پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے


زمانے کو برا بھلا کہنے والے وقت گزرنے کے بعد اسی زمانے کو اچھا کہتے ہیں اور اسی زمانے میں لوٹ جانے کے سپنے دیکھتے ہیں جو زمانہ گزر گیا۔

اگر مذہبی اعتبار اور خاص طور پر مسلم تاریخ کے پس منظر میں ماضی کو دیکھا جائے تو بتانے والے ہمیشہ ماضی کو اچھا اور حال کو برا ہی بتاتے آئے ہیں۔ جو حال ابھی ہے ایسا حال ماضی میں نہ تھا ایسا ہر تقریر میں سننے کو ملتا ہے۔ مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ مسلم تاریخ حال میں تو ناقابل بیان ہے ہی مگر ماضی میں بھی سب اچھا تھا، ایسی ’او کے‘ کی رپورٹ کبھی موصول نہیں ہوئی۔ عنوان کے پیش نظر یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ کعبہ کو متعدد مرتبہ پاسباں صنم خانے سے ہی ملے۔

قصہ ہے گیارہویں صدی کا جب مسلمان حکمرانوں کی حماقت کی وجہ سے منگولوں کا رخ اسلامی ریاستوں کی طرف ہو گیا۔ دنیا کی اس سفاک ترین قوم نے آندھی اور طوفان کی طرح عراق، ایران اور ترکستان کی اسلامی ریاستوں کو تباہ و برباد کر دیا۔ مسلمانوں میں نفاق کوئی آج کی بات نہیں یہ تب بھی تھا اور تارتاریوں کی یلغار کی آگے اس وقت مسلم قیادت کے پاس اگر کچھ تھا بھی تو وہی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد جو اپنی اپنی تھی۔ ایسے وقت میں شیخ جمال الدین ایرانی نے شکست کھائی ہوئی قوم کی کمان سنبھالی اور دعوت اور عمل سے اپنا آفاقی پیغام تغلق تیمور تک پہنچایا جو منگولوں کے ایک بڑے قبیلے چغتائی کا ولی عہد تھا۔

ایران پر تب اسی قبیلے کی حکومت تھی۔ شیخ جمال الدین ایرانی کی حیات تک تو ولی عہد تیمور بادشاہ نہ بن سکا مگر شیخ رشید الدین جو کہ شیخ جمال الدین ایرانی کے فرزند تھے کے ہاتھ پر تیمور نے بیعت کی۔ جیسے ہی ایران میں بادشاہ اور اس کے وزیر کے اسلام لانے کی خبر مشہور ہوئی، تاتاری بھی اسلام قبول کرنے لگے۔ پہلے دن ایک لاکھ ساٹھ ہزار آدمیوں نے اسلام قبول کیا۔ اس سے قبل کہ تاتاری اسلامی تہذیب و تمدن کا نام و نشان مٹا ڈالتے، اللہ کے دین نے ان کو اپنے رنگ میں رنگ دیا۔ اسلام کے دشمن، اسلام کے پاسبان بن گئے۔ تغلق تیمور کی طرز حکمرانی اور بقیہ تاریخ سے قطع نظر ہم صنم خانے سے پاسباں کے مل جانے تک اکتفا کرتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں جہاں مسلم ریاستیں اپنی اپنی بقا کی جنگ میں منتشر ہیں اور ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ تو کجا ایک دوسرے کے وجود کا صفایا کرنے پر کاربند ہیں وہیں چین ایک مرتبہ پھر کعبے کا پاسباں بن کر سامنے آیا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں کئی دہائیوں سے دشمنی رکھنے والے سعودی عرب اور ایران کے تعلقات اب تبدیل ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ جس میں چین کی ثالثی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

دونوں ممالک کے مابین دہائیوں پر محیط اس تصادم کی متعدد وجوہات رہی ہیں۔ جن میں جغرافیائی سیاسی مسائل جیسے علاقائی قیادت کی خواہشات، تیل کی برآمد کی پالیسی اور امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے دونوں ممالک کے مابین ہمیشہ تناؤ رہا ہے۔ باہمی تعاون میں پڑی اس خلیج کی شروعات 1979 ء ایرانی انقلاب کے بعد سے ہوئی۔ دونوں ممالک کے مابین تعلقات کافی خراب رہے ہیں اور ایران سعودی عرب پر خلیج فارس کے علاقے میں امریکہ کا ایجنٹ ہونے کا الزام عائد کرتا آیا ہے۔

1991 ءکی خلیجی جنگ کے بعد بھی تعلقات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ مارچ 2011 ء کے بعد شام کی خانہ جنگی بھی کشیدگی کا باعث بنی۔ ایران نے بشار الاسد کی قیادت میں شامی حکومت کی مالی اور فوجی مدد کی جبکہ سعودی عرب باغیوں کی حمایت کر رہا ہے۔

2012 میں ایران کے خلاف عالمی پابندیوں میں سعودی عرب ایرانی تیل کے خلاف امریکی قیادت کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کی حمایت کرتا رہا ہے۔ جنوری 2016 ء کو تہران، ایران میں سعودی عرب کے سفارت خانے میں سعودی نژاد شیعہ عالم نمر النمر کی پھانسی کے بعد توڑ پھوڑ کی گئی۔ ایران میں اپنے سفارت خانے پر حملے کے بعد سعودی عرب نے ایران سے سفارتی تعلقات توڑ دیے اور سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ تمام ایرانی سفارت کاروں کو اڑتالیس گھنٹوں میں ملک چھوڑنا ہے۔ یہ وقت دونوں ممالک کے درمیان ایک ڈیڈ لاک کا وقت تھا۔

دہائیوں پر محیط اس آپسی دشمنی نے جہاں دونوں ممالک کا نقصان کیا وہیں خطے میں بد امنی کو ہوا بھی دی۔ حالیہ معاہدہ جو چین کی ثالثی میں ہوا ہے وہ نہ صرف دونوں ممالک کے لیے بلکہ تمام عرب خطے کے دیگر ممالک جیسے شام، عراق، لبنان، یمن اور بحرین وغیرہ کے لیے بھی استحکام کی ایک کڑی بنے گا۔

چین کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کے بعد دونوں ممالک نے 10 مارچ 2023 کو تعلقات کی بحالی کا اعلان کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ معاہدے کے تحت دونوں ممالک سلامتی، تجارت اور ثقافت سے متعلق معاہدوں کو دوبارہ بحال کریں گے۔ معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی خودمختاری کے احترام کے ساتھ ساتھ، ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا بھی عہد کیا ہے۔

اسلامی تعاون کی تنظیم کا بنیادی مقصد تمام مسلمان ریاستوں کے مابین بہتر روابط قائم کرنا تو تھا مگر اس تنظیم کا تجزیہ اگر پاکستانی موجودہ سماجی اصولوں پر کیا جائے تو عملاً اس تنظیم نے اپنی شناخت ایک سخت گیر اور ہٹ دھرم رشتے دار کے طور پر کرائی ہے جو حال کے کسی قضیے کے حل یا مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے تنظیم کی تقریب میں اپنی شمولیت کو کسی دوسرے فریق کی عدم موجودگی سے مشروط کرے گا۔ بہرحال یہاں چین نے ایک مرتبہ پھر ہمارے لیے حیا کے باب کھول دیے ہیں اب ہم اس عمل میں کتنی سنجیدگی دکھائیں گے اس کا پتہ وقت ہی دے گا۔

Facebook Comments HS