سیاست میں دشمنی اور ملکی صورتحال



آج یہ فیصلہ بہت مشکل ہو گیا ہے کہ ملک میں سیاست ہو رہی ہے یا ذاتی دشمنیاں۔ عناد۔ مخالفت برائے مخالفت ہو رہی ہے جس کے اظہار کے لیے سیاستدان جو زبان اور لہجہ استعمال کر رہے ہیں اسے سن کر کراہیت سی ہونے لگی ہے۔ علاوہ ذاتی اور جماعتی پروجیکشن کے سوا کوئی تعمیری بات۔ کوئی مستقبل کی منصوبہ بندی یا قوم کی کردار سازی مکمل مفقود ہے۔ اقتدار کے بھوکے سیاستدانوں کا بس ایک ہی مقصد نظر آتا ہے کہ کسی طرح حکومت کے ایوانوں پر قابض ہو کر اپنی من مانیاں کریں اور مخالفین کو برباد کر ڈالا جائے۔ ہر ایک اپنی ڈفلی اپنا راگ الاپ رہا ہے ہے اور خود کو مقدس گائے اور دوسروں کو شیطان بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

بہت افسوس ہوتا ہے یہ دیکھ کر کہ خانصاحب کے مقلدین ہوں یا نواز شریف کے شیدائی سب کے سب شدید پرسنیلٹی ورشپ سنڈروم کا شکار ہیں۔ اپنے اپنے لیڈر اور پارٹی سے وابستگی یا مخالف جماعت سے بیزاری اپنی جگہ مگر یہ کیا کہ اس میں اتنا آگے چلے جائیں کہ ایک دوسرے کا احترام ہی باقی نہ رہے اور ذاتی تعلقات ہی خطرے میں پڑ جائیں۔ خدارا اپنے پسندیدہ لیڈرز کو انسان ہی رہنے دیں دیوتا یا اوتار نہ بنا لیں اور نہ ہی مخالف کو مکمل شیطان سمجھا جائے۔

سیاسی وابستگی سے قطع نظر میرے خیال میں خانصاحب اور مریم نواز کی تقاریر میں گھٹیا قسم کی ذاتیات۔ الزام تراشی اور اپنی اپنی مظلومیت کا رونا اور دوسری طرف سے ظلم و ستم کی داستان کے سوا کچھ نہیں۔ ہر دو طرف سے کبھی کسی پالیسی میٹر پر کوئی بیان یا منصوبہ بندی کی کوئی خبر نہیں۔ موجودہ صورتحال بالکل اسی طرح نظر آتی ہے جب چنگیز خان کی فوجوں نے بغداد شہر کا محاصرہ کیا ہوا تھا اور شہر فصیل کے اندر علماء اس بحث میں مصروف تھے کہ کوا حلال ہے یا حرام۔ کچھ یہی مملکت خداداد میں دکھائی دے رہا ہے۔

موجودہ صورتحال میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کا رویہ قدرے بہتر معلوم ہوتا ہے۔

ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ خانصاحب ہوں۔ مریم ہوں۔ زرداری یا کوئی بھی ”رہنما“ یہ سب انسان ہیں اور اسی سسٹم کی پیداوار ہیں۔ کوئی بھی انسانی خوبیوں اور خامیوں سے مبرا نہیں اور نہ ہی دودھ کا دھلا ہے۔ جیسا معاشرہ ہو گا ایسے ہی ”رہنما“ ہوں گے ۔ کوئی مسیحا آسمان سے نہیں اترے گا جو حاضر اسٹاک میں دستیاب ہیں وہ فی الحال یہی ہیں اور ان سب کے ڈانڈے ایک ہی جگہ سے ملتے ہیں یہ سب ایک ہی نرسری کی پیداوار ہیں وہ جب چاہتے ہیں جیسی چاہتے ہیں پنیری تیار کرلیتے ہیں اور اکثر تو دو یا اس سے زیادہ مختلف پھلوں کی قلم لگا کر ایک نیا پھل بھی اگا لیتے ہیں۔

ان کے لیے تو بس یہ ایک کھیل ہے اور خود دور بیٹھ کر تماشا دیکھتے ہیں۔ کھیل میں اگر کوئی شریر بچہ کبھی حدود سے نکلنے کی کوشش کرے تو اسے گراؤنڈ سے بلا کر کسی نئے بلونگڑے کو اندر بھیج دیا جاتا ہے۔ یا پھر اسی شریر بچے کی ٹیوننگ کر کے دوبارہ فیلڈ میں اتار دیا جاتا ہے۔ یہ کھیل کوئی نیا نہیں بلکہ پچاس کی دہائی سے جاری ہے جب جنرل ایوب خاں مرحوم نے سابقہ مشرقی پاکستان میں ایبڈو قوانین کے تحت بیک جنبش قلم سیاستدانوں کو نا اہل قرار دیا تھا۔ وہی کھیل آج تک کھیلا جا رہا ہے بس وقت اور سچویشن کے حساب سے کھیلنے والے کھلاڑی اور نام تبدیل کر دیے جاتے ہیں۔

المیہ تو یہ کہ وہ قدرتی نرسری جہاں عوامی اور مقامی رہنما تیار ہوتے تھے اسے برباد کر ڈالا گیا۔ اسٹوڈنٹ یونین اور ٹریڈ یونین پر مرد مومن ضیاءالحق نے پابندی لگادی جو ہنوز جاری ہے حالانکہ اسی نرسری سے ماضی میں اعلی اور عوامی مسائل کا ادراک رکھنے والے رہنما سامنے آئے جن میں منور حسن خان۔ معراج محمد خان۔ علی مختار رضوی۔ ڈاکٹر فتحیاب۔ طارق علی۔ جاوید ہاشمی اور معراج خالد وغیرہ شامل ہیں ان کے علاوہ بہت سے دوسرے نظریاتی کارکن اسی نرسری کی پیداوار ہیں۔ ان کے نظریات سے تو اختلاف تو کیا جا سکتا ہے لیکن ان تمام عوامی لیڈر شب کے کردار اور دیانتداری پر انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی۔

