کیا ریاست کا مستقبل نئے سماجی معاہدے کا تقاضا کرتا ہے؟
ریاست کو درپیش سیاسی و معاشی بحران حل ہونے کی بجائے مزید سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں ریاستی اداروں بالخصوص عدلیہ کو بھی غیر معمولی تنقید کا سامنا ہے جبکہ پارلیمنٹ کی بالا دستی بھی سوالیہ نشان کی زد میں ہے۔ ملکی سیاست میں عسکری اسٹیبلشمنٹ کے بعد پہلی بار عدالتی اسٹیبلشمنٹ کی اصطلاح بھی استعمال ہونے لگی ہے۔ ایسا کیوں ہے اور کیوں کر عدلیہ کے کردار کو متنازعہ اور مشکوک بنایا جا رہا ہے اس سوال کے جواب کی تلاش میں سیاست دانوں اور ملکی سیاسی چلن پر تنقید کرنے کی بجائے خود عدلیہ کے حالیہ رویے اور مزاج کو بھی پرکھنے کی ضرورت ہے۔
ایسا کرنے سے یقیناً ہم اس سنجیدہ اور غیر معمولی سوال کا جواب حاصل کر سکتے ہیں کیونکہ اس وقت ہر طرح کے سیاسی و آئینی معاملات عدلیہ میں نہ صرف زیر بحث ہیں بلکہ روزانہ کی بنیاد پر نت نئی آئینی تشریحات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ جہاں تک عدلیہ پر ہونے والی تنقید کا معاملہ ہے تو یہ محض ”ایک فرد“ کو غیر معمولی ریلیف دینے کی وجہ سے ہے، یعنی ایک عمومی تاثر یہ ہے کہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے دہرے معیار اپنائے جا رہے ہیں۔
اگر ایسا ہے تو پھر ریاست کے مستقبل کے حوالے سے ہر ذی شعور اور محب وطن شہری کو فکر مند ہونے کی ضرورت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں ملک پر مسلط کی گئی آمرانہ حکومتوں کو عدلیہ ہی کی طرف سے نظریہ ضرورت کی بنیاد پر شرف قبولیت بخشا گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج ریاست کو درپیش ہر قسم کے سماجی، سیاسی اور معاشی مسائل حل نہیں ہو سکے ہیں۔ ایسا ہے کہ ریاست اپنے آئین اور قانون کے ہوتے ہوئے بھی بسا اوقات آئینی و قانونی یتیمی کا شکار ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی سیاسی معاملہ اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچ پاتا ہے جس کی وجہ سے ریاست کو سماجی و معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کتنی عجیب بات معلوم ہوتی ہے کہ ریاست اپنے آئین کی تشریح کے لیے آئے روز عدلیہ کے دروازے پر دستک دیتی ہے جبکہ اس آئین کی تاریخ ریاست کی مجموعی تاریخ کی نصف ہوگی لیکن اس کے ساتھ روز روز کی چھیڑ چھاڑ آج تک جاری ہے۔
کیا ایسا تو نہیں ہے کہ ریاستی آئین ملک کے سیاسی و سماجی نظام کو چلانے کی اہمیت نہیں رکھتا۔ اگر ایسا ہے تو پھر ریاست کو ایک ”نئے سماجی معاہدے“ کی ضرورت ہے، ایسے میں اپنی جگہ یہ سوال بھی موجود ہے کہ کیا ملکی سیاست کا چلن اس قابل ہے کہ وہ وفاق اور صوبوں کے درمیان ایک نیا سماجی معاہدہ ممکن بنا سکے۔ اس طرح کے سماجی معاہدے کو سیاسی معاہدے کے طور بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ ماضی میں ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نے بہت سی سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر ”میثاق جمہوریت“ جیسے سیاسی معاہدے کیے ہیں اور حالیہ سیاست میں ”میثاق معیشت“ جیسے معاہدے کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔
