آٹے کا چورن


بھوک میں کوئی کیا بتلائے کیسا لگتا ہے
سوکھی روٹی کا ٹکڑا بھی تحفہ لگتا ہے
یہ تو کھلونے والے کی مجبوری ہے ورنہ
کس بچہ کا رونا اس کو اچھا لگتا ہے
جب سے چھوڑ دیا ہے پیسہ دو پیسہ لینا
اب تو بھکاری بھی کچھ عزت والا لگتا ہے
یارو اس کی قبر میں دو روٹی بھی رکھ دینا
مرنے والا جانے کب کا بھوکا لگتا ہے
محلوں کے گن گاتا بھی تو کیسے اے اخلاقؔ
تو تو پیارے فٹ پاتھوں کا راجہ لگتا ہے

گزشتہ چند روز سے آٹے کی تقسیم کی خبر نے جو ہلچل مچا دی ہے۔ لکھنے والے نے اس کے ساتھ مکمل انصاف لیا ہے۔ مفت آٹے کے لیے آ نے والوں سے جو سلوک ہو رہا ہے اس پر تبصرہ کرنا بڑا دل خراش لگ رہا ہے۔ حکمرانوں نے اپنی واہ واہ کے چکر میں لوگوں کی عزت نفس کو پامال کر چھوڑا ہے۔ بلکہ بات عزت سے جان تک آ چکی ہے۔ سوشل میڈیا پر جو ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں وہ بہت درد ناک ہیں۔ جس میں بس یہ ہی لگتا ہے آٹے کا چورن غریب کے لیے زندگی اور موت کی جنگ بن گیا ہے۔

گزشتہ صبح سحری کے بعد سفر کرنے کا اتفاق ہوا۔ تو رات کے اس آ خری پہر سڑک پر اس قدر رش دیکھ کر حیرانی ہوئی۔ خیر ہو سب کو اس وقت کون سے ضروری کام ہیں جو چھوٹے بچوں کو اٹھائے خواتین و مرد حضرات روا دواں ہیں۔ پھر ان کہ ہاتھ میں تھامے لفافے دیکھے تو اندازہ ہو کہ یہ سب روٹی کی سازش لگتی ہے۔ جس نے انہیں اس پہر سڑک کے بیچوں بیچ لا کھڑا کیا ہے۔

پھر ذرا آ گے جا کر ایک میرج ہال کے سامنے سے گزر ہوا تو وہاں چہروں پہ عجیب بے بسی، درد، نیند، بھگدڑ، ہلچل سی جسے انسانوں کا مینا بازار تھا۔ جس میں نا جانے آج کس کی واپسی چار کندھوں پہ ہونی تھی۔ اس سوچ میں غلطاں تھی کی ایک پنجابی شعر ذہن کے پردہ سکرین پہ ابھرا۔

تو کی جانے یار امیرا، روٹی بندہ کھا جاندی اے

روز اک نئی خبر، خبروں کی سیاہی بنتی ہے۔ آج آٹے کے اصول کے چکر میں اتنے لوگ جان گنوا بیٹھے۔ کسی کا دل کا اس تذلیل کی تاب نہ لا سکا۔ اور دھڑکنے سے دغا دے گیا۔ کوئی حاملہ خاتون دھکم پیل میں اپنے ساتھ ننھی جان کو ساتھ لے کر چل بسی۔ تو کہیں بھوک کے مارے آپس میں الجھ پڑے۔ سننے میں آیا ہے اتنی خواری اور انتظار کے بعد کبھی ان کی مشین دغا دے جاتی ہے تو کہیں میسیج موصول نہیں ہوتا۔ کہیں پر آٹا نہ ملنے پر احتجاج ہو رہا ہے۔ تو کہیں خواتین نے سڑک بند کر دی

تو کسی جگہ نئے تعینات اسسٹنٹ کمشنر کے سامنے احتجاج کیا گیا۔ اس دوران ایک خاتون نے اسسٹنٹ کمشنر کی واسکٹ اتار لی جس پر اسسٹنٹ کمشنر کے گارڈ نے خاتون کو تھپڑ مارا تو شہری مشتعل ہو گئے اور اسسٹنٹ کمشنر کی گاڑی پر حملہ کر دیا۔ کیا عجب معاملہ درپیش ہو ہے اس قوم کے ساتھ۔

