عدلیہ کی توقیر میں کمی: عدل کو بھی صاحب اولاد ہونا چاہیے

ایک وقت تھا جب عدلیہ کا احترام تھا۔ لوگ دروازے سے داخل ہوتے تو تعظیم بجا لاتے، اونچی آواز سے بات تک نہ کی جاتی، عدالت برخاستگی پر الٹے قدموں کمرۂ عدالت سے باہر نکلا جاتا، ججز کے رابطے اور ملاقاتیں محدود ہوتیں، تاکہ منصب کے تقاضے پامال نہ ہوں۔ گزشتہ چند برسوں میں عدالتی روایات کا احترام دم توڑ رہا ہے اور اب کمرۂ عدالت میں عدالتی احترام ہے نہ ہی خبروں اور تبصروں میں آداب ملحوظ رکھے جاتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ عدالتی روایات میں نرمی ہے جس سے عدلیہ کا احترام کمزور ہو گیا ہے۔
پسند کے فیصلے نہ ہوں تو تنقید اور عدالت کی توہین کی جاتی ہے، نوٹسز کا جواب دینا بھی ضروری نہیں سمجھا جاتا جب تک عدالت سے وارنٹ جاری نہ ہو جائیں۔ جب سیاسی اور عسکری قیادت ایسا رویہ اپنائے گی تو پھر عوام سے عدالتوں کے احترام کی امید کیونکر ممکن ہے؟ عدلیہ کا احترام ہی نہ رہے تو فیصلوں پر عمل درآمد اور آئین و قانون کی حکمرانی کیسے قائم ہو سکتی ہے؟ قانون کی حکمرانی کے لیے عدلیہ کا احترام ضروری ہے لیکن یہ بھی انصاف کا بنیادی اصول ہے کہ ترازو کے پلڑے ہر کسی کے لیے برابر ہوں۔ توہین عدالت کے کیسز میں دوہرا معیار نظر آتا ہے، بعض مقدمات میں توہین عدالت پر غیر مشروط معافی کے باوجود سزا، اور کئی میں غیر مشروط معافی مانگنے سے انکار کے باوجود راستہ فراہم کیا گیا۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کا یہ کہنا بجا کہ سپریم کورٹ ایک آئینی ادارہ ہے، جسے آڈیو ٹیپس کے ذریعے بدنام کیا جا رہا ہے۔ ہم صبر اور درگزر سے کام لے رہے ہیں مگر آئینی ادارے کا تحفظ کریں گے۔ سوال یہ ہے کہ آخر نوبت یہاں تک کیوں اور کیسے پہنچی؟ جب سابق چیف جسٹس ثاقب نثار، چیئرمین نیب کی آڈیو وڈیوز لیک ہوئیں، سابق جج ارشد ملک کی وڈیو سامنے آئی، اگر اسی وقت ان کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوتی کہ یہ آڈیو، وڈیو کس نے، کیوں، کیسے اور کس مقصد کے لیے لیک اور ریکارڈ کیں، یہ اصلی ہیں، یا اداروں اور شخصیات کو بدنام اور بلیک میل کرنے کے لیے ایڈیٹ کی گئیں، تو شاید یہ سلسلہ تھم جاتا۔
یہ نہیں ہو سکتا کہ محترمہ فاطمہ جناح، ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے لیے ایک قانون ہو اور عمران خان کے لیے کوئی دوسرا قانون گھڑ لیا جائے۔ بدقسمتی سے ایسا ہو رہا ہے اور وہ بھی سپریم کورٹ آف پاکستان کے ہاتھوں، سپریم کورٹ آف پاکستان کے 3 رکنی بینچ کے حالیہ متنازعہ فیصلے سے وہ لاوا جو اندر ہی اندر پک رہا تھا، بالآخر ابل پڑا۔ سپریم کورٹ کے بہت سے ججز کے ناموں سے عوام یکسر ناواقف ہیں کیوں کہ وہ آج تک کسی اہم بینچ پر متمکن نظر نہیں آئے، کیا وجہ ہے؟ اصول کیا ہے، ان میں سنیارٹی کی کمی ہے، یا ان میں لیاقت نہیں ہے؟ جسٹس مندوخیل نے جو حقائق بیان کیے وہ اسی بنیاد پر ہیں۔
فروری 2021 میں سپریم کورٹ کے چار ججز، اس وقت کے چیف جسٹس گلزار احمد، جسٹس عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مشیر عالم نے ایک حکم جاری کیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر کسی ایسے پینچ کا حصہ بننے پر پابندی عائد کر دی گئی جو عمران خان سے متعلق کوئی کیس سن رہا ہو، حالانکہ عمران نے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس بندیال کو ایک خط لکھا، جس میں کہا گیا کہ تیسرے چوتھے نمبر کے جونیئر ججز کو کسی اصول کے بغیر عدالت عظمیٰ لایا جاتا ہے تو پھر یہی جج ہر اہم کیس سنتے ہیں۔
اسی شکنجہ میں عدالتیں دہائیوں سے پھنسی ہوئی ہیں۔ جسٹس فائز عیسیٰ کی بات نظر انداز نہیں کی جا سکتی اس لئے انہوں نے اپنے ساتھیوں کے برعکس آج تک سرکار سے کوئی، قانونی، پلاٹ بھی حاصل نہیں کیا۔ اعلیٰ عدلیہ کی کہانی مولوی تمیزالدین سے شروع ہوئی، مارشل لاؤں سے ہوتی ہوئی، مقبول لیڈروں کی جلا وطنیوں، نا اہلیوں غداریوں اور پھانسیوں تک پہنچتی ہے۔