جہاں تک میثاق جمہوریت کی بات ہے تو اس میں بہت سی اہم سیاسی جماعتوں کو شامل نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے یہ معاہدہ اپنے منطقی نتائج نہیں دے سکا اور محض دو بڑی سیاسی جماعتوں میں اقتدار کی ”باری لینے“ تک محدود ہو کر رہ گیا جبکہ اس معاہدے میں شامل دیگر جماعتوں کو بھی اقتدار کی بندر بانٹ میں خوب حصہ دستیاب ہوا۔ ان دنوں ملکی سیاست کو جس طرح کے بحران کا سامنا ہے تو ایسے میں ایک بار پھر سیاست دانوں کو ایک ساتھ بیٹھنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔
لیکن ایسے میں یہ سوال بھی جنم لیتا ہے کیا محض سیاست دانوں کے ایک ساتھ بیٹھ جانے سے ملک کے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں جس قدر بھی جستجو اور کوشش کی جائے وہ بے نتیجہ ثابت ہوگی کیونکہ ملکی سیاست اور سیاسی نظام میں محض سیاست دان ہی اسٹیک ہولڈر نہیں ہیں بلکہ عسکری اسٹیبلشمنٹ بھی ایک کھلی حقیقت ہے جو اس وقت نیوٹرل دکھائی دیتی ہے، اسی طرح اب عدالتی اسٹیبلشمنٹ کی بات بھی ہونے لگی ہے، لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کو درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ عسکری قیادت اور معزز عدلیہ کے نمائندوں کو بھی سر جوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے۔
فی الوقت ملک میں جس طرح کا سیاسی ماحول پایا جاتا ہے اسے دیکھ کر یہی محسوس ہوتا ہے کہ ریاست کو درپیش سیاسی و معاشی مسائل کسی صورت حل نہیں ہو سکیں گے بلکہ اس حوالے ملک کا سیاسی و معاشی نظام ایک ایسی بند گلی میں ٹامک ٹولیاں مار رہا ہے جو ہر بار اسے اسی جگہ پر لا کر کھڑا کر دیتا ہے جہاں سے وہ چلا ہوتا ہے۔ ملک کے دو بڑے مسئلے ہیں یعنی مہنگائی اور بیروزگاری، لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں جاتی۔ عدلیہ عام آدمی کے مسائل حل کرنے کی بجائے سیاسی اشرافیہ کے مقدمات میں الجھی ہوئی ہے اور عسکری اسٹیبلشمنٹ اپنی سابقہ غلطیوں کو سدھارنے میں لگی ہے جبکہ حکومت اور پارلیمنٹ کو خود اپنی بقاء کی پڑی ہے۔
ریاست کا پورا سیاسی کھیل ایک ناکام سیاست دان اور حکمران کے ہاتھ میں کٹھ پتلی تماشا بنا ہوا ہے۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ کسی بھی ریاست کو چلانے اور اسے قائم رکھنے کی بنیادی شرط یہ ہے کہ ”عدل کا نظام“ شفاف اور غیر جانب دار ہو، اگر یہ نظام اپنے معیار میں شفافیت اور غیر جانب داری کو بر قرار رکھ پاتا ہے تو پھر ریاست کے دیگر اداروں کے لیے بھی اپنے آئینی و قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنے فرائض کی انجام دہی ممکن ہوتی ہے۔
لہذا وقت کا تقاضا ہے کہ قوم اپنے سماجی و سیاسی نظام کا محاسبہ کرتے ہوئے خود آگے بڑھے اور ریاست میں آئین و قانون کی حکمرانی کے لیے اپنا انقلابی کردار ادا کرے۔ بصورت دیگر سیاست دان اور دیگر اسٹیک ہولڈر اپنے اپنے اختیارات و مراعات کی جنگ میں الجھتے جائیں گے اور اس طرح ریاست کا مستقبل کیا ہو سکتا ہے اس کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔


