عدالت عظمی کی حالت زار کا کون ذمہ دار؟

ہمارے چیف جسٹس اپنے جذبات پر قابو نہ پاتے ہوئے بھری عدالت میں آبدیدہ ہو گئے۔ یہ آنسو وہ اپنی عدالت اور دو ساتھیوں پر پچھلے دو سالوں میں ڈھائے گئے مظالم اور زیادتیوں کی بنا پر بہا رہے تھے۔ انہوں نے اس سلسلے میں دو ججز کا خاص طور پر نام لیا جن کو ان کے خیال میں بلاوجہ زیادتیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اس میں انہوں نے خاص طور پر اپنے موجودہ ساتھی جج مظاہر نقوی کا ذکر

Read more

آئینی ستون تصادم کی راہ پر

پارلیمان، عدلیہ اور حکومت تیزی سے تصادم کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ عدلیہ کی پارلیمان اور سابق منتخب وزرائے اعظم پر بلا جواز تنقید، پارلیمان کا جواب اور عدلیہ کی اٹارنی جنرل کی تعیناتی میں مبینہ مداخلت، ایک بڑے ادارہ جاتی طوفان اور ٹکراؤ کا اشارہ دے رہی ہے۔ افسروں کی تعیناتی کے حکومتی اختیارات میں عدالتی مداخلت اور ایک آئینی ادارے کے سربراہ سے ایک ماتحت کی طرح سلوک کرنا اس ادارہ جاتی جنگ کی شدت میں اضافہ کر

Read more

پاکستان اور انڈیا کے درمیان پانی کی تقسیم کا سندھ طاس معاہدہ خطرے میں

کچھ دن پہلے انڈین حکومت نے پاکستان کو دونوں ممالک کے درمیان دریاؤں کی تقسیم کے سندھ طاس معاہدے میں تبدیلیوں پر مذاکرات کرنے کے لیے نوٹس جاری کیا ہے۔ چھ سالوں پر محیط مذاکرات کے بعد سندھ طاس معاہدہ پر 1960 میں دستخط کیے گئے۔ اس معاہدے کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی جب انڈیا نے پاکستان کی زراعت کو نقصان پہنچانے کے لیے 1948 میں مشرقی دریاؤں کے پانی کو پاکستان بہنے سے روکنے کی کوشش کی۔

Read more

رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

مختلف بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور ماہرین معاشیات کے مطابق پاکستان اس وقت ایک سخت معاشی بحران کی گرفت میں ہے اور خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ شاید ہم جلد یا تو اپنے قرضوں کی ادائیگی نہیں کر پائیں گے یا ایک دیوالیہ معیشت بننے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے شاید پاکستان میں بھی سری لنکا جیسے مناظر دیکھنے میں آئیں۔ اگر ہم بین الاقوامی قرضے وقت پر ادا نہ کرسکے تو ہمارے مالیاتی نظام

Read more

’گھر واپسی‘ یا اقلیتوں کا خاتمہ

انڈیا کا آئین بظاہر سیکولر ہے جس میں ساری اقلیتوں کے تحفظ کا ذکر ہے اور انہیں وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو اکثریتی ہندو مذہب کے پیروکاروں کو حاصل ہیں۔ انڈیا کا آئین مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں، بدھوں، پارسی اور جین کو اقلیت تصور کرتا ہے اور ان کی موجودہ تعداد انڈیا کی آبادی کا 20 فیصد ہے۔ اس سیکولر آئین کی وجہ سے کبھی کبھی اقلیتوں کے نمائندے اہم عہدوں بشمول صدر، نائب صدر اور وزیر اعظم پر بھی

Read more

اعلی عدلیہ کے ججوں کی تقرری: اصلاحات کی ضرورت

پاکستان کی سیاسی، قانونی اور کچھ حد تک معاشی تاریخ میں اعلی عدلیہ کا کردار کافی متنازع اور غیر تسلی بخش رہا ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کے عدلیہ اپنے معاملات میں بڑی حد تک خود مختار ہے اور کسی بھی عوامی ادارے کو جواب دہ نہیں ہے، اس کی مقدموں پر فیصلوں کی تعداد کافی مایوس کن ہے۔ کئی سائلین کو انصاف ان کا جہان فانی سے کوچ کر جانے کے بعد ملا۔ اسی طرح اس وقت بظاہر ملک

