انکل سام کا اسلحہ اور خون ہمارا


کل دہشت گردوں نے لکی مروت کے ایک پولیس سٹیشن پر حملہ کر دیا۔ ڈی ایس پی اقبال ممند صاحب اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس سٹیشن میں محصور پولیس اہلکاروں کی مدد کے لئے روانہ ہوئے۔ ابھی وہ محصور سٹیشن سے تین کلومیٹر کے فاصلہ پر تھے کہ راستہ میں ان کی گاڑی کو ایک ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعہ اڑا دیا گیا اور ڈی ایس پی صاحب سمیت چار پولیس اہلکاروں کی شہادت ہو گئی۔ جب سے افغانستان پر طالبان کا قبضہ ہوا ہے، پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔

اور اب جب کہ سیاسی بحران عروج پر ہے دہشت گردوں کو کھل کھیلنے کا موقع مل رہا ہے۔ اور حکومت کو ملک میں جاری گالی گلوچ سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔ وزیر اعظم صاحب نے حسب توقع واقعہ کی مذمت کی اور شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا اور بس۔ دہشت گردی کی اس لہر کو قابو کس طرح کرنا ہے؟ حکومت کا منصوبہ کیا ہے؟ ہمارے وزیر اعظم خاموش ہیں۔

کیا یہ اتفاق ہے کہ جب سے افغانستان پر طالبان کا قبضہ ہوا ہے پاکستان میں دہشت گردی بڑھ رہی ہے؟ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں سینکڑوں لکھنے والوں کی طرح اس عاجز نے بھی گزشتہ سال 5 جولائی کو ایک کالم ’کس کو لگام دینے کی ضرورت ہے؟‘ میں عرض کی تھی کہ خیبر پختون خواہ کی حکومت دہشت گردوں کو لگام دینے کی بجائے خود مذہبی منافرت کو ہوا دے رہی ہے۔ اور گزشتہ اگست اور ستمبر میں دو کالموں میں اس عاجز نے عرض کی تھی کہ ایک منصوبہ کے تحت خاص طور پر خیبر پختونخوا میں طالبان کو کھلی چھٹی دی جا رہی ہے۔ لیکن فیض نے کیا خوب کہا تھا

کسی کو بہر سماعت نہ وقت تھا نہ دماغ

افغان طالبان قسمیں کھا رہے ہیں کہ وہ پاکستانی طالبان کی مدد نہیں کر رہے۔ یہ کس طرح ممکن ہوا کہ پاکستانی طالبان اچانک جدید اسلحہ اور سہولیات سے آراستہ ہو کر اپنا خونی کھیل کھیل رہے ہیں۔ افغانستان کی طالبان حکومت تو خود شدید مالی مسائل سے دوچار ہے۔ پاکستانی طالبان کے پاس جدید ترین اسلحہ اور سہولیات کہاں سے آ رہی ہیں؟ ان جدید سہولیات کے مقابل پر خیبر پختون خواہ کی پولیس کے پاس موجود سہولیات کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔

جب امریکہ نے طالبان سے ہونے والے معاہدے کے بعد افغانستان سے اپنی افواج نکالنی شروع کیں تو کم از کم سات ارب ڈالر کی مالیت کا عسکری ساز و سامان سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت افغانستان میں چھوڑ دیا گیا۔ اور جیسا کہ کہتے ہیں ’بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میں بھی سبحان اللہ‘ ، اس کے بعد افغان افواج اسی طرح غائب ہو گئیں جیسے اردو محاورے میں گدھے کے سر سے سینگ غائب ہوتے ہیں۔

دنیا بھر میں ایک اصول ہے کہ اگر کسی فوج کو ہتھیار ڈالنے پڑیں یا کسی میدان جنگ سے رخصت ہونا پڑے تو وہ ایسا اسلحہ اور ساز و سامان پیچھے نہیں چھوڑتے کہ جو کہ دشمن کے ہاتھ لگ کر اس کی قوت بڑھانے کا باعث ہو۔ اور اگر ایسا ساز و سامان اپنے ساتھ نہ لے جایا جا سکے تو اسے تباہ کر دیا جاتا ہے تا کہ اس سے دشمن فائدہ نہ اٹھا سکے۔ لیکن اس کا کیا حل کیا جائے کہ امریکی افواج کو اس کی کوئی خبر ہی نہیں تھی۔ اور تربیت یافتہ افغان افواج نے بھی اس حکمت عملی کا ذکر کبھی نہیں سنا تھا۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ گزشتہ سال فروری میں افغان طالبان کے لطیف اللہ حکیمی صاحب نے فخر سے پریس کانفرنس کی کہ امریکی افواج کا چھوڑا ہوا اسلحہ طالبان کے ہاتھ لگا ہے۔ ان کے بیان کردہ ہوش ربا اعداد و شمار ملاحظہ ہوں۔ تین لاکھ کی تعداد میں وہ اسلحہ ان کے ہاتھ لگا ہے جسے عسکری اصطلاح میں لائٹ آرمز کہا جاتا ہے۔ اور چھبیس ہزار کی تعداد میں وہ اسلحہ ہے جسے ہیوی آرمز کہا جاتا ہے۔ اور جو عسکری گاڑیاں مہیا ہوئی ہیں ان کی تعداد 61000 ہے۔ اور اس کے علاوہ بہت سے ہیلی کاپٹروں اور جہازوں کا مال غنیمت بھی حاصل ہوا۔

