عدالت عظمی کی حالت زار کا کون ذمہ دار؟

ہمارے چیف جسٹس اپنے جذبات پر قابو نہ پاتے ہوئے بھری عدالت میں آبدیدہ ہو گئے۔ یہ آنسو وہ اپنی عدالت اور دو ساتھیوں پر پچھلے دو سالوں میں ڈھائے گئے مظالم اور زیادتیوں کی بنا پر بہا رہے تھے۔ انہوں نے اس سلسلے میں دو ججز کا خاص طور پر نام لیا جن کو ان کے خیال میں بلاوجہ زیادتیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اس میں انہوں نے خاص طور پر اپنے موجودہ ساتھی جج مظاہر نقوی کا ذکر کیا اور پاکستان کی عوام کو بتایا کہ انہوں نے جسٹس نقوی کو صرف اس لیے بینچ میں شامل کیا کہ وہ ایک پیغام دینا چاہتے تھے کہ وہ اپنے ساتھی جج کے ساتھ کھڑے ہیں۔
چیف جسٹس کی بپتا کافی افسوسناک ہے مگر اس دہائی کے ساتھ ساتھ اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ عدالت عظمی کو اس صورتحال تک کون لے کر آیا ہے۔ کون عدالت عظمی کی موجودہ تقسیم کا ذمہ دار ہے۔ کون ہے جس کی وجہ سے برادر ججز ایک دوسرے سے بات کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ کس کی وجہ سے برادر ججز کو فیصلے تحریر کرنے پر مشاورت یا ان پر دستخط کرنے کے لئے انہیں اطلاع تک دینے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ کس کی وجہ سے رجسٹرار میں یہ جرات پیدا ہوتی ہے کہ وہ ایک بینچ کے فیصلے کے برخلاف ایک انتظامی حکم جاری کر دے۔ کس کے رویے کی وجہ سے نو ارکان کا بینچ تین ارکان تک محدود ہو جاتا ہے۔
موجودہ سیاسی اور آئینی بحران کا ذمہ دار کون ہے۔ کون ہے جو سپریم کورٹ کے دو یا تین ججوں کے ساتھ مل کر آئین سے متضاد اور من پسند تشریحیں کر کے اس بحران کی شدت میں اضافے کا باعث بنا ہے۔ عدالت کے اندر سے ہی کس کے بارے میں آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ یہ آئین کو دوبارہ سے تحریر کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ اس معزز عدالت میں کون ہے جو کچھ ججز کے بارے میں تو آبدیدہ ہو جاتا ہے مگر ایک ناپسندیدہ ساتھی جج اور ان کی اہلیہ تک کو عدالتی ہراسانی کا نشانہ بناتا ہے۔
اگر عدالتی بے چینی کا جائزہ لیا جائے تو اب یہ صاف دکھائی دینے لگا ہے کہ موجودہ چیف جسٹس کے دور میں متنازع فیصلوں اور عدالت کو مطلق العنان انداز میں چلانے کی وجہ سے اس بے چینی میں شدید اضافہ ہوا ہے اور انہی کے دور میں عدلیہ میں بدترین تقسیم دکھائی دے رہی ہے۔ من پسند فیصلے اور من پسند آئینی تشریح کے لئے کچھ ناپسندیدہ ججز اور خاص طور پر سینئر ترین ججز کو جان بوجھ کر ان اہم آئینی مقدمات سے علیحدہ رکھنے کی پالیسی کو دوام انہی کے دور میں ملا۔ سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاسوں کی تفاصیل سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ادارے کو جمہوری انداز میں چلانے کی بجائے اسے موجودہ چیف جسٹس کے دور میں من مانے طریقے سے چلانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔
سیاسی جماعتوں سے جمہوری رویے کی اپیل کرنے والے جج خود اپنے ساتھی ججز کے ساتھ غیر جمہوری رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ سیاستدانوں کو بات چیت کا مشورہ دینے والے اپنے من پسند جس کے سوا دیگر ساتھی ججز سے مشورہ کرنے کے لیے تیار نہیں اور نہ ہی ان کی دانش سے فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ عدالت عظمی کی اجتماعی دانش پر شک کرتے ہوئے صرف من پسند ساتھیوں کی دانش پر کون اعتبار اور انحصار کر رہا ہے۔