Read more

کیا چین تیانمین دوم لمحے کے قریب ہے؟

چین نے پچھلے تیس سالوں میں قابل رشک معاشی ترقی کی ہے۔ یہ ترقی ایک طرح سے عوامی بے چینی، جو تیانمین سکوائر میں ایک زبردست احتجاج کی شکل میں نظر آئی، کو دوبارہ پیدا ہونے سے روکنے کی ایک حکمت عملی تھی۔ چین کی بے مثال معاشی ترقی نے عوام میں جمہوریت، آزادی رائے کی خواہش اور اپنے حکمرانوں کو منتخب کرنے کی اجازت کو عارضی طور پر دبایا تو سہی مگر اسے مکمل ختم کرنے میں کامیاب نہیں

Read more

سویلین بالادستی قائم کرنے کا موقع؟

حال ہی میں ریٹائر ہونے والے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے عسکری اداروں کی سیاسی معاملات میں مداخلت کے اعترافات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس ملک کو ایک زبردستی کے سیاسی تجربے سے گزارا گیا اور قانون اور آئین کی پامالی کرتے ہوئے ایک ہائبرڈ نظام مسلط کرنے کی کوشش کی گئی اور اس ادارہ جاتی خطا کے ارتکاب میں آئینی اور قانونی حکومتوں کو عدم استحکام کا شکار بنایا گیا۔ پاکستان نے

Read more

موسمی تبدیلی کانفرنس اور پاکستان کی امیدیں

پاکستان میں حالیہ قیامت خیز سیلاب نے موسمی تبدیلی کی شدت اور اس سے جڑی ممکنہ قدرتی تباہیوں کو واضح طور پر دنیا کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ پاکستان سیلاب اور مون سون کی شدید بارشوں سے تو آشنا ہے مگر اس سال کا سیلاب قیامت خیز نوعیت کا تھا جس نے پاکستان کے ایک تہائی حصے کو متاثر کیا اور تقریباً 150 کلو میٹر بڑی جھیل کی شکل اختیار کر لی۔ بارشوں کا حجم صرف سندھ میں 28

Read more

مفتاح کا زوال اور اسحاق ڈار کی واپسی

پاکستانی معیشت اس وقت ایک مشکل وقت سے گزر رہی ہے اور سیلاب کی تاریخی تباہ کاریاں ان مشکلات میں مزید اضافہ کر رہی ہیں۔ ہماری معاشی مشکلات میں اشرافیہ کی نا اہلیوں اور چیرہ دستیوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے اور اب اس میں موسمی تبدیلی کی وجہ سے سے قدرت بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئی ہے۔ مخلوط حکومت کے اندرونی خلفشار اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک کی بے رخی معیشت کو سنبھلنے کا

Read more

آزادی کے 75 برس بعد بھارت اور پاکستان کا تقابل

پاکستان اور بھارت نے پچھلے مہینے آزادی کی 75 ویں سالگرہ منائی۔ ان پچھتر سالوں میں دونوں ملکوں کی ترقی کا سفر کچھ زیادہ قابل رشک نہیں رہا۔ دونوں ممالک میں کروڑوں لوگ ابھی بھی غربت کی لکیر کے نیچے بے کسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ 75 سالوں سے آزادی کے بعد بھی کروڑوں لوگ صحت اور تعلیم جیسی بنیادی انسانی سہولتوں سے محروم ہیں۔ ان مہیب انسانی مسائل کا سامنا کرنے کی بجائے دونوں ممالک سالانہ کھربوں

Read more

پارلیمان یا عدالت عظمی بالادست؟

عدلیہ کا پاکستان میں آئین کی سربلندی کے لیے کردار کافی متنازع اور کسی حد تک بظاہر جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے خلاف رہا ہے۔ عدلیہ نے حالات کے جبر یا سابق منصفوں کی ذاتی کمزوریوں کی وجہ سے نت نئے جواز گڑھ کر فوجی حکمرانوں کے اقتدار پر غاصبانہ قبضے کو قانونی چھتری مہیا کی اور سیاسی قیادت کو سیاست سے باہر کرنے کے لیے یا تو انہیں تختہ دار پر بھیجا یا انہیں توہین عدالت کے نام

