پیپلز پارٹی: پاکستان کی اکلوتی سیاسی جماعت



حالیہ تاریخ نے اس حقیقت کو کھول کر بیان کر دیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی سے زیادہ سیاسی حرکیات سے کوئی دوسری جماعت واقف نہیں۔ ہم داستان کو 2011 سے شروع کرتے ہیں جب ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے فیصلہ کر لیا کہ دو پارٹی نظام کو ختم کرنا ہے، کیوں کہ وہ ادارے کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ اس طرح ایک جماعت کی سرپرستی شروع ہوئی اور مختلف طریقے اپنا کر 2018 میں اسے ملک پر مسلط کر دیا گیا۔ اس وقت پیپلز پارٹی کے سوا دیگر جماعتوں کی خواہش تھی کہ فوری طور پر اسمبلیوں سے مستعفی ہو کر احتجاجی تحریک چلائی جائے، لیکن پیپلز پارٹی نے اس رائے سے اختلاف کیا۔ پارٹی کا موقف تھا کہ اسمبلی میں رہ کر سیاسی جدوجہد کی جائے، سیاست کا میدان خالی نہ چھوڑا جائے۔ یاد رہے کہ اس وقت مولانا فضل الرحمان اور میاں نواز شریف بھی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے حق میں تھے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت نے سب کو رضامند کیا کہ اسمبلیوں کو خالی نہیں چھوڑنا۔

پھر مناسب وقت پر پی ڈی ایم کا اتحاد وجود میں آیا، مشترکہ جلسوں کے ذریعے حکومت پر دباؤ بڑھایا گیا۔ پی ڈی ایم کی جذباتی قیادت نے ایک مرتبہ پھر مطالبہ کیا کہ اب لوہا گرم ہے، فوراً مستعفی ہو جانا چاہیے۔ پیپلز پارٹی کی جہان دیدہ اور سرد و گرم چشیدہ قیادت نے ایک مرتبہ پھر انکار کیا۔ اتحادی ساتھیوں نے پیپلز پارٹی کو اتحاد سے نکال باہر کیا لیکن پیپلز پارٹی اپنے موقف پر جمی رہی۔

وقت نے ایک بار پھر پیپلز پارٹی کے موقف کو درست ثابت کیا۔ وہ مناسب لمحہ آ گیا جب پیپلز پارٹی نے عدم اعتماد کی قرارداد لانے کی تجویز دی۔ یہ موقع اسی لیے ملا کہ اپوزیشن جماعتوں نے اسمبلیاں خالی نہیں کیں۔ حکومت کو صاف نظر آنے لگا کہ وہ بچ نہ سکے گی۔ اس نے اس وقت ملکی مفاد کو بھول کر صرف ذاتی مفاد میں آئی ایم ایف کے معاہدے سے رو گردانی کی۔ آج کل نوے دنوں میں انتخابات کی آئینی شق کی دہائی دینے والے بھول گئے کہ آئین نے عدم اعتماد کی قرارداد کے عمل کو تین ہفتوں میں مکمل کرنے کا پابند کر رکھا ہے۔ مختلف بہانوں سے اس عمل کو طول دیا گیا، پھر سازش کا جھوٹا بیانیہ تراشا گیا، قاسم سوری جیسے شخص سے ایک غلط رولنگ دلوا کر اسمبلی توڑنے کا ڈرامہ رچایا گیا جس میں صدر صاحب بھی شریک ملزم کے طور پر شامل رہے۔

سب حربے ناکام ہوئے تو سیاست سے نابلد رہنما نے قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔ یہ نہ سوچا کہ صرف دو ووٹوں کی اکثریت سے حکومت بنانے والے اتحاد کو کسی بھی مناسب موقع پر شکست دی جا سکتی ہے۔ قومی اسمبلی کے فوری انتخاب کے مطالبے میں ناکام ہو کر ایک اور احمقانہ حرکت کی گئی کہ پنجاب اور خیبر پختون خواہ کی اسمبلیاں بھی توڑ دی گئیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اب ان صوبوں میں نگران حکومتیں ہیں جن کی ہمدردی تحریکِ انصاف سے ہرگز نہیں۔ وہ جماعتیں جن کی قیادت کو شوق سے جیلوں میں بند کیا گیا تھا، حکومت میں بیٹھی ہیں اور سابقہ حکمران ہر ہفتے ضمانتوں میں توسیع لینے کی کوشش میں جتے ہوئے ہیں۔

یہ سب کیوں کر ممکن ہوا؟ صرف پیپلز پارٹی کی سیاسی قیادت کی کامیاب سیاسی حکمتِ عملی کی وجہ سے۔ ورنہ ایک وقت وہ تھا کہ خان صاحب اور ان کے اتحادیوں کے سوا ساری اپوزیشن جماعتیں مستعفی ہونا چاہتی تھیں، لیکن ان کا راستہ پیپلز پارٹی نے روکا۔ ان کو رضامند کیا کہ اسمبلی میں رہ کر سیاست کریں۔ جب حالات نے پلٹا کھایا تو سیاسی شعور سے بے بہرہ انصافی قیادت نے اسمبلیاں خالی کر کے حکومت کو کھل کھیلنے کا موقع دیا اور اپنی مشکلات میں اضافہ کیا۔

ثابت یہی ہوا کہ اصل سیاسی جماعت صرف پیپلز پارٹی ہی ہے، جو دور اندیشی سے کام لیتی رہی ہے، ورنہ باقی سب جماعتیں جذباتی فیصلے کرنے پر کمربستہ تھیں۔

کالج میں میرؔ کا ایک شعر پڑھا تھا:
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کارگہِ شیشہ گری کا
سیاست کا بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ یہ ہر کسی کے بس کا کام نہیں!

Facebook Comments HS