ریاست مدینہ کا معاشی نظام: ٹیکس
آج کی جدید معیشت میں ٹیکس ایک کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ دنیا میں شاید ہی اس وقت کوئی ملک ہو جہاں ٹیکس کا نظام موجود نہ ہو بلکہ دنیا میں موجود اس وقت سب ممالک کا نظام ٹیکس پر ہی چل رہا ہے اور اس ضمن میں عوام پر بھاری ٹیکس تھوپے گئے ہیں جن کی لاجک یہ بیان کی گئی ہے کہ چونکہ حکومت کو عوام کی صحت، تعلیم، فلاح و بہبود اور انفراسٹکچر وغیرہ کے لیے بڑے بڑے منصوبے لگانے ہوتے ہیں لہذا ٹیکس انتہائی ضروری ہیں لیکن اگر آپ دیانت داری سے ریاست مدینہ یا اسلام اور جدید دنیا کے لگائے گئے ٹیکسوں کا مطالعہ کریں تو آپ اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ جدید دنیا کا ٹیکس کا نظام انتہائی ظالمانہ ہے جو ایک ہی لاٹھی سے سبھی کو ہانکتا ہے جبکہ اسلام کا متعارف کردہ ٹیکس کا نظام کچھ اس طرح کا ہے کہ آمدنی گھٹنے بڑھنے سے کم و بیش ہو جاتا ہے بلکہ اگر آمدن ایک خاص سطح سے نیچے آ جائے تو بالکل معاف ہو جاتا ہے۔
مثلاً آپ زکٰوۃ کو ہی لے لیں، آپ کو ایک مخصوص آمدن پر اڑھائی فیصد کی شرح سے اسے ادا کرنا ہو گا اور وہ بھی سال گزرنے کے بعد لیکن یہاں آپ جدید ٹیکس کو دیکھیں تو یہ امیر غریب کو نہیں دیکھتا مثلاً اس وقت آپ بازار سے جتنی بھی چیزیں خرید رہے ہیں ان کی قیمت میں ایڈوانس ٹیکس شامل ہے۔ بطور مثال آپ اگر جوس کا ڈبا خریدتے ہیں تو اس کی پچاس روپے کی قیمت میں آٹھ روپے ٹیکس شامل ہے۔ کسی دفتر میں چند ہزار ماہوار پر لگا کوئی چوتھے درجے کا عام ملازم ہو یا لاکھوں روپے لیتا کسی ادارے کا چیف سب کے لیے وہ ٹیکس آٹھ روپے ہی ہے۔
یعنی ماں جیسی ریاست کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہے کہ آپ کی آمدنی کتنی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب ان دونوں کی معاشی حیثیت ایک جیسی نہیں تو ٹیکس ایک جتنا کیوں؟ آمدن کی کم بیشی سے ٹیکس کا کم و بیش ہونا اگرچہ جدید دنیا میں بھی انکم ٹیکس میں کسی حد لاگو ہے لیکن کلی طور یہ صرف اسلام کے معاشی نظام میں ہی نافذ ہے۔ اسلام نے ریاست کی آمدنی کے تقریباً سولہ ذرائع متعارف کرائے ہیں جن میں زکوۃ، مال غنیمت، مال فے، صدقہ، عشر، عشور، خراج، خرج، جزیہ، رکاز، کراء الارض، وقف اور ارض موات وغیرہ لیکن ظالمانہ ٹیکس کا کہیں بھی تصور نہیں ہے۔
یہ بات ذہن نشین رہے کہ یہاں ان اصطلاحات پر میں لفظ ”ٹیکس“ وسیع تر تناظر میں اسلام کر رہا ہوں تاکہ بات سمجھنے میں آسانی ہو ورنہ یہ ٹیکس سے بالکل مختلف صورتیں ہیں بلکہ اگر دیکھا جائے تو ریاست مدینہ میں ٹیکس کی مذمت اور حوصلہ شکنی کی گئی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جن لوگوں کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں ان میں وہ انسان بھی شامل ہے جو ٹیکس لیتا ہے۔ اسی طرح ایک اور جگہ فرمایا کہ ٹیکس لینے والا قیامت کے دن حوض کوثر کے پانی سے محروم رہے گا۔
جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے ریاست کی آمدنی کے لیے جو ذرائع متعارف کرائے ان میں ٹیکس نہیں ہے لیکن پھر بھی بات کو سمجھنے کے لیے ہم ان ذرائع کو اگر ٹیکس کہہ بھی دیں تو اس میں ٹیکس دہندگان کو مدنظر رکھا جاتا تھا نہ کہ ریاست کے مفاد کیونکہ وہاں باشندگان ہی مفاد ہی ریاست کا مفاد شمار کیا جاتا تھا۔ ان ذرائع میں کچھ ذرائع تو ایسے ہیں جن کی شرح اللہ تعالیٰ نے مقرر کی اور اس میں بھی افراد کی معاشی حیثیت کو مد نظر رکھا گیا لیکن جن ذرائع کی مقدار کے تعین میں نص قطعی موجود نہیں ان میں بھی لوگوں کی معیشت اور علاقائی حقیقت کو ضرور مدنظر رکھا گیا جیسا کہ فاروق اعظم ؓ نے معاشی امور کے لیے حضرت عثمان بن حنیفؓ اور حضرت حذیفہ بن یمان ؓ کو مقرر کیا ہوا تھا۔
یہ دونوں حضرات فے یا جزیہ کے سلسلے میں وہاں جاتے تو انھیں ہدایت تھی کہ شرح مقرر کرنے سے پہلے وہاں کے لوگوں سے صلاح مشورہ ضرور کرنا۔ پھر جب یہ واپس ریاست میں تشریف لاتے تو آپ انھیں قسم دے کر پوچھتے تھے بھی تھے کہ کیا لوگوں کو سہولت کو مدنظر رکھا گیا ہے؟ بلکہ اسی پر اکتفا نہیں کیا ہوا تھا بلکہ جب مذکورہ علاقے سے سالانہ اجناس یا آمدن وغیرہ آتی تھی تو آپ اس علاقے کے دس قابل، ماہر اور معتمد لوگوں کو بلاتے اور ان سے پوچھتے کہ ہم نے آپ پر جو شرح نافذ کی ہے کیا آپ کا مشورہ اور سہولت اس میں شامل ہے اور کیا ریاست اس کے بدلے آپ کی حفاظت کر رہی ہے؟
لیکن یہاں آپ دیکھیں کہ تعلیم، صحت اور حفاظت سے متعلقہ ہر چیز ہم اپنے پیسوں سے خرید رہے ہیں لیکن پھر بھی ان چیزوں کے بدلے ہم سے ٹیکس ضرور لیا جاتا ہے لیکن اسلام اسے واپس کرنے کا حکم کرتا ہے اگر مذکورہ مدات فوت ہو جائیں جیسا کہ مصر میں غیرمسلموں سے لیا گیا جزیہ حضرت عمر و بن العاص نے واپس کر دیا جب انھیں کسی وجہ سے وہ علاقہ خالی کرنا پڑا کیونکہ ان کے حقوق کے ضامن نہیں رہے تھے۔ آخر میں سرکار مدینہ کی بارگاہ میں، میرا لکھا گیا ہدیہ عقیدت ؛
پڑھ کر درود ان پر ایک بار دیکھیے
بختوں کو ہوتا پھر سے بیدار دیکھیے
ان کے حضور جا کر فریاد تو کریں
آتے ہیں کس طرح پھر غم خوار دیکھیے
منزل اگر کٹھن ہے پڑھیے سلام پھر
راہوں سے ہٹتے سارے کہسار دیکھیے
وا اللہ مدد کو آئیے وقت حساب ہے
دوزخ میں جا رہا ہے بدکار دیکھیے
میرے کریم ہم کو تیرا ہے آسرا
دشمن بنا ہے سارا سنسار دیکھیے
جلوہ ہے عام ان کا سب ہی کے واسطے
ہوتا ہے بس ہمیں بھی دیدار دیکھیے
تیرا تو اس جہاں میں پرسان بھی نہیں
کوثر کو ماریں طعنہ اغیار دیکھیے