Read more

عمران خان ایک بڑے سیاستدان یا عظیم تقسیم کار؟

کسی فعال جمہوری معاشرے میں اختلاف رائے اس معاشرے کی اچھی صحت کی نشاندہی کرتا ہے۔ اختلاف رائے کو دبانا یا اسے ملک دشمنی سے تعبیر کرنا کسی صورت جمہوری اداروں کی صحت اور ملکی سلامتی کے لیے سودمند نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کے قیام کے وقت بہت ساری سیاسی طاقتیں اپنے مختلف سیاسی اور مذہبی خیالات کی بنیاد پر نئے ملک کے قیام کی مخالف تھیں۔ مگر ہمیں کبھی قائد اعظم کی زبان سے ان سیاسی قوتوں کے بارے

Read more

وزارت خارجہ: پاکستان کی پہلی دفاعی لائن پر ایک اور حملہ

پچھلی اور موجودہ دونوں حکومتوں نے وزارت خارجہ کے موثر پن میں کمی لانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ پچھلے وزیراعظم نے ٹیلی ویژن کو استعمال کرتے ہوئے وزارت خارجہ کے افسروں پر حملے کیے جو ساری دنیا کے میڈیا میں ہمارے لیے جگ ہنسائی کا سبب بنے۔ بھارتی میڈیا نے تو خصوصاً اس کو خوب مرچ مصالحہ لگا کر ہمارے ایک اہم قومی ادارے کا مذاق اڑایا۔ سابق وزیراعظم نے صرف اس بے عزتی پر اکتفا نہیں کیا

Read more

روس کی بین الاقوامی تنہائی اور پوتن کا دورہ تہران

مشرق وسطیٰ اس وقت بڑی عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ کچھ دن پہلے صدر بائیڈن نے سعودی عرب اور اسرائیل کا دورہ کیا جبکہ اس ہفتے روسی صدر پوتن اور ترک صدر اردوغان تہران میں ایرانی قیادت کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھیں گے۔ پوتن کا دورہ اس وجہ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ اس سے شاید وہ اپنی بین الاقوامی تنہائی کم کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔ ایران سے بہتر تعلقات تو روس

Read more

ماحولیاتی پامالی اور ہماری بے حسی

پاکستانی معاشرہ ایک ہمہ جہت زوال کی طرف گامزن ہے۔ آپ کسی سماجی شعبے پر نظر ڈالیں تو وہ ایک نئی پستی کو چھوتا نظر آتا ہے۔ حکومتی بے حسی تو ایک طرف، ایسا لگتا ہے کہ ساری قوم سے احساس زیاں مفقود ہو گیا ہے۔ خصوصاً اگر ہمارے ہاں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی پامالی کی طرف دیکھا جائے تو عوام میں اس کے بارے میں قطعی کوئی آگاہی نہیں اور اسے کچھ احمقوں کی ذہنی اختراع سمجھا جاتا ہے۔ اشرافیہ

Read more

توانائی کے بحران سے نمٹنے کا راستہ

پاکستانی معیشت پن بجلی کے بعد تیل اور کوئلے سے پیدا کردہ توانائی پر بھاری انحصار کرتی ہے جس کی وجہ سے اس سال شدید موسم گرما میں ہم ایک انتہائی مشکل توانائی کے بحران کا شکار ہیں۔ بین الاقوامی منڈی میں تیل اور کوئلے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور روپے کی گرتی ہوئی قدر نے پاکستان کو نہ صرف ایک شدید معاشی بحران، مالیاتی خسارے اور بجلی کی کم پیداوار سے دوچار کر دیا ہے بلکہ عوام کو افراط

Read more

پاکستان میں سیاسی ثقافتی زوال

ہمارے ہاں اقتدار کی شراکت دار طاقتوں کی سیاسی قوت حاصل کرنے اور اسے برقرار رکھنے کی رسہ کشی میں مجموعی سیاسی ثقافت کا بہت نقصان ہوا ہے۔ پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کی بدترین سیاسی تقسیم کا شکار ہے جو سماجی منافرت کو بھی پروان چڑھا رہی ہے۔ سیاسی مخالفتیں ذاتی دشمنیوں میں بدل چکی ہیں اور اس کی وجہ سے مخالفین ایک دوسرے کی جان لینے سے بھی دریغ نہیں کر رہے۔ پی ٹی آئی نے ایک سیاسی

