مریم عرفان کا راج ہنس ( افسانے )


تاثرات:: راشد جاوید احمد

اردو زبان و ادب میں خواتین کی خدمات سے چشم پوشی زیادتی ہوگی جو ان کی سیاسی اور سماجی بصیرت، علمی شغف اور شعور کی پختگی کا بین ثبوت ہے۔ خواتین افسانہ نگاروں نے عورت کے جذبات، احساسات اور جذبٔہ ایثار کو ہمیشہ بڑی چابکدستی اور فن کاری سے پیش کیا ہے۔ ان کا مقصد محض اپنی نمائندگی نہیں بلکہ عصری تقاضوں کے تحت سماج کو سجانے، سنوارنے اور نا برابری کے خاتمے کا جذبہ بھی کار فرماں رہا ہے۔ مریم عرفان انہی افسانہ نگاروں میں ایک اہم نام ہے۔

” راج ہنس“ مریم عرفان کے 12 افسانوں کا مجموعہ ہے۔ ایک اچھا افسانہ نگار اپنے ارد گرد کے ماحول اور سماجی شعور کے ساتھ آفاقی بصیرت کو اپنی ہنر کاری سے مزین کرتا ہے تو اعلی ادب تخلیق ہوتا ہے۔ اس مجموعے کے افسانوں میں مجھے مریم عرفان کا سماج کے بارے میں گہرا مشاہدہ نظر آیا جسے انہوں نے جست بیانیے، منظر نگاری اور کردار نگاری سے مرصع کیا ہے۔ یہ گویا جزئیات نگاری اور مشاہدے کی گہرائی میں فنی تخلیق کی خوبصورت آمیزش ہے۔

وحدت تاثر میں لکھی ہوئی یہ کہانیاں، تسلسل کی روانی لیے ہوئے ہیں اور زندگی کے تلخ حقائق اور معاشرے کی دکھتی رگوں کا نوحہ ہیں لیکن ساتھ ہی ایک جمالیاتی احساس بھی رکھتی ہیں۔

اچھے فکشن نگار کے حوالے سے میں نے جینڈر کی کبھی تخصیص نہیں کی لیکن خواتین افسانہ نگاروں پر اکثر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ معاشرتی حالات سے پیوستہ عورت کی مخصوص کیفیات کو موضوع بناتی ہیں۔ مجھے مریم عرفان کے ان افسانوں میں عورت کے علاوہ مرد کی نفسیات پر بھی کھل کر لکھی کہانیاں پڑھنے کو ملی ہیں۔ جیسے کہ۔ ”نارنگ“ ، ”بد معاش“ اور ”بونے“ ۔ یہ افسانے مریم عرفان کے تخلیق کردہ کرداروں کی ذات میں بپا ہونے والے طوفانوں کا نفسیاتی مطالعہ ہے۔

یہ ارضی کردار، ٹیڑھے، بھدے اور کہیں کرخت، اتنے حقیقی ہیں کہ افسانہ نگار کو تخلیق نہیں کرنے پڑے اور شاید نام دینے کی ضرورت بھی محسوس نہ ہوئی ہوگی۔ ان کرداروں کی خوبی یہ ہے کہ وہ زندہ کردار ہیں اور نہ صرف ایک فرد کو بلکہ سماج کے ایک طبقے کو معاشرے کی بے حسی سمیت بیان کرتے ہیں۔ ”ایمو جولاہی“ ہو یا ”نغمہ اور سلطان“ ہوں یا ”بدر الدین کی بد معاش ماں“ ہو، یہ فرد ہوتے ہوئے اپنے طبقے کی نمائندگی کرتے نظر آتے ہیں۔

