوں میں بکتا انصاف جو اب اپنا وقار تک کھو چکی ہیں، تو دوسری طرف سیکیورٹی ادارے جو اپنی حیثیت ہی کھو چکے ہیں۔ گویا معاشی، سیاسی اور سماجی ہر قسم کا بحران اپنے عروج پر ہیں مگر ہمارے جمہوری حکمران اپنی اپنی انا لیے بیٹھے ہیں۔ سب سے بڑھ کر جاہل عوام جو اپنے اپنے سورماؤں کو دیوتا بنا کے بیٹھی ہے۔ نہ آج کا غم اور نہ کل کی فکر۔ بس ان کا پسندیدہ شخص حاکم بننا چاہیے۔

اسلام کا نظام سیاست ایسی تمام برائیوں سے پاک ہے۔ جہاں سربراہ منتخب کرنے اختیار عوام کو نہیں دیا جاتا کیونکہ وہ اس معاملے میں بالکل نابلد ہوتے ہیں، لگی لگائی باتوں میں آ جاتے ہیں، بلکہ وہاں زعما کی ایک کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے، جو اہل شخص کا انتخاب کر کے اسے سربراہ مقرر کرتی ہے۔ جہاں طاقت کا مرکز ایک ادارہ یا شخص نہیں ہوتا، جہاں قاضی اپنے فیصلوں کے لیے ”آرڈر“ کے محتاج نہیں ہوتا، جہاں کسی ایک پارٹی کے ہر اچھے برے فیصلہ کو قوم پر مسلط نہیں کیا جاسکتا، جہاں اندرونی فیصلے بیرونی آقاؤں کے مرضی پر نہیں ہوتے۔

پاکستان کو اگر ایسے حالات سے نکلنا ہے تو ایسے ہی نظام کی ضرورت ہے جو کسی دباؤ کا شکار نہ ہو، جہاں کوئی ایک مقدس گائے نہ ہو، جہاں عدالت کسی کی لونڈی کا کردار ادا نہ کرے، جہاں امیر اور غریب کے لیے الگ الگ قانون نہ ہو۔ یہی نظام کسی بھی ریاست کی بقا اور ترقی کا ضامن ہو سکتا ہے۔

Facebook Comments HS