سیاسی گفتگو سے پرہیز کیوں؟


ہندوستان (برصغیر) میں مغل سلطنت کا زوال شروع ہو چکا تھا۔ یہ سنہ سترہ سو بارہ کی بات ہے۔ شاہ جہاں کا پڑپوتا جہان دار شاہ تخت نشین تھا۔ یہ مغلیہ سلطنت کا آٹھواں شہنشاہ رہا۔ جہاندار نے صرف گیارہ ماہ حکومت کی۔ اس نے اپنے مختصر دور میں زندگی خوب انجوائے کی۔ زیادہ تر وقت عیش و عشرت میں بسر کیا۔ اسی دور میں جہاندار شاہ نے دہلی کی خوبصورت رقاصہ اور مغنیہ لال کنور کو آف شور بیوی سے باقاعدہ زوجہ کا درجہ دیا۔

لال کنور بے حد خوبصورت اور پرکشش تھی۔ یہ بادشاہ سلامت کی بہت چہیتی اور لاڈلی تھی۔ نازک اندام اداؤں والی ملکہ شہنشاہ کا بہت خیال رکھتی تھی۔ شہنشاہ بھی اپنی محبوبہ کی ہر خواہش پورا کرتا تھا۔ جہاندار نے ایک دن ملکہ کو اداس پایا تو دل گرفتہ ہوا۔ پوچھا کہ کیا ہوا۔ لال کنور نے محبت بھرے لہجے میں کہا اتنی زندگی گزری مگر آج تک کسی انسان کو ڈوبتے نہیں دیکھا۔ کیسی زندگی ہے یہ؟ بادشاہ سلامت نے کہا یہ بھلا کون سی بڑی بات ہے۔

تمہاری یہ خواہش پورا کرنے کا اہتمام کرتا ہوں۔ بادشاہ نے فوراً ملاحوں کو حکم صادر فرمایا کہ ایسے آدمی تلاش کیے جائیں جو تیرنا نہ جانتے ہوں۔ شاہی فرمان کی فوری تعمیل ہوئی۔ ملاحوں نے تیس چالیس آدمیوں کو دریا پار کرانے کے بہانے کشتی میں بٹھایا اور دریا کے عین وسط میں کشتی الٹا دی۔ لال کنور نے کنارے پر کھڑے ہو کر انسانوں کے ڈوبنے کا یہ تماشا دیکھا اور خوب محظوظ ہوئی۔ اور جہاندار نے بھی ملکہ کو خوش کرنے پر خود سے داد وصول کی۔

کہانی ختم۔ تین سو برس بیت گئے۔ مغل دور رہا نہ متحدہ ہندوستان۔ برصغیر بٹ کر بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش بن گیا۔ لیکن عجیب بات ہے کہ شوق تماشا ہنوز جاری ہے۔ ڈوبنے والے بدل گئے۔ تماش بین بدل گئے۔ تماش کی نوعیت بدل گئی۔ لیکن تماشا نہیں بدلا۔ تماشا جاری ہے۔

پاکستان زرعی ملک ہے۔ وسائل سے مالا مال ہے۔ موسموں اور فطرتی خوبصورتی میں بھی بے مثال ہے۔ لیکن آج کل بھوک سے نڈھال ہے۔ ہر چوک اور چوراہے پر بھوک رقصاں ہے۔ شہر و گام میں بھوک کا خوفناک تماشا ہے۔

ملک و قوم کو اس بے بسی کی حالت تک کس نے پہنچایا۔ بھوک کا یہ المناک تماشا دیکھنا، آخر کس کی خواہش تھی۔ کون مفلسوں اور غریبوں کو بھیڑ میں کچلے جانے کے رقت آمیز مناظر دیکھنا چاہتا تھا۔ کون معمر خواتین اور بزرگ انسانوں بے بسی کے عالم میں بے کسی کی موت مرتے دیکھنا چاہتا تھا۔ اور کس نے اس خواہش کو پورا کرانے کا پورا پورا اہتمام و انتظام کیا۔ محض دس کلو آٹے کی خاطر تیس کے قریب زندگیوں کے چراغ گل ہوچکے۔ جہاں بھی آٹے کا ٹرک کھڑا ہوتا ہے۔ بھوک تماشا شروع ہوجاتا ہے۔ معلوم نہیں ان افسوسناک واقعات سے کس کا دل بہل رہا ہے؟ کس کی خواہش پوری ہو رہی ہے۔ کون ہے اس دور کی لال کنور ہے اور کون ہے جہاں داد شاہ؟

بھوک تہذیب مٹا دیتی ہے۔ یہ تو سنا تھا مگر ایک زرعی اور قدرتی وسائل سے مالا مال ملک میں اس کا چہرہ اتنا خوف ناک، بھیانک اور تباہ کن ہو سکتا ہے، یہ چشم فلک نے پہلی بار دیکھا۔

پاکستان میں سیاسی معاشی اور آئینی بحران جاری ہے لیکن ان سب سے بڑا بحران عوام کی بھوک ہے۔ مہنگائی میں جھلسنے والے لوگوں کی کم آمدن اور بھاری خرچے ہیں۔ پاکستان کے شہنشاہ سلامت (موجودہ حکمران) آئی ایم ایف کی شرط پر بجلی گیس، پٹرول اور کھانے پینے کی چیزیں آئے روز مہنگی کر رہے ہیں۔ ٹیکس در ٹیکس عوام پر لادا جا رہا ہے۔ لوگ یہ بوجھ کیسے برداشت کرسکیں گے اور روز مرہ معاملات کیسے مینیج کریں گے اس پر کوئی دھیان ہی نہیں دے رہا۔

پی ڈی ایم کی موجودہ حکومت کو بارہ ماہ ہونے والے ہیں۔ سب سیاسی جماعتوں نے سابق وزیراعظم عمران خان کو ناکام، نا اہل، چور، اور پتہ نہیں کیا کیا قرار دے کر شہنشائیت سے ہٹا دیا۔ انہوں نے اس وقت یہ وعدہ کیا تھا کہ عمران خان کے دور میں ہونے والی مہنگائی سے عوام کو نجات دلائیں گے۔ ہائے عوام کی شومئی قسمت۔ سب تدبیریں الٹی ہو گئیں۔ ایک عذاب ٹل گیا تو دوسرا نازل ہوا۔

موجود حکمران سابق وزیراعظم عمران خان سے بھی زیادہ نا اہل ثابت ہوئے۔ مہنگائی کم کرنے کے بجائے ملک میں مہنگائی کا طوفان برپا کیا۔ قبر اور کفن بھی ٹیکس گردی کا نشانہ بنے۔ حتیٰ کہ قبر پر بھی ٹیکس عائد کرنے کا خدشہ موجود ہے۔ یوں جن کو زندگی میں سکون نہ ملا۔ آخری سفر میں بھی ان کی روحیں بے چین ہوں گیں۔ قبر کا سکون۔ واللہ عالم۔

Facebook Comments HS