یہ ساز و سامان جدید ترین نوعیت کا تھا۔ ان میں سے بہت سے آلات ایسے تھے جنہیں خاطر خواہ تیکنیکی ٹریننگ کے بغیر چلانا ممکن نہیں تھا۔ اس کے با وجود یہ معجزہ ملاحظہ ہو کہ طالبان نے فوری طور اس اسلحہ کو قابل استعمال بھی بنا لیا۔ اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ اس وقت ملک کے وزیر اعظم عمران خان صاحب آبدیدہ ہو کر اظہار مسرت کرتے نظر آ رہے تھے کہ افغانستان نے غلامی کی زنجیریں توڑ دی ہیں۔ اس وقت کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی صاحب بغلیں بجا رہے تھے کہ پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کر لیا گیا ہے اور اس مذاکرات میں ہمیں بھی بیٹھنے کا نادر موقع ملا ہے۔ یعنی جس طرح برطانوی دور میں اگر کسی کو گورنر یا ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں بیٹھنے کو کرسی مل جاتی تھی تو وہ فخر سے ذکر کرتا تھا کہ مجھے صاحب بہادر کے سامنے بیٹھنے کے لئے کرسی ملتی ہے۔

لیکن کیا اس وقت پاکستان کی حکومت نے یہ مطالبہ کیا کہ امریکی فوج نکلتے ہوئے اس بات کی یقین دہانی کروائے کہ ان کو چھوڑا ہوا اسلحہ دہشت گردوں کے ہاتھ نہیں لگے گا؟ کیا ہماری حکومت اس بات سے بے خبر تھی کہ جب 1980 کی دہائی میں امریکی آشیر باد سے سوویت افواج کے خلاف جہاد کیا جا رہا تھا تو ان کے فراہم کردہ اسلحہ نے پاکستان میں فروخت ہو کر ملک کا امن برباد کر دیا تھا۔ اور مزید یہ کہ حکومت نے خود افغانستان میں مقیم پاکستانی دہشت گردوں کو اسلحہ سمیت پاکستان میں آنے دیا۔ اس کے نتیجہ میں ملک خون ریزی کی ایک اور لہر کا نشانہ بن رہا ہے۔

اس وقت کیا ہو رہا ہے؟ امریکی انسٹی ٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کے تجزیہ نگار اسفند یار میر صاحب نے یہ تجزیہ پیش کیا ہے کہ اس وقت پاکستانی طالبان اور بلوچ علیحدگی پسند امریکی افواج کا چھوڑ اسلحہ استعمال کر رہے ہیں۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ افغان طالبان کی مدد کے بغیر یہ اسلحہ ان عناصر کے ہاتھ لگ جاتا۔ سویڈن میں مقیم ایک ماہر عبدالسید صاحب کا کہنا ہے کہ امریکی اسلحہ کی بدولت ان تنظیموں کی صلاحیت میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔

اور اب ان کے پاس یہ صلاحیت بھی ہے کہ وہ رات کے اندھیرے میں دیکھ کر حملے کر سکیں۔ اور پاکستان کی پولیس کے پاس یہ جدید سہولیات موجود نہیں ہیں۔ اور اب امریکی شعبہ دفاع نے اپنی حکومت کو رپورٹ دی ہے کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اسلحہ ان دہشت گردوں سے واپس لے سکیں۔ جب ریڈیو فری یورپ نے اس مسئلہ پر امریکی شعبہ دفاع پنٹا گون سے تبصرہ کرنے کی درخواست کی تو انہوں نے خاموش رہنا پسند فرمایا۔ اور انہیں بولنے کی ضرورت بھی کیا ہے؟ خون تو غریب پاکستانیوں کا بہہ رہا ہے۔ امریکی تو محفوظ ہیں۔

اس وقت اس خطہ میں بھارت امریکہ کا سب سے قریبی اتحادی ہے۔ اور پاکستان کے سب بد خواہوں کی دلی خواہش ہے کہ پاکستان دہشت گردی جیسے مسائل میں ہی الجھا رہے۔ ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ کس ڈرامائی انداز میں پاکستان کے اندر دہشت گرد تنظیموں کو نئی زندگی عطا کی گئی ہے۔ کیا یہ سب اتفاق ہے؟ یا ایک بار پھر پاکستان کو بد امنی کی دوزخ میں دھکیلا جا رہا ہے۔ اس ڈرامے کا مصنف کون ہے؟

Facebook Comments HS