Read more

لانگ مارچ: یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں

ایسا لگتا ہے کہ جلد اسلام آباد اگست 2014 کے واقعات کو دوبارہ عکس بند ہوتے ہوئے دیکھے گا۔ اب اس میں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ آنے والے احتجاج یا لانگ مارچ کو پہلے کی طرح حساس ادارے کے سربراہان کی مدد و کمک حاصل ہو گی یا عمران خان کو یہ معرکہ اکیلے ہی سر کرنا ہو گا۔ اگر سیاسی چالوں کے ماہر ان کہنہ مشق شخصیات اور اہم ریاستی اداروں کی مدد کے باوجود اگست 2014

Read more

ہفتہ وار تعطیلات میں کمی کا غیر دانشمندانہ فیصلہ

ہمارے ہاں تین تین دفعہ کے حکمران بھی قومی سطح کے اہم فیصلے کرتے ہوئے سوچ بچار، تدبر اور صلاح مشورے کو بالائے طاق رکھ کر سستی شہرت اور عوام کی توجہ ضروری مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ نئے وزیراعظم کا ہفتہ وار تعطیلات میں ایک دن کی کمی کرنے کا فیصلہ بھی بظاہر سستی شہرت اور عوام کی توجہ حقیقی مسائل کے حل کی کاوش کی بجائے یہ باور کروانا ہے کہ پاکستان کے

Read more

ہر کمال کو زوال ہے

صرف ساڑھے تین سال پہلے ’پروجیکٹ عمران‘ پاکستانیوں پر مسلط ہوا جو دس اپریل 2022 کو قومی اسمبلی میں اس وقت بری طرح ناکام ہو کر زمین بوس ہو گیا جب اس کی بیساکھیاں چھین لی گئیں۔ پروجیکٹ عمران کیوں لانچ کیا گیا اور یہ کیوں اتنی جلدی اختتام تک پہنچ گیا؟ جمہوریت سے بیزار اسٹیبلشمنٹ کو ہمیشہ اس نظام حکومت کی وجہ سے اپنے اثر و رسوخ میں کمی اور مفادات کا نقصان نظر آیا۔ دس سال کی بلاشرکت

Read more

سیاسی ناکامیاں یا بین الاقوامی سازش؟

پاکستان میں حکومتوں کی ناکامیوں میں بیرونی سازشوں کا ہاتھ تلاش کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ایوب خان کے مارشل لا سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کی برطرفی میں امریکی ہاتھ ہونے کا الزام لگا۔ یہ الزامات لگاتے ہوئے اس حقیقت کو نظر انداز کر دیا گیا کہ اس وقت کی حکومتیں اپنی غیر مقبولیت کی انتہا پر تھیں۔ اس غیر مقبولیت کی مختلف وجوہات تھیں جن کی ذمہ دار یہ حکومتیں خود تھیں۔ ایوب خان

Read more

کیا پاکستان کو بڑے ڈیموں کی ضرورت ہے؟

پاکستان میں ڈیم بنانا یا ان کی جگہ کا انتخاب ہمیشہ ایک متنازعہ مسئلہ رہا ہے۔ کالا باغ ڈیم کا منصوبہ خاص طور پر سیاسی اور علاقائی وجوہات کی بنا پر کافی متنازع رہا اور اسی وجہ سے مشرف دور میں تھوڑی بہت پیش رفت کے باوجود یہ ڈرائنگ بورڈز اور پلاننگ بورڈز تک ہی محدود رہا۔ حال ہی میں سیاستدانوں کے علاوہ عدلیہ نے بھی ڈیموں کی متنازعہ سیاست میں قدم رکھا۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے، جو