عدالت عظمی کو من پسند ججز سے بھرنے کا کام کس چیف جسٹس کے عہد میں زور و شور سے جاری ہے اور اس کے بارے میں کسی قسم کی ندامت، افسوس یا آبدیدگی نہیں دکھائی دیتی۔ سینئر ترین ہائی کورٹ کے ججز کو نظر انداز کر کے من پسند جونیئر ججز سے کون اور کیوں سپریم کورٹ کو بھرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کون جان بوجھ کر سپریم کورٹ کی خالی نشستوں کو بروقت پر کرنے کی کوششوں کو ناکام کر رہا ہے۔
چیف جسٹس اس وقت تو اپنے ساتھی جج کی وجہ سے آبدیدہ ہیں مگر یہ آنسو جسٹس فائز عیسی کے ساتھ حکومتی شہ پر عدالتی ہراسانی کی کے وقت کیوں نہیں نکلے۔ انہوں نے خود جسٹس عیسی کو عدالت سے نکالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی اور اپنے اکثریتی ساتھی ججز کے فیصلے کے برخلاف 80 صفوں کا فیصلہ تحریر کیا تھا اور اس فیصلے کی وجہ سے جسٹس عیسی کے خلاف مستقبل میں ہراسانی کا راستہ کھلا چھوڑا گیا تھا۔ جب جسٹس عیسی کی بیگم ان کی عدالت میں آبدیدہ ہو کر اپنی بے گناہی کے ثبوت دے رہی تھیں تو تب تو چیف جسٹس کی آنکھیں اشکبار نہیں ہوئی تھیں۔ بیگم عیسی بجا طور پر اب کہہ رہی ہیں کہ چیف جسٹس اس وقت کیوں خاموش رہے اور نہ ہی آبدیدہ ہوئے جب صدر عارف علوی نے پریذیڈنسی میں بیٹھ کر ان کے خلاف ریفرنس پر تین انٹرویو دیے اور وزرا اور اٹارنی جنرل ان کے خلاف ٹی وی چینلز پر پروپیگنڈا کر رہے تھے۔
اسی طرح جسٹس شوکت صدیقی کی اپیل ان کی عدالت میں سالوں سے انصاف کی منتظر ہے مگر اس پر تو چیف جسٹس کی نظر نہیں پڑی جس کی وجہ سے جسٹس صدیقی کو اب یہ کہنا پڑا ہے کہ ان پر کیے جانے والے ظلم پر چیف جسٹس کو ترس کیوں نہیں آیا۔
جسٹس عیسی سے انتہائی اعلی درجے کے اخلاقی رویے کی توقع رکھنے والے چیف جسٹس کیوں آج اپنے ساتھی جج کے بارے میں دائر کردہ ریفرنسز کے بارے میں خاموش ہیں۔ کیوں وہ ان کی مبینہ آڈیو کی تحقیقات یا ان کی فرانزک کا حکم نہیں دیتے۔ وہ کیوں اپنے اس ساتھی جج سے اعلی اخلاقی اقدار کا مطالبہ کرتے ہوئے انہیں اپنی جائیدادوں کے بارے میں تفصیلات مہیا کرنے کا حکم نہیں دیتے اور سیاستدانوں سے ان کے مبینہ تعلقات کی وجوہات جاننے کی کوشش کرتے۔ اس کے برعکس وہ انہیں اپنے بینچ میں شامل کر کے کس کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ بظاہر یہ پیغام بڑا سیدھا سادہ ہے کہ اگر آپ میرے ساتھ ہیں، میرے ہم خیال ہیں تو آپ کو سو خون معاف ہیں۔
موجودہ سیاسی اور عدالتی بحران کے ذمہ دار بظاہر چیف جسٹس خود ہی ہیں اور اس بحران کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ وہ یا تو اپنے آپ کو اہم سیاسی و آئینی مقدمات سے علیحدہ کر دیں یا پارلیمان کے بنائے ہوئے نئے قانون کے تحت تین سینئر ترین ججز کے ساتھ مل کر اہم فیصلہ سازی کریں۔ چونکہ وہ سپریم جوڈیشل کونسل میں ان کی اکثریت پہلے ہی مشکوک ہے اور ان کا آئینی معاملات پر فل کورٹ بنانے سے مسلسل گریز سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاید وہ اپنے ساتھی ججوں کی اکثریت کا اعتماد بھی کھو چکے ہیں۔ اس صورتحال میں ادارے کی بہتری کے لیے مناسب ہو گا کہ وہ اپنے عہدے سے علیحدہ ہو کر نئی قیادت کو عدالتی بحران سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے کا موقع دیں۔