موجودہ آئینی و سیاسی بحران کا نقطہ آغاز عمران خان حکومت یا 2017 میں نواز شریف حکومت کا خاتمہ بحث اسی وجہ سے جاری ہے۔ موجودہ حکومت کی مشکیں چند عدالتی فیصلوں نے روز اول سے ہی کسیں، آئین کی دفعہ تریسٹھ اے کی ایسی تشریح کی گئی جسے قانونی ماہرین نے از سر نو آئین سازی کے مترادف قرار دیا، یعنی منحرف اراکین اسمبلی کا ووٹ بھی نہیں گنا جائے گا اور نا اہلی بھی ہوگی پھر اس کا اطلاق ماضی سے کیا گیا، جس سے آج ملک عدم استحکام کا شکار ہے۔
پاکستان میں نئی سحر طلوع ہوئی ہے جس میں مقبولیت قانون سے بالاتر ہے۔ ہماری عدالتیں ایک حاشیہ نشین کی طرح عمرانی بیان کردہ وجوہ اور حالات کی اسیر ہو کر رہ گئی ہیں۔ اسلام آباد سیشن عدالت سے عمران خان فرد جرم سے بچنا چاہتے تھے اس لیے وہ جتھے کے ساتھ آئے تاکہ کمرہ عدالت میں نہ پہنچ سکیں اور فرد جرم سے بچ جائیں۔ 21 مارچ کو عمران خان کو زمان پارک پر پولیس حملے کا کیس لاہور ہائی کورٹ میں پیش کرنا اور جج صاحب کو بتانا تھا کہ حملے کی وجہ سے بشریٰ بیگم خوفزدہ ہو کر چیخنے پر مجبور ہو گئی تھیں لہٰذا وہ ایک گمنام کار میں خاموشی سے عدالت پہنچے اور ریلیف حاصل کر لیا۔ جتھوں کو، اپنے حق میں فیصلوں کے لیے استعمال کو انہوں نے ایک سائنس بنا دیا ہے اور اسے ایک ہتھیار کے طور پر عدل اور عدالتوں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔
عدالتی معاملات میں عمران خان نے جن روایات کو جنم دیا ہے ان میں عدالتوں میں ملزم کی پیشی اس کی سیکورٹی سے مشروط ہے۔ ریاست اور اس کے اداروں پر عمران خان کو اعتماد نہیں۔ وہ عدالتوں سے باہر اپنی سیکورٹی کے طالب ہیں یا با الفاظ دیگر اب ملزموں کو سیکورٹی مہیا کرنا عدالتوں کی ذمے داری ہے۔ ماضی کی روایات یہ رہی ہیں کہ سواری دستیاب ہو یا نہ ہو، عدالتی سیڑھیاں چڑھنے کی طاقت ہو یا نہ ہو، ملزم وہیل چیئر پر ہوں یا لوگوں کے کاندھوں کے سہارے کٹہرے تک پہنچیں، عدالت کو ان باتوں سے غرض نہیں تھی۔
لیکن اب عمران خان کی جان کو خطرہ ہے یا نہیں یہ عدالتوں کے موضوع ہیں۔ عدالتیں دھڑلے سے عام آدمی اور مقبول لیڈر میں فرق کرتی ہیں۔ جتھوں کے ہمراہ آنے والے مقبول رہنما، آمر، ڈکٹیٹر اور باثروت افراد ہی اپنا من پسند فیصلہ حاصل کرتے ہیں چاہے وہ انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہویا نہ ہو۔ ریاست غلط بھی ہوتو ملزم خود کو قانون کے حوالے کرتا ہے پھر عدالتیں صحیح یا غلط کا فیصلہ کرتی ہیں جنہیں تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ اسی اصول کے تحت سقراط نے زہر کا پیالہ پیا، مولانا حسرت موہانی اور مولانا ظفر علی خان نے قید با مشقت کاٹی، مینڈیلا نے 27 برس جیل کاٹی، بھٹو پھانسی پر چڑھے، نواز شریف نے جلا وطنی اختیار کی، اکبر بگٹی جان پر کھیل گئے، پختون اور بلوچ رہنما قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں۔
ایک مہم جو مقبولیت کو تمام سیاسی اور عدالتوں پر غالب سمجھتا ہے۔ اس کی قوت کے راہ میں کوئی حائل نہ ہو، کوئی قانون اس کے تعاقب میں سرگرم نہ ہو، کوئی عدالت اسے پیشی پر مجبور نہ کرے۔ عام آدمی چند منٹ لیٹ ہو تو ضمانت منسوخ، جب کہ عمران خان کے لیے جج گھنٹوں انتظار کرتے ہیں۔ اور عدالتیں ناراضی کے بجائے داد دیتی اور رجسٹر لے کر حاضری لگواتی ہیں۔ ماضی میں سیاست کرنے کے لیے سیاستدان کی دولت فیصلہ کن کردار ادا کرتی تھی۔ اب عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ کے ججز کے اسٹیبلشمنٹ، اپنی پسند و ناپسند اور جتھوں کے دباؤ کے تحت فیصلے بھی ملکی عدم استحکام میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، آئین اور قانون سے پچھتر سالہ کھلواڑ کا انجام آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اسی لیے یہ کہنا مجبوری بن جاتا ہے کہ :
ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں
عدل کو بھی صاحب اولاد ہونا چاہیے۔