Read more

پاکستانی اور بھارتی تارکین وطن کا امریکی سیاست میں کردار

امریکہ میں پاکستانی اور بھارتی تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد امریکی معاشرے کی ترقی میں اپنا اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ ڈاکٹرز، انجینئرز، بینکرز اور تاجر اپنے شعبوں میں نمایاں کام سر انجام دے رہے ہیں۔ لیکن ایک شعبہ ایسا ہے جس میں بھارتی تارکین وطن پاکستانیوں سے کئی درجہ آگے ہیں اور وہ ہے سیاست اور اس سے جڑے ہوئے ذیلی شعبے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے بھارتی نژاد کاملہ ہیرس کی بطور نائب صدر نامزدگی اور انتخاب

Read more

بھارت میں مذہبی نسل کشی اور مسلمانوں کے لیے مستقبل کا لائحہ عمل

اقلیتوں کو بھارت میں اس سے پہلے اپنی بقا کے خدشات اتنے شدید نہ تھے جتنے موجودہ بی جے پی حکومت نے وزیر اعظم مودی کی قیادت میں پیدا کر دیے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ حکمران جماعت آر ایس ایس کے ساتھ مل کر بھارت سے تمام اقلیتوں کو ختم کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ یہ مذہبی انتہا پسند نہ صرف اقلیتوں کو ختم کرنے کے درپے ہیں بلکہ نچلی ذات کے ہندوؤں سے بھی بھارت کو پاک کرنا

Read more

کیا ایوبی دور واقعی اتنا سنہرا تھا جتنا بتایا جاتا ہے؟

ایک منظم پروپیگینڈا مہم کے تحت جمہوریت کو بدنام اور رسوا کرنے کے لیے پاکستان میں آمروں کے ادوار کو ہمیشہ سنہری عہد کے طور پر پیش کیا گیا جن میں پاکستان میں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی تھی۔ اس پروپیگینڈا کے تحت یہ فراوانی اور معاشی ترقی سیاست دانوں کے اقتدار میں آنے کے بعد تمام ہوئیں۔ ان تمام آمری فضائل کا ذکر کرتے ہوئے کرائے کے تاریخ دان ان حقیقتوں سے عوام کی چشم پوشی کراتے رہے کہ

Read more

پاکستان میں بائیں بازو کی سیاست کا مستقبل

اگر ہم اس وقت پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر نظر ڈالیں تو تقریباً ساری بڑی سیاسی جماعتوں کی سمت دائیں بازو کی طرف نظر آتی ہے۔ ہماری بڑی اور کچھ حد تک واحد بائیں بازو کی جماعت پیپلز پارٹی بھی پچھلی دو دہائیوں میں اب کسی دائیں بازو کی پارٹی سے کم نظر نہیں آتی۔ فوجی آمر ضیا الحق نے اسلام کا نام استعمال کرتے ہوئے اپنے کئی سیاسی مظالم میں سے ایک ظلم بائیں بازو کی سیاست کو ناصرف

Read more

ہم تاریخی حقائق سے کیوں خوفزدہ ہیں؟

پاکستان میں تاریخی حقائق کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی روایت کا آغاز 60 کی دہائی سے شروع ہوا اور 80 اور بعد کی دہائیوں میں اسے عروج نصیب ہوا۔ اب تاریخ کو اس قدر مسخ کر دیا گیا ہے کہ ہمارے طالب علموں کو اپنے ملک کے اہم سماجی اور سیاسی واقعات کے بارے میں نصابی کتابوں میں غیرجانبدار اور درست معلومات نہیں مل پاتیں۔ وہ معلومات مہیا کی جاتی ہیں جو ایک خصوصی

Read more

قومی سلامتی پالیسی کے بعد کشمیریوں کے لیے آگے کا راستہ

نئی قومی سلامتی پالیسی میں یہ پیغام واضح طور پر دیا گیا ہے کہ ہماری قومی سلامتی ہماری معاشی ترقی کی مرہون منت ہے اور ہماری ساری توجہ ہمارے معاشی حالات بہتر بنانے اور معیشت کو مضبوط کرنے پر مرکوز ہو گی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ پیغام بھی واضح ہے کہ معاشی ترقی کی اس دوڑ میں جو بھی رکاوٹیں آئیں گی یا تو ان کو ہٹا دیا جائے گا یا ان سے راستہ بدل کر معاشی ترقی کے

