خیالی پلاؤ سے خیالی میڈم ثنا تک


خبر یہ ہے کہ ایک طرف ہم لوگ وطن عزیز میں اب تک خیالی پلاؤ پکانے سے باہر نکل نہیں پا رہے تو دوسری طرف پڑوسی ملک نے ایک خیالی میڈم ثنا تخلیق کر ڈالی ہے۔ ہندستان نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے ملک کی پہلی نیوز اینکر تخلیق کر لی ہے۔ ثنا کی تخلیق کو الیکٹرانک میڈیا ہی نہیں بلکہ شوبز کی دنیا میں مصنوعی ذہانت کے کرشمات کی ابتدا کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ مستقبل میں الیکٹرانک میڈیا اور شوبز کے تمام شعبوں میں کام کرنے والے لوگوں کی جگہ مصنوعی ذہانت لے جائے گی۔

جدید ٹیکنالوجی سے بنائی گئی اینکر کا نام ثنا رکھا گیا ہے جس نے اپنی پہلی انٹری پر موسم کی لائیو خبروں سے ناظرین کو آگاہ کیا۔ موسم کی یہ خبریں ثنا کی آواز سے انگریزی زبان میں نشر کی گئیں لیکن بتایا جا رہا ہے کہ اے آئی اینکر ثنا انگریزی کے علاوہ بھی متعدد زبانیں بولنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ جب سے یہ خبر چلی ہے ہمارے ایک ساتھی کو فکر لاحق ہو گئی ہے کہ اب ثنا باجی کی طرح کئی ایسی خیالی اور مصنوعی تخلیقات کرینہ، دیپیکا پڈوکون، ماہرہ خان وغیرہ کی جگہ لے لیں گی۔

حالانکہ جب اس نے بات ثنا کو باجی کہہ کر شروع کی تو مجھے لگا کے اختتام بھی برقعے میں ہی ہو گا۔ چلیں کوئی بات نہیں، سب کی رائے کا احترام لازم ہے۔ دیکھا جائے تو اس طرح کی تخلیق کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ خیالی اداکاراؤں کی آمد سے خیالی پلاؤ پکانے والے بے پہنچ عاشقوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ بس اپنے اپنے دیکھنے کا انداز ہے ایک ہی چیز کے کچھ لوگ صرف نقصانات دیکھتے ہیں اور کچھ لوگ فوائد۔ ہم چونکہ مثبت سوچ اور کھلے ذہن کے مالک ہیں اس لیے ہمیں اس میں بھی بھلائی نظر آ رہی ہے اور اسی لیے ہم اسے دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہہ رہے ہیں، ثنا نہیں! ٹیکنالوجی کو۔

کیا خبر کل کلاں وطن عزیز میں کوئی ماہر مصنوعی ذہانت کی مدد سے بہترین قسم کے سیاستدان، بیوروکریٹ، سجیلے جواں اور قاضی بنا ڈالے۔ انتظامی معاملات فہم و فراست سے آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر چلائے جائیں۔ سوچو کبھی ایسا ہو تو کیا ہو!

نہ کوئی معاشی مسائل باقی رہیں، نہ کوئی اختیارات کی رسہ کشی باقی ہو۔ نہ شیخ و ترین کا لانجھا ہو اور نہ کوئی مفتاح و ڈار کا مسئلہ۔ نہ کرپشن کا شور ہو نہ ہی کوئی گھڑی چور ہو۔ نہ جمہوریت کا انتقام باقی رہے نہ مارشل لا کا ڈر۔ نہ کوئی بینچ ٹوٹے اور نہ کوئی ٹرک پے ٹوٹے۔ نہ جبری گمشدگی ہو اور نہ دہشتگردوں میں اچھے اور برے کی درجہ بندی۔ غربت، جنسی و مذہبی امتیاز، انسانی حقوق کی پامالی سب ماضی کا قصہ بن جائیں، اور ایسے ملیں جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں۔

دشمنوں کے ساتھ اپنے بچے بھی پڑھائیں اور علاج سب مل کر اپنے ہی ملک میں سرکاری ہسپتالوں سے کرائیں۔ پڑوسی ہم سے اور ہم ان سے راضی ہو جائیں اور ٹیکس کا پیسہ فلاح و بہبود پر لگائیں۔ بہبود سے یاد آیا کہ بہبود آبادی کا بھی کوئی حل نکل آئے تو کمال ہی ہو جائے۔ اور پھر چین ہی چین لکھنے والا راوی بھی مصنوعی ذہانت سے بنا ہو تو کیا ہی بات ہو۔

خیر یہ خواہش و تمنا اپنی جگہ کہ ”ہے تمنا ہمیں تجھے درسی کتابوں والا ملک بنائیں، تیری گلیوں میں ندیاں دودھ کی بہائیں“ ۔ لیکن بات ہو رہی تھی ثنا کی۔ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ اے آئی اینکر ثنا کے کمالات کیا رنگ لاتے ہیں۔ لیکن ذرا سوچیں! کہ بہترین اداکاری، اینکر، کوریوگرافی وغیرہ کے ایوارڈز انسانوں کے بجائے مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کو ملنے لگیں۔ اور بالی ووڈ کا سپر اسٹار دلیپ کمار، بچن یا شاہ رخ خان نہیں بلکہ ایک مصنوعی اداکار ہو جو حقیقی وجود ہی نہ رکھتا ہو۔

۔

Facebook Comments HS