نارمل انسان اور خوابوں کی حقیقت
” ہم سب“ فیملی کی خدمت میں ’مذہب سائنس اور نفسیات‘ کی آخری قسط حاضر خدمت ہے۔ یہ کتاب دو سائنسدانوں کے درمیان مذہب، سائنس اور نفسیات جیسے موضوعات پر ایک پر مغز اور دلچسپ مکالمے پر مبنی ہے۔ راقم نے اس کتاب کا اردو میں ترجمہ گزشتہ برس کیا جو کینیڈا میں چھپ چکا ہے۔ دوسرا (اردو ) ایڈیشن پاکستان میں اس ماہ شائع ہوا ہے۔ چھٹی قسط کا موضوع جہاں عام انسان کی زندگی میں ہمیشہ سے گونجتا رہا ہے وہاں دلچسپ بھی ہے۔
سہیل زبیری : بادی النظر میں آپ ایک ایسے طبیب ہیں جو ان لوگوں کا علاج کرتے ہیں جن کو معاشرہ اور وہ خود بھی ذہنی طور پر اپنے آپ کو تندرست (نارمل) نہیں سمجھتے۔ کیونکہ وہ کسی نہ کسی نفسیاتی عارضے میں مبتلا ہوتے ہیں۔ عام طور پر ’نارمل‘ رویہ یہی سمجھا جاتا ہے کہ انسان معاشرے کے طور طریقوں کے مطابق زندگی بسر کر رہا ہو۔ یہاں تک تو یہ بات بالکل درست ہے مگر نفسیات کی زبان میں ’نارمل ہونے‘ کی اصل تعریف ہے کیا؟ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ بطور نفسیات دان آپ ایک صحتمندانہ روئیے سے کیا مراد لیتے ہیں؟ جیسے ہم کسی شخص کے جسم کے درجہ حرارت، خون کے دباؤ اور خون کے اجزاء کا لیبارٹری میں معائنہ کر کے اس کے جسم کے صحتمند ہونے پر قائل ہو جاتے ہیں، کیا اسی طرح ذہنی و جذباتی صحت ماپنے کا بھی کوئی پیمانہ موجود ہے؟
خالد سہیل : ذہنی طور پر نارمل (تندرست) شخص کون ہوتا ہے؟ یہ ایک مشکل سوال ہے۔ سگمنڈ فرائیڈ کہا کرتے تھے کہ : ”ذہنی و جذباتی طور پر وہ شخص نارمل ہے جو محبت اور کام دونوں کامیابی سے سر انجام دے سکے۔ “
بیمار وہ لوگ ہوتے ہیں جو کسی ذہنی تکلیف میں مبتلا ہوں یا ان کے روئیے سے ان کے اردگرد کے لوگ متاثر ہو رہے ہوں یا یہ دونوں باتیں بیک وقت ہو رہی ہوں۔ مختلف معاشرے اور تہذیبیں نارمل ہونے کے سوال پر چار طرح کے جوابات رکھتی ہیں۔ یوں ذہنی صحت مندی کی چار تعریفیں بنتی ہیں :
پہلی تعریف عام لوگوں کی ہے۔ جن کا خیال ہے کہ معاشرہ جس روش پر چل رہا ہے یہ نارمل ہے۔ یہ ایک عددی تعریف ہے۔ جیسے بہت سے لوگ جس عمل کو بار بار کریں وہ نارمل لگتی ہے اور رفتہ رفتہ لوگوں کا مزاج بن جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ؛ طلاق دینا، گھریلو جانور پالنا اور سیر و تفریح وغیرہ کے لئے جانا۔ مگر ضروری نہیں کہ نارمل ہونے کی یہ تعریف قانونی، مذہبی اور صحت کے اصولوں پر بھی پوری اترتی ہو۔
