لائرز ویلفیئر اینڈ پروٹیکشن ایکٹ کی کچھ تفصیل


اسمبلی سے *لائرز ویلفیئر اینڈ پروٹیکشن ایکٹ* 2023 پاس کیا گیا ہے جس میں وکلا کے حقوق متعین کیے گئے ہیں جنھیں قانونی طور پر لاگو کیا جائے گا۔ جن میں چنندہ اہم درج ذیل ہیں۔

*وکلا کو پیشہ وارانہ سرگرمیوں سے روکنے پر کسی بھی شخص یا اتھارٹی کو قانونی طور پر باز رکھا گیا ہے۔ اور خلاف ورزی کرنے پر 3 سال تک کی قید یا ایک لاکھ تک کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔

*وکلا اور ان کے خاندان (بیوی بچوں ) کو سرکاری و نیم سرکاری ہسپتالوں میں اپنا لائسنس شو کرانے پر گزیٹڈ افسر جتنا پروٹوکول علاج و معالجہ کی سہولت میسر ہو گی۔

*اگر وکلا دوران پیشہ ورانہ سرگرمی، کسی دہشت گردی یا جارحیت کا نشانہ ہیں تو ان کے اہل خانہ کو 18 سکیل کے افسر کے برابر کا شہدا پیکج دیا جائے گا۔

* 20 ملین پیڈ کیپیٹل کی مالک کمپنی کو کم از کم ایک وکیل بطور قانونی مشیر رکھنا لازمی ہے اور ایک وکیل بیک وقت 3 کمپنیوں سے زیادہ میں یہ خدمت انجام نہیں دے سکتا۔

یہ ایکٹ 3 چیپٹرز اور 17 آرٹیکلز پر مشتمل ہے۔ آرٹیکل 3 میں اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کے لیے سزا متعین کی گئی ہے۔ آرٹیکل 9 سے لے کر 13 تک، میں وکلا کو قانونی حقوق دیے گئے ہیں۔

وکلا کے لیے ایسا قانون پاس ہونا خوش آئندہ ہے اور اس سب کے بعد *بار* کو چاہیے کہ وہ وکلا کے کوڈ اف کنڈکٹ پر بھی سختی برتے تاکہ اس پیشے سے تعلق رکھنے والے طبقے کو بھی منظم انداز میں چلایا جا سکے۔

کیونکہ بد قسمتی سے پاکستان میں جس کسی ادارے کو بھی تھوڑی عزت ملے وہ بے لگام ہو کر عوام پر چڑھ دوڑتا ہے اور خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگتا ہے۔

بظاہر تو قانون بنا ہے اور وکلا کو قانونی حقوق ملے ہیں اب وہ قانون کی پناہ میں آزادانہ کام کر سکیں گے اور انھیں ڈرایا دھمکایا بھی نہیں جا سکے گا۔

لیکن بدقسمتی سے یہ پاکستان ہے یہاں قانون کی حکمرانی، نام کی بھی موجود نہیں۔ قانون اشرافیہ کے گھر کی لونڈی ہے اور ویسے بھی پاکستان ایک گماشتہ سامیہ دار اور سامراجی ایجنٹ ملک ہے یہاں قانون کی حکمرانی ممکن بھی نہیں جو سرمایہ دار طبقہ چاہے گا وہ ہی ہو گا۔ با اثر لوگ چاہے کسی بھی طبقے سے کیوں نا ہوں، پہلے بھی جو چاہے کر سکتے ہیں۔ اب بھی با اثر وکلا کو ہی اس قانون کے ثمرات ملیں گے، متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے وکلا کو غریب کی طرح ملک کے کسی قانون کا کوئی فائدہ نہیں۔ جیسے ابھی پنجاب حکومت نے گورنر کی منظوری سے مزدور کی کم سے کم اجرت 32 ہزار کر دی ہے۔ کون سا ایسا مزدور ہے جسے 32 ہزار ملے گا؟

وطن عزیز میں حقیقی قانون کی حکمرانی کے لیے امام شاہ ولی اللہ کے فلسفے پر یونائیٹڈ پاکستان کے پلیٹ فارم سے سوشلسٹ انقلاب لانا ناگزیر ہے۔ سوشلسٹ انقلاب سے ہی ملک کے ہر شہری کو اس کے حقوق بلا کسی امتیاز کے مل سکتے ہیں۔
جدوجہد کا تیز ہونا اب ناگزیر ہے۔

Facebook Comments HS