سنہ 1909ء کی آئینی اصلاحات

سرسید احمد خاں بڑی استقامت اور مثبت دلائل سے ”جداگانہ طرز انتخاب“ کا مطالبہ دہراتے رہے۔ واقعات ثابت کر رہے تھے کہ مخلوط انتخابات میں مسلمانوں کا قومی وجود یکسر ختم ہو جائے گا۔ ان کا انتقال 1898 ء میں ہوا، لیکن ان سے متاثر مسلم زعما اسلامیان ہند کے اس مطالبے کے حق میں سیاسی فضا ہموار کرتے رہے۔ سید امیر علی ( 1928 ء۔ 1849 ء) جو دو معرکۃ الآرا کتابوں کے مصنف تھے اور ہائی کورٹ کے جج بھی رہ چکے تھے، انہوں نے نیشنل محمڈن ایسوسی ایشن کی داغ بیل ڈالی جو سرسید کے مشن کو وقفے وقفے سے آگے بڑھاتی رہی جبکہ کانگریسی قیادت مسلمانوں کے اس مطالبے کے خلاف زہر اگلتی اور اسے متحدہ قومیت کے خلاف ایک سازش قرار دیتی رہی۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مسلم قیادت کے اندر اجتماعی جدوجہد کے عزم کے ساتھ ساتھ جرات اظہار بھی پیدا ہوتی گئی، چنانچہ 1906 ء میں مسلمانوں کے ایک وفد نے سر آغا خاں کی قیادت میں وائسرائے ہند لارڈ منٹو سے ملاقات کی اور حقائق اور دلائل کی بنیاد پر ان سے مطالبہ کیا کہ ہر سطح پر ”جداگانہ انتخاب“ کا اصول تسلیم کیا جائے۔ وائسرائے نے اس پر ’ہمدردانہ غور‘ کا وعدہ کیا اور اشارہ دیا کہ مستقبل میں متعارف کی جانے والی آئینی اصلاحات میں اس کے بارے میں مناسب اعلان کیا جائے گا۔
سرسید احمد خاں، جو ایک زمانے میں ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے اور انہیں ”دو خوبصورت آنکھوں“ سے تشبیہ دیتے رہے، جلد ہی اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ انڈین نیشنل کانگریس کا اصل نصب العین رام راج کا قیام اور مسلمانوں کو غلام بنائے رکھنا ہے۔ شعور کی اس اعلیٰ سطح تک پہنچنے کے بعد وہ اپنے مسلمان بھائیوں کو کانگریس کے مکر و فریب سے الگ تھلگ رہنے کا مشورہ دیتے رہے۔ پھر اس کا ہولناک چہرہ 1905 ء ہی میں بے نقاب ہو گیا۔
وائسرائے ہند لارڈ کرزن نے یہ محسوس کرتے ہوئے کہ بنگال کا صوبہ جس میں بہار اور اڑیسہ بھی شامل تھے، رقبے اور آبادی میں بہت بڑا ہے اور اسے انتظامی طور پر چلانا بہت دشوار ہوتا جا رہا ہے۔ اس لیے وہ دو صوبوں کے اندر تقسیم کر دیا گیا۔ اس فیصلے کا مسلم اکابرین کی طرف سے والہانہ خیرمقدم ہوا، کیونکہ اس تقسیم سے مسلمانوں کی ترقی اور خوش حالی کے واضح امکانات پیدا ہو گئے تھے۔ کانگریسی قیادت اور ہندو عوام اس پر بلبلا اٹھے اور انہوں نے تقسیم کے خاتمے کے لیے دہشت گردی کا راستہ اختیار کیا۔
چھ سال تک بم پھٹتے اور انسانوں کے پرخچے اڑتے رہے۔ ریل کی پٹڑیاں اکھاڑی جاتی رہیں۔ تشدد کے واقعات اس انتہا کو پہنچ گئے کہ تاج برطانیہ کو 1911 ء میں ’تقسیم بنگال‘ کی منسوخی کا اعلان کرنا پڑا جو مسلمانوں کے لیے ایک جان گداز صدمہ تھا جو ان کے اندر ہندوؤں کے خلاف مزید نفرت پھیلانے کا باعث بنا۔ انہوں نے دل کی گہرائیوں سے محسوس کیا کہ سرسید احمد خاں جو انہیں کانگریس کی سیاست سے الگ تھلگ رہنے کا مشورہ دے رہے تھے، وہ بڑا حقیقت پسندانہ اور مستقبل کی صورت گری کے لیے بے حد مفید تھا۔
