ریٹرن آف دی ڈریگن

ایم ایف کی بچھائی بساط الٹ دی جس انداز میں چار سال پہلے آئی ایم ایف نے چین کی الٹائی تھی جب نیازی انتظامیہ نے آئی ایم ایف سے ملی بھگت کر کے یا دباؤ کے زیر اثر نواز حکومت کے چین کے ساتھ کیے ٹاپ سیکرٹ دفاعی اور تجارتی معاہدے امریکا تک پہنچا دیے تھے۔ جواب آں غزل، آج سے ایک ماہ پہلے جس وقت پاکستان پر ایک ارب ڈالر کی قسط کے لیے مالیاتی ادارہ دباؤ بڑھا رہا تھا اور بظاہر غیر کاروباری اور غیر اقتصادی نوعیت کی شرائط عائد کر رہا تھا یعنی ایسی جن کا قرض واپسی کی ”ابیلٹی اور ولنگ نیس“ سے دور کا بھی واسطہ نہ تھا، تو عین اس وقت چین نے اچانک دو مساوی قسطوں میں ایک ارب ڈالر پاکستان کے ہاتھ پر رکھ دیے۔
پہلے بھی کہا تھا کہ چار سال پہلے جس طرح چین بیک آؤٹ کر گیا تھا اس کے نتیجے میں پاکستان کی حصے بخروں میں تباہی نوشتہ دیوار ہو چلی تھی کیونکہ ابوظبی، بھارت، امریکا ٹرائیکا کے پاس سی پیک کو روکنے کی ایک یہی صورت تھی کہ سی پیک کا پی مٹا دیا جائے اور اس ٹریڈ روٹ کو دائمی طور پر آگ و خون میں جھونک دیا جائے۔ لیکن اب چین کی دبنگ واپسی سے شاید ان سازشوں پر اوس پڑ جائے۔ سی پیک کی بحالی کا ایک اور سبب یہ بھی ہے کہ بھارت کچھ عرصے سے سی پیک مخالف ٹرائیکا سے خود کو دور کرنے کا تاثر دے رہا ہے اور اس کی وجہ کورونا کے بعد سے بھارت چین باہمی تجارت کا حجم کا ایک سو بیس ارب ڈالر تک پہنچ جانا ہے۔ بھارت اور چین کے مابین تجارت کا یہ حجم اس قدر بڑا ہے کہ بھارت جو، پاکستان کے برعکس، اپنی پالیسیاں اپنے کمرشل مفادات کو سامنے رکھ کر بناتا ہے اب چین کے مفادات کے خلاف پہلے جیسی تندہی سے ڈٹے رہنے کو تیار نہیں۔
خنجراب روٹ تین اپریل سے تجارت کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ گہری نظر رکھنے والے اس پیشرفت کو اس دعوت نامے کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں جو سعودی فرمانروا کی طرف سے نواز شریف کو پہنچایا گیا ہے۔ اس بابت حتمی طور پر کچھ کہنا تو قبل از وقت ہو گا لیکن ماضی کو مدنظر رکھا جائے تو سعودی عرب سی پیک بحالی پر پاکستان کو جگ جگ جیو کہنے والوں ممالک کی فہرست میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ سی پیک بحالی کے اس موقع پر پاکستان کی حقیقی سیاسی قیادت کے سامنے سعودیہ کی طرف سے سیاسی مدد اور اقتصادی بحالی کی پیشکش اگر رکھی بھی جائے تو اسے سی پیک کی بحالی روکنے کے عوض تسلیم کرنا لیگی قیادت کے لیے ناممکن ہو گا۔ دیکھتے ہیں۔