Read more

پاکستان میں سیکولر ازم کو لادینیت کیوں سمجھا جاتا ہے؟

پاکستان اعلیٰ تعلیم یافتہ، روشن خیال اور ترقی پسند رہنماؤں کی نو آبادیاتی قوتوں کے خلاف سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں ظہور پذیر ہوا، لیکن ہم اب تاریخ کے اس موڑ پر کھڑے ہیں جہاں روشن خیالی اور ترقی پسند سوچ ایک گالی بن گئی ہے۔ اس متنازع سیاسی اور سماجی تبدیلی کے نتیجے میں جدت پسند نظریات اور سیکولر ازم کو لادینیت اور مذہب دشمنی کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے اور ایسے خیالات کے حامی لوگوں کو

Read more

وزیراعظم کے جنگجو رویے کی وجوہات

جمہوری ممالک میں حکومت اور حزب اختلاف ایک گاڑی کے دو پہیے تصور کیے جاتے ہیں۔ آج کی حزب اختلاف کل کی حکومت ہو سکتی ہے اور ان دونوں پہیوں نے مل کر ملک کو آگے بڑھانا ہوتا ہے۔ پاکستان میں عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد حزب اختلاف میں ہونا ایک جرم سا بن گیا ہے۔ جن پر ان کی نظر کرم ہے یا ان کے ساتھ شامل کر دیے گئے ہیں ان پر سات خون معاف

Read more

قومی سلامتی پالیسی کا دھمال

قومی سلامتی کے مشیر کی نئی قومی سلامتی کی دستاویز پر دھمال بے محل سا دکھائی دیتا ہے۔ اس دھمال سے ایسا تاثر دیا جا رہا ہے جیسے ہم پہلے اپنی اندرونی و بیرونی اور معاشی پالیسیاں بغیر کسی سوچ سمجھ کے بنا رہے تھے اور یہ کہ یہ پالیسیاں عوام یا شہریوں کی بہبود پر مرکوز نہیں تھیں۔ اور اب نئی پالیسی ان سب مسائل کا احاطہ کرتے ہوئے قومی خوشحالی اور دفاع کا ایک نیا کامیاب راستہ متعین

Read more

جمہوریت سے عداوت کیوں؟

پاکستان کے انیس سو اٹھاون کے پہلے فوجی انقلاب کے بعد سے جمہوریت کے خلاف ایک مہم تسلسل سے چلائی جا رہی ہے جس میں اس بیانیے کو پروان چڑھانے کی کوشش ہوتی ہے کہ پاکستان کے جاہل عوام جنہیں حال ہی میں ایک نام نہاد دانشور  نے مصلیٰ قرار دیا کسی قسم کی جمہوریت یا اپنے حق رائے دہی کے استعمال کے قابل نہیں ہیں اور ہمارے لئے آمریت بہترین نظام حکومت ہے۔ یہ نام نہاد دانشور لکھاری اپنی

Read more

واشنگٹن میں اہم نئی سفارتی تعیناتی

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ہمارے سفیر اپنی طے شدہ مدت ملازمت مکمل کر چکے ہیں اور ان کی جگہ ایک ریٹائرڈ 71 سالہ سفارت کار سردار مسعود خان کو تعینات کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ یہ سابق ماہر سفارت کار اقوام متحدہ کے جینیوا اور نیویارک دفاتر میں پاکستان کے مستقل مندوب کی حیثیت سے کام کر چکے ہیں۔ اپنے طویل سفارتی کیریئر میں وہ بیجنگ جیسے اہم دارالحکومت میں بھی بطور سفیر اور وزارت خارجہ کے ترجمان کی حیثیت

Read more

سیاسی انجینئرنگ: بس کر دو بس

پی ٹی آئی کی موجودہ وفاقی حکومت سے خوش قسمت شاید ہی کوئی حکومت پاکستان کی تاریخ میں رہی ہے۔ اس حکومت کو اقتدار میں لانے کے لیے طویل محنت اور گہری منصوبہ بندی کی گئی اور اسے اقتدار میں آنے کے بعد جس قدر اسٹیبلشمنٹ کی حمایت رہی اس کی کوئی ہماری تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ اس جماعت کی حکومت کو برسر اقتدار لانے کے لئے تقریباً ایک وقت میں ساری ریاست کو مفلوج کر دیا گیا تھا۔

Read more