دوسری تعریف وہ ہے جس کو مختلف مذاہب نارمل ہونا سمجھتے ہیں۔ مذہبی لوگ اس کے لئے مذہب کا پیمانہ استعمال کرتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ تمام ثواب کے کام نارمل (صحتمندانہ کام) عمل ہے۔ جب کہ سب گناہ کے کام ’ایب نارمل‘ یا غیر صحتمندانہ رویہ ہیں۔ مذہبی نقطہ نظر سے ’ایب نارمل‘ لوگ جہنم کی آگ میں جلیں گے۔ ہندو دھرم کے پیروکار گائے کا گوشت کھانے کو پاپ سمجھتے ہیں۔ جب کہ مسلمان شوق سے کھاتے ہیں اسی طرح مسلمان سؤر کا گوشت کھانا گناہ سمجھتے ہیں جب کہ عیسائی شوق سے کھاتے ہیں۔
نارمل ہونے کی تیسری تعریف قانون دان، منصف اور پارلیمان میں بیٹھے لوگ دیتے ہیں وہ قانون کی پاسداری کو ایک نارمل رویہ گردانتے ہیں۔ جو لوگ قانون توڑتے ہیں وہ ان کو ’ایب۔ نارمل‘ سمجھتے ہیں اور ان کو ملکی قانون کے مطابق سزا دیتے ہیں۔ یہاں ایک بات دلچسپی کا باعث ہے کہ کچھ عرصے بعد جب قوانین تبدیل ہو جاتے ہیں تو ’نارمل‘ اور ’ایب نارمل‘ کے تعریف بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔
چوتھی تعریف ڈاکٹر، نرسیں، صحت سے متعلقہ افراد اور نفسیات دان دیتے ہیں۔ اس تعریف کا پیمانہ صحت کا معیار ہے۔ مختلف ممالک اور معاشروں نے ذہنی صحت اور جذباتی عارضوں کے مختلف درجے بنا رکھے ہیں۔ طبیب اور نفسیات دان پہلے مرض کے درجے کا تعین کرتے ہیں پھر اس کے مطابق علاج کرتے ہیں۔ عام قارئین کی سہولت کے لئے ذہنی و جذباتی عارضوں میں مبتلا افراد کے عارضوں کو میں اس طرح تقسیم کرتا ہوں :
اینگزائیٹی ڈس آرڈر اس میں :
’جنرل اینگزائیٹی ڈس آرڈر‘ ، ’پینک ڈس آرڈر‘ اور ’ڈپریسو ڈس آرڈر شامل ہیں۔
اس کے علاوہ کچھ پرسنلیٹی ڈس آرڈر ’ہوتے ہیں۔
جیسے شائیوزائڈ ڈس بارڈر لائن، ابسیسوکمپلسو، سائیکو پیتھک ڈس آرڈرز شامل ہیں۔
نفسیاتی مسائل کی شدید ترین کیفیات سائیکوسس کہلاتی ہیں ان کی دو مثالیں،
شیزوفرینیا اور بائی پولر ڈس آرڈر ہیں۔
ماہرین نفسیات ان نفسیاتی مسائل اور ذہنی امراض میں مبتلا انسانوں کا علاج ادویہ، آگاہی اور نفسیاتی معالجے کے ملاپ سے کرتے ہیں۔
خوابوں کی اہمیت
سہیل زبیری : بعض سوالات کی کھوج میں عمر بیت جاتی ہے مگر جواب نہیں ملتا۔ ایسا ہی ایک سوال میرے دماغ میں خوابوں سے متعلق ہے۔ کچھ لوگ خوابوں کی آمد کو خواہشات، خوف اور امیدوں سے جوڑتے ہیں اور کچھ مستقبل میں رونما ہونے والے واقعات کی پیش بینی سے منسلک کرتے ہیں۔ کیا آپ خوابوں کی کوئی سائنسی وجہ بتا سکتے ہیں؟ ابھی تک سائنس اس سوال سے متعلق کہاں تک پہنچی ہے اور اس بات کا کتنا امکان ہے کہ ہم مستقبل قریب میں کسی حتمی جواب تک پہنچ جائیں گے؟