مریم عرفان کے ان افسانوں میں خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے ہر طبقے کے لوگ ہیں جن کی زندگیاں پریشانیوں، بھوک، غم، درد اور تلخیوں سے عبارت ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ اس طبقے کی زندگی کرنے کی ہمت اور ہمت سے جڑی درندگی کو کمال فنی پختگی سے ظاہر کیا گیا ہے۔ ان افسانوں میں معاشرے کی فرسودہ اقدار، فضول ترین روایات اور اپنی خاطر دوسروں کی زندگی تباہ کرنے والوں کی مکمل عکاسی ہے اور درپردہ ان کے خلاف ایک چارج شیٹ ہے۔ بھوک، بے بسی، غربت، تعفن زدہ ماحول اور کہیں کہیں سوگوار فضا کے باوجود یہ افسانے بوجھل نہیں ہیں۔ جیسے کہ ”کانجی“ ، ”رانی کھیت“ اور ”ہوک“

” ہوک“ میں چرخے کا ایسا استعارہ بنا گیا ہے کہ اس سے پہلے کم از کم میں نے تو کہیں نہیں پڑھا۔ یہاں چرخہ بھی ایک انسانی کردار کی شکل میں ڈھل گیا ہے۔ معلوم نہیں اس مشینی دور میں گاؤں میں اب چرخہ کاتنے کا رواج ہے کہ نہیں لیکن اگر چرخہ کاتنے والی بیبیاں اس کہانی کو پڑھ سکیں تو انہیں چرخے کے نئے معنی نظر آئیں۔

افسانوں کی زبان نہایت عام فہم اور سادہ ہے اور اور اس سادگی کے بھیتر کئی سوال جواب پوشیدہ ہیں۔ افسانہ نگار نے، بہت سے دوسروں کی طرح کسی وعظ و عیظ کا سہارا نہیں لیا۔ قاری افسانہ پڑھ کر، اس میں چھپی بات کو خود ہی سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اور اسے ظالم اور مظلوم کا فرق پتہ چلتا ہے۔

مکالموں اور فقروں کا درو بست انتہائی قدرتی ہے یعنی اس میں شعوری کوشش شامل نہیں۔ نادر اور نایاب تشبیہات بھی پڑھنے کو ملتی ہیں۔

” ترش انار کی سی جوانی۔
تیزابیت کی طرح بڑھتا غصہ۔
غربت کے کھٹے ڈکار۔
شیر کی کچھار میں گھس کر شکار کرنے والی عورت۔

اس کتاب کے علاوہ بھی میں نے مریم عرفان کے کچھ اور افسانے پڑھے ہیں جیسے کہ، ”سوتیلی“ ، ”ڈاک بابو“ ، دھوبی گھاٹ ”،“ ایک تھی جولی ”اور“ جادوگرنی ”۔ معلوم نہیں انہیں کتاب میں جگہ کیوں نہیں ملی۔ شاید یہ کتاب کے بعد کے افسانے ہوں۔

میں نقاد نہیں ہوں۔ ادب کا ایک قاری ہوں۔ میں نے ان افسانوں کو اسی نظر سے پڑھا ہے اور مجھے یہ محسوس ہوا ہے کہ ان افسانوں میں حقائق سچائی سے پیش کیے گئے ہیں۔ کرداروں کے انفرادی اور متغیر خد و خال اس انداز سے سامنے آئے ہیں کہ ان کے طبقاتی ماحول کا ادراک بھی ہوتا ہے۔ اسلوب ایسا ہے کہ پڑھنے والا انگیج ہوئے بغیر رہ نہیں پاتا۔

افسانہ ”راج ہنس“ جس پر اس مجموعے کا نام رکھا گیا ہے، مجھے کافی کمزور افسانہ لگا ہے۔

آج افسانے کی لگی بندھی تعریف نہیں رہی اور لکھاری کے پاس نئے موضوعات ڈھونڈنے کی کافی گنجائش ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سوشل مسائل کے علاوہ سماجی اور ریاستی ابتری کے حوالے سے بھی افسانہ نگار قلم کو تکلیف دی جائے۔

کتاب اجوک پبلی کیشنز، لاہور نے شائع کی ہے۔ رابطہ کے لیے 03361483080

Facebook Comments HS