نیو لبرل اکانومی کے بنیادی ستون ( 1 )


امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے بقول ”کاشت کار اور محنت کش قوت کاسبہ ہیں، جو لوگ سماج کی پیداوار میں شراکت دار نہیں ہیں سماج پر ان کا کوئی حق نہیں ہے“

شاہ ولی اللہ کے محقق شاگرد اور سب سے مستند شارح امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھی کے بقول ”سوشلزم میں ہمارے امام شاہ ولی اللہ ہیں، جو فلسفہ و اکنامکس میں عالی رتبہ ہیں“ ۔

شاہ ولی اللہ کے تصور فطرت انسانیہ کے مطابق فطرت اللہ کا عکس انسانی فطرت میں تمام سماجی حرکات و انقلابات کی بنیادوں میں کارفرما عنصر ہے اور تاریخ انسانی کے تمام انقلابات کی وجہ انسانی فطرت کا خوب سے خوب تر کا وصف ہے۔ حب جمال کے وصف کے تحت جب انسان نے غیر شعوری قدیم اشتراکی سماج قائم کیا اور پھر آئے دن تاریخ کے اوراق پلٹتا چلا گیا۔ فکری و شعوری ارتقاء کے ساتھ انسان سیاسی، معاشی و سماجی ارتقاء کے مراحل عبور کرتا چلا گیا۔

انسان نے جہاں ایک طرف سیاسی میدان میں قبائلی نظام سے لے کر جدید جمہوری نظام قائم کیا وہیں آلات کو ترقی دے کر حجری و قدیم حجری دور سے لے کر صنعتی انقلاب برپا کیا اور اس کے نتیجے کے طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کا انقلاب برپا ہوا۔ آلات پیداوار کے بننے یا ایک طبقے سے دوسرے طبقے کو منتقل ہونے سے جو تبدیلیاں پیدا ہوتی رہیں وہ انسانی سماج کو جدید دور میں لے آئیں۔ پیداواری رشتوں پر اثرات پڑے اور اور سماجی ڈھانچے ٹوٹتے اور بنتے رہے۔

مخصوص سماجی ڈھانچے نے مخصوص نظریات و عقائد کو جنم دیا۔ سیاسی، مذہبی و سماجی نظریات میں تبدیلیاں برپا ہوئیں۔ یہاں تک کہ انسان نے جدید سیکولر، ڈیموکریٹک ریاست قائم کر لی لیکن یورپ میں تحریک احیائے علوم کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سائنسی انقلاب نے صنعتی انقلاب کو جنم دیا، صنعتی انقلاب نے ملٹری ازم، اور جمہوری انقلاب کو جنم دیا۔ انسانیت بظاہر ترقی کی منازل طے کر رہی تھی لیکن درحقیقت صنعتی انقلاب پر یورپ کے سرمایہ دار طبقے کے قبضے نے انسانیت کو ایک نئی طبقاتی جنگ میں دھکیل دیا۔

بظاہر جاگیردار اور کسان کا رشتہ ٹوٹنے کا عمل فرسودہ جاگیرداریت پر کاری ضرب تھی لیکن اس کے مقابلے میں ایک بار پھر غیر متوازی رشتہ وجود میں آیا جسے سرمایہ دار اور مزدور کا نام ملا۔ یوں سرمایہ داری نظام کی بنیاد پڑی۔ ذرائع پیداوار پر سرمایہ دار طبقے کا قبضہ قائم ہوا اور لامحدود نجی ملکیت کا رواج پروان چڑھا، دولت مرتکز ہونا شروع ہوئی۔ منڈی کی معیشت کے تصور نے جنم لیا۔ لیسز فیئر پرنسپل کے تحت ریاست کے اختیارات محدود کر کے منڈی کی طاقتوں کو آزاد کرنے کے تصورات کی ترویج کی گئی۔ 1776 ء میں مشہور اکانومسٹ ایڈم سمتھ نے اپنی کتاب دا ویلتھ آف نیشنز لکھی اور تصور دیا کہ؛

مارکیٹس کو ایک خفیہ ہاتھ چلاتا ہے اس لیے اس میں گورنمنٹ کا دخل کم سے کم ہونا چاہیے۔
ہمارا موضوع بحث نیو لبرل اکانومی کی سمجھ پیدا کرنا ہے کہ؛
نیو لبرل ازم کیا ہے؟
نیو لبرل اکانومی کا تصور کیسے کام کرتا ہے؟
نیو لبرل اکانومی کے بنیادی ستون کون سے ہیں؟

نیو لبرل ازم:

نیو لبرل ازم ایک ایسا تصور یا ماڈل ہے جو فری مارکیٹ/آزاد منڈی کی معیشت پر یقین رکھتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے۔

نیولبرل ازم کے بنیادی اصول:
1۔ آزاد منڈی
2۔ آزاد تجارت
3۔ سماجی و معاشی سرگرمیوں میں ریاست کی عدم مداخلت یا کم سے کم مداخلت

اکنامکس کی زبان میں اس معاشی ماڈل کا بنیادی اصول ”لیسز فئیر پرنسپل“ کہلاتا ہے۔ منڈی کی قوتوں کی آزادی کا مطلب پروڈکشن اینڈ کنزمپشن آف ویلتھ میں مارکیٹ کی قوتوں کو آزادی ہونی چاہیے۔ ان دونوں سرگرمیوں کا تعلق ریگولیشن کے ساتھ ہے جس سے مراد معاشی سرگرمیوں (پروڈکشن اور کنزمپشن آف ویلتھ) کے لیے قانون سازی اور ان تمام سرگرمیوں پر چیک اینڈ بیلنس رکھنا، یعنی مارکیٹ کی قوتوں کو نہ صرف کاروبار و تجارت کی آزادی رہنی چاہیے بلکہ وہ ریگولیٹری اتھارٹی بھی ہونی چاہئیں۔

معیشت کسی بھی سماج کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ جس قوت کا معیشت پر قبضہ ہو گا اس کا زندگی کے ہر شعبہ پر اثر و رسوخ ہو گا۔ اس طرح مارکیٹ فورسز ہر شعبہ ہائے زندگی کو کنٹرول کرنے لگتی ہیں۔ چونکہ منڈی کی قوتیں کاروبار کی بڑھوتری اور ترقی کو مقابلے سے منسوب کرتی ہیں اس لیے فری مارکیٹ اکانومی کی طرف بڑھنا ان کا ہدف ہے کہ جس میں آزاد مسابقت ہو اور ہر فرد اس مسابقت میں شریک ہو سکے اور جتنا چاہے ترقی کر سکے۔ بظاہر تو آزادی، آزاد منڈی، آزاد مسابقت بہت خوشنما اور دلچسپ باتیں ہیں لیکن بادی النظر میں آزادی سے مراد سرمایہ داروں کو کاروبار کی آزادی اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کو تمام تر پابندیوں اور قانونی روک تھام سے آزاد کرنے کا نام ہے۔ آزاد منڈی سرمایہ داروں کا اکھاڑہ ہے جس میں بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلیوں کو ہڑپ کر جاتی ہیں۔ اور آزاد مسابقت سے مراد مزدوروں کو کسی قسم کا قانونی تحفظ یا طاقت حاصل نہ ہو۔ آزاد منڈی درحقیقت سرمایہ داریت ہی ہے جس کی بدترین شکل مالیاتی ادارے اور ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں۔

نیو لبرل ازم کے اہم نکات:

نیو لبرل ازم ایک معاشی فلسفہ ہے جس کا لازمی نتیجہ فری مارکیٹس، سرمایہ داری اور گورنمنٹ کی ملکیت کا خاتمہ ہے۔

1۔ نجکاری یا پرائیویٹائزیشن

نجکاری سے مراد ریاست کے ملکیتی اداروں اور کاروبار کو پرائیویٹ سیکٹر کو بیچ دینا ہے جس میں بینکس، ٹرانسپورٹیشن سروسز، یوٹیلٹی کمپنیاں، صحت کے ادارے اور تعلیمی ادارے شامل ہیں۔ نیو لبرل اکانومی کے تصور کی رو سے نجکاری کا بظاہر مقصد کاروبار میں بہتری اور صحت مندانہ مسابقت کو جنم دینا ہے۔ تاہم نجکاری کے نتیجے میں دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں ہوتا ہے اور سروسز حاصل کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ کیونکہ نجکاری کا مقصد منافع کا حصول ہے نہ کہ عوامی فلاح و بہبود۔

دنیا بھر میں پھیلی یورپ و امریکہ کی نجی کمپنیاں (نیسلے، شیل، ایپل، مائیکرو سافٹ وغیرہ) اس کی بہترین مثالیں ہیں۔ تیسری دنیا کی پسماندہ اور عالمی مالیاتی اداروں کے استحصال کا شکار معیشتوں میں عالمی کمپنیوں اور مقامی سرمایہ داروں کے ذریعے سیاسی حکومتوں کو کمزور کرنا اور عدم استحکام سے دوچار رکھنا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں پرائیویٹ کمپنیاں اپنی مالی مفادات حاصل کرنے کے لیے حکومتوں پر مسلسل دباؤ بڑھا کر من مانی پالیسیاں اور قوانین بنواتی ہیں۔