آج ملک عزیز میں سیاسی گھٹن اور لیڈر شپ کے فقدان کی وجہ سے ہماری کوئی سمت کوئی منزل نہیں۔ معیشت برباد ہو گئی علم آدمی اپنی اور اپنے بچوں کی بنیادی ضروریات پوری نہیں کر پا رہا۔

شہریوں کو دن دیہاڑے نہایت دیدہ دلیری سے لوٹا جا رہا ہے اور ذرا سی مزاحمت پر چند روپوں اور ایک سیل فون کی خاطر گولی مار دی جاتی ہے۔ وارداتیے کھلے عام گھوم رہے ہیں۔ پولیس اشرافیہ کے پروٹوکول میں مصروف ہے یا پھر ان کا مجرمان سے گٹھ جوڑ ہے۔ میرا ماننا یہی ہے کہ پولیس کی اعانت کے بغیر جرائم کا ارتکاب اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ عوام کا اعتماد انتظامیہ اور پولیس سے اٹھ چکا ہے اب وہ بھی مجبوراً اسی تشدد کی راہ پر لگ چکے جب کوئی راہزن ان کے ہاتھ آ جائے تو وہ بھی اپنی بھڑاس نکال لیتے ہیں اور ڈکیتوں کو تشدد کر کے مار دیتے یا جلا دیتے ہیں یہ ایک انتہائی سنجیدہ اور فکر انگیز رجحان ہے جو معاشرے میں عدالتی نظام اور پولیس پر بد اعتمادی کا مظہر ہے۔

عدلیہ بے توقیر ہو گئی لوگ کھلے عام ججوں کو تحقیر اور تضحیک کا نشانہ بنا رہے ہیں ان کے فیصلوں میں جانب داری کی بو آتی ہے لگتا ہے عدلیہ مصلحت پسندی یا کسی خوف کے زیر اثر ہے۔

فوج کے اعلی افسران بھی تنقید کا نشانہ ہیں ان کے اثاثوں پر بھی سوالیہ نشان اٹھائے جا رہے ہیں۔ زرعی زمینوں پر ہاؤسنگ سوسائٹی اور تعمیرات ہو رہی ہیں۔ کراچی میں ساحل سمند کو پاٹ کے اربوں کی زمین فروخت کردی گئی اور مینگروز جو سونامی اور سمندری طوفان کے خلاف قدرتی حفاظت ہوتی ہے اسے بھی ختم کر کے پلانٹنگ کردی گئی۔ کیا ہم فطرت سے جنگ نہیں کر رہے جس کی سزا کب اور کیسے ملے ہمیں اس وقت سے ڈرنا چاہیے۔

ڈی ایچ اے۔ بحریہ فضائیہ کے علاوہ اب رینجرز اور اے ایس ایف بھی تعمیرات میں لگے ہوئے ہیں۔ کراچی میں پانی مہنگے داموں فروخت ہو رہا ہے۔ شادی ہال چلائے جا رہے ہیں اور اس کاروبار کے پیچھے بھی وہی ہیں جن کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ اس موضوع پر عائشہ صدیقہ کی کتاب ”۔ Military Inc“ ذہن کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔ کیا ہماری مسلح افواج محض مرسنری ہو کر رہ گئی ہے جو تجارتی ادارے چلا رہی ہے۔ کیا اب پاکستان ملٹری اکیڈمی سپاہی نہیں بلکہ کارپوریٹ اہلکار پیدا کر رہی ہے۔ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے جسے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔

علماء حضرات بھی اپنے روایتی کردار سے دور ہو چکے ہیں۔ جید علماء اور نامور مذہبی شخصیات کے اکاؤنٹ میں اربوں روپے ہونے کے انکشافات ہو رہے ہیں۔ وہ جو سادگی اور قناعت کا درس دیتے ہیں آج بلٹ پروف گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں اور سرکاری ضیافتوں کے مزے اڑا رہے ہیں۔ رویت ہلال کمیٹی کے اراکین کے شاہانہ افطار اور ڈنر کے لیے ٹینڈر طلب کئیے جا رہے ہیں۔ یہ سب کیا ہے۔ کیوں ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں اور دوسری طرف افلاس زدہ۔ بھوکے افراد کے گروہ آٹے کے حصول کے لیے جانیں دے رہے ہیں یہ حال اس ملک کا ہے جو بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے جس کی معیشت زرعی ہے اور زراعت کا شعبہ کسی حد تک ٹیکس فری ہے۔

نہ صرف سیاسی بلکہ مسلکی اور فقہی تفریق اور معاشرے میں پھیلی پولرائزیشن اس قدر شدید ہو چکی ہے کہ کوئی کسی کو برداشت نہیں کر رہا۔ مکالمہ کی روایت دم توڑ چکی ہے اور

ہم اپنے اپنے پسندیدہ لیڈر کی تقلید میں اندھیری گلی بگٹٹ بھاگے چلے جا رہے ہیں۔ نجانے اس کا انجام کیا ہو گا یہ سوچ کر ہی دل کانپ جاتا ہے۔

خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
ایک ایسی فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو۔

Facebook Comments HS