بڑی حویلی کی بیبیاں: تاب ناک کہانیاں
ایک سال پہلے جب انعام ندیم نے اطلاع دی کہ وہ ذکیہ مشہدی کی کہانیوں کا انتخاب کر رہے ہیں تو حیرت کے ساتھ ایک تجسس بھی ہوا، کیوں کہ کئی سال پہلے اجمل کمال کا کیا ہوا ان کے افسانوں کا ایک انتخاب ”پارسا بی بی کا بگھار“ کے عنوان سے چھپ چکا تھا۔ اس کی اشاعت سے بھی پہلے ذکیہ مشہدی کی کہانیاں آج میں چھپ کر اردو افسانے کے پرستاروں کو چونکانے کے ساتھ اپنا گرویدہ کر چکی تھیں۔ اس لیے مجھے انعام ندیم کے انتخاب سے کوئی خاص توقع نہیں تھی۔
اس کی دو وجوہات تھیں۔ ایک تو یہ کہ پچھلے طویل عرصے سے اردو دنیا میں بہت کم ایسے افسانہ نگار گزرے ہیں، جن کے پاس اتنی زیادہ تعداد میں عمدہ اور معیاری افسانے موجود ہوں کہ ان کے دوسرے انتخاب کی نوبت آ سکی ہو۔ دوسرے یہ محسوس ہوا کہ ہمارے دوست مرتب کے طور پر ایک کتاب اپنے کھاتے میں شامل کرنے کے تمنائی ہیں۔ لیکن نہیں جناب، ”بڑی حویلی کی بیبیاں“ کے عنوان سے جب یہ انتخاب چھپ کر سامنے آیا تو اس نے دونوں ہی باتیں غلط ثابت کر دکھائیں۔
اس انتخاب کے لیے لکھا گیا مرتب کا مقدمہ یقیناً خاصے کی چیز ہے۔ اسے پڑھ کر محسوس ہوا کہ انعام نہ صرف اچھے افسانوں کے پارکھ ہیں بلکہ نقاد بھی ہیں۔ اپنے مقدمے میں انہوں نے جس باریک بینی اور توجہ سے ذکیہ مشہدی کے افسانوں کا تجزیہ کیا، وہ حیران کن اور ستائش کے قابل ہے۔ یہ مقدمہ کسی مداح کی مداحی نہیں بلکہ بصیرت اور گہرائی کے حامل ایک نقاد کی تحریر ہے، جس کے مطالعے کے بعد ذکیہ مشہدی کی کہانیوں کا جوہر کھل کے سامنے آتا ہے۔ انعام ندیم جنہیں ہم پہلے ایک شاعر، مترجم اور ادب کے استاد کے طور پر جانتے تھے، اس مقدمے کے بعد انہیں بطور ناقد بھی یاد رکھیں گے۔ ان کے مقدمے کے علاوہ اس کتاب میں آصف فرخی کی تاثیر کی حامل ایک مختصر تحریر بھی شامل ہے۔ جو ذکیہ مشہدی کی افسانوی دنیا کو سمجھنے میں معاونت کرتی ہے لیکن ان کی افسانوی دنیا کا تنوع دیکھتے ہوئے ان پر مزید لکھنے کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
ستم کی بات ہے کہ ذکیہ مشہدی کے افسانوں کے سات مجموعوں میں سے ایک بھی پاکستان میں شایع نہیں ہوسکا۔ یہ انتخاب بڑی حد تک اس کمی کی تلافی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ”بڑی حویلی کی بیبیاں“ میں کُل بیس افسانے شامل ہیں۔ یہ افسانے پڑھ کر شدت سے احساس ہوتا ہے کہ ذکیہ مشہدی بالکل فطری افسانہ نگار ہیں۔ انہیں اپنے افسانوں کے لیے ہیئت اور مواد ڈھونڈنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی اور انہیں ہر طرح کے موضوع کو اس کی مطلوبہ فارم میں ڈھالنا بخوبی آتا ہے اور بظاہر لگتا ہی نہیں کہ انہیں زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔ ایسا افسانہ نگار غیر معمولی صلاحیت کا حامل ہوتا ہے۔ اسے بس اپنے گردوپیش پھیلی دنیا پر ایک نظر ڈالنے کی ضرورت ہوتی ہے اور کسی عام آدمی کی صورت اسے کوئی ایسا کردار مل جاتا ہے جو اپنی غیر دلچسپ کہانی ایک دلچسپ طریقے سے اس طرح سناتا ہے کہ پڑھنے والا افسانہ نگار کے موقف کی تائید کیے بغیر نہیں رہ پاتا۔
کہانی کے فنی رموز پر ذکیہ مشہدی کی گرفت اتنی مضبوط ہے کہ ان کے افسانوں میں کہیں واقعات کی افراط نظر آتی ہے، نہ زبان و بیان میں کسی قسم کی مبالغہ آرائی۔ وہ پریم چند کی طرح نری سماجی حقیقت نگار نہیں بلکہ عصمت چغتائی کی طرح نفسیاتی گہرائی کی حامل حقیقت پسند ہیں مگر عصمت کی طرح ترقی پسند نہیں بلکہ دردمند دل سے رکھنے والی ایک انسان دوست ہیں۔ وہ اپنے افسانوں میں نچلے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے انسانوں کے دکھ، محرومی یا ان کی الم ناک صورت حال کو کمال مہارت اور چابک دستی سے اس طرح لکھتی ہیں کہ وہ دل پذیر کہانی کے روپ میں ڈھل جاتی ہے۔ ذکیہ مشہدی کے افسانے پڑھتے یہ احساس شدت سے ہوتا ہے کہ انہوں نے جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے زیرِ اثر اردو افسانے میں ہونے والے اٹکل پچو قسم کے تجربات سے کوئی اثر نہ لیا اور اپنی مخصوص سادگی و پرکاری کے ساتھ اپنی کہانیاں کہتی رہیں۔ ان کے افسانوں میں اثر پذیری اور گہرائی کا ایک سبب یہ بھی ہے۔
بعض کہانیاں ذہن و دل پر ایسا نقش چھوڑ جاتی ہیں، جس کا مٹنا دشوار ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوتا ہے۔ ماہ و سال کی ہوائیں جسے مٹانے کا جتن کرتی ہیں لیکن گزرتا وقت ان کہانیوں کی تاب ناکی کم کرنے کے بجائے بڑھاتا چلا جاتا ہے اور پھر اس کی شہرت سرحدیں پار کر کے دور تک پھیلنے لگتی ہے۔ ذکیہ مشہدی کی کہانیاں بھی ایسی ہی ہیں جن کی خوشبو خود بخود چپکے چپکے نزدیک و دور پھیلتی جا رہی ہے۔