2۔ ڈی ریگولیشن

ڈی ریگولیشن سے مراد تجارت، ٹیکس کا نظام یا دیگر معاشی سرگرمیوں پر ریاست/حکومت کا کنٹرول کم سے کم کرنا ہے۔ یہ کمپنیوں کو مارکیٹ میں اجناس کی پیداوار کو گھٹانے، بڑھانے یا اجناس کی قیمتوں کا تعین کرنے کی کھلی چھوٹ دیتا ہے جس سے وہ زیادہ سے زیادہ منافع کما سکیں۔ اس کی واضح مثالیں پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کا کاروبار کرنے والی کمپنیوں اور شوگر مل مالکان کی من مانی کے نتیجے میں قیمتوں کی بڑھوتری ہے۔ درحقیقت مارکیٹ فورسز طلب اور رسد (ڈیمانڈ اینڈ سپلائی) کے اصول پر کام کرتی ہیں اور اشیاء/اجناس کی قدر اصل میں کمی بیشی کیے بغیر محض منافع کے حصول کے لیے مارکیٹ میں مصنوعی طلب پیدا کرتی ہیں۔ اس اصول کے تحت ملٹی نیشنل کمپنیاں دنیا بھر میں ادویات، اشیائے خورد و نوش اور پٹرولیم مصنوعات کے کاروبار میں خود ساختہ رکاوٹیں پیدا کر کے مصنوعی ڈیمانڈ پیدا کرواتی ہیں اور منہ مانگا منافع وصول کرتی ہیں۔

3۔ آزاد تجارت

آزاد منڈیوں نے گلوبلائزیشن، انویسٹمنٹ اور آزاد تجارت کو جنم دیا ہے۔ یہاں گلوبلائزیشن سے مراد ملٹی نیشنل کمپنیوں کی بین البراعظمی تجارت اور آزاد نقل و حرکت ہے جس سے سرمایہ محض چند کمپنیوں کی مٹھی میں ہوتا ہے اور وہ اپنی مرضی سے (عوام الناس کی فلاح و بہبود سے قطع نظر) جہاں چاہیں لے جائیں۔ ایک کمپنی کو اگر ایک ملک میں مزدور مہنگا مل رہا ہے تو وہ اپنی مرضی سے اپنا پروجیکٹ (پروڈکشن کاسٹ) کو کم کرنے کے لیے کسی بھی دوسری ایسی جگہ لے کے جا سکتی ہے جہاں اسے سستا مزدور ملے اور (کیپیٹل کاسٹ) کم سے کم ہو تا کہ منافع کی شرح کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جا سکے۔

اس کی واضح مثالیں پاکستان و بھارت میں (ریموٹ) کام کرنے والی یورپین و امریکن ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں جو یورپ و امریکہ میں بے روزگاری سے قطع نظر پاکستان و بھارت سے کم اجرت لینے والا مزدور تلاش کرتی ہیں۔ بظاہر تیسری دنیا کے ترقی پذیر ملکوں کے نوجوان بے روزگاری میں پسنے کی وجہ سے اس طرح کی جابز کو نعمت سے کم نہیں سمجھتے لیکن درحقیقت وہ اس حقیقت سے آشنا نہیں ہیں کہ ان سروسز کے بدلے عالمی معیار کے مطابق کمپنی کو مزدور کو کتنی تنخواہ دینی چاہیے۔ اس کی بڑی وجہ تیسری دنیا کے ممالک میں لیبر لاز یا ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے قوانین کا نہ ہونا ہے اور دوسری بڑی وجہ یہاں پھیلی ہوئی بے جا بے روزگاری اور اوبجیکٹیو لیس اور نان ٹیکنیکل تعلیم ہے۔

4۔ عوام کے اخراجات کو کم کرنا

کسی بھی ریاست میں حکومت کے سب سے زیادہ اخراجات صحت، تعلیم یا انفراسٹرکچر کی تعمیر و ترقی پر لگتے ہیں۔ ترقی یافتہ معاشرے کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ سب اخراجات اسی مد میں کرتا ہے۔ ان اخراجات کو کم کرنے کی صورت میں عوام صحت و تعلیم جیسی بنیادی سہولیات سے محروم رہ جاتے ہیں اور انھیں یہ سروسز مہنگے داموں خریدنی پڑتی ہیں اور پھر ان سروسز کی آڑ میں فارماسیوٹیکل کمپنیاں، تعلیم کے نام پر کام کرنے والے ادارے اور این۔ جی۔ اوز عوام سے بھاری رقوم وصول کرتی ہیں اور ریاست خاموش تماشائی بنی نیرو کی طرح بانسری بجاتی رہتی ہے۔

پاکستان میں ایلیٹ طبقے کے لیے بنے ہوئے معیاری تعلیم و صحت کے ادارے بہتر سہولیات کے نام پر عوام سے ایسے ہی رقوم بٹورتے ہیں۔ سرمایہ داری نظام میں کمپنیاں نجکاری کے اصول پر چلتے ہوئے عوامی اخراجات کو کم سے کم کرتی ہیں اور عوامی فلاح و بہبود جلسوں میں کی جانے والی تقریروں اور کتابی باتوں تک محدود ہو جاتی ہے۔ درج بالا سطور میں نیو لبرل اکانومی کی ان خصوصیات کو سمجھنے کے بعد ہمارے معاشرے میں ہونے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی لوٹ کھسوٹ اور غنڈہ گردی صحیح طرح سمجھ آتی ہے۔

اگلی قسط میں بریٹن ووڈ سسٹم پر بات کی جائے گی۔

Facebook Comments HS