کانگریس جس نے خانہ جنگی کی سی کیفیت پیدا کر دی تھی، اس کا مقابلہ کرنے کے لیے بنگال کے رہنماؤں میں مسلمانوں کی سیاسی تنظیم قائم کرنے کا احساس مزید شدت اختیار کرتا گیا جو سرسید احمد خاں بہت پہلے ابھار چکے تھے۔ نواب آف ڈھاکہ جناب سلیم اللہ خاں بہادر نے دسمبر 1906 ء میں پورے ہندوستان سے دو ہزار سے زائد مندوبین ڈھاکہ میں مدعو کیے۔ 30 دسمبر 1906 ء کو محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے زیراہتمام ایک بڑا جلسۂ عام منعقد ہوا جس میں خطبۂ صدارت نواب وقار الملک نے دیا۔
محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کی بنیاد سرسید احمد خاں نے رکھی تھی اور بنگال میں اس کے سیکرٹری جنرل نواب سلیم اللہ تھے۔ نواب وقار الملک نے اپنے خطبۂ صدارت میں اس امر پر بطور خاص زور دیا کہ ہمیں آج اس وقت کے لیے تیار ہونا ہو گا جب انگریز ہندوستان سے رخصت ہو رہے ہوں گے اور مسلمان ہندوؤں کی سفاک اکثریت کے رحم و کرم پر رہ جائیں گے۔ طویل غور و خوض کے بعد ”آل انڈیا مسلم لیگ“ کا قیام عمل میں آیا جس کے پہلے صدر سر آغا خاں منتخب ہوئے۔ انتہائی مشکل صورت حال میں کل ہند سطح پر ایک مسلم سیاسی جماعت کے وجود میں آنے سے مسلمانوں میں کچھ حوصلہ پیدا ہوا اور یوں سیاسی اور آئینی جدوجہد میں ایک گونہ توانائی آتی گئی۔
اسی زمانے میں ایک عظیم واقعے نے ہندوستانیوں میں یہ اعتماد پیدا کیا کہ وہ خطے کی ایک عظیم طاقت بن سکتے ہیں۔ ہوا یہ کہ جاپان۔ روس جنگ ( 5۔ 1904 ء) میں جاپان فتح یاب ہو گیا جس سے ہندوستانی ایک نئے جذبے سے سرشار ہو کر حکومت میں بڑے حصے کا مطالبہ کرنے لگے۔ انہی دنوں برطانوی حکومت کے اندر یہ تبدیلی رونما ہوئی کہ وہاں لبرل اقتدار میں آ گئے۔ ہندوستان کے سیاسی ماحول میں تیزرفتار تغیر کے باعث وائسرائے لارڈ منٹو نے 1907 ء میں لیجسلیٹو کونسل میں یہ اعلان کیا کہ ہندوستانیوں کو انتظامی امور پر اظہار خیال کے زیادہ مواقع دیے جائیں گے۔ اس سے قبل وزیر ہند لارڈ مارلے برطانوی پارلیمنٹ میں ایک بل متعارف کرا چکے تھے جو 1909 ء میں منظور ہوا۔ اسے منٹو۔ مارلے اصلاحات کے نام سے شہرت ملی۔ ان اصلاحات کے نمایاں خد و خال یہ تھے :
( 1 ) گورنر جنرل اور صوبائی گورنروں کی لیجسلیٹو کونسلوں کے ارکان کی تعداد میں اضافہ ہوا اور ہندوستانی بھی ان میں انتخابات لڑنے کے اہل قرار دیے گئے۔ ( 2 ) کونسلوں کے فرائض منصبی بھی بڑھا دیے گئے۔ امپیریل لیجسلیٹو کونسل کے ارکان ٹیکسیشن میں متبادل تجاویز پیش کر سکتے اور عوام کے عمومی معاملات بھی زیربحث لا سکتے تھے۔ اس کے علاوہ ارکان سوالات اور اضافی سوالات بھی پوچھ سکتے تھے۔ ( 3 ) اس ایکٹ کے تحت جو قوانین بنائے گئے، ان کی رو سے صوبائی لیجسلیٹو کونسل میں ’سرکاری اکثریت‘ کا طریق کار ختم کر دیا گیا، اگرچہ وہ مرکزی کونسل میں برقرار رہی۔
( 4 ) صوبائی کونسلوں کے ارکان کا انتخاب یونیورسٹی کے سینیٹروں، زمین داروں، ڈسٹرکٹ بورڈوں، میونسپل کمیٹیوں اور چیمبرز آف کامرس کے ذریعے قرار دیا گیا۔ ( 5 ) لیجسلیٹو کونسلوں میں مسلمانوں کے لیے نشستیں مختص کر دی گئیں جن کا انتخاب مسلم ووٹر ہی کر سکتے تھے۔ اس طرح ’جداگانہ انتخاب‘ کا اصول تسلیم کر لیا گیا۔ مسلمانوں کے نقطۂ نظر سے یہ بہت اہم پیش رفت تھی۔ (جاری ہے )

