گھر کے کام کاج


گھنٹی بجی تو دیکھا دودھ والا ہے۔ دودھ لے کر کچن میں رکھا تو خیال آیا کھڑے کھڑے اس کو ابال دیے لیتے ہیں کہ چلو اور کچھ نہیں تو ہمسر کا ہاتھ بٹانے میں نام لکھا جائے گا۔

چولہا جلا کر دیگچی کو اس کے حوالے کیا اور کھڑے ہو گئے۔ انتظار دنیا کی کٹھن چیزوں میں سے ایک ہے خواہ کیسا ہی ہو۔ اس میں وقت تھم سا جاتا ہے اور انسان کو ایسی باریکیوں پر بھی غور کرنے کا موقع مل جاتا ہے کہ جو شاید وہ ساری عمر نہ کر سکتا ہو۔ مثلاً یہی کہ کچن کے ایگزاسٹ فین پر کس قدر تیل جما ہوا ہے یعنی یہ تیل کے بخارات جب ایگزاسٹ کا یہ حال کر سکتے ہیں تو انسانی شریانوں کا کیا حشر کرتے ہوں گے۔ سنک میں تھوڑی دیر بعد ایک مخصوص وقفے سے ٹونٹی میں سے ایک قطرہ گر رہا ہے۔ اس میں کتنا تسلسل ہے بالکل ایٹمی گھڑی کے جیسا۔ اس کو بھی تو وقت ناپنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے اور یہ گرم مسالا بھی ختم ہونے والا ہے۔ روٹی کی چنگیر میں پڑے ہوئے اخبار پر نظر پڑی۔ مسماة ش رفع حاجت کے لئے کھیتوں میں جا رہی تھی کہ ملزمان پکڑ کر کماد کی اوٹ میں لے گیا۔ ابکائی سی آنے لگی۔ فوراً اخبار کا یہ ٹکڑا پھاڑ کر ڈسٹ بین میں پھینکا۔ جی میں آیا کہ پوری چنگیر کو ایک مرتبہ دھو لوں۔

یہ کیا ہے؟ اوہ کشمش کا ڈبہ ہے۔ اٹھا کر اس میں سے آدھی مٹھی بھر لی۔ بہت مزیدار ہوتی ہے۔ یہاں تک کے سارے عمل کے دوران یوں محسوس ہوتا تھا کہ صدیاں گزر گئی ہیں مگر دودھ پر نظر پڑی تو وہیں کا وہیں دیگچی میں سکون پروگرام سے لیٹا ہوا ہے۔ جیسے اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہو رہا۔ بھینس بہت نیک ہوگی۔ خیال آیا یہ کیا مصیبت چھیڑ لی خوامخواہ۔ مگر اب اوکھلی میں سر دیا ہوا تھا۔ اب کے موبائل جیب سے نکالا اور فیس بک چلانے لگے۔ یہ کیا ہے؟ یہ کوئی پنک چیٹ ایپ کا اشتہار ہے۔ کلیجہ منہ کو آ گیا۔ توبہ۔ بہت ہی فارغ مارکیٹنگ مینیجر ہے۔ اللہ توبہ۔ اب کی بار سچ میں الٹی آتی تھی، حلق سے واپس گئی۔

اچھا آگے چلیے ۔ یہ کون ہیں؟ یہ بھائی صاحب ایم فل اردو ہیں، نوکری نہیں مل سکی تو پرچون کی دکان کھول لی اب اسی پر بیٹھ کر بین الاقوامی منظرنامے پر لکھتے ہیں۔ آج انہوں نے پاکستانی ڈرائی فروٹ اور مسالوں کی اسرائیل میں پہلی برآمد پر امت کے کان کھڑے کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ ایک اور صاحب مدرسے کے فارغ التحصیل ہیں۔ یہ آب زم زم پر کپھار کے حالیہ پراپیگنڈے کا جواب دے رہے ہیں اور سائنس کی تمام شاخوں اور علم الکلام، رمل، نجوم اور روحانی علوم کو یکجا کر کے آب زم زم کو صحت بخش اور کائنات کا مصفی ’ترین پانی ثابت کر رہے ہیں۔ ان کی پوسٹ پڑھ کر ان سعودیوں کے ایمان کا خیال آنے لگا جو اسے صفائی کے لیے استعمال بھی کرتے ہیں۔

یہ حسین ہاتھ کے کنگن والے وصی شاہ صاحب کیا کر رہے ہیں؟ اچھا کمالیہ کھدر بیچ رہے ہیں۔ کاش پہلے بھی یہی کر لیتے۔ خیر دیر آید درست آید۔ یہ کون؟ اچھا یہ اپنے ہی کیمپ کے ایک یار غار ہیں۔ واہ واہ سبحان اللہ۔ کیا زبردست بات کہی ہے۔ اس پر دل والا لائیک کر دیا۔ یہ ایک خوبرو خاتون نے طویل پوسٹ لکھی ہے۔ چار جملوں کے بعد ہی آگے بڑھ گئے۔ یہ ایک اور صاحب ہیں۔ بہت اچھا لکھتے ہیں چاہا کہ دو توصیفی کلمات کمنٹ میں کہہ دوں لیکن جب یہ میری پوسٹ پر لائیک کمنٹ نہیں کرتا تو میں کیوں کروں۔ بڑا آیا۔

یہ کون ہے؟ یہ سارا دن فیس بک پر ورزش ہی کرتی رہتی ہے۔ اس کا اور کوئی کام ہی نہیں۔ بس انسانی دماغ ہے جس طرف چل پڑے۔

اوہ تیری۔ پھو پھو پھو پھو فو فو فوووووووووووو۔ آؤففففف۔ پھو۔
لیجیے۔ سارا ابل گیا۔

Facebook Comments HS