خالد سہیل : میری حقیر رائے میں جسمانی اور حیاتیاتی سائنس، نفسیاتی اور سماجی سائنس سے مختلف ہے۔ کیونکہ جسمانی سائنس میں ہم زندگی کے ان پہلوؤں پر کام کرتے ہیں جن کو تجربہ گاہوں میں ماپا اور پرکھا جا سکتا ہے جبکہ نفسیاتی اور سماجی سائنس میں ہم زندگی کی عمدگی و خوشگواری سے متعلق پہلوؤں پر کام کرتے ہیں۔ ذہنی عارضے زیادہ تر لوگوں کے رویوں، تعصبات، ترجیحات اور عقائد سے جنم لیتے ہیں جن کی جانکاری لیبارٹری میں نہیں ہو سکتی۔ انسان اپنی زندگی اور اپنے رشتوں کو خود معانی پہناتے ہیں جن کی جانچ کا کوئی پیمانہ نہیں۔ ’الفریڈکنزے‘ نے ایک جگہ لکھا: ”جنسی عمل پر سائنسی تحقیق کرنا آسان ہے کیونکہ ہم جنس کا مشاہدہ اور تجزیہ کر سکتے ہیں مگر محبت پر سائنسی تحقیق نہیں کر سکتے کیونکہ ہم محبت کو صرف تصور ہی کر سکتے ہیں۔
جہاں تک ’خوابوں کی حقیت‘ کا تعلق ہے تو اس بارے میں ’علم نفسیات میں مختلف روایات ہیں۔ سگمنڈ فرائیڈ نے خوابوں کو انسانی لا شعور میں موجود ماضی کے غیر حل شدہ معاملات سے جوڑا ہے۔
’کارل ینگ‘ بھی خوابوں کو لا شعور سے ہی وابستہ کرتا ہے۔ مگر وہ یہ سمجھتا ہے کہ خواب ہماری باطنی دانش اور مستقبل میں رونما ہونے والے واقعات کی بھی نشان دہی کرتے ہیں۔ جوں جوں ’دماغی سائنس‘ ترقی کر رہی ہے ہم اس قابل ہوتے جا رہے ہیں کہ دماغ کے کام کرنے کے طریقے سے منسلک کر کے خوابوں کا مطالعہ کر سکیں۔ جیسے الیکٹرو اینسی فیلک تبدیلیاں، بالخصوص، ”آر ای ایم یا“ ریپڈ آئی موومنٹ نیند ”نیند کے دوران دماغ میں پیدا ہونے والی پانچ لہروں کی خصوصیات نیچے دیے گئے جدول میں ملاحظہ ہوں۔
اس مشاہدے کے مطابق ’آنکھوں کی تیز حرکت والی نیند‘ ہمارے سونے کے 90 منٹ بعد شروع ہوتی ہے۔ اسی نیند میں ہی ہمیں خواب آتے ہیں۔ نومولود بچوں کی 50 فی صد نیند ”آر ای ایم سلیپ“ ہوتی ہے۔ جبکہ بڑوں میں اس کا تناسب 20 فیصد ہے۔ مارک سولمی کے مطابق ہمارے شعور اور لاشعور کے درمیان ہمہ جہتی رشتہ ہے۔ اس ضمن میں ہمارے دماغ کے حصوں، مثلاً برین سٹیم سریبرل کا رٹیکس اور ریٹیکورل ایکٹیویٹننگ سسٹم کا آپس میں پر اسرار رشتہ ہے جس کی وجہ سے ہی ہمارا شعور کام کرتا ہے۔
بہرحال، دماغی اور علم نفسیات کے میدان میں بے پایاں ترقی کے باوجود ’خواب‘ آج بھی ایک معمہ ہے اور دنیا بھر کے نفسیات دانوں، نفسیاتی معالجوں اور ماہرین نفسیات کے لئے سر بستہ راز ہے۔
دماغ میں پیدا ہونے والی پانچ لہروں کی خصوصیات کا جدول
فریکوئنسی بینڈ
فریکوئنسی (ہرٹز)
دماغی کیفیت
گیما
35
یکسوئی
بیٹا
12-35
مضطرب، بیرونی عوامل سے آگاہی
الفا
8-12
آسودہ، بیرونی عوامل سے کم آگاہی
تھیٹا
4-8
نہایت آسودہ، باطنی توجہ
ڈیلٹا
0.5 – 4
نیند
ترجمہ و تخلیص : نعیم اشرف