آہ کیا تھے ہم اس روٹی نے کہاں لا کھڑا کیا۔ اس سب میں ایک طبقہ ایسا ہے جن کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے۔ جو مال مفت دل بے رحم والے مقولے پہ عمل کرتے ہیں۔ وہ لوگ جو صاحب استطاعت ہے۔ لیکن مفت کے بکتے چورن میں اپنا حصہ ڈالنے سے ذرا نہیں گھبراتے۔ مقام تو شرمندگی کا ہے مگر ہم وہ بندہ ناچیز ہیں کہ شرم کو ہم سے شرم آ جائے مگر ہم مفتا کیوں جانے دیں۔ اور مستحق کا حق کھانا ہو عین ثواب دارین سمجھتے ہیں۔

یہ کہہ کر تسلی کر لی دل کی سب لوٹ رہے ہیں ہمارے ملک کو تو ہم کیوں پیچھے رہ جائیں اپنا حق لینے میں۔ غریب کے مال پہ سب کا حق ہوتا ہے سوائے اس کے۔

اور پھر آتے ہیں ہمارے عظیم سیاستدان جنہوں نے اپنے بہترین نمائشی منصوبوں سے عوام کو ہمیشہ ہی خجل، خراب ہی کیا ہے۔ کہنے کو تو وہ عوام کی خدمت کرنے کا عہد کرتے ہیں۔ یوں بڑے بڑے دعوے اور عملی میدان میں جب بھی آئے ہیں۔ بس غریب اپنی جان ہی گنوا بیٹھا ہے۔ ماضی میں شہباز شریف صاحب نے سستی روٹی اسکیم متعارف کروائی۔ عام آ دمی سے زیادہ تندور والوں انتظامیہ، اور بیوروکریسی نے لمبا مال کمایا۔ ایسی سکیموں سے عام آ دمی کی ناصرف عزت نفس مجروح ہوتی ہے بلکہ اسے جان کے بھی لالے پڑ جاتے ہیں۔

خادم پاکستان کو اپنی عوام سے اس قدر ہمدردی تھی تو ان کا چاہیے تھا رمضان المبارک کے اس مبارک مہینے میں عوام کو اس طرح خوار کرنے سے بہتر تھا۔ دکانوں پر سستے آٹے کی فراہمی کو یقینی بناتے جس سے لوگ با آسانی پیٹ کا ایندھن جلاتے۔ لیکن ہمارے ہاں تو کوئی عام آ دمی بھی کوئی بھلائی کا کام کرتا ہے تو سوشل میڈیا پر خوب وا ویلا کرتا اور اپنی واہ کی داد وصول کرتا ہے۔ پھر یہ تو بھئی بڑے عہدے کے الگ انداز۔ جان جائے یا عزت بس عوام کا اصل مدعے سے دھیان ہٹا کر کوئی نیا چورن بیچا جائے۔

بلدیاتی اداروں کا کہنا ہے حکومت اگر عوام سے اس قدر مخلص تھی تو آٹے کی تقسیم کا بہترین منصوبہ تشکیل دیتی۔ جس میں عام آ دمی کی رسائی کے لیے بلدیاتی نظام سے استفادہ کیا جاتا۔ تو آج یہ حالات نہ ہوتے۔ ویسے اس میں کوئی قباحت نہیں تھی۔ مستحقین کے گھر آٹے کے تھیلے پہنچائے جاتے تو ان کے لیے آ سانی ہو جاتی۔ اور مال مفت سمجھ کر لوٹنے والوں سے بچت ہو جاتی۔ اس کے علاوہ آٹے کی فراہمی سستی ہونے کی طرف توجہ کی جائے تو غریبوں کا بھلا ہو جائے۔ یا بہترین پلاننگ کے ذریعے غریب کی مدد کی جائے جس میں اسے عار پہنچائے بغیر عزت کی روٹی فراہم کی جائے۔

جنتا سے کہہ دو شور مچانا فضول ہے
تکلیف کا بیان سنانا فضول ہے
شاہان قوم کو تو ستانا فضول ہے
سوتے ہیں سکھ کی نیند جگانا فضول ہے
سب کچھ ہے اپنے دیس میں روٹی نہیں تو کیا
وعدہ لپیٹ لو جو لنگوٹی نہیں تو کیا

Facebook Comments HS