محبت۔ زندگی کا ایک رنگ


کائنات میں یوں تو ہر ذی روح اپنی اپنی زندگی گزارنے میں مگن ہے، لیکن ایک انسان کی زندگی میں جو انفرادیت اور ہمہ ہمی ہے اس سے دیگر مخلوق محروم ہے۔ اس زندگی کے کئی پہلو ہیں اور ہر پہلو کا اپنا رنگ ہے۔ کہیں یہ رنگ بچپن کی معصومیت کی صورت میں چھلکتا ہے تو کہیں جوانی کی نوخیز کونپلیں بہار کا رنگ پیدا کرتی نظر آتی ہیں۔ پھر جیسے جیسے انسان شعور کی منازل طے کرتا ہوا، اگلے مرحلے میں داخل ہوتا ہے، تو اسے اپنے وجود اور اس کی قدرو قیمت کا احساس ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ لیکن اس مرحلے پر اگر علم کی روشنی اور عقل کی رہنمائی موجود نہ ہو تو غالب امکان ہے کہ انسان اپنے مقصد زندگی سے غافل رہ کر، بے نیل و بے مراد واپس دوسرے جہاں میں چلا جائے۔

انسانی زندگی کو جب ہم شعور کی آنکھ سے دیکھیں تو یہ حقوق و فرائض میں توازن کا نام ہے۔ اگر وہ بچہ ہے تو حقوق و فرائض کی نوعیت الگ ہے، لیکن جیسے ہی وہ بلوغت کی منزل سے گزر کر نوجوانی کی دہلیز میں قدم رکھتا ہے تو ان کی نوعیت الگ ہوجاتی ہے۔ اگر وہ طالب علم ہے تو اس کی حیثیت مختلف ہے، لیکن جب وہ طالب علمی سے معلمی میں داخل ہوتا ہے تو یہ نوعیت ایک نئے روپ میں چلی جاتی ہے۔ تاہم ان رنگوں میں سے ایک رنگ جو سب سے منفرد اور جاذب نظر ہے وہ محبت کا رنگ ہے۔

یہ محبت وہ راز ہے جو اس کائنات کی تخلیق اور اس کے وجود کی وجہ اول ہے۔ یعنی اس کائنات کے خالق نے محبت کے عالم میں ہی اس جہاں کو تخلیق کیا اور محبت سے ہی اس کارخانہ کائنات کو چلا رہا ہے۔ پھر اس نے اس کائنات میں سے کچھ ایسے انسانوں کو اپنے لیے منتخب کیا، جنہیں اس نے اپنی خاص محبت سے نواز کر، اپنا قرب عطا فرمایا۔ وہی انسان اس کائنات کا جوہر اور اس کی وجہ قیومیت ہیں۔ وہ لوگ محبت کے رنگ میں اس قدر رچے بسے ہیں کہ انہیں اپنے ماسوا سے زیادہ اپنے خالق و مالک کی مخلوق کی فلاح و بہبود اور راحت و آرام کی فکر ہے۔ ان کے لئے زندگی محض کھانے، سونے، اور بول و براز کا نام نہیں، بلکہ ایک مقصد کا نام ہے۔

محبت کیا ہے؟ ایک جذبہ ہے، امنگ ہے اور چاہت ہے۔ محبت انسان کو یہ شعور عطا کرتی ہے کہ ایک انسان کی زندگی بھی اگر محض کھانے پینے، سونے وغیرہ تک ہی محدود ہو جائے تو حیوانات اور انسان میں جو حد فاصل اور وجہ شرف ہے وہ ختم ہو جائے۔ محبت وہ رنگ ہے جو خالق کائنات اپنے خاص بندوں کو جب عطا کرتا ہے، تو پھر وہ ایک عام انسان کی سطح سے بلند ہو کر ایک باشعور انسان کی سطح پہ متمکن ہوجاتا ہے۔ اور پھر اسے مقصد حیات اور منزل مقصود کا بھی علم ہوجاتا ہے۔

وہی انسان جو پہلے محبت کے رنگ سے محروم تھا، اس کے لیے خالق کی عبادت فرائض کے درجے میں ہوتی ہے، مگر محبت کے رنگ میں رنگنے کے بعد اب اس کے لئے خالق کی عبادت محبت اور عشق بن جاتی ہے۔ پھر اس کے نزدیک عبادت محض نماز، روزہ، اذکار و اوراد کا نام نہیں، بلکہ خدمت خلق اور احساس ذمہ داری کا نام ہے۔ اور پھر یہ انسان جو اب باشعور انسان بن کر مقصد زندگی پہچان چکا ہے، اس کی ہر سانس، ہر لمحہ اور مساعی اسی تگ و دو میں صرف ہوتی ہے کہ وہ اپنے خالق کے مخلوق کی خدمت میں مگن رہے۔

محبت کا رنگ وہ رنگ ہے جو انسان کو ہر قسم کے تعصبات سے پاک کر دیتا ہے اور وہ بلاتفریق رنگ، نسل، مذہب، زبان، سماج اور ملک بس کل انسانیت کی خدمت اور ان کی فلاح کے لئے کمر بستہ رہتا ہے۔ وہ انسانوں کے کھینچے گئے دائروں اور حدوں سے ماوراء ہو کر دنیا کے ہر خطے اور گوشے کو اپنا سمجھتا ہے۔ اور دنیا کے کسی بھی حصے میں اگر کوئی انسان مصیبت کا شکار ہو تو وہ بے چین ہوجاتا ہے۔ یہ محبت کا ہی رنگ ہے جو ایک انسان کو اس لئے بے چین رکھتا ہے کہ دنیا میں غربت کیوں ہے؟ آخر کیوں کچھ لوگ زندگی کی تمام مسرتوں اور نعمتوں سے محروم ہیں؟ وہ ہر وقت اسی سوچ میں مگن رہتا ہے کہ کوئی ایسی سبیل نکل آئے کہ دنیا سے تمام دکھ مٹ جائیں اور ہر گھر کے آنگن میں خوشیوں کی بہار آ جائے۔

یہ محبت کا ہی رنگ ہوتا ہے جو ایک انسان کو اپنے ذاتی مفادات اور اغراض سے بے نیاز کر کے، اسے کبھی بیمار کی خدمت پہ لگا دیتا ہے، تو کبھی آفت میں گھرے انسان کے لئے گھر سے نکلنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ وہ محبت کے نشے میں اس قدر سرشار ہوجاتا ہے کہ، اسے اپنے بیوی بچوں اور گھر بار کی فکر تک نہیں رہتی اور وہ بس منزل پہ منزل طے کرتے کبھی ایک انسان کی خدمت کرتے اور کبھی دوسرے انسان کی خدمت کرتے اپنی زندگی کا سفر کاٹتے چلا جاتا ہے۔

محبت کا رنگ زندگی کے تمام رنگوں سے خوبصورت، جاذب اور پرکشش ہے۔ یہ رنگ نہ تو ملاوٹ پسند کرتا ہے اور نہ ہی نفرت۔ اگر اس رنگ میں کبھی نفرت اور تعصب کی ملاوٹ شامل ہو جائے، تو پھر وہ محبت نہیں بلکہ غرض بن جاتی ہے۔ اور جب محبت کا رنگ غرض میں بدل جائے تو پھر انسان کا مقصد بے لوث خدمت سے ہٹ کر مادی فوائد تک محدود ہوجاتا ہے۔ ایک ایسی خدمت جو غرض کے جذبے سے کی جائے چاہے وہ دنیوی ہو چاہے وہ اخروی وہ اس چیز کے ہم پلہ نہیں ہو سکتی جو بے غرض ہوتی ہے۔ کیونکہ جب انسان محبت کے جذبے سے اپنے فرض کو سرانجام دیتا ہے تو اسے ملنے والی خوشی اور راحت حقیقی ہوتی ہے۔ لیکن دوسری جانب غرض کی نیت سے کی جانے والی خدمت حقیقی مسرت اور لذت سے عاری ہوتی ہے۔

Facebook